KunarPasha writs
Color est e pluribus unus.
04/03/2026
جب انسان جان بوجھ کر اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر توجہ دینا شروع کرتا ہے تو دماغ واقعی اپنے آپ کو دوبارہ ترتیب دینے لگتا ہے۔ اس عمل کو نیوروپلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ اپنے اعصابی راستوں کو بدل سکتا ہے۔ جب آپ بار بار مثبت تجربات اور اچھی باتوں پر توجہ دیتے ہیں تو دماغ میں ایسے اعصابی راستے مضبوط ہونے لگتے ہیں جو خوشی اور اطمینان سے جڑے ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ورزش کرنے سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ویسے ہی مثبت سوچ پر توجہ دینے سے دماغ کے مثبت راستے مضبوط ہوتے جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ انسان کے جذبات سوچنے کا انداز اور دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت بدلنے لگتی ہے۔
اصل میں دماغ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور یہ تبدیلی ہماری سوچوں تجربات اور جذبات کے مطابق ہوتی ہے۔ جب انسان جان بوجھ کر اپنی توجہ ان چیزوں پر رکھتا ہے جو اچھی محفوظ یا معنی خیز ہوں تو دماغ میں انعام اور خوشی سے جڑے اعصابی نظام زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دماغ آہستہ آہستہ مثبت تجربات کو زیادہ اہم سمجھنے لگتا ہے۔
جب کوئی شخص شکرگزاری ذہنی سکون کی مشق یا مثبت جملوں کو دہرانے جیسی عادات کو مستقل اپناتا ہے تو وہ دراصل اپنے دماغ میں ایسے راستے مضبوط کر رہا ہوتا ہے جو خوشی اور مثبت احساسات تک پہنچنا آسان بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مثبت احساسات وقت کے ساتھ زیادہ فطری اور خودکار لگنے لگتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر انسان بار بار منفی سوچوں پریشانیوں اور خطرات پر ہی توجہ دیتا رہے تو دماغ انہی راستوں کو مضبوط کر دیتا ہے۔ اس کے بعد دماغ ہر جگہ مسئلے اور خطرے کو زیادہ تیزی سے پہچاننے لگتا ہے اور انسان کا ذہن منفی انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔
وقت کے ساتھ جب انسان مسلسل اپنی توجہ زندگی کی اچھی باتوں پر رکھتا ہے تو دماغ کی بنیادی عادت بدلنے لگتی ہے۔ پھر انسان روزمرہ زندگی میں زیادہ آسانی سے امید حل اور امکانات کو دیکھنے لگتا ہے۔
یہ اس بات کا مطلب نہیں کہ انسان منفی حالات کو نظر انداز کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو تربیت دے کہ وہ تصویر کا پورا رخ دیکھے جس میں مثبت پہلو بھی شامل ہوں۔ انسان جہاں اپنی توجہ رکھتا ہے وہی اس کی سوچ احساسات اور ردعمل کو آہستہ آہستہ شکل دینے لگتا ہے۔
04/03/2026
انسان کی صحت صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتی کہ اس کے جین کیسے ہیں بلکہ زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ وہ جین کس طرح فعال ہوتے ہیں۔ مسلسل ذہنی دباؤ اور گھریلو یا ازدواجی تنازعات جسم میں سوزش پیدا کرنے والے جینز کو متحرک کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے کیمیائی مادے بنتے ہیں جو دل کی بیماری شوگر اور الزائمر جیسی بیماریوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ گھر کے اندر مسلسل جھگڑے یا جذباتی دباؤ انسان کے ایپی جینیٹک نظام کو بھی بدل سکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیماریاں جن کا صرف امکان تھا وہ حقیقت میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتی ہیں جیسے ڈپریشن یا ایڈرینل تھکن۔
ایک خراب کھانا کبھی کبھار کھانے سے جتنا نقصان نہیں ہوتا اس سے کہیں زیادہ نقصان ایک زہریلا رشتہ پہنچا سکتا ہے کیونکہ ایسا رشتہ جسم کو مسلسل خطرے کی حالت میں رکھتا ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ کی وجہ سے ایڈرینل غدود بار بار کورٹیسول نامی اسٹریس ہارمون خارج کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ کیفیت لمبے عرصے تک برقرار رہے تو ایڈرینل نظام تھکنے لگتا ہے اور جسم کے ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شوگر کے میٹابولزم ذہنی صحت اور توانائی کے نظام پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اگر یہ دباؤ بہت زیادہ عرصے تک جاری رہے تو آہستہ آہستہ جسم کے اہم اعضا بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور زخم بھی آہستہ بھرنے لگتے ہیں۔
لمبے عرصے تک تعلقات کے دباؤ سے جسم پر جو مسلسل بوجھ پڑتا ہے اسے سائنسی زبان میں ایلو سٹیٹک لوڈ کہا جاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ مسلسل منفی اور تنازعات والے تعلقات میں رہتے ہیں ان میں دل کے مہلک دورے اور فالج کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں گھر اور رشتوں میں جذباتی تعاون حاصل ہوتا ہے۔ سماجی دباؤ کی زیادہ سطح خلیوں کے اندر موجود ٹیلو میر کی لمبائی کو بھی کم کر دیتی ہے جو خلیوں کی عمر بڑھنے کی رفتار کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ٹیلو میر تیزی سے چھوٹے ہوتے ہیں تو جسم کے خلیے بھی تیزی سے بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔
زہریلے تعلقات انسان کی صحت مند عادات کو بھی خراب کر دیتے ہیں۔ جب کورٹیسول کی سطح زیادہ رہتی ہے تو جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور چکنائی اور میٹھے کھانوں کی خواہش بڑھ جاتی ہے جسے عام زبان میں کمفرٹ فوڈ کہا جاتا ہے۔ اس وجہ سے دباؤ کے تحت وزن بڑھنے لگتا ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جو لوگ پریشان کن ازدواجی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ان میں کھانے کے بعد بھوک پیدا کرنے والا ہارمون گریلن زیادہ مقدار میں بنتا ہے جس کی وجہ سے صحت مند وزن برقرار رکھنا حیاتیاتی طور پر بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
13/02/2026
یہ بات نہیں کہ صرف ایک سیٹ سے ہی پٹھے بنتے ہیں اور نہ ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ زیادہ سیٹس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اصل نکتہ یہ ہے کہ پٹھوں کی بڑھوتری کا بڑا حصہ ابتدائی سخت سیٹس میں ہی حاصل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد ہر اضافی سیٹ پچھلے کے مقابلے میں کم فائدہ دیتا ہے
تحقیقات کئی دہائیوں سے یہی دکھا رہی ہیں کہ ٹریننگ والیوم اور مسل گروتھ کے درمیان تعلق تو ہوتا ہے مگر اس میں رفتہ رفتہ کمی آتی ہے یعنی شروع میں کم والیوم سے زیادہ فائدہ ملتا ہے لیکن جیسے جیسے سیٹس بڑھتے جاتے ہیں ہر نئے سیٹ کا اضافی فائدہ کم ہوتا جاتا ہے مسل گروتھ سیدھی لائن میں نہیں بڑھتی بلکہ آہستہ آہستہ سست ہو جاتی ہے
جسمانی طور پر بھی یہ بات منطقی ہے جب آپ سیٹ کو فیلیر کے قریب لے جاتے ہیں تو شروع ہی میں وہ مسل فائبرز متحرک ہو جاتے ہیں جو طاقت اور سائز کے لیے اہم ہوتے ہیں جب یہ فائبرز تھک جاتے ہیں تو مزید سیٹس نئے فائبرز کو شامل نہیں کرتے بلکہ انہی تھکے ہوئے فائبرز کو مزید تھکا دیتے ہیں اس طرح تھکن تو بڑھتی ہے مگر اضافی گروتھ کا سگنل نسبتاً کم ہو جاتا ہے
اسی لیے ایک ہی ورک آؤٹ میں ایک مسل پر بہت زیادہ سیٹس لگانے کا فائدہ محدود ہو جاتا ہے خاص طور پر ان لوگوں میں جو پہلے سے ٹرینڈ ہوتے ہیں زیادہ تر گروتھ کا پیغام ابتدائی چند سخت سیٹس میں ہی مل جاتا ہے اس کے بعد ریکوری کی قیمت تیزی سے بڑھتی ہے مگر گروتھ کا فائدہ اسی رفتار سے نہیں بڑھتا
اسی وجہ سے ہفتے بھر میں معیاری اور سخت سیٹس کو تقسیم کر کے کرنا اکثر ایک ہی دن میں بہت زیادہ والیوم کرنے سے بہتر نتائج دیتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اضافی سیٹس فائدہ تو دیتے ہیں مگر ہر اگلا سیٹ پچھلے سے کم فائدہ دیتا ہے
Bladder Control Starts in the Brain: The Hidden Science of Urination.
پیشاب کو گردے نہیں، دماغ کنٹرول کرتا ہے.. اسے دیر تک روکنا کیوں خطرناک ہے؟
اپنے کانوں کی حفاظت کریں
13/02/2026
فٹنس حاصل کرنا صرف جسمانی عمل نہیں بلکہ دراصل ایک نیورولوجیکل یعنی دماغی عمل بھی ہے کیونکہ لمبے عرصے تک جسمانی تبدیلی کو برقرار رکھنے میں اصل کردار دماغ ادا کرتا ہے۔ بظاہر تبدیلی پٹھوں اور جسمانی ساخت میں نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں یہ تبدیلی دماغ کے ان نیورل سرکٹس کے دوبارہ ترتیب پانے سے ہوتی ہے جو عادات شناخت اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب انسان ورزش شروع کرتا ہے تو ابتدا میں اسے زیادہ ذہنی محنت درکار ہوتی ہے کیونکہ دماغ کا وہ حصہ جو فیصلے اور خود پر قابو رکھتا ہے ہر بار ورزش کرنے کے لیے توانائی خرچ کرتا ہے اسی لیے شروع میں یہ عمل مشکل اور تھکا دینے والا محسوس ہوتا ہے۔ مگر مسلسل تکرار کے بعد دماغ آہستہ آہستہ اس رویے کو خودکار بنا دیتا ہے اور یہ عادت دماغ کے اس حصے میں منتقل ہو جاتی ہے جو روزمرہ روٹین کو خود بخود چلانے میں مدد دیتا ہے اس طرح ورزش ایک مشکل فیصلہ نہیں رہتی بلکہ روزمرہ کی معمول کی سرگرمی بن جاتی ہے۔ دماغ ایک عادت کا چکر بھی بناتا ہے جس میں کوئی اشارہ جیسے جوتے دیکھنا ایک روٹین یعنی ورزش کو شروع کرتا ہے اور اس کے بعد انعام کی صورت میں ڈوپامین اور اینڈورفنز کا اخراج خوشی اور اطمینان پیدا کرتا ہے جس سے یہ عمل مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق دیرپا تبدیلی تب آتی ہے جب انسان اپنے مقصد کے ساتھ اپنی شناخت بھی بدلتا ہے یعنی صرف یہ نہ سوچے کہ میں وزن کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں بلکہ یہ مان لے کہ میں وہ شخص ہوں جو روزانہ حرکت کرتا ہے اس سوچ کی بار بار تکرار دماغ میں نئے راستے مضبوط کرتی ہے اور پرانی بری عادات کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دماغ جسم کے وزن اور بھوک کو بھی ایک تھرموسٹیٹ کی طرح کنٹرول کرتا ہے جہاں ایک خاص حصہ بھوک اور خواہشات کو جسم کے سگنلز کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ جب وزن کم ہوتا ہے تو دماغ اسے خطرہ سمجھ کر میٹابولزم کو سست اور بھوک کو زیادہ کر دیتا ہے تاکہ جسم دوبارہ پرانی حالت میں واپس جا سکے اس لیے مستقل تبدیلی کے لیے صرف جسمانی مشق نہیں بلکہ دماغی دباؤ اور جذباتی ردعمل کو بھی تربیت دینا ضروری ہوتا ہے۔
13/02/2026
حالیہ تجرباتی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ مقدار میں لینولیک ایسڈ کا استعمال کچھ خطرناک کینسرز کی بڑھوتری سے جڑا ہو سکتا ہے۔ لینولیک ایسڈ اومیگا سکس فیٹی ایسڈ کی ایک قسم ہے جو عام طور پر استعمال ہونے والے بیجوں کے تیل جیسے سویا بین آئل سفلاور آئل اور کارن آئل میں پایا جاتا ہے اور یہ تیل ہمارے گھروں میں بھی اکثر فرائی اور پروسیسڈ کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ یہ فیٹی ایسڈ جسم کے اندر ایک خاص پروٹین کے ساتھ جڑ کر کینسر کے خلیوں کی نشوونما کا سگنل تیز کر سکتا ہے جس سے خاص طور پر بریسٹ کینسر کی ایک جارحانہ قسم جسے ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ جانوروں پر کی گئی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جن مریضوں میں یہ خطرناک قسم پائی گئی ان کے خون اور رسولیوں میں اس فیٹی ایسڈ کی مقدار نسبتاً زیادہ تھی۔ اسی طرح ایک دوسری تحقیق سے اشارہ ملا کہ الٹرا پروسیسڈ خوراکوں میں موجود اومیگا سکس فیٹس آنتوں میں سوزش کو بڑھا سکتے ہیں اور مسلسل سوزش بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو بڑھانے والا اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں نوجوان افراد میں بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کو بھی کچھ ماہرین اس جدید طرزِ خوراک اور زیادہ پروسیسڈ فوڈز کے استعمال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
13/02/2026
Say no to Sugar
09/02/2026
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں رات کے وقت زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دن بھر خواتین کا دماغ زیادہ سرگرم رہتا ہے، اور ساتھ ہی ہارمونز اور سماجی ذمہ داریوں کے جسم پر گہرے اثرات بھی پڑتے ہیں۔
اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں۔
خواتین کے دماغ کی سرگرمی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ مطالعات کے مطابق خواتین دن بھر ایک ساتھ کئی کام سنبھالتی ہیں اور بار بار کام بدلتی ہیں۔ یہ مسلسل ذہنی مشقت دماغ سے زیادہ توانائی لیتی ہے، جس کی بھرپائی کے لیے گہری اور طویل نیند درکار ہوتی ہے تاکہ دماغ مکمل طور پر بحال ہو سکے۔
ہارمونز میں مسلسل اتار چڑھاؤ بھی نیند کو متاثر کرتا ہے۔ ماہواری کے دوران، حمل میں اور مینوپاز کے وقت ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح میں تبدیلی نیند کے قدرتی نظام کو بگاڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ماہواری سے پہلے پروجیسٹرون میں کمی کی وجہ سے نیند ہلکی اور بار بار ٹوٹنے والی ہو جاتی ہے، جس سے جسم کو پورا آرام حاصل کرنے کے لیے زیادہ دیر بستر پر رہنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
خواتین میں نیند کے مسائل کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کو مردوں کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ بے خوابی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ریسٹ لیس لیگ سنڈروم زیادہ پایا جاتا ہے، اور نیند کی کمی کے اثرات جیسے بے چینی اور ذہنی دباؤ خواتین میں زیادہ شدت سے ظاہر ہوتے ہیں۔
جسمانی گھڑی یعنی سرکیڈین ردھم میں فرق بھی ایک وجہ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین کی اندرونی گھڑی اکثر تیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ شام کے وقت جلدی تھکن محسوس کرتی ہیں۔ سماجی مصروفیات اور گھریلو معمولات کے باعث یہ نیند پوری نہ ہو سکے تو مسلسل نیند کی کمی پیدا ہو جاتی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے زیادہ آرام درکار ہوتا ہے۔
سماجی اور نگہداشت کی ذمہ داریاں بھی نیند کو متاثر کرتی ہیں۔ خواتین پر عموماً زیادہ ذہنی بوجھ ہوتا ہے اور وہ بچوں یا بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے تین گنا زیادہ اپنی نیند میں خلل برداشت کرتی ہیں۔ بار بار نیند ٹوٹنے سے اس کا معیار کم ہو جاتا ہے، اس لیے مردوں کے برابر بحالی کے لیے خواتین کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ خواتین کی زیادہ نیند کی ضرورت کمزوری نہیں بلکہ حیاتیاتی، ذہنی اور سماجی عوامل کا فطری نتیجہ ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
63100
