Kam ki bat

Kam ki bat

Share

digital content

25/05/2026

‏﴿ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ﴾

‏﴿ اللَّهُمَّ اكْفِنِى بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِى بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ﴾

‏﴿ فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِر ﴾

‏﴿ وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا ﴾

‏﴿ حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ ﴾

‏﴿ وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ﴾

‏﴿ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴾

21/05/2026

إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ نِدَاۤءً خَفِیࣰّا
"جب انہوں نے اپنے رب کو پوشیدہ (دھیمی) آواز میں پکارا"

انہوں نے اپنے رب سے چپکے سے دعا کی تاکہ یہ اللہ کے لیے زیادہ کامل اور مخلصانہ ہو،
اور قبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہو۔

آپ کی دعا خواہ کتنی ہی پوشیدہ کیوں نہ ہو،
اور اگر آپ کو یہ ڈر ہو کہ شاید اللہ کو اس کا احساس نہیں یا وہ اسے قبول نہیں کرے گا،
تو مطمئن رہیے!
اللہ گواہ ہے،
وہ ہر اس چیز سے واقف ہے جس سے آپ گزرے ہیں،
اور وہ آپ کے ہر اس درد کو جانتا ہے جو آپ نے محسوس کیا ہے۔

یہاں تک کہ وہ آپ کی کمزوری سے بھی واقف ہے،
اور یہ بھی جانتا ہے کہ آپ کے پاس دعا کرنے کی کتنی کم ہمت اور طاقت بچی ہے۔
لیکن آپ کا بس اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے:
"یا رب!"
اور وہ آپ کو آپ کی امیدوں سے بھی بڑھ کر عطا کرے گا اور بہترین نعم البدل دے گا۔

21/05/2026

حضرت مولانا رومی رحمہ اللہ نے موت کے فرق کو نہایت خوبصورت مثال سے بیان کیا ہے۔

ایک شخص وہ ہے جو اس دنیا کی عیش و عشرت میں کھو جاتا ہے، اپنی خواہشات کی تکمیل میں مصروف رہتا ہے اور آخرت کو بھول بیٹھتا ہے۔

اور دوسرا شخص وہ ہے جس کی نگاہ ہمیشہ آخرت پر ہوتی ہے۔ وہ اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے گزارتا ہے، کیونکہ یہ دنیا دراصل آخرت کی کھیتی ہے۔

یہ دنیا بوائی کا موسم ہے، جبکہ آخرت کٹائی کا موسم ہے۔

جو کسان بوائی کے موسم میں مٹی سے مٹی ہو جاتا ہے، سحری کے وقت اٹھتا ہے، کھیتوں میں جاتا ہے، جڑی بوٹیاں نکالتا ہے، پانی دیتا ہے اور محنت کرتا ہے، کٹائی کے موسم میں بھرپور فصل بھی وہی حاصل کرتا ہے۔

لیکن جو بوائی کے موسم میں عمدہ لباس پہن کر گھومتا پھرتا ہے، غفلت میں وقت گزار دیتا ہے، سحری کے وقت اٹھ نہیں پاتا، کھیتوں کی دیکھ بھال نہیں کرتا، جڑی بوٹیاں صاف نہیں کرتا، تو کٹائی کے موسم میں اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔

یہ دنیا عمل کا میدان ہے، محنت کا موسم ہے، تیاری کا وقت ہے۔

اور آخرت نتیجے کا دن ہے، فصل کاٹنے کا وقت ہے۔

جو آج اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارے گا، وہ کل کامیابی کی فصل کاٹے گا۔

اور جو آج غفلت میں پڑا رہے گا، کل حسرت اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں کرے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا کی حقیقت سمجھنے، نیک اعمال کی کھیتی بونے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین 🤲🤲🤲🤲🤲🤲

19/05/2026
18/05/2026

صحابیِ رسول کا واقعہ اور نظرِ بد کی حقیقت
ایک دن رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف سفر فرما رہے تھے۔
دورانِ سفر ان کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جگہ کا نام (شِعب الخَرَّار) تھا۔
صحابیِ رسول سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنے اور اپنے جسم کو سفر کے گرد و غبار سے صاف کرنے کا ارادہ کیا۔
یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ مکہ، مدینہ یا عموماً صحرائی علاقوں کے مردوں کی جلد (اسکن) مٹی سے بھری ہواؤں اور انتہائی تیز دھوپ کے براہِ راست اثر کی وجہ سے خشک اور گندمی (سانولی) ہوتی ہے۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی جلد اس کے بالکل برعکس تھی۔
وہ انتہائی سفید، رنگت کی صاف اور خوبصورت تھی۔
یہی وہ چیز تھی جس نے دوسرے صحابی سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی جب انہوں نے سیدنا سہل کو غسل کرتے ہوئے دیکھا۔
انہوں نے (تعجب سے) کہا

(ما رأيت كاليوم، ولا جلد مخبأة)

(یعنی: میں نے آج سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی ایسی دوشیزہ (پردہ نشین لڑکی) کی جلد دیکھی ہے جو کبھی دھوپ میں نہ نکلی ہو، بلکہ یہ تو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے)۔
ابھی عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل کو دیکھا ہی تھا اور یہ جملہ زبان سے نکالا ہی تھا کہ سیدنا سہل بن حنیف فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور پھر ہوش میں نہ آئے۔
صحابہ کرام نے انہیں ہوش میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر افسوس کہ وہ ناکام رہے۔
چنانچہ انہوں نے سیدنا سہل کو اٹھایا اور تیزی سے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لے گئے اور عرض کیا:
(اے اللہ کے رسول! کیا آپ سہل کی خبر لیں گے؟ اللہ کی قسم! وہ اپنا سر تک نہیں اٹھا پا رہے ہیں)۔
نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا

(هل تتهمون فيه من أحد؟)

(کیا تمہیں اس معاملے میں کسی پر شک ہے؟)
انہوں نے عرض کیا:
(عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھا تھا)۔
تب رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو بھیجا تاکہ وہ عامر بن ربیعہ کو بلا لائیں۔
جب عامر تشریف لائے، تو نبی کریم ﷺ نے شدید ناراضگی اور غصے کی حالت میں ان سے سوال کیا اور فرمایا

(علامَ يقتل أحدكم أخاه؟ هلا إذا رأيت ما يعجبك بركت!)

(یعنی: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (محض نظر کی چوٹ سے) کیوں قتل کرنے پر تلا ہوا ہے؟ جب تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی تھی جو تمہیں پسند آئی، تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہ دی؟!)

(هلا إذا رأيت ما يعجبك بركت)
کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کے پاس کوئی خوبصورت یا اچھی چیز دیکھیں جو آپ کی توجہ کھینچ لے، تو آپ پر لازم ہے کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس شخص کے لیے اس چیز میں مزید اضافہ کرے اور برکت عطا فرمائے۔
چنانچہ آپ کہیں:
(اللهم بارك)
یا کہیں:
(تبارك الله)
یا کہیں:
(بارك الله لك)
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو فہمائش اور ملامت کرنے کے بعد، نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ سہل کے لیے غسل کریں۔
(يغتسل لسهل)
(سہل کے لیے غسل کرے)۔
(يغتسل لسهل) یعنی سہل کے لیے غسل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
آپ ﷺ نے عامر کو حکم دیا کہ وہ پاک پانی لائیں۔
اس سے اپنا چہرہ، دونوں ہاتھ کہنیوں تک، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے اطراف (ٹخنوں اور انگلیوں سمیت) دھوئیں۔
اور اپنے تہبند (لوئی) کا اندرونی حصہ بھی اس برتن کے پانی میں ڈبوئیں۔
یہ سارا پانی ایک ہی برتن میں جمع کیا گیا۔
پھر اس پانی کو پیچھے کی طرف سے سیدنا سہل کے سر اور پیٹھ پر بہا دیا گیا۔
اس کے بعد کیا ہوا؟
جیسے ہی وہ پانی سیدنا سہل پر ڈالا گیا، وہ اسی وقت ہوش میں آ گئے۔
اٹھ کھڑے ہوئے اور صحابہ کے درمیان یوں چلنے لگے جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف ہی نہ ہوئی ہو۔
کیا اس چیز کو "حسد" کہا جائے گا؟
جی نہیں!
اس کو (العین) یعنی نظرِ بد کہا جاتا ہے۔
تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟
ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔
عائن (نظر لگانے والا):
یہ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے پاس کوئی اچھی یا خوبصورت چیز دیکھتا ہے۔
وہ اسے پسند آتی ہے، لیکن وہ اس کے لیے برکت اور اضافے کی دعا کرنا بھول جاتا ہے۔
نتیجے کے طور پر، بغیر کسی بری نیت یا ارادے کے، اس کی نظر دوسرے کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔
نظر لگانے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
باپ، ماں، بھائی یا کوئی بھی ایسا شخص جو آپ سے محبت کرتا ہو۔
یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ سے نفرت کرتا ہو۔
یہاں تک کہ نظر لگانے والا کوئی نیک انسان، کوئی مذہبی شخص یا کوئی دیندار لڑکی بھی ہو سکتی ہے۔
حاسد (حسد کرنے والا):
یہ وہ بدخواہ اور کینہ پرور شخص ہوتا ہے جو دل میں نفرت چھپائے ہوتا ہے۔
وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ آپ کے پاس موجود نعمت آپ سے چھن جائے اور آپ اس سے محروم ہو جائیں۔
ایسے شخص کا عذاب اللہ کے ہاں بہت ہی زیادہ سخت ہے۔
اسی لیے، جب بھی آپ کسی دوسرے کے پاس کوئی اچھی چیز دیکھیں، تو آپ کو کہنا چاہیے

(اللهم بارك، ما شاء الله تبارك الله، اللهم زد وبارك)

اور اگر وہ خوبصورت یا اچھی چیز خود میری اپنی ہو اور میری ملکیت ہو، تو مجھے کہنا چاہیے

(ما شاء الله لا قوة إلا بالله)

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے

(وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)
[الكهف: 39]

(ترجمہ: اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہ کہا کہ جو اللہ چاہے، اللہ کی مدد کے بغیر کوئی طاقت نہیں)۔
نظرِ بد کے نقصانات (احادیث کی روشنی میں)
نظرِ بد انسان کو قبر تک پہنچا سکتی ہے، اس لیے اپنے ضمیر کو اس گناہ سے پاک رکھیں، خواہ آپ کو یقین ہی کیوں نہ ہو کہ آپ اس کا سبب نہیں بنے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے

(العين حق، ولو كان شيء سابق القدر سبقت العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا)
(رواہ مسلم)

(ترجمہ: نظر کا لگنا حق (سچ) ہے، اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظرِ بد ہوتی۔ اور جب تم سے غسل کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کر دیا کرو)۔
امام ابو نعیم اصبہانی نے الحلیہ میں اور ابنِ عدی نے حسن سند کے ساتھ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(العين تدخل الرجل القبر، وتدخل الجمل القدر)
(ترجمہ: نظرِ بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کر دیتی ہے)۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا

(أكثر من يموت من أمتي بعد قضاء الله وقدره بالأنف يعني: بالعين)

(ترجمہ: اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر کے بعد، میری امت میں سب سے زیادہ موت کا شکار ہونے والے لوگ وہ ہوں گے جو نظرِ بد کی وجہ سے مریں گے)

مؤطا امام مالک
مسند احمد بن حنبل
صحیح مسلم
سنن ابن ماجہ
صحیح ابن حبان
مستدرک الحاکم
المعجم الکبیر للطبرانی

18/05/2026

*ذوالحجہ کے یہ دس دن عام نہیں*🌻
اگر رمضان میں آپ سے کوتاہی ہوگئی…
اگر آپ ویسی عبادت نہ کرسکے جیسے دل چاہتا تھا…
اگر قرآن، تہجد، دعا یا توبہ میں کمی رہ گئی…
تو مایوس نہ ہوں
اللہ نے ایک بار پھر اپنے بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے ہیں
یہ عام دن نہیں ہیں
ذوالحجہ کے پہلے دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیک اعمال کے لیے سب سے زیادہ محبوب دن ہیں

*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*♥️

“کوئی دن ایسا نہیں جس میں نیک عمل اللہ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہو۔”
— صحیح بخاری

اگر آپ حج پر نہیں جارہے تب بھی رحمت، مغفرت، ذکر، صدقہ، روزہ، قرآن اور سچی توبہ کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں
ان قیمتی دنوں کو سال کے دوسرے دنوں کی طرح گزرنے نہ دیں

*ان دنوں میں کیا کریں؟*

1۔ پانچ وقت کی نماز
سب سے پہلے اپنی نمازیں درست کریں
صرف پڑھنا نہیں… دل کے ساتھ، سکون سے، خوبصورتی سے نماز ادا کریں
کیونکہ جس کی نماز سنور گئی، اس کی زندگی سنورنے لگتی ہے۔

*2۔ تہجد کو زندگی میں لائیں*

کوشش کریں کہ ان دس دنوں میں رات کو اٹھیں۔
اگر صرف 10 منٹ بھی مل جائیں تو اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔
روئیں، مانگیں، توبہ کریں۔
کبھی کبھی ایک سجدہ انسان کی تقدیر بدل دیتا ہے

*3۔ کثرت سے ذکر کریں*

اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھیں۔
• سبحان اللہ
• الحمدللہ
• لا إله إلا الله
• اللہ أكبر
• أستغفر الله

مختلف اذکار پڑھیں تاکہ دل حاضر رہے اور زبان صرف عادت میں نہ چلے۔

*4۔ تکبیرِ تشریق پڑھیں*

اپنے دن کو تکبیر سے بھر دیں۔
چلتے پھرتے، کام کرتے، اٹھتے بیٹھتے:

اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ

اتنا پڑھیں کہ دل گواہی دے
“اللہ ہر چیز سے بڑا ہے… میری پریشانیوں سے بھی میرے خوف سے بھی میری خواہشات سے بھی۔”

*5۔ صدقہ کریں*

چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو
ایک مسکراہٹ ایک کھانا، کسی کی مدد، کسی کے لیے دعا…
اللہ کے نزدیک کوئی نیکی چھوٹی نہیں۔

*6۔ قرآن سے تعلق جوڑیں*

روز تھوڑا ہی سہی، قرآن ضرور پڑھیں۔
قرآن صرف ثواب نہیں دیتا، دلوں کو زندہ بھی کرتا ہے۔

*7۔ معاف کرنا سیکھیں*

اگر کسی نے آپ کے ساتھ برا کیا ہے تو دل صاف کرنے کی کوشش کریں۔
`یاد رکھیں`🌸
جو دل لوگوں کو معاف نہیں کرسکتا وہ راتوں کو اللہ کے سامنے سکون سے کھڑا بھی نہیں ہوسکتا۔

سلام دعا قائم رکھیں رشتے نہ توڑیں۔

*8۔ کسی کو تکلیف نہ دیں*

نہ زبان سے، نہ رویے سے، نہ سوشل میڈیا پر
ہوسکتا ہے آپ کا ایک جملہ کسی کے دل کو زخمی کردے

*9۔ حسد سے بچیں*

کوئی زیادہ عبادت کررہا ہے…
کوئی بڑی قربانی کررہا ہے…
کوئی عید کی اچھی تیاری کررہا ہے…
دل میں حسد نہ آنے دیں
کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو

*ایک خاص عمل*🌸

اگر ہوسکے تو:
• عرفہ کا روزہ رکھیں
• روزانہ استغفار کریں
• والدین کے لیے دعا کریں
• اور ہر دن کم از کم ایک نیکی چھپ کر کریں جسے صرف اللہ جانتا ہو

*آخر میں*💛

`ہوسکتا ہے یہ دس دن آپ کی زندگی بدل دیں ہوسکتا ہے ایک سچی توبہ، ایک آنسو، ایک دعا… آپ کو اللہ کے بہت قریب کردے۔`
`اس لیے ان دنوں کو غفلت میں ضائع نہ کریں کیونکہ ہر کسی کو یہ مبارک دن دوبارہ نصیب نہیں ہوتے`🥺♥️

14/05/2026

حضرت بی بی ام عمارہ رضی اللّہ عنہاجن کا نام ’’نسیبہ‘‘ ہے جنگ ِ اُحد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور دو فرزند حضرت عمارہ اور حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو ساتھ لے کر آئی تھیں ۔ پہلے تو یہ مجاہدین کو پانی پلاتی رہیں لیکن جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کفار کی یلغار کا ہوش ربا منظر دیکھاتو مشک کو پھینک دیا اور ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر کھڑی ہو گئیں اور کفار کے تیروتلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں ۔ چنانچہ ان کے سر اور گردن پر تیرہ زخم لگے۔ابن قمیۂ ملعون نے جب حضور رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر تلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمارہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے آگے بڑھ کراپنے بدن پر روکا۔ چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم آیا کہ غار پڑ گیاپھر خود بڑھ کر ابن قمیۂ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھااس لئے بچ گیا۔

حضرت بی بی ام عمارہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے فرزند حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافر نے زخمی کر دیااور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا۔ میری والدہ حضرت اُمِ عمارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیااور کہا کہ بیٹا اُٹھو، کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہادمیں مشغول ہو جاؤ۔ اتفاق سے وہی کافر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے ام عمارہ!رضی اﷲ تعالٰی عنہا دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے جھپٹ کراس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافر گر پڑااور پھر چل نہ سکا بلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ منظر دیکھ کر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِ عمارہ!رضی اﷲ تعالٰی عنہا تو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے خداکی راہ میں جہاد کیا، حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دعافرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنت میں آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل ہو جائے۔ اس وقت آپ نے ان کے لئے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لئے اس طرح دعا فرمائی کہ ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائیْ فِی الْجَنَّۃِ‘‘ یااﷲ! عزوجل ان سب کو جنت میں میرارفیق بنا دے۔

حضرت بی بی اُم عمارہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ واللہ اعلم ۔یار ان لوگوں کا ایمان چیک کریں کہ پہاڑوں سے بھی ٹکرا جائیں۔سبحان اللہ ۔
میرے دوست میرے بھائی اس واقعہ کو دوسروں تک پہنچائیں کہ ہماری بہنیں بھی دیکھیں کہ یہ بھی عورتیں ہی تھیں جتنا ممکن ہو شئیر کریں اللہ آپ کے اس عمل سے راضی ہو۔

(مدارج ج۲ ص۱۲۶)

1مدارج النبوت، قسم سوم، باب چہارم، ج۲، ص۱۲۶، ۱۲۷

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Islamabad
Islamabad
448800