Sada-e-Himalayan
The Echo of Truth from the Peaks. Representing the people of Gilgit-Baltistan with courage and integrity. #SadaEHimalayan
13/06/2026
گلگت بلتستان کی ٹیم نے شندور پولو فیسٹیول 2026 میں ایک شاندار فتح حاصل کی، جب انہوں نے چترال کو 6-5 کے سنسنی خیز مقابلے میں شکست دی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان شروع سے ہی ایک کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا، لیکن گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں نے اپنی مہارت، بہترین ٹیم ورک اور جارحانہ کھیل سے فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ آخری لمحات تک کھیل میں جوش و خروش برقرار رہا، جس نے شائقین کو انتہائی متوجہ رکھا۔ شندور پولو گراؤنڈ میں موجود شائقین نے گلگت بلتستان کی تاریخی فتح پر بھرپور انداز میں خوشی کا اظہار کیا اور ٹیم کو داد دی۔ یہ فتح یقیناً شندور پولو فیسٹیول کی یادگار فتوحات میں سے ایک ہوگی۔
08/06/2026
حلقہ GBA-21 (غذر III) کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آ گئے!
حلقہ GBA-21 (غذر III) میں انتخابی معرکے کے بعد تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج موصول ہو چکے ہیں، جس میں آزاد امیدوار نے میدان مار لیا ہے۔
🗳️ امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
امان علی (آزاد امیدوار): 9,938 ووٹ 👑 (واضح برتری)
ایوب شاہ (PPPP): 6,643 ووٹ
غلام محمد (PML-N): 5,564 ووٹ
غذر کے اس اہم اور حساس حلقے میں آزاد امیدوار امان علی نے روایتی سیاسی جماعتوں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن) کے مدمقابل امیدواروں کو بڑے مارجن سے شکست دے کر ایک تاریخی کامیابی اپنے نام کی ہے۔ عوام نے اپنا فیصلہ بیلٹ باکس کے ذریعے سنا دیا ہے۔
امید ہے کہ یہ انتخابی نتائج علاقے میں تعمیر و ترقی، امن اور خوشحالی کے ایک نئے سفر کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ تمام ووٹرز اور انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس پورے انتخابی عمل کو پرامن اور خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
آپ کی اس نتیجے کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کمنٹس سیکشن میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں۔
05/06/2026
یاسین:
مقتول طالب علم حسن نبی اور پاک فوج کے جوان محمد نبی کے بہیمانہ قتل کے خلاف عوامی سطح پر غم و غصے کی لہر برقرار ہے۔ اس سلسلے میں "نوجوانانِ ملت اہل سنت والجماعت گوپس یاسین" کی جانب سے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں نوجوانوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقتولین کے لیے انصاف اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرین کے بنیادی مطالبات:
قاتلوں کی فوری گرفتاری: نوجوانوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس لرزہ خیز قتل میں ملوث درندوں کو بغیر کسی تاخیر کے گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
علاقائی امن کا تحفظ: مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے بزدلانہ واقعات غذر اور یاسین کے پرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
برق رفتار تحقیقات: مقررین نے واضح کیا کہ ایک معصوم طالب علم حسن نبی اور ملک کے رکھوالے محمد نبی کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، اور جب تک پسماندگان کو انصاف نہیں ملتا، عوام چین سے نہیں بیٹھے گی۔
احتجاج کے اختتام پر شرکاء اور نوجوانوں کی جانب سے دونوں شہید بھائیوں کے درجات کی بلندی، مغفرت اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔ نوجوانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں مظلوم خاندان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور کیس کے منطقی انجام تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انتہائی افسوس ناک خبر-
یاسین- نازبر نالے میں دو سگے بھائیوں محمد نبی اور حسن نبی جن کا تعلق یاسین تھوداس سے تھا، کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کردیا ھے ان میں سے محمد نبی پاکستان آرمی میں حاضر سروس جونیئر کمیشنڈ آفیسر تھے اور ان کا تعلق 5 اے کے بٹالین سے تھا اور دوسرا حسن نبی جو کہ اقراء حُفاظ سیکنڈری سکول یاسین میں جماعت نہم کا طالب علم تھا-
ملزمان نے جس بے دردی سے ان کا قتل کیا ھے یہ انسانیت کے خلاف ایک سازش ھے۔ حکومت ان صفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کرے اور انسانیت کے دشمنوں کو سر بازار پھانسی پہ لٹکایا جائے۔
16/05/2026
امیر اہلِ سنّت و الجماعت مولانا قاضی نثار احمد کا پرنس رحیم الحسینی کی تشریف آوری کے حوالے سے ایک نہایت اہم پیغام-
15/05/2026
افسوسناک خبر: یاسین نوح میں شارٹ سرکٹ سے مکان میں آگ لگ گئی-
آج جمعہ کے مبارک دن، یاسین نوح کے رہائشی اور ایک محنت کش انسان، جلال الدین کے گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے اچانک آگ بھڑک اُٹھی
آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے نتیجے میں گھر کے دو کمرے مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تمام اہل خانہ محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلال الدین صاحب اور ان کے اہلخانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے نقصان کا بہترین نعم البدل عطا کرے۔ آمین۔
اور آپ تمام دوستوں سے بھی گزارش ہے کہ جلال الدین صاحب کے لیے خصوصی دعا کریں کہ اللہ ان کی پریشانی دور فرمائے۔ اگر ممکن ہو تو مقامی سطح پر ان کی مدد کے لیے بھی آگے بڑھیں۔
05/05/2026
شعائرِ اسلام کا تقدس اور قانونی کارروائی کا مطالبہ — 'رحمۃ للعالمین' صرف نبی کریم ﷺ کی ذات ہے!
سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک ایسی پوسٹ نظر سے گزری جس میں جہالت اور حد سے بڑھی ہوئی عقیدت میں ایک عام انسان کے لیے وہ مقدس لقب استعمال کیا گیا جو کائنات کے خالق نے صرف اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"** (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا)۔
کچھ باتیں جو ہر مسلمان کو سمجھنے کی ضرورت ہیں:
•• "رحمۃ للعالمین" کوئی عام اعزاز نہیں، یہ وہ منفرد مقام ہے جو نہ کسی امام، نہ کسی ولی اور نہ ہی کسی پیشوا کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ مقام صرف اس ہستی کا ہے جس پر نبوت ختم ہوئی۔
•• کسی بھی شخصیت کی محبت میں اتنا آگے بڑھ جانا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ حدود کو پار کر لیا جائے، یہ محبت نہیں بلکہ "ذہنی پستی" اور "گمراہی" ہے۔ ایسی حرکات سے نہ صرف عقیدہ خراب ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں فتنہ اور انتشار پھیلتا ہے۔
•• جو لوگ ایسی جاہلانہ پوسٹس کرتے ہیں، وہ اپنے ہی رہنماؤں اور کمیونٹی کے لیے جگ ہنسائی اور نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی لغو باتیں کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں۔
•• ایک سچے مسلمان کے لیے ناموسِ رسالت ﷺ اور آپ ﷺ کے مخصوص مقامات کا تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی سستی شہرت یا اندھی عقیدت کے لیے اسلام کی بنیادی اصطلاحات کا حلیہ بگاڑے۔
ہمارا پیغام واضح ہے:
عقیدت آپ کا نجی معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن اسلام کی بنیادی اصطلاحات اور نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی قسم کی مداخلت یا تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسی حرکات کرنے والے افراد کو فوری طور پر توبہ کرنی چاہیے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے فتنہ انگیز بیانات پر نظر رکھے جو علاقے کے امن و امان کو تباہ کر سکتے ہیں۔
28/04/2026
طاؤس چشمہ پہاڑ پر جاری تعمیراتی کام — عوامی املاک کا تحفظ اور حقائق جاننے کا حق
پچھلے کئی ہفتوں سے 'طاؤس چشمہ' کے مقام پر پہاڑ کی چوٹی کی طرف ایک نئی سڑک نکالنے کا کام جاری ہے اور بھاری مشینری مسلسل کام کر رہی ہے۔ یہ سڑک اب پہاڑ کے کافی اوپری حصے تک پہنچ چکی ہے۔
یہاں یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس پہاڑ کے بالکل نیچے صرف ایک بستی یا دیدار گاہ ہی نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی مارکیٹ، کالجز، سکولز، ہسپتال اور نادرا آفس سمیت دیگر اہم عوامی اور سرکاری املاک موجود ہیں۔
چونکہ اس تعمیراتی کام کو شروع ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن تاحال متعلقہ منتظمین کی جانب سے اس پراجیکٹ کے مقاصد کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لینڈ سلائیڈنگ روکنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن مستند معلومات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں ہزاروں سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں کہ آخر اتنی بلندی پر کیا بنایا جا رہا ہے جس سے نیچے موجود اربوں روپے کی املاک اور انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ہمارا علاقہ سنی، شیعہ اور اسماعیلی کمیونٹی کے باہمی اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ چونکہ یہ پراجیکٹ مبینہ طور پر اسماعیلی کمیونٹی کے زیرِ انتظام ہے، اس لیے ہم انتہائی ذمہ داری اور احترام کے ساتھ پراجیکٹ کے منتظمین اور متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ یا آفیشل بیان جاری کریں۔
جب معلومات چھپائی جاتی ہیں یا تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، تو معاشرے میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ واقعی عوامی فلاح اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ کے لیے ہے، تو عوام کو اعتماد میں لینے سے نہ صرف ان کی پریشانی دور ہوگی بلکہ تمام کمیونٹیز کی جانب سے اس پراجیکٹ کو بھرپور سپورٹ بھی ملے گی۔
تعمیر و ترقی سب کے لیے اہم ہے، لیکن عوامی تحفظ اور باہمی اعتماد اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Disclaimer
Please note that this image is a representation generated based on your description for illustrative and documentary purposes. While it includes the key elements mentioned, such as the construction on the mountain and the public infrastructure below, it is not a direct photograph of the actual "Taus Chashma" location in Gilgit-Baltistan. Its purpose is to visually support your post by highlighting the spatial relationship and the public safety concerns described.
17/03/2026
علامہ جواد نقوی کا بیانیہ — علمی بصیرت یا نظریاتی غلامی؟
ہم اکثر "ذہنی غلامی" کی بات کرتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ سب سے خطرناک غلامی وہ ہے جو عقیدت اور مذہب کے لبادے میں بیچی جائے۔ حالیہ دنوں میں علامہ جواد نقوی کے بیانات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب عقیدت وطن کی محبت پر غالب آ جائے تو انسان اپنی ہی جڑوں کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
"مذہبی لبادہ اوڑھ کر اپنے ہی ملک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینا سب سے بڑی 'ذہنی غلامی' ہے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو قوم کو جوڑے، نہ کہ جواد نقوی کی طرح بیرونی ایجنڈے پر اپنے ہی ملک کو نیچا دکھائے۔"
• وطن دشمنی یا نظام پر تنقید؟ علامہ جواد نقوی کا تسلسل کے ساتھ پاکستان کے دفاعی اداروں پر تبرہ کرنا اور ریاست کو "کرائے کا سپاہی" کہنا محض تنقید نہیں بلکہ بغاوت کی ترغیب ہے۔ جو شخص اپنی مٹی کا دفاع کرنے کے بجائے حملہ آور کے بیانیے کو "حق" ثابت کرے، اس کی نیت پر سوال اٹھانا ہر محبِ وطن کا حق ہے۔
محراب و منبر کا تقدس اس میں ہے کہ وہ امت کو جوڑے۔ لیکن جب کوئی عالم کسی دوسرے ملک (ایران) کے سیاسی نظام کی وکالت میں اپنے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دے، تو وہ عالم نہیں بلکہ ایک سیاسی مہرہ بن جاتا ہے۔
جواد نقوی صاحب نوجوانوں کو "حریت" کا درس تو دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں اپنے ہی ملک اور پرچم کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں۔ یہ وہی "ذہنی غلامی" ہے جہاں آپ کو اپنے ملک کی فتح میں شرمندگی اور دوسرے ملک کی مداخلت میں فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔
سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن ریاستِ پاکستان کی توہین اور دشمن کے ایجنڈے کی تشہیر کسی صورت قبول نہیں۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، مگر پاکستان کی بقا مقدم ہے۔
خدارا! اندھی عقیدت کے بتوں کو توڑیں اور پہچانیں کہ کون آپ کو شعور دے رہا ہے اور کون آپ کو اپنے ہی گھر کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
08/03/2026
شاہ لطیف ٹاؤن شرپسندی — بے جان پینا فلیکس سے دشمنی یا بیمار ذہنیت کی عکاسی؟
رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں، جہاں ہر مسلمان عبادت اور ایثار کا درس لیتا ہے، نیشنل ہائی وے شاہ لطیف ٹاؤن کے مقام پر "عشرۂ ماںؓ بیٹاؓ" کے پینا فلیکس کی بے حرمتی کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے۔ شرپسند عناصر نے نہ صرف ان فلیکسز کو پھاڑا اور سگریٹ سے جلایا، بلکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نامِ مبارک کی توہین کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ایک لمحہ فکریہ:
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان "بے جان پینا فلیکسز" نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ یہ محض کپڑے یا پلاسٹک کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ ان پر درج نام ہماری عقیدتوں کے مرکز اور ہماری تاریخ کا اثاثہ ہیں۔
• بے جان چیز پر غصہ کیوں؟ کسی پینا فلیکس کو پھاڑنے یا جلانے سے آپ کسی کی عظمت کو کم نہیں کر سکتے، بلکہ ایسا کر کے آپ صرف اپنی بیمار ذہنیت اور اخلاقی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
• نفرت کا نشانہ: ایک ایسی ہستی کا نام جو پوری امت کی ماں ہیں، انہیں نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شرپسند عناصر معاشرے میں امن نہیں بلکہ صرف "افرا تفری" اور "نفرت" دیکھنا چاہتے ہیں۔
• دین کی تعلیمات کے خلاف: کوئی بھی مذہب یا مسلک ایسی نیچ حرکت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ کسی خاص گروہ کا کام نہیں بلکہ ان مٹھی بھر لوگوں کا فعل ہے جو چاہتے ہیں کہ ہم ان بے جان چیزوں کی آڑ میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں۔
ہماری آواز:
ہم اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پینا فلیکس کو جلایا جا سکتا ہے، لیکن دلوں میں موجود محبت اور احترام کے چراغوں کو کوئی نہیں بجھا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ان مجرموں کا سراغ لگایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
آئیے! جذبات کے بجائے ہوش سے کام لیں اور ان شرپسندوں کو ان کے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100
