AALAM E IMKAN

AALAM E IMKAN

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AALAM E IMKAN, Nagbal, Mandalay.

12/08/2026

کنویں سے طور تک — اللہ کی پوشیدہ تدبیر

زندگی کے بعض راستے بظاہر ہمیں ہماری منزل سے دور لے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں وہی راستے ہمیں اس مقام تک پہنچا رہے ہوتے ہیں جس کا ہمیں ابھی علم بھی نہیں ہوتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے نکلے تو نہ منزل معلوم تھی، نہ مستقبل کا نقشہ۔ مدین کے کنویں پر وہ خود بے سروسامانی، خوف اور ضرورت کی حالت میں تھے، مگر انہوں نے اپنی پریشانی کے باوجود دو ضرورت مند لڑکیوں کی پریشانی کو محسوس کیا۔ ان کی مدد کی، پھر ایک سایے کے نیچے بیٹھ کر صرف اتنا عرض کیا:

﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾

یہ ایک گہرا فلسفیانہ اصول ہے:
انسان جب اپنی ذات کے حصار سے نکل کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی زندگی کو اللہ کی تدبیر کے حوالے کر دیتا ہے۔

موسیٰؑ کو معلوم نہ تھا کہ کنویں پر کی جانے والی ایک بے لوث خدمت انہیں ایک گھر، خاندان، روزگار اور ایک نئے مرحلے تک لے جائے گی۔ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ برسوں بعد ایک رات وہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے آگ لینے جائیں گے، مگر اسی سفر میں انہیں نبوت کی صدا سنائی دے گی:

﴿يَا مُوسَىٰ ۝ إِنِّي أَنَا رَبُّكَ﴾

وہ آگ لینے گئے تھے، مگر ہدایت کا چراغ لے کر لوٹے۔

یہی اللہ کی پوشیدہ تدبیر ہے۔

ہم مستقبل نہیں دیکھ سکتے، مگر اللہ دیکھتا ہے۔
ہم صرف اپنا قدم دیکھتے ہیں، وہ پوری راہ دیکھتا ہے۔
ہم واقعے کو دیکھتے ہیں، وہ واقعات کے پیچھے چھپی حکمت دیکھتا ہے۔

اس لیے نیکی کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔

کسی مسافر کی مدد، کسی مجبور کا سہارا، کسی بھوکے کو کھانا، کسی پریشان انسان کے لیے چند تسلی کے الفاظ—یہ سب بظاہر چھوٹے اعمال ہیں، مگر ممکن ہے اللہ کی تقدیر میں یہی چھوٹا سا عمل آپ کی زندگی کے کسی بڑے دروازے کی کنجی بن جائے۔

مخلوق کے ساتھ خیر کا معاملہ کرتے رہیں، صلہ تلاش نہ کریں۔

کیونکہ جس لمحے آپ نے نیکی کو اللہ کے سپرد کر دیا، اسی لمحے آپ نے اسے ایک ایسی ہستی کے حوالے کر دیا جو نہ کسی عمل کو بھولتی ہے، نہ کسی اخلاص کو ضائع کرتی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کا کنویں سے طور تک کا سفر ہمیں یہی بتاتا ہے:

آپ نہیں جانتے کہ آپ کا آج کا ایک چھوٹا قدم کل آپ کو کہاں پہنچا دے گا۔

بس نیت درست رکھیں، قدم خیر کی طرف اٹھائیں، اور باقی راستہ اُس رب پر چھوڑ دیں جو کنویں سے طور تک بھی راستے بناتا ہے۔

دوسروں کے لیے آسانی بن جائیے؛
آپ کو معلوم نہیں، اللہ آپ کے لیے کہاں سے آسانی پیدا کر رہا ہے۔


ٰ

#توکل
#اخلاص
#نیکی
#انسانیت






#مدین
#طور

08/08/2026

تمثیلِ معرفت اور بصیرتِ حقیقت

صوفی کے استعارے، باطن کے اسرار اور عقلِ ظاہر کا المیہ

تصوف محض اذکار و اشغال کا نام نہیں؛ یہ تطہیرِ باطن، تہذیبِ نفس، تصفیۂ قلب اور انکشافِ حقیقت کا وہ باطنی سفر ہے جس میں لفظ، محض لفظ نہیں رہتا اور تمثیل، محض حکایت نہیں رہتی؛ بلکہ دونوں رمزِ معرفت اور آئینۂ حقیقت بن جاتے ہیں۔

اہلِ تصوف جب کسی تمثیل کو منصۂ بیان پر لاتے تھے تو ان کا مقصود حکایت آرائی یا لذتِ سماعت نہ تھا؛ ان کے پیشِ نظر تشکیلِ شعور، تطہیرِ ادراک اور انتقالِ معنی ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ حقیقتِ واحدہ ہر ذہن پر ایک ہی اسلوب میں منکشف نہیں ہوتی؛ کسی کے لیے استدلال کا دریچہ کھلتا ہے، کسی کے لیے تمثیل کا، کسی کے لیے محبت کا، اور کسی کے لیے ایک ایسی خاموش اشاریت کا جس میں الفاظ سے زیادہ معنی اور بیان سے زیادہ برہان مضمر ہوتا ہے۔

صوفی کی قول یا سمجھانے کے لیے کوئی تمثیل دراصل تجربۂ باطن کی ترجمان ہوتی ہے۔ وہ ایک واقعۂ محسوس میں ایک حقیقتِ معقول، ایک حکایتِ محدود میں ایک معنیِ نامحدود، اور ایک معمولی منظر میں ایک عالمِ رمز و اشارت متشکل کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکایت، ہدایت بن جاتی ہے؛ استعارہ، معرفت بن جاتا ہے؛ اور لفظ، وجدان کی دہلیز پر دستک دینے لگتا ہے۔

اہلِ معرفت کو اس امر کا کامل ادراک تھا کہ انسان صرف عقل سے نہیں سمجھتا؛ وہ ذوق، وجدان، تجربۂ باطن اور کیفیتِ قلب سے بھی حقیقت کو دریافت کرتا ہے۔ چنانچہ ان کی تعلیم میں استدلال کے ساتھ تمثیل، برہان کے ساتھ عرفان، اور علم کے ساتھ حال کی آمیزش ملتی ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا کمال یہ نہ تھا کہ سامع کو معلومات کا انبار دے دیا جائے؛ کمال یہ تھا کہ ایک ایسا فکری انقلاب برپا ہو جس کے بعد آدمی وہی حقیقت نئے شعور، نئے زاویۂ نظر اور نئی بصیرت سے دیکھنے لگے۔

لیکن عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ علمِ ظاہر کی کثرت کو بصیرتِ باطن کا مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ اصطلاحات کی فراوانی کو تحقیق، حوالہ جات کی کثرت کو تعمق، اور معلومات کے انبار کو معرفت تصور کرنے کا رجحان عام ہے۔ حالاں کہ علم، اگر شعور میں تحلیل نہ ہو؛ تحقیق، اگر حقیقت تک نہ پہنچائے؛ اور عبارت، اگر بصیرت میں تبدیل نہ ہو—تو وہ محض حافظۂ الفاظ کی آرائش ہے، کشفِ معنی نہیں۔

اسی لیے بعض اوقات متون کے شناسا، معانی کے اجنبی ثابت ہوتے ہیں؛ کتابوں کے محقق، کیفیتوں کے ناواقف؛ اور اصطلاحات کے ماہر، اشارات کے نامحرم۔
صوفیا کے کلام کی تفہیم کے لیے صرف علمِ عبارت کافی نہیں؛ علمِ اشارت بھی درکار ہے۔ صرف الفاظ کا مفہوم جان لینا کافی نہیں؛ ان کے پسِ پشت کارفرما روحانی تجربے، باطنی واردات اور معرفتی تناظر کو محسوس کرنا بھی لازم ہے۔ کیونکہ جس حقیقت کو ایک صاحبِ حال نے زیست کیا ہو، اسے محض صاحبِ قال کے پیمانے سے ناپنا ہمیشہ ممکن نہیں۔
یہی سبب ہے کہ ایک مردِ درویش کی مختصر حکایت کبھی کبھی صدہا صفحات کی علمی بحث پر سبقت لے جاتی ہے؛ اس لیے نہیں کہ حکایت، تحقیق سے برتر ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ معنی کو ذہن تک پہنچانے سے پہلے دل تک پہنچا دیتی ہے۔
اور شاید یہی وہ نکتۂ اسرار ہے جہاں مولانا جلال الدین رومیؒ کی تمثیلات، قصۂ پارینہ نہیں رہتیں؛ وہ آئینۂ انسان، میزانِ نفس، تفسیرِ باطن اور جستجوئے حق کی علامت بن جاتی ہیں۔
الفاظ سب کے پاس ہوتے ہیں؛ مگر ہر لفظ کے پیچھے بصیرت نہیں ہوتی۔
علم بہتوں کے پاس ہوتا ہے؛ مگر ہر علم، معرفت نہیں بنتا۔
اور حکایت بہت سے لوگ سناتے ہیں؛ مگر ہر حکایت، دل کو منزل تک نہیں پہنچاتی۔
یہی فرق ہے علمِ منقول اور علمِ مشہود میں،
یہی فاصلہ ہے صاحبِ قال اور صاحبِ حال میں،
اور یہی وہ پردہ ہے جس کے پار صوفی کی تمثیل،اور فرمان حقیقت کا چہرہ دکھاتی ہے۔

06/08/2026

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
انسان کی فطرت میں کامیابی کی جستجو ودیعت کی گئی ہے۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں بہتری، رہنمائی اور کمال کا خواہاں رہتا ہے۔ صحت کے لیے طبیب کی طرف رجوع کرتا ہے، علم کے لیے استاد کا دامن تھامتا ہے، اور دنیا کے ہر فن میں ماہرین کی رہنمائی کو کامیابی کی کنجی سمجھتا ہے۔
لیکن جب سوال ہو زندگی کو سنوارنے، دل کو سکون دینے، کردار کو بلند کرنے اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا تو پھر اس ہستی سے بڑھ کر کون رہنما ہو سکتا ہے جسے خود ربِ کائنات نے "رحمةً للعالمين" بنا کر بھیجا۔
ہمارے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
(جامع الترمذی: 2317)

ترجمہ:
"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔"

یہ حدیثِ مبارکہ زندگی کا ایک عظیم فلسفہ بیان کرتی ہے۔ کامیاب انسان وہ نہیں جو ہر راستے پر چلنے لگے، ہر بحث میں الجھ جائے اور ہر آواز کے پیچھے دوڑ پڑے، بلکہ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے وقت، اپنی صلاحیت اور اپنی توانائی کو ان کاموں کے لیے محفوظ رکھتا ہے جو اسے مقصد، ترقی اور کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔

فضول گفتگو، بے مقصد مشغلے اور غیر ضروری معاملات انسان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ خاموشی، حکمت اور مقصدیت انسان کے کردار کو بلند کر دیتی ہے۔

یاد رکھیں!
جو شخص اپنی توجہ کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ اپنی زندگی کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے۔
کیونکہ وقت زندگی ہے، اور زندگی کا بہترین استعمال ہی حقیقی کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے، اپنی زندگی کو مقصد اور حکمت کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

06/08/2026
02/08/2026

🌿 منزل کی پہچان، خواہشات کی نفی اور مسافرِ دنیا کا فلسفہ 🌿

زندگی کی سب سے بڑی دانائی دولت، شہرت یا اقتدار حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت کو سمجھ لینے میں ہے کہ انسان اس دنیا میں رہنے کے لیے نہیں، بلکہ گزرنے کے لیے آیا ہے۔ جو اس حقیقت کو پا لیتا ہے، وہ دنیا کو اپنا گھر نہیں بلکہ ایک عارضی قیام گاہ سمجھتا ہے، اور جو اس حقیقت سے غافل رہتا ہے، وہ خواہشات کے ایسے صحرا میں بھٹکتا ہے جہاں پیاس کبھی ختم نہیں ہوتی۔

ضرورتیں ہمیشہ محدود ہوتی ہیں، مگر خواہشات کی کوئی حد، کوئی کنارہ اور کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ ایک فقیر اپنی چند ضرورتیں پوری کرکے بھی مطمئن ہو سکتا ہے، لیکن اگر خواہشات کو زندگی کا محور بنا لیا جائے تو پوری دنیا کی دولت بھی انسان کے اندر کی خالی جگہ کو نہیں بھر سکتی۔ اسی لیے سکون دولت کی کثرت سے نہیں بلکہ دل کی قناعت سے پیدا ہوتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے دنیا میں رہنے کا ایسا جامع اصول عطا فرمایا جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے:

«كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»
(صحیح البخاری)

ترجمہ:
"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم ایک اجنبی ہو یا راستہ چلنے والے مسافر۔"

اور ایک اور عظیم ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

«ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللّٰهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ»
(سنن ابن ماجہ)

ترجمہ:
"دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے مال سے بے نیاز رہو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔"

مسافر راستے کی خوبصورتی سے لطف تو لیتا ہے، مگر اسے اپنی منزل پر ترجیح نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ سایہ بھی عارضی ہے اور دھوپ بھی، آسانی بھی چند لمحوں کی ہے اور آزمائش بھی۔ اس لیے وہ اتنا ہی سامان اٹھاتا ہے جتنا منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہو۔ یہی زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ ہے کہ انسان دنیا کو دل میں نہیں بلکہ ہاتھ میں رکھے، کیونکہ ہاتھ کا مال چھن جائے تو نقصان ہوتا ہے، مگر دل میں بس جانے والی دنیا آخرت کا سرمایہ بھی چھین لیتی ہے۔

مسافر ہوں، سو زادِ سفر اتنا ہی رکھتا ہوں
کہ منزل یاد رہ جائے، نہ دنیا بوجھ بن جائے

ضرورتوں کے لیے دنیا بہت وسیع ہے، لیکن
خواہشوں کے لیے یہ عمر بھی کم پڑ جاتی ہے
جو شخص منزلِ حقیقی کو سامنے رکھتا ہے
اسی کی زندگی سکون کی راہ پا جاتی ہے

اللّٰہم ہمیں قناعت، بصیرت، حسنِ عمل اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

29/07/2026

سچائی کی طاقت: انسان کے کردار، ضمیر اور روح کی تعمیر کا راستہ

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

انسان کی پوری زندگی دراصل ایک امتحان ہے، اور اس امتحان میں سب سے بڑا سرمایہ اس کا کردار ہے۔ مال، شہرت اور طاقت وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، لیکن سچائی وہ نور ہے جو انسان کے نام کو زمانوں تک زندہ رکھتا ہے۔

معزز حاضرینِ مجلس!

انسان کے بہت سے گناہ ہیں، لیکن ایک ایسی کمزوری ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے دل، کردار اور معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اور وہ ہے جھوٹ۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"تم سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 6094)

یہ صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ سچ انسان کے اندر اعتماد، سکون اور عزت پیدا کرتا ہے، جبکہ جھوٹ انسان کو اندر سے کمزور کرتا جاتا ہے۔ جھوٹا شخص دوسروں کو دھوکا دینے سے پہلے خود اپنے ضمیر سے دور ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال نے کہا:

؎ سچ کہہ دوں تو برا لگتا ہے زمانے کو بہت
جھوٹ کہہ دوں تو ضمیر اپنا خفا ہوتا ہے

سچائی کا راستہ کبھی کبھی مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو باطن کا سکون عطا کرتا ہے۔

؎ سچ کی راہوں میں اگر خار بہت ہوتے ہیں
اسی رستے پہ چراغِ دلِ بشر ہوتے ہیں

اہلِ علم نے ایک سبق آموز حکایت بیان کی ہے کہ ایک شخص نے صرف جھوٹ چھوڑنے کا عہد کیا، تو رفتہ رفتہ وہ کئی برائیوں سے بچ گیا۔ اگرچہ یہ واقعہ حدیثِ نبوی ﷺ کے طور پر ثابت نہیں، لیکن اس کا اخلاقی پیغام قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہے کہ سچائی انسان کو پاکیزگی کی طرف لے جاتی ہے۔

آئیے! آج ہم اپنے دلوں میں یہ عہد کریں کہ ہماری زبان سچ بولے گی، ہمارے معاملات دیانت پر قائم ہوں گے، ہماری تجارت، گواہی، دوستی اور رشتے سچائی کے نور سے روشن ہوں گے۔

کیونکہ:

جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے،
مگر سچ انسان کو دائمی عزت عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے، سچ کو اپنانے اور سچائی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

23/07/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قدرت کی للکار، انسان کی بے بسی اور ایمان کی بیداری

سیلابِ جموں و کشمیر: آزمائش، احتساب، رحمت اور انسانیت کا سبق

قدرت جب اپنے جلال و جمال کا کوئی منظر آشکار کرتی ہے تو انسان اپنی تمام تر سائنسی ترقی، منصوبہ بندی، طاقت اور غرور کے باوجود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب بلند و بالا عمارتیں، مضبوط سڑکیں، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی تدبیریں سب ایک بے قابو موج کے سامنے خاموش کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اس زمین کا مالک نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ، اس کی عطا کردہ نعمتوں کا امانت دار اور اس کی قدرت کے سامنے سراپا محتاج ہے۔

آج وادیٔ جموں و کشمیر میں آنے والی سیلابی کیفیت ہمیں اسی حقیقت کی یاد دلا رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ امتحان گاہ ہے۔ بہتا ہوا پانی صرف مکانات، سڑکیں، پل اور کھیت ہی نہیں بہاتا، بلکہ انسان کے تکبر، مادہ پرستی، خود اعتمادی کے فریب اور دنیا کی ناپائیداری کا پردہ بھی چاک کر دیتا ہے۔ قدرت گویا ہر صاحبِ عقل سے سوال کرتی ہے کہ تم نے اپنی امید اپنے وسائل سے وابستہ کی تھی یا اپنے رب سے؟

قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:

﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾

"اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔" (سورۃ البقرہ: 155)

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ آزمائش اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ یہ صرف گناہگاروں کے لیے نہیں بلکہ انبیائے کرامؑ، صالحین، صدیقین اور نیک بندوں کے لیے بھی آتی ہے۔ اس لیے ہر قدرتی آفت کو کسی کے گناہوں کا قطعی فیصلہ قرار دینا نہ قرآنی مزاج ہے، نہ نبوی تعلیم، نہ علمی دیانت اور نہ اخلاقی انصاف۔ بندوں کے انجام کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، جبکہ ان کی مدد کرنا، ان کے آنسو پونچھنا اور ان کے دکھ میں شریک ہونا ہماری دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"شہداء پانچ ہیں: طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔" (صحیح البخاری: 2829)

یہ حدیث ان تمام اہلِ ایمان کے لیے امید، رحمت اور تسلی کا عظیم پیغام ہے جنہوں نے سیلاب یا ملبے تلے اپنی جانیں کھو دیں۔ ہم ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بلند درجات کی امید رکھتے ہیں۔

فلسفیانہ اعتبار سے قدرتی آفات انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ تہذیب کی اصل بنیاد صرف ترقی نہیں بلکہ اخلاق، رحم، انصاف، توکل اور باہمی تعاون ہے۔ جب انسان اپنے خالق کو بھول جاتا ہے تو وہ اپنی طاقت کو ابدی سمجھنے لگتا ہے، لیکن قدرت کا ایک اشارہ اس کے تمام تصورات کو بدل دیتا ہے۔ یہی لمحہ انسان کے لیے بیداری، رجوع الی اللہ، خود احتسابی اور اپنی زندگی کے مقصد پر دوبارہ غور کرنے کا موقع ہوتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم متاثرین پر فیصلے صادر کریں، بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں رحم پیدا کریں، دعا کو اپنی زبان کا زیور بنائیں، صدقہ و خیرات کو اپنا شعار بنائیں، خدمتِ خلق کو عبادت سمجھیں، اختلافات کو بھلا کر انسانیت کے درد کو اپنا درد جانیں اور ہر اس ہاتھ کو مضبوط کریں جو مصیبت زدہ خاندانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہی اسلام کا حقیقی پیغام، ایمان کا تقاضا اور انسانیت کی معراج ہے۔

اللہ تعالیٰ وادیٔ جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے تمام متاثرین پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے، جاں بحق افراد کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں اپنے فضل سے شہداء کے درجات عطا فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ، بے گھر خاندانوں کو امن، سکون، رزق اور بہترین متبادل عطا فرمائے، امدادی کارکنوں کی حفاظت فرمائے، اور ہم سب کو اس آزمائش سے صحیح سبق حاصل کرنے، صبر، شکر، توکل، اخلاص، توبہ اور خدمتِ خلق کی حقیقی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

#آزمائش #صبر #رحمت #توبہ #دعاء #انسانیت

21/07/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
رضا بالقضا کی ایک زندہ تفسیر — راجوری سے اٹھنے والی وہ ایمان افروز صدا جس نے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کر دی۔
تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ یہ نہیں کہ وہ گزرے ہوئے واقعات کو محفوظ رکھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کردار تراشتی ہے۔ کتابیں علم دیتی ہیں، فلسفہ فکر کو جلا بخشتا ہے، وعظ دل کو نرم کرتا ہے اور خطابت جذبات کو بیدار کرتی ہے، لیکن بعض اوقات ایک زندہ کردار وہ اثر چھوڑ جاتا ہے جو ہزاروں کتابیں، سینکڑوں خطبے اور طویل درس بھی پیدا نہیں کر پاتے۔ انسان دلیل سے ضرور قائل ہوتا ہے، مگر کردار سے بدل جاتا ہے۔

ہزار وعظ سے بڑھ کر اثر وہ رکھتا ہے
جو ایک مردِ عمل اپنی زندگی سے کہے۔

جب ہم قرونِ اولیٰ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسے نفوسِ قدسیہ سامنے آتے ہیں جن کے گھروں پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے، جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو اپنے ہاتھوں سے سپردِ خاک کیا، مگر ان کی زبان پر شکوہ نہ آیا، ان کے ماتھے پر تقدیر سے بغاوت کی شکن نہ ابھری۔ ہم ان واقعات کو پڑھ کر حیران ہوتے تھے اور سوچتے تھے کہ شاید وہ ایمان کی حرارت انہی زمانوں کے ساتھ رخصت ہو چکی ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے کچھ بندوں کو ایسا وقار عطا فرماتا ہے کہ انہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایمان کی وہ روشنی آج بھی زندہ ہے، رضا کی وہ کیفیت آج بھی باقی ہے اور صبر کی وہ عظمت آج بھی انسان کے اندر سانس لے رہی ہے۔

چراغِ حق کبھی طوفاں سے بجھ سکتا نہیں،
ہوا مخالف ہو تو اور زیادہ جگمگاتا ہے۔

راجوری کے حالیہ سانحے میں دنیا نے ایک ایسا ہی منظر دیکھا۔ ایک ہی لمحے میں ایک آباد گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ شریکِ حیات، جوان بیٹے، خاندان کے دیگر افراد، سب زندگی کی رونقیں ایک لمحے میں خاموش ہو گئیں۔ یہ صرف ایک مکان کا انہدام نہیں تھا، بلکہ ایک انسان کی پوری دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے بکھر گئی۔

ایسے لمحے میں انسان چیخ اٹھتا ہے، تقدیر سے سوال کرتا ہے، حالات سے شکوہ کرتا ہے، لیکن میڈیا کے سامنے اس مردِ مؤمن نے جو الفاظ کہے، انہوں نے بے شمار اہلِ ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

«"اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت نوازا تھا۔ میں اس کا ہمیشہ شکر گزار رہا۔ اس نے جو نعمتیں عطا فرمائیں، میں نے ان کے ساتھ محبت، خوشی اور شکر کے ساتھ زندگی گزاری۔ آج وہ اللہ کی امانت تھیں، اس نے اپنی امانت واپس لے لی۔ اس وقت میرے آٹھ پیارے ملبے کے نیچے ہیں، میرا گھر بھی چلا گیا، لیکن مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں، کوئی شکوہ نہیں۔ میری صرف حکومت سے یہ درخواست ہے کہ میرے پیاروں کی لاشیں نکالنے میں میری مدد کی جائے۔ میں اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی ہوں۔"»

یہ الفاظ محض ایک بیان نہیں تھے، بلکہ رضا بالقضا کی ایک عملی تفسیر تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب زبان خاموش تھی مگر ایمان بول رہا تھا، آنکھیں اشک بار تھیں مگر دل اپنے رب کے فیصلے کے سامنے جھکا ہوا تھا۔

لبوں پہ شکر، نگاہوں میں صبر کا دریا،
یہی تو بندگیِ ربِّ کریم کا جوہر ہے۔

ہمیں اس شخص کے باطن کا علم نہیں۔ اس کے دل میں کس قدر درد ہے، رات کی تنہائی میں کتنے آنسو بہتے ہیں، اس کے سینے میں کتنی قیامت برپا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اسلام بھی ہمیں کسی کے باطن پر حکم لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

لیکن انسان کا ظاہر بھی کبھی کبھی ایک ایسی دعوت بن جاتا ہے جو ہزاروں دلوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ دنیا نے جو دیکھا، وہ یہ تھا کہ ایک اجڑا ہوا انسان بھی اپنے رب کی قضا پر راضی کھڑا تھا۔ یہی منظر تھا جس نے بے شمار اہلِ ایمان کو اپنے ایمان، اپنے صبر اور اپنے تعلق باللہ کا محاسبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

سبق کتاب نے جتنا نہ دل کو دے پایا،
وہ ایک مرد کے کردار نے سکھا ڈالا۔

حقیقت یہ ہے کہ کبھی ایک صالح کردار، سینکڑوں واعظوں سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ عمل وہ زبان ہے جسے ہر دل سمجھتا ہے۔ اسی لیے سلفِ صالحین کی زندگیاں صرف پڑھی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔ ان کے کردار ایمان کی دلیل بن جاتے ہیں۔

راجوری کے اس سانحے میں بھی بظاہر یہی محسوس ہوا کہ جیسے قرونِ اولیٰ کی خوشبو ایک لمحے کے لیے پھر سے فضا میں مہک اٹھی ہو۔ ایسا لگا جیسے تاریخ کا کوئی روشن باب ہمارے عہد میں دوبارہ کھل گیا ہو اور ہمیں یاد دلا رہا ہو کہ ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ آزمائش کے وقت اختیار کیا جانے والا رویہ بھی ہے۔

صبر وہ نور ہے جو دل سے عیاں ہوتا ہے،
ہر شکستہ دل اسے پا نہیں سکتا۔

یہ واقعہ ہمیں دوسروں پر فیصلے صادر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ملا ہے۔ اگر ایک انسان اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی شکر، رضا اور توکل کی بات کر سکتا ہے، تو ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی آزمائشوں پر ہماری زبان سے کیا نکلتا ہے، شکوہ یا شکر؟

اللہ تعالیٰ اس بندۂ مؤمن کو صبرِ جمیل، استقامت، سکینۂ قلب اور اپنی بے پایاں رحمت عطا فرمائے، اس کے تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں بھی یہ توفیق عطا فرمائے کہ اگر کبھی آزمائش ہماری دہلیز پر دستک دے تو ہمارے لبوں پر شکایت نہیں بلکہ شکر، بے قراری نہیں بلکہ رضا، اور مایوسی نہیں بلکہ اپنے رب پر کامل اعتماد ہو۔

کبھی کبھی ایک مردِ مؤمن کا کردار، ہزاروں خطبوں سے زیادہ مؤثر، سینکڑوں کتابوں سے زیادہ بلیغ، اور طویل فلسفیانہ مباحث سے زیادہ گہرا سبق دے جاتا ہے۔ راجوری کے اس دل خراش سانحے میں سنائی دینے والی یہ صدا صرف ایک انسان کی آواز نہیں تھی، بلکہ صبر، شکر، رضا اور توکل کی وہ زندہ تفسیر تھی جس نے اہلِ ایمان کو قرونِ اولیٰ کی یاد دلا دی۔

20/07/2026

قدرت کے انتباہات: آفاتِ ارضی و سماوی کا قرآنی، سائنسی اور فکری جائزہ

"جب زمین لرزتی ہے، دریا اپنی حدیں توڑتے ہیں، پہاڑ آگ اگلتے ہیں اور آسمان قہر بن کر برستا ہے، تو یہ صرف فطرت کے مظاہر نہیں ہوتے؛ بلکہ انسان کے لیے غور، فکر، احتساب اور اپنے خالق کی طرف رجوع کی ایک خاموش دعوت بھی ہوتے ہیں۔"

کائنات ایک خاموش کتاب ہے، مگر اس کے اوراق ہمیشہ خاموش نہیں رہتے۔ کبھی زمین لرز اٹھتی ہے، کبھی سمندر اپنی حدیں توڑ دیتا ہے، کبھی پہاڑ آگ اگلنے لگتے ہیں، کبھی آسمان موسلادھار بارش برسا کر بستیاں بہا لے جاتا ہے، اور کبھی تیز ہوائیں تہذیبوں کے غرور کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ یہ سب محض طبعی واقعات نہیں بلکہ ایسے عظیم مظاہر ہیں جو انسان کو اس کی محدود طاقت، فانی وجود اور اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے بے بسی کا احساس دلاتے ہیں۔

جدید سائنس ان مظاہر کے اسباب، قوانین اور طبیعی عوامل کو دریافت کرتی ہے، جبکہ قرآنِ مجید انسان کو ان واقعات کے باطنی معنی، اخلاقی پیغام اور روحانی حکمت سے آشنا کرتا ہے۔ ایک طرف زمین کی پرتوں کی حرکت، فضائی دباؤ، موسمی تغیرات اور ارضیاتی قوانین ہیں، تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مشیت، آزمائش، تنبیہ، مہلت اور حکمتِ بالغہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں زاویے ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے بلکہ کائنات کی حقیقت کو دو مختلف جہات سے واضح کرتے ہیں۔

اسلام انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ وہ صرف اسبابِ طبعی کو دیکھے اور خالق کو فراموش کر دے، اور نہ ہی یہ تعلیم دیتا ہے کہ اسباب کو نظر انداز کرکے ہر واقعے کو محض غیر مرئی قوتوں سے وابستہ کر دے۔ بلکہ قرآن کا منہج یہ ہے کہ انسان کائنات کے قوانین پر بھی غور کرے، اپنے اعمال کا محاسبہ بھی کرے، اور ہر حادثے میں اپنے رب کی قدرت، حکمت اور دعوتِ رجوع کو بھی پہچانے۔

یہ مضمون قدرتی آفات، خصوصاً زلزلوں، سیلابوں، آتش فشاں، سمندری طوفانوں اور دیگر ارضی و سماوی مظاہر کا قرآن، حدیث، سائنس اور عقل و فکر کی روشنی میں جامع جائزہ پیش کرتا ہے، تاکہ علم، ایمان اور شعور تینوں کو ایک متوازن سمت میسر آسکے۔

#زلزلہ #سیلاب #قرآن #حدیث #اسلام #تحقیق #فکر

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Mandalay?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Nagbal
Mandalay
191201