Islamic Scholar
God Bless you Always
السلام علیکم ورحمتہ اللہ کیا حال ہے
🥀 _*سردی میں وضو کی فضیلت*_ 🥀
سیدنا ابو هريرةؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسے اعمال نہ بتلاؤں جن کے ذریعے اللّٰہ گناہ معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کر دیتا ہے؟
صحابہ نے عرض کیا اے اللّٰہ کے رسولﷺ ضرور بتلاٸیے فرمایا سختی اور تکلیف میں اچھی طرح وضو کرنا مساجد کی طرف زیادہ چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی تمہارا رباط (اپنے آپ کو الله کی اطاعت پر کاربند رکھنا) ہے
📚 (صحيح مسلم:251)
امام نوویؒ فرماتے ہیں
تکلیف میں اچھی طرح وضو کرنے سے مراد سخت سردی اور جسمانی تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہوئے وضو کرنا ہے
📚 (شرح صحيح مسلم: (141/3)
16/11/2023
13/11/2023
🥀 _*مولانا رُومی کی مشہور
جب تو مجنوں نہیں هے ،
تو تجھے کیا خبر لیلی کون هے ؟
بادشاه وقت اپنے مصاحبین کے ساتھ کہیں جا رها تها جب اس کے مصاحبین میں سے کسی نے اسے بتایا کہ عالی جاه !
یه جو عورت ابھی ابھی آپ کے قریب سے گزری هے، یہ لیلی تھی
بادشاه نے پوچھا ، لیلی کون ؟
اسے بتایا گیا کۂ حضور ! لیلی وه عورت هے جس کی خاطر ایک شخص اپنے حوش و حواس سے بیگانه هوا پھرتا هے ، جسے لوگ مجنوں پکارتے هیں-
بادشاه کو تجسس هوا ، اس نے حکم دیا ،
لیلی کو حاضر کیا جائے ، آخر هم بھی تو دیکھیں کۂ وه کون سی حسینۂ ھے جس کی خاطر ایک شخص دنیا سے بیگانه هو گیا-
چنانچہ لیلی کو حاضر کیا گیا،
بادشاه نے دیکھا کۂ لیلی ایک سیاه فام ، عام سی عورت هے جس پر شاید کوئی دوسری نگاه ڈالنے کی بھی خواهش نه رکھے-
وه لیلی سے مخاطب هوا،
اے لیلی ! مجھے تو تجھ میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی، پھر مجنوں تیری خاطر دیوانه کیوں هو گیا ؟
لیلی مسکرائی اور بولی،
جب تو مجنوں نہیں هے ، تو تجھے کیا خبر لیلی کون هے ؟
اگر میرا حسن و جمال دیکھنا چاهتے هو تو مجھے مجنوں کی آنکھوں سے دیکھو ، پھر تجھے میں دنیا کی سب سے حسین عورت دکھائی دوں گی۔
لہذا اے میرے دوست ! جس طرح لیلی کا حسن دیکھنے کیلئے مجنوں کی آنکھیں درکار ہیں اسی طرح محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم کو دیکھنے کیلئے بھی عاشق رسول کی آنکھوں کی ضرورت ہے، اگر ابو جہل کی آنکھ سے دیکھو گے تو اپنے جیسا ہی دکھائی دے گا لیکن اگر عاشق رسول کی آنکھ سے دیکھو گے تو شفیع الامم جیسا کوئی دوسرا خوبیوں والا نظر ہی نہیں آئے گا.
(مثنوی رومی ،حضرت جلال الدین رومی رحمته الله علیه)
1️⃣🥀 اِصــــــــلاحِ معاشِرہ🥀 WhatsApp Group Invite
🥀 _*خوف اور غم سے نجات*_ 🥀
سیّد ابو بکر غزنویؒ کہتے ہیں
قرآن نے یہ کہا کہ ہم خوف اور غم کو اپنے دوستوں کے دلوں سے اچک لیتے ہیں
*اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ*
(سورة یونس: ٦٢)
سن لو بیشک اللّٰہ کے دوست ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے.
اللّٰہ کے ذکر سے اور اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے پہلی بات یہ حاصل ہوتی ہے کہ یہ مال و دولت کا غم جس میں دنیا گھلتی جا رہی ہے یہ جھوٹے خداوندوں کا خوف انسان کے دل سے اچک لیا جاتا ہے اور یاد رکھیے کہ اس دنیا میں جتنی ذہنی کوفت اور روحانی اذیت ہے وہ یا خوف سے پیدا ہوتی ہے یا غم سے پیدا ہوتی ہے
پس وہ اپنے دوستوں کے دلوں سے خوف اور غم دونوں کو نکال دیتا ہے انہیں ایک روحانی آسودگی حاصل ہوتی ہے تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ لوگ جن کا اللّٰہ سے تعلق تھا وہ کس طرح رقص کرتے ہوئے پھانسیوں کی طرف لپکتے رہے اور پھانسی کے پھندوں کو چومتے رہے
🥀 _*جـہاد کی نیت اور تمنا رکھنا*_ 🥀
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہےکہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا
جو اس حال میں فوت ہوا کہ کوئی غزوہ لڑا نہ دل میں لڑنے کا ارادہ رکھا تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا
(صحيح مسلم : ١٨٥)
امام ابن ھبیرۃ الوزیرؒ (٥٦٠ھ) فرماتے ہیں
مسلمان کی شان یہ ہے کہ اللّٰہ کے دشمنوں سے حالتِ جنگ میں ہوتا ہے ممکن ہو تو ظاہرًا یعنی بنفسِ نفیس وگرنہ سِرًّا یعنی دل کے عزم اور ارادے کے ساتھ پس اگر ظاہرًا بھی حالتِ جنگ میں نہ ہو اور باطن میں بھی کوئی جذبہ نہ رکھتا ہو تو یہ نفاق کا ایک شعبہ ہے
(الإفصاح عن معاني الصحاح : ٧٣/٨)
علامہ محمد بن اسماعیل الصنعانیؒ (١١٨٢ھ) فرماتے ہیں
یہ دلیل ہے کہ جـہاد کا عزم رکھنا واجب ہے
(سبل السلام : ١٩٥/٧)
الملک المظفر سیف الدین قطزؒ (٦٥٨ھ) کا جب تاتاریوں کے لشکر سے سامنا ہوا تو اُس نے سالارانِ سپاہ سے کہا تب تک جنگ شروع نہ کرنا جب تک زوال کا وقت نہ ہو جائے اور سایہ دراز نہ ہونے لگ جائے اور ہوائیں نہ چلنے لگیں اور خطباء و عوام الناس جمعے میں ہمارے لیے دعائیں نہ کر لیں
(البداية والنهاية لابن كثير : ٢٢٦/١٣)
سلطان صلاح الدین الأيوبیؒ (٥٨٩ھ) کی کوشش ہوتی تھی کہ عین نمازِ جمعہ کے بعد لشکر کشی کی جائے تاکہ منبروں پر خطباء کی کروائی گئی دعاؤں کی برکت حاصل ہو
(الروضتين في أخبار الدولتين : ٢٩٣/٣)
بئرِ معونہ کے روز جب سیدنا حرام بن ملحانؓ کو شہید کیا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ اپنے خون میں ڈبویا اور اُسے چہرے اور سر پر پھیر کر فرمایا ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا
(صحيح البخاري : ٤٠٩٢)
*أَتَىٰۤ أَمۡرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوهُ* (سورة النحل : ١)
اللہ کا حکم آ پہنچا ہے پس اُس کیلیے جلدی نہ مچاؤ
ایک قول یہ ہے کہ یہاں حکم سے مراد کفار کے خلاف اللہ کی نصرت ہے اور ماضی کا صیغہ تحقیق اور قُرب کیلیے ہے؛ کہ یقینًا ایسا ہو گا اور عنقریب ہو گا
(تفسير ابن جُزَيّ : ٤٢٢/١)
جب حجاج نے سعید بن جبیرؒ (٩٥ھ) کو شہید کیا تو عطاء بن ابی میمونہؒ (١٣١ھ) اُن کی نعش کے پاس سے گزرے اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ربا ظالموں پر تیرا حِلم مظلوموں کو دل گرفتہ کر دیتا ہے عطاء کہتے ہیں اس کے بعد مجھے نیند آئی تو میں نے خواب میں سعید بن جبیر کو ایسے جگمگاتے ہوئے محل میں دیکھا جس کے حُسن کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی اور ایک آواز سنائی دی عطاء! ظالموں پر اُس کا حِلم ہوتا ہے تو مظلوم اس اِکرام کے مستحق بنتے ہیں
(الصلة لابن بشكوال : ١١٢٧ ، طبقات ابن أبي يعلى : ٢١٥/٢)
یااللہ
ہم سے راضی ہو جا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
41005
