Daily Report
Delivering breaking news, real stories, and trusted updates. Dedicated to honest reporting and keeping people informed every day. 🎙️ @waqarjournalist
راولاکوٹ آج رات کے مناظر
14/06/2026
ریاست آزاد کشمیر اس وقت تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑی ہے۔ سات دن سے جاری مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، بند بازار، سنسان سڑکیں اور ہر چہرے پر پھیلی بے چینی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہےاگر ہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا دور ایک مختلف طرز حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے دور میں بھی احتجاج ہوئے، دھرنے لگے، لانگ مارچ نکلے، مگر ہر بار مسئلے کا حل مذاکرات کی میز پر نکالا گیا۔ انہوں نے ہمیشہ ایک ثالث، ایک پل کا کردار ادا کیا ریاست اور عوام کے درمیان۔
مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ موجودہ حکومت، جو خود کو "عوامی حکومت" کہتی ہے، اپنی ہی عوام کے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ طاقت کا استعمال، گولیاں، لاٹھیاں اور آنسو گیس کیا یہی عوامی مینڈیٹ کا تقاضا تھا؟ ایک ایسا وزیراعظم جو پونچھ ڈویژن سے تعلق رکھتا ہے، اپنی ہی دھرتی کے لوگوں کے خلاف فورسز استعمال کر رہا ہےیہ لمحہ فکریہ ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب الیکشن میں صرف چھ ماہ باقی تھے تو چوہدری انوار الحق کو کیوں ہٹایا گیا؟ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کیوں سنبھالی؟ کیا یہ واقعی عوامی خدمت کا جذبہ تھا یا کچھ اور مقاصد تھے؟ اگر مقصد عوامی خدمت تھا تو آج یہی عوام سڑکوں پر کیوں ہیں؟
عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ جب پورے کشمیر کے تاجر، نوجوان، خواتین اور بزرگ اس تحریک کے ساتھ کھڑے ہوں، تو کیا سب کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ہر آواز کو دبایا جا سکتا ہے؟
یہ حقیقت سب کو ماننی ہوگی کہ اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں آخرکار بیٹھنا مذاکرات کی میز پر ہی پڑے گا۔ تو پھر یہ تاخیر کیوں؟ ہر گزرتا دن مزید جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے، ہر لمحہ ریاست کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔
کشمیری عوام اب پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ گھروں کو واپس نہیں لوٹیں گے جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ یہ کوئی وقتی احتجاج نہیں، یہ ایک اجتماعی شعور کی بیداری ہے۔
حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت سے خاموشی تو خریدی جا سکتی ہے، مگر اعتماد نہیں۔ اعتماد صرف مذاکرات، سنجیدگی اور عوام کے دکھ کو سمجھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
وقت ابھی بھی ہے—اگر ہوش کے ناخن لے لیے جائیں۔ ورنہ تاریخ اپنے فیصلے خود سناتی ہے، اور وہ فیصلے ہمیشہ عوام کے حق میں ہوتے ہیں۔
آخر میں سوال یہی ہے: مذاکرات سے گریز
H
لندن میں کشمیریوں کا مارچ
Members of the Azad Jammu and Kashmir (AJK) diaspora and supporters gathered at Parliament Square, London, in a peaceful demonstration to express solidarity with the people of Kashmir. Protesters emphasized that Kashmiris are not alone, highlighting the support of overseas Kashmiris and communities around the world. Through speeches, banners, and public engagement, participants called for attention to the rights, welfare, and concerns of the Kashmiri people, while advocating for justice and peaceful dialogue.
آئین پاکستان اور آئین آزاد کشمیر کے اندر رہا کر اپنے مطالبات کی ڈیمانڈ کر رہے شوکت نواز میر
شوکت نواز میر نے تمام تفصیلات بتا دی جس میں انہوں نے کہا آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جو معاہدے کیے گئے تھے ان میں سے کتنے پر عمل درآمد ہوا کتنے بقایا ہے
راولاکوٹ دن دس بجے کے مناظر
برطانیہ میں مقیم ایک آزاد کشمیری کے شہری نے اپنی جذبات والی تقریر پر معافی مانگ لی زرائع نے دعوا کیا ہے دو دن پہلے انہوں نے ایک تقریر کی تھی آج انہوں نے اس تقریر پر پاکستانی عوام اور آزاد کشمیر کی عوام معافی مانگ لی
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا بڑا مطالبہ
الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول واپس لے بلی تھالے سے باہر آ ہی گئی
Click here to claim your Sponsored Listing.
