Vloging Muhammad Ismail Qadri
Love Pakistan
نماز کیلیئے لباس حدیث پاک کی روشنی میں
*صحيح البخاري # ٣٧٣*
*Sahih Bukhari # 373*
عَنْ عَائِشَةَ ، *أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا نَظْرَةً ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : «اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلَاتِي» ، وَقَالَ : «كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ فَأَخَافُ أَنْ تَفْتِنَنِي» .*
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ *نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی دھاری دار چادر (یا اونی لباس) میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار (بیل بوٹے) تھے۔ آپ ﷺ نے نماز کے دوران اس کے نقش و نگار پر ایک نظر ڈالی، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میری یہ چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ (بغیر نقش و نگار والی سادی چادر) میرے پاس لے آؤ، کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز کے دوران اس کے نقش و نگار کو دیکھ رہا تھا اور مجھے خدشہ ہوا کہ یہ مجھے (یکسوئی سے) بہکا نہ دے۔“*
_*(یہ حدیثِ مبارکہ نماز میں خشوع، حضورِ قلب اور یکسوئی کی اہمیت پر ایک عظیم تربیتی درس ہے۔ آپ ﷺ خشوع کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے اور عملا اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی، مگر محض کمی کے اندیشے کی وجہ سے، امت کی تعلیم کی خاطر، اس ظاہری چیز کو فوراً دور فرما دیا جو قلب و ذہن کی یکسوئی میں ذرہ برابر حائل ہو سکتی تھی۔ یہ چادر آپ ﷺ کو حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ نے تحفے میں دی تھی، اور آپ ﷺ نے چادر واپس کرتے وقت ان سے دوسری سادی چادر 'أنبجانية' مانگ لی تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ ان کا تحفہ بالکلیہ رد کر دیا گیا ہے۔ یہ آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا عظیم نمونہ ہے۔ شارحینِ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نماز کی جگہ، مصلّے، کپڑوں اور مساجد کے سامنے ایسے پیچیدہ نقش و نگار اور تصاویری حواشی سے پرہیز کرنا چاہیے جو نماز میں دھیان بھٹکانے کا سبب بنیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اپنی نمازوں میں کامل خشوع اور یکسوئی نصیب فرمائے۔ آمین۔)*_
طالب دعا : محمد اسماعیل قادری
حسد کا مرض اور اسکا علاج
*جامع الترمذي # ٢٥١٠*
*Jam e Tirmazi # 2510*
أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ حَدَّثَهُ، *أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ، الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ، هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَاكُمْ لَكُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» .*
Az-Zubairؓ bin Al-'Awwam narrated that *the Prophet (ﷺ) said: “The diseases of the nations before you has crept into you – envy and hatred – and it is the razor. I (ﷺ) don't speak of that (razor) which shaves hair, but it shaves the religion. By the one in whose hand is my (ﷺ) soul, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I tell you about what will strengthen that (love) for you? Spread the Salam (peace) between yourselves.”*
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے؛ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں (ﷺ) بال مونڈنے والی کی بات نہیں کر رہا، بلکہ یہ دین مونڈنے والی ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور مؤمن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو۔ اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو؟ تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ۔“*
_*(آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ایمان کی وہ تکمیل جو بغیر جہنم کا عذاب جھیلے جنت میں لے جائے، بغیر باہمی محبت کے نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ ہم کسی مسلمان سے حسد اور بغض میں تو مبتلا نہیں ہو گئے۔ ہمارا ایک دوسرے کو سلام دراصل ایک دعا ہے اور خلوص دل سے دوسروں کی سلامتی کی دعا کرنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں حسد اور بغض کی بیماریوں سے بچائے۔ آمین)*_
طالب دعا : محمد اسماعیل قادری
Category
Website
Address
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Vloging Muhammad Ismail Qadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
