Ekta Rani Storys

Ekta Rani Storys

Share

https://www.youtube.com/@EktaRani-e4j
السلام علیکم دوستو کیسے ہیں ٹھیک ہیں خیریت ہے یہ میرا فیس بک کا نیا پیج فالو اینڈ شیئر کر دو
Hello friends, how are you?

Are you well? This is my new page, please follow and share it.

26/06/2026

لگتا ہے ان تینوں کے پاس دوزخ کی کنفرم ریزرویشن ہے، کیونکہ جو کارنامے یہ انجام دے رہے ہیں وہ جنت والوں کی لسٹ میں تو دور دور تک نظر نہیں آتے۔

ادھر ایک اور عجیب قصہ سامنے آیا۔ ایک عورت نے خفیہ طور پر دو مردوں سے شادی کر رکھی تھی، اور حیرت کی بات یہ کہ دونوں شوہروں کو ایک دوسرے کے وجود کا علم ہی نہیں تھا۔ کئی سال تک سب کچھ آرام سے چلتا رہا۔ پھر ایک دن اتفاق سے دونوں آمنے سامنے آگئے۔ پہلے تو انہیں لگا کوئی غلط فہمی ہے، لیکن جب ثبوت سامنے آئے تو دونوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

گاؤں والوں نے سوچا اب ضرور مار کٹائی ہوگی، مقدمے ہوں گے اور عدالتوں کے چکر لگیں گے۔ مگر حیرت انگیز طور پر تینوں نے بیٹھ کر بات کی۔ کافی بحث، ناراضی اور حساب کتاب کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ جھگڑا کرنے سے بہتر ہے اتفاق سے رہا جائے۔ چنانچہ دونوں شوہر اور ایک ہی بیوی نے مل جل کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔

اب محلے والے روز یہ تماشا دیکھتے ہیں اور سر پکڑ کر کہتے ہیں: "بھائی، دنیا میں سب کچھ دیکھا تھا، مگر یہ والا سسٹم پہلی بار دیکھا ہے!"

26/06/2026

اس تحریر کے کچھ حصے قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتے ہیں۔

13 نومبر کو وسطیٰ پنجاب کے شہر کامونکی کے ایک نواحی قصبے سے گزرنے والے سیم نالے کے قریب کچھ بچے کھیل رہے تھے جب اُنھیں پانی میں تیرتا ہوا ایک مشکوک بیگ نظر آیا۔

ٹبہ محمد نگر نامی اُس علاقے میں کپڑے کا یہ بیگ سیم نالے کے کنارے ایک درخت کے ساتھ الجھ کر وہاں رُک سا گیا تھا۔ بچوں نے اپنی سی تفتیش کی اور بیگ میں انسانی اعضا دیکھ کر شور مچا دیا۔

یہ صورتحال قریب سے گزرنے والے افراد کے لیے عجیب و غریب تھی، چنانچہ ایک مقامی شخص نے اس واقعے اطلاع فوراً مقامی تھانے کے اہلکاروں کو بذریعہ فون دی اور جلد ہی پولیس کی ایک گاڑی موقع پر پہنچ گئی۔

وہاں پہنچنے والی پولیس ٹیم کے انچارج سب انسپکٹر نعمت علی کے مطابق اس بیگ میں انسانی اعضا نظر آ رہے تھے۔ بظاہر بیگ میں ایک لاش کے ٹکڑے تھے جن میں سر، دو ٹانگیں، دونوں بازو اور دھڑ کٹے ہوئے پڑے تھے۔

پولیس کے مطابق مقتول کے چہرے پر ہلکی داڑھی تھی اور بظاہر اس کی عمر 25، 26 سال کے لگ بھگ معلوم ہو رہی تھی۔

اس واقعے کی اطلاع جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے مقتول کی معلومات حاصل کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ٹبہ محمد نگر اور گرد و نواح کے دیہاتوں کی مساجد میں اعلانات کروائے اور اس پراسرار قتل کا مقدمہ سب انسپکٹر نعمت علی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔

’سوشل میڈیا کے ذریعے لواحقین کی تلاش‘
مقدمے کے اندراج کے ساتھ اس لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال بھجوایا گیا جبکہ مقتول کے چہرے کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال کر لواحقین کی تلاش شروع کی گئی۔
سوشل میڈیا پر یہ تصویر پوسٹ کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ایک شخص نے جائے وقوعہ سے 325 کلومیٹر دور واقع پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا سے پولیس سے رابطہ کیا۔

فون کرنے والے نے اپنی شناخت قتل ہونے والے شخص ندیم سرور کے بھائی کے طور پر کروائی۔

مقتول شخص (ندیم) کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ اُن کے بھائی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بطور ویٹر عارضی ملازمت کرتے تھے۔

بھائی نے پولیس کو مزید آگاہ کیا کہ انھوں نے 10 نومبر کو اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں اپنے بھائی کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا تاہم لگ بھگ ایک ماہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد پولیس انھیں نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔

بھائی کی گمشدگی کی اسلام آباد میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ ’ندیم سرور 9 نومبر کی شام پانچ بجے آرمی میس ہیڈکوارٹر سدھراں پر کام کے لیے گئے۔ وہاں سے انھوں نے ایک دن کی چھٹی لی۔۔۔ 10 نومبر کو صبح 10 بجے تک اُن کا موبائل فون آن رہا۔ اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ دونوں نمبر بند جا رہے ہیں جس سے گھر کے افراد پریشان ہیں۔۔۔‘
پوسٹ مارٹم کے بعد ندیم سرور کے بھائی اُن کی میت کو تدفین کے لیے بورے والا میں اپنے آبائی علاقے لے گئے۔

مگر تدفین کے بعد بھی کئی سوالات باقی تھے جیسا کہ اسلام آباد میں ملازمت کرنے والے ایک نوجوان کی لاش آخر کامونکی سے کیسے ملی اور یہ کہ وہ کیا حالات تھے جن میں مقتول شخص اس شہر تک پہنچا جہاں اس کا قتل ہوا؟

انھی سوالات کا جواب جاننے کے لیے مقامی پولیس اور کرائم سین انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ کو اپنی تفتیش کا دائرہ وسیع کرنا پڑا۔

’ندیم کے موبائل پر موصول ہونے والی طویل کالز‘
پولیس کی مشکل یہ تھی کہ انھیں بیگ سے محض ندیم کی لاش کے ٹکڑے ملے تھے جبکہ اُن کا موبائل فون اور ذاتی استعمال کی دیگر اشیا کو کچھ پتا نہیں تھا۔

پولیس نے بھائی سے ندیم کے زیرِ استعمال دونوں فون نمبرز حاصل کیے۔

اس کیس کی تفتیش سے منسلک افسران کے مطابق موبائل فون ریکارڈ سے پولیس کو معلوم ہوا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران ندیم کو کن افراد کی طرف سے کالز موصول ہوئی تھیں۔

اُن کے مطابق 9 نومبر (ندیم کی گمشدگی کا دن) کو ایک ہی نمبر سے وقفے وقفے سے کئی کالز موصول ہوئی تھیں اور اُن کالز کا دورانیہ موصول ہونے والی باقی کالز سے زیادہ تھا۔

پولیس کے مطابق یہ نمبر ٹبہ محمد نگر کی رہائشی خاتون کے نام پر رجسٹرڈ تھا جس پر پولیس نے انھیں اور اُن کے والد کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا اور تھانے بلایا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش اور پوچھ گچھ کے دوران خاتون اور اُن کے والد کی جانب سے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا اس سے قطع نظر کہ فون ریکارڈ کچھ اور ظاہر کر رہا تھا اور خاتون اور ندیم کے بیچ طویل گفتگو کا ریکارڈ موجود تھا۔

26/06/2026

پوسٹ۔۔ مارٹم رپورٹ نے رونگٹے کھڑے کر دیے ؛؛؛. سرگودھا سانحہ میں معصوم منتہا پر ہونے والے وسٹ۔ مارٹم رپورٹ نے رونگٹے کھڑے کر دیے ؛؛؛.
پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ نے رونگٹے کھڑے کر دیے ؛؛؛. سرگودھا سانحہ میں معصوم منتہا پر ہونے والے ظلم کی ہوشر۔با ۔تفصیلات ؛؛؛!

تین ۔روز قبل کارخانہ بازار بلاک 8 میں 7 سالہ معصوم منتہا زہرہ کے ساتھ پیش آنے والے لرزہ خیز واقعے کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے ؛؛؛، جس نے ہر درد مند دل کو خ۔و۔ن کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا ہے ؛؛؛۔

رپورٹ کے لرزہ۔ خیز۔ انکشافات:
رپورٹ کے مطابق ظالموں نے نہ صرف اس ننھی کلی کو اپنی سفاک ۔در۔ند۔گی کا نشانہ بنایا، بلکہ انتہائی بے دردی سے گہرے ز ۔خ ۔م دے کر ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی چھین لی ؛؛؛۔ تصدیق ہوئی ہے کہ گلے کے علاوہ معصوم۔ بچی کے چہرے اور جسم پر ظا۔ل۔مانہ تشدد کے 7 واضح نشانات پائے گئے ؛؛، جبکہ سر اور چہرے پر انتہائی گہری چوٹ۔یں آئیں جو اس در۔دنا۔ک ظلم کی گواہی دے رہی ہیں ؛؛؛۔

ڈی ۔این۔ اے اور مرکزی کردار کا انجام:
مزید شواہد کے لیے پولیس نے نمونے فرانزک ۔لیبارٹری (لاہور) بھیج دیے ہیں ؛؛، جن کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے ؛؛؛۔ دوسری جانب قدرت کا مکافاتِ عمل دیکھیں کہ اس ہوشربا سانحے کا مرکزی ملزم (ارسلان) مبینہ پولیس مقابلے میں پہلے ہی اپنے بھیا۔نک انجام کو پہنچ کر نشانِ عب۔رت بن چکا ہے ؛؛؛۔

26/06/2026

لڑکی کی عزت لوٹ گئی اور جن ذات. Part 8.
The girl's honor was violated, and the jinn species... Part 8

26/06/2026

Nice day

26/06/2026

Birds 🐦🐦

26/06/2026

Marble world.Greate marble

26/06/2026

رگودھا پولیس کو منتہا کے اغوا کی خبر کب ملی، کتنی جلدی ایکشن ہوا؟ اس کا جواب لکھنے سے پہلے یہ ذکر کہ جائے وقوعہ سے خون کے قطرے دیکھے گئے اور ساتھ پچاس روپے بھی ملے جو منتہا چیزخریدنے کیلئے لائی ہوگی۔ چند فٹ دور بچی کی لا ش پڑی تھی۔ معصوم سا چہرہ رکھتا تھا پکار کے کہہ رہا ہوں یہ پچاس روپے میری امی جان کو دے دینا۔ ان کے ہاس پیسے کم ہوتے ہیں۔ ان پچاس روپوں سے وہ ضرورت کی کوئی اور چیز منگوا لیں گی۔ اب آتے ہیں کہ پولیس افسر اس کیس کی تفتیش اور مجرم تک پہنچنے کی تفصیل کیا بتاتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے چار نامزد ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ ڈی پی او کے مطابق جب والدین کو بچی نہیں ملی تو انھوں نے 12.45 بجے پولیس سے پہلا رابطہ کیا اور گمشدگی کی اطلاع دی۔انھوں نے مزید کہا کہ ’جہاں منتہا کا گھر ہے، اُس گلی میں صرف ایک کیمرہ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کیمرے کی فوٹیج حاصل کی جس میں نظر آیا کہ بچی گھر کے قریب واقع دکان کے اندر تو گئی لیکن وہ اُس دکان سے باہر نہیں آئی۔‘’فوٹیج میں ایک جگہ پر منتہا کی عمر کی ایک بچی کو ایک خاتون کے ہمراہ دکان سے نکلتے دیکھا گیا، لیکن یہ ویڈیو زیادہ کلیئر نہیں تھی جس پر یہ شک بھی ہوا کہ کہیں بچی اسی خاتون کے ساتھ تو نہیں چلی گئی۔‘ اس موقع پر پولیس نے دکان اور گراؤنڈ فلور کی تلاشی کے بعد اُوپر والی منزل کی تلاشی بھی لینا شروع کر دی۔’پہلی منزل کو چیک کرنے کے بعد جب ایس ایچ او بمعہ اہلکار دوسری منزل پر پہنچے تو وہاں خون کے دو، تین قطرے پڑے نظر آئے۔ اِسی منزل پر ایک واش روم تھا اور جب اس کو کھولا گیا تو وہاں مزید خون کے نشانات تھے جبکہ ساتھ موجود گٹر پر ایک چھری پڑی ہوئی تھی اور وہاں قریب ہی پچاس روپے بھی پڑے ہوئے تھے جو غالبا بچی گھر سے لے کر چیز لینے آئی تھی۔‘ڈی پی او کے مطابق اس منزل پر ایک سیڑھی موجود تھی جو چھت پر جاتی ہے بتایا گیا کہ چھت کی چابی دکان پر کام کرنے والے ایک لڑکے کے پاس ہوتی ہے۔’وہ لڑکا اس وقت دکان پر موجود نہیں تھا، مگر ہماری ٹیم نے طریقے سے اسے ٹریپ کر کے دکان پر بلایا اور جب وہ وہاں آ گیا تو پولیس اسے ساتھ لے کر اوپر گئی۔‘’جب پولیس چھت پر گئی تو یہ ایک کُھلی چھت تھی جس کے ایک طرف چھوٹا سا شیڈ بنا ہوا تھا جہاں بوریاں اور اکاٹھ کباڑ موجود تھا، جب پولیس نے وہ بوریاں ہٹائیں تو اس کے پیچھے سے بچی کی لا۔ش برآمد ہوئی۔‘ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ دکان کے ملازم، جس کے پاس چھت کی چابی موجود تھی، کی چپل پر بھی خون کے معمولی قطرے موجود تھے اور اس کو وہیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم نے بتایا ہے کہ ’بچی چیز لینے آئی تو میں اُسے کہا اگر تم نے چیز لینی ہے تو اُوپر پڑی ہے، میں نے اسے اُوپر بھیج دیا۔ جب وہ اُوپر چلی گئی تو وہاں میں نے ر۔یپ کی کوشش کی لیکن اس دوران بچی نے شور مچا دیا جس پر میں نے چھری سے اس کا گلا کا۔ٹ دیا۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا ارادہ تھا کہ جب رات کو دکان بند ہو گی تو وہ لا۔ش کو وہاں سے نکال کر کہیں دور لے جاکر پھینک دے گا۔ڈی پی او صہیب اشرف کے مطابق ’بچی کا پوسٹ۔ مارٹم ہو چکا ہے اور ڈی این اے سیمپلز پنجاب فرانزک لیب بھیجوا دیے گئے ہیں۔‘ اس ضمن میں عرض کریں کی خدشات درست نکلے ہیں کیونکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیا۔دتی کے زخم پائے گئے ہیں ۔ تاہم اس کا حتمی تعین ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد یہ کیس اب سی سی ڈی کے حوالے کر دیا ہے اور وہی مزید تفتیش کریں گے اور ملزمان کا ریمانڈ لیں گے

26/06/2026
26/06/2026

Murshid

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Muscat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Muscat
112