Rayyan Halal Guide

Rayyan Halal Guide

Share

Halal ; is the Way of Peaceful life !

28/04/2026

*🌎 Halal and Peace together*

Make the World beautiful and Peaceful with Halal.

*فقہیات حلال واٹس ایپ چینل*
https://whatsapp.com/channel/0029VaDP5U5GU3BLDef28r1X
زیر نگرانی :
مفتی سفیان بلند حفظہ اللہ
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

📺 تعارفی ڈاکومنٹری
https://youtu.be/4Cs3jXgRMqo?si=yQCyxr6-gZXqlnuT

*🎯 سوشل میڈیا لنک*

1️⃣ *YouTube 📺*
https://youtube.com/

2️⃣ *WhatsApp Channel📱*
https://whatsapp.com/channel/0029VaCiu530lwgniRHfvt0l

3️⃣ *Facebook (Official)*
https://facebook.com/M***isufyanbuland02

4️⃣ *Darrurrayyan Page*
https://facebook.com/darrurrayyan

5️⃣ *Mahad Sufyan Saori*
https://facebook.com/mahadsufyansaori

6️⃣ *Rayyan Business Awareness*
https://www.facebook.com/rayyanbusinessawareness

7️⃣ *Rayyan Halal Guide*
https://www.facebook.com/rayyanhalalguide

*🎯 پانچ چینل | اصلاح افکار اور تعمیر معاشرہ کے لئے ممکنہ اقدامات*

*① 𝑴𝒖𝒇𝒕𝒊 𝑺𝒖𝒇𝒚𝒂𝒏 𝑩𝒖𝒍𝒂𝒏𝒅 𝑶𝒇𝒇𝒊𝒄𝒊𝒂𝒍*
حالیہ حالات، واقعات، مشاہدات اور مختلف امور پر دینی رہنمائی کے لئے
https://whatsapp.com/channel/0029VaCiu530lwgniRHfvt0l

*② 𝑩𝒖𝒍𝒂𝒏𝒅𝒊𝒂𝒕 | 𝑸𝒂𝒅𝒆𝒆𝒎 𝑻𝒂𝒉𝒓𝒊𝒓𝒆𝒆𝒏*
گذشتہ سالوں کی لکھی گئی مختلف تحریریں جو مختلف علمی، فکری، تربیتی اور دینی موضوعات پر مشتمل ہیں !
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6a3pa8aKvPchrn4N33

*③ جواہراتِ وحی | علوم قرآنی کی مہک*
https://whatsapp.com/channel/0029Vabx0Ua2UPBLTaHLiD23

*④ جواہراتِ سنت | علوم نبوت کی مہک*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5dYCQAzNbn0kSqfJ2O

*⑤ جواہراتِ فقہیہ | علوم شریعت کی مہک*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6vB07AInPto1IR2X2s

*🎯 ادارے کے 5 بنیادی شعبے:*
• تعلیم (تعلیمی سلسلے)
• تربیت (تزکیہ و اصلاح)
• تحقیق (دارالافتاء)
• فکر و دعوت (سوشل میڈیا اور میدان عمل)
• خدمت (مصارف خیر و مواقع ضرورت)

*🌧 شعارنا: كُن مِفتاحاً للخَيرِ*
*🤲 دعاؤنا: دمتم بهداية و عافية*

*Like, Share & Subscribe Our Channel*

10/04/2026

*📝 معارف الحلال*

*📌 جیلاٹین کا استعمال*

ایک عام سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جیلاٹین کا کیا استعمال ہے؟ اور یہ کیا چیز ہے؟ آسان اور سادہ لفظوں میں جیلاٹین کی تعریف اور مفہوم یہ ہے کہ :
جیلاٹین ایک پروٹین کا نام ہے جو جاندار کی ہڈی اور کھال سے حاصل کی گئی کولیجن سے حاصل کی جاتی ہے، اسے جیلینگ ایجنٹ (Gelling Agent) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا کام ہڈی، کھال جوڑے رکھنا ہے، یہ دیکھنے میں جیلی نما ٹھوس مادہ ہوتا ہے، اس کا ایک ماخذ (source) مچھلی بھی ہے، اب سنا یہ ہے کہ اس کو مرغی سے بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انگریزی میں اسے دو طریقوں سے لکھا جاتا ہے :
Gelatin / Gelatine
یعنی جمنے والی چیز، اردو میں اسے جیلاٹن، جیلاٹین، جلیٹن، جیلیٹین لکھا جاتا ہے، عرف میں زیادہ جیلاٹین لکھنا معروف ہے، ہم جب پائے یا نہاری کھاتے ہیں تو ہمارے ہاتھ چکناہٹ اور چپکاہٹ محسوس کرتے ہیں، یہ بھی جیلاٹین ہی ہے۔

پھلوں سے جو جیلنگ ایجنٹ لیا جاتا ہے، وہ پیکسن (Pectin) کہلاتا ہے اور یہ جیلاٹن کا متبادل ہے، تاہم اسے جیلاٹن کہنا درست نہیں۔

*📌 غذائی مصنوعات کی تیاری میں*
مٹھائی کی اشیاء، آئس کریم
پھلوں کے جوس، دہی، پنیر اور مکھن، ملک ڈرنک، ڈیسرٹ، جام، جیلی اور ڈبل روٹی پر لگانے والی دوسری مصنوعات، مٹھائی، ٹافیاں اور چیونگم، گوشت سے بنی مصنوعات

*📌 دوا سازی کی مصنوعات*
ہارڈ شیل کیپسول
سافٹ شیل کیپسول
خون کا پلازمہ
گولیاں
کوٹڈ گولیاں
جیلاٹین سپونج
بالوں کی نگہداشت کی اشیاء
جلد کی نگہداشت کی اشیاء
خوبصورتی کے لئے اشیاء

*فوٹو گرافک جیلاٹین درج ذیل مصنوعات کے بنانے میں استعمال ہوتی ہے*
فلم رول
تصویر کا پرنٹ

*ٹیکنیکل جیلاٹین درج ذیل میں استعمال ہوتی ہے*
کاغذ کی صنعت
پرنٹ کی مصنوعات
لیبارٹری کی اشیاء
ماچس کی صنعت
دھات کی صنعت

خلاصہ یہ کہ جیلاٹین ایک اہم جزو ترکیبی ہے لیکن اس کا حکم مشبوہ (مشتبہ/ مشکوک) ہے جب تک کہ اس کی اصل / ماخذ (Source) معلوم نہ ہوجائے، کیونکہ یہ خنزیر سے بھی حاصل کیا جاتا ہے اور گائے سے بھی، کسی پروڈکٹ میں جیلاٹین ہو اور اس کے حلت کا پتہ نہ چلے تو اس کو بلا تحقیق استعمال سے گریز فرمائیں !

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 17 اپریل 2022ء

*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*📜 معارف الحلال*

*📌 غیر مسلم ممالک کی مصنوعات کی بابت سوال کرنے کا طریقہ اور تربیتی امور*

غیر مسلم ممالک میں رہنے والے اکثر مختلف پروڈکٹ کی تصویر بھیج کر یا چکن یا میٹ کی بابت سوال کرتے ہیں، اس پر یہ ہدایات نوٹ کرلیں :

1- دنیا کی یا کسی بھی ملک کی ساری پروڈکٹ کی حلت و حرمت کا علم کسی بھی ماہر سائنٹسٹ، فوڈ ٹیکنالوجسٹ، شریعہ ایکسپرٹ اور حلال آڈیٹر کو بھی نہیں ہوتا، اس لئے یا تو حلال کا مستند و معتمد لوگو دیکھیں یا احتیاط کریں۔

2- مفتیان کرام ، ماہرین شریعت ہیں، ماہرین فوڈ و غذائی مصنوعات نہیں ہیں، وہ پروڈکٹ کی بجائے شرعی اصولی کی روشنی میں ہی جواب دیتے ہیں، ان کو پروڈکٹ کی تصویر بھیج کر سوالات کرنے کی بجائے اس پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی لکھ کر بھیج کر اس کا حکم معلوم کریں !!

3- عوام الناس کو غیر مسلم ممالک کے لحوم ثلاثہ یعنی چکن یا میٹ یا بیف پر یہ اصولی جواب دیں :
ہر وہ پروڈکٹ جس میں کوئی حیوانی جزو (Animal Ingredient) شامل ہو، جب تک وہ کسی مستند مسلم حلال باڈی سے سرٹیفائڈ نہ ہو، اس کو استعمال کرنے سے گریز فرمائیں!

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 23 مارچ 2022ء

*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*📜معارف الحلال*

*🎯 جانور کے بعض اعضاء*

اوپر کھانے کی نالی (مری / Esophagus) اور نیچے سانس کی نالی (حلقوم / قصبة الهواء / Throat) نظر آ رہی ہے، طلبہ کتب فقہ قربانی کے جانور میں اس کا مشاہدہ ضرور کریں۔
ذبح کا بہتر اور متفق علیہ طریقہ یہ ہے کہ چار رگیں (حلقوم، مری، ودجان) کاٹی جائیں اور اگر ان میں سے کوئی بھی تین رگیں کاٹی جائیں تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ذبیحہ حلال ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ)

▪︎ وعروقه الحلقوم، والمري (هو مجرى الطعام والشراب)، والودجان (مجرى الدم) وحل الذبوح بقطع أي ثلاث منها إذ للأكثر حكم الكل. (درمختار مع شامی، ص٢٥٦/٢٥٧، ج٥، کتاب الذبائح)

▪︎ والعروق التي قطع في الذكاة اربعة: الحلقوم والمري والودجان....إلى قوله وعندنا إن قطعها أي الأربع حل الأكل، وإن قطع اكثرها فكذلك، عند أبي حنيفة رحمه الله إذا قطع الثلث أي الثلاث كان يحل. (هداية اخيرين، ص٤٢١، ج٤، كتاب الذبائح)

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 18 اپریل 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*🎯 حلال جانور کی سات چیزیں کھانا منع ہے*

۱) دمِ مسفوح ، یعنی بہنے والا خون
۲) پیشاب کی جگہ (نر و مادہ کی)
۳) خصیتین (فوطے / کپورے)
٤) پاخانے کی جگہ
٥) غدود (سخت گوشت)
۶) مثانہ (پیشاب کی تھیلی)
٧) مرارہ (اردو میں پتّا کہتے ہیں، یہ کلیجی میں تلخ پانی کا ظرف ہے)

صاحبِ کنز اور علامہ طحطاوی رحمہما اللہ نے "حرام مغز" کو بھی حرام اجزاء میں شمار کیا ہے، حرام مغز سے مراد دودھ کی طرح ایک سفید ڈوری ہے جو جانور کی پیٹھ کی ہڈی کے اندر کمر سے لے کر گردن تک ہوتی ہے، لیکن بہرحال یہ مفتی بہ قول کے مطابق یہ حرام نہیں۔

بعض حضرات نے "غدود" کا ترجمہ "حرام مغز" سے کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے، فتاوی رشیدیہ میں بھی غدود کا ترجمہ حرام مغز سے نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ بعض کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ حرام مغز کو الگ سے ایک مستقل چیز قرار دیا ہے، جو ان الفاظ سے منقول ہے کہ حرام مغز جو پشت کے مہرے میں ہوتا ہے، اور حرام مغز کو عربی میں "نخاع الصلب" کہا جاتا ہے، غدود نہیں کہا جاتا، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ (کفایت المفتی ۸؍۲۸٧، جدید مطول ۱۱؍۶٧١؍ میں) لکھا ہے کہ "حرام مغز نہ حرام ہے اور نہ ہی مکروہ ہے، بیچارہ یونہی بد نام ہوگیا ہے"۔
جبکہ غدود ، غدہ کی جمع ہے، اِس کے معنی جمے ہوئے خون کی گٹھلی کے ہیں اور یہ حرام ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۱٧؍۲۹٧ ڈابھیل)

جہاں تک اوجھڑی کا سوال ہے تو ماکول اللحم جانوروں کی اوجھڑی کھانا حلال اور جائز ہے اور اس کو سات حرام اجزاء میں سمجھنا ناواقفیت پر محمول ہے، فقہائے کرام نے اوجھڑی کو بمنزلہ لحم (گوشت) قرار دیا ہے۔
(مستفاد: فتاوی رشیدیہ قدیم۵۵۳، جدید زکریا ۵۳٤، امداد الفتاوی ٤؍۱۰۲و فتاوی رحیمیہ)

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 09 جولائی 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*📜 معارف الحلال*

*📌 شعبہ حلال میں چار کام کی ضرورت*

پاکستان میں حلال کے شعبہ میں چار کاموں کی ضرورت ہے :

1️⃣ تحقیق : شرعی بھی ہو، سائنسی بھی ہو، عرفی بھی ہو اور قومی زبان یعنی اردو میں بھی ہو۔
2️⃣ تکییف : شرعی بنیاد پر کام کیا جائے جس میں شرع اصل ہو اور سائنس تابع ہو۔
3️⃣ تبویب : کتب فقہ کے ابواب الحلال اور ضرورت کے بقدر سائنسی اسباق مرتب کئے جائیں !
4️⃣ تعلیم : آگہی، تربیت اور تدریب کے مختلف سلسلے جاری کئے جائیں جو ہر نوعیت کے اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کے مطابق ہو۔

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 18 اپریل 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

11/01/2026

*🎯 فقہ الحلال: اصطلاحات، ماخذ اور فکری خاکہ*

حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل (HARC) .... پاکستان میں حلال کی تعلیم، تربیت اور تحقیق کا اولین ادارہ ہے جس نے سنہ 2008ء سے "فقہ الحلال" کو موضوع بناکر پورے پاکستان اور بیرون پاکستان "حلال آگہی پروگرام" کو شروع کیا، الحمد پاکستان بھر کے مختلف تعلیمی درسگاہوں اور "تجارتی مراکز" میں ادارہ کی طرف سے حلال آگہی کے سیشن منعقد کئے جاتے ہیں، راقم الحروف بھی اس ادارہ سے سنہ 2010ء سے تاحال منسلک ہے، ہر تعلیمی سال کے اختتام پر دینی مدارس میں فقہ الحلال کے حوالے سے حلال آگہی پروگرام ہوتے ہیں، معهد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی میں آج سے تین روزہ ورکشاپ شروع ہوئی، سو راقم کو آج عنوان بالا پر گفتگو کرنے کا موقع ملا، اس پر جو گفتگو کرنے کا موقع ملا، اس کو ایک خاکہ کی صورت میں مرتب کیا ہے :
پاکستان میں فقہ الحلال دراصل شریعتِ اسلامیہ کا وہ اہم باب ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست متعلق ہے، یہ علم انسان کو اس کے کھانے پینے، داخلی خارجی استعمال کرنے، معاملات اور طرزِ زندگی میں حلال و حرام کے شرعی حدود سے روشناس کراتا ہے اور اسے پاکیزہ، حلال، معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داری کے دائرے میں رہنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

*فقہُ الحلال کا ماخذِ اصلی*
فقہُ الحلال کا بنیادی اور اصل ماخذ وحی ہے، یعنی:
➊ قرآنِ کریم ➋ سنتِ نبویہ ﷺ
ان کے ساتھ ساتھ شریعت کے مسلمہ اصولوں کے تحت:
➌ اجماع ➍ قیاس
بھی احکام کے اثبات اور تطبیق میں معتبر مصادر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں فقہ الحلال محض ذوق یا عرف کا نام نہیں بلکہ وحی پر مبنی ایک منضبط فقہی نظام ہے۔

*فقہ الحلال کا دائرۂ کار*
یہ علم انسان کی زندگی کے دو بڑے دائروں میں رہنمائی کرتا ہے:
"داخلی استعمال" یعنی کیا کھایا اور پیا جائے، حدیث شریف میں "مأکل اور مشرب" سے اسی کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور "خارجی استعمال" یعنی کیا لگایا، کیا پہنا، کیا استعمال کیا یا برتا جائے ؟ حدیث نبوی میں "ملبس و غذی بالحرام" کے ارشاد سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اس طرح فقہ الحلال صرف خورد و نوش تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی زندگی کے پورے عملی نظام کو محیط ہو جاتا ہے۔

*فقہُ الحلال کی بنیادی اصطلاحات*
اس فن کو سمجھنے کے لئے چند بنیادی فقہی اصطلاحات کا ادراک ناگزیر ہے، جن کے بغیر درست فہم ممکن نہیں:
① طاہر / نجس
اشیاء کی پاکی یا ناپاکی کا شرعی معیار۔
② حلال / حرام
جواز اور عدمِ جواز کی قطعی فقہی تقسیم۔
③ طیب / خبیث
وہ اشیاء جو فطرةً و عادةً پسندیدہ اور نافع ہوں یا ناپسندیدہ و مکروہ طبع ہوں۔
④ نظیف / غیر نظیف
صفائی، نفاست اور انسانی ذوقِ سلیم سے مطابقت یا عدمِ مطابقت۔
⑤ مکروہ / مشتبہ / مشبوہ
وہ امور جن میں حرمت تو قطعی نہ ہو مگر احتیاط اور پرہیز مطلوب ہو۔

یہ اصطلاحات فقہ الحلال کی فکری بنیاد فراہم کرتی ہیں اور عملی تطبیق میں رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

*اسبابِ حرمت*
شریعت نے اشیاء کے حرام ہونے کے چند واضح اسباب بیان کئے ہیں، جن کی معرفت فقہ الحلال میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، حرمت (لغیرہ) کے پانچ اسباب (مستنبطہ) ہیں:
① نجاست
② اسکار (نشہ آور ہونا)
③ ضرر (جسمانی، ذہنی یا معاشرتی نقصان)
اس میں سمیات (Poisonous) مفترات (Drugs)، مخدرات (مرقدات - Narcotics) کی بحث آتی ہے۔
④ خباثت (طبعی و فطری کراہت)
اس کی پہچان کے تین ذرائع ہیں : ¹ ماہرین شریعت، ² ماہرین غذائی امور، ³ طبیعت سلیمہ
⑤ احترامِ انسانیت (انسانی وقار، اخلاق اور کرامت کے منافی ہونا)
سبعیت (درندگی) کو بھی بعض حضرات نے الگ سے شمار کیا ہے، جبکہ بعض حضرات اس کو نص کے مطابق حرمت لعینہ کے تحت بیان کردیتے ہیں !!
یہ اسباب بتاتے ہیں کہ فقہ الحلال کو صرف ایک قانونی علم نہیں ہے بلکہ اس سے ہماری اخلاقی اور معاشرتی زندگی کا نظام بھی جڑا ہوا ہے۔

*فقہ الحلال کے اجزائے ترکیبی*
فقہُ الحلال میں اشیاء کی تحقیق کے لئے چار بنیادی اجزائے ترکیبی سے گفتگو کی جاتی ہے:
① حیوانات
اس میں اصل حرمت ہے، ہاں اگر جانور حلال ہو اور اس کا شرعی ذبیحہ پایا جائے تو وہ حلال ہے۔
② نباتات
③ معدنیات
④ مصنوعی اجزاء یعنی کیمیائی، صنعتی اور جدید مرکبات
ان تینوں میں اصل حلت ہے، ہاں اگر سکر یا ضرر پایا جائے تو پھر ان کے استعمال کی ممانعت ہے جس کی تفصیل فقہائے امت نے بیان کی ہے۔

ان چاروں اجزائے ترکیبی کی اصل، ترکیب، اثرات اور استعمال کے پہلوؤں کو سامنے رکھ کر شرعی حکم کو مرتب کیا جاتا ہے۔

*خلاصہ*
یہ تمام مباحث فقہ الحلال کا ایک اجمالی مگر جامع خاکہ پیش کرتی ہیں، اگر ان بنیادی اصولوں اور اصطلاحات کو درست طور پر سمجھ لیا جائے تو جزئیات، فروع اور جدید مسائل کا فہم خود بخود آسان ہوجاتا ہے۔
فقہ الحلال محض اشیاء کے حلال یا حرام ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک متوازن فقہی و فکری نظام ہے جو انسان کو پاکیزہ، ذمہ دار اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی راہ دکھاتا ہے۔

✍️ مفتی سفیان بلند
رکن حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل پاکستان
شرعی مشیر برائے تعلیم، تجارت اور حلال فوڈ
🗓️ 11 جنوری 2026ء | الأحد

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیـــــرِ*
*🤲 دُعاؤُنا : دُمتُم بهِدَايةٍ و عَافِيـةٍ*

*🌍 معهد الإمام سفیان الثوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

Photos from M***i Sufyan Buland's post 23/12/2025

22 دسمبر 2025ء عالمی کتب میلہ کراچی میں رئیس الریان مفتی سفیان بلند حفظہ اللہ اپنی کتاب فقہ الحلال پر دستخط کے ساتھ ہدیہ دے رہے ہیں !!

کئی اہل علم حضرات اور طلبہ و طالبات نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا !!
اللہ تعالی امت میں اس علم کو زندہ فرمائے اور ہمیں اس کو عام کرنے والا بنائے آمین

30/10/2025

*حلال و حرام کی تعیین۔ صرف اللہ کا حق*
از حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ)

خالق کائنات اپنی مخلوق کی فطرت اور ضرورت سے بخوبی واقف ہے ؛ اس لئے اس نے حلال و حرام کا قانون نازل کیا ، جو چیزیں انسان کے لئے نافع تھیں، ان کو حلال رکھا اور جو چیزیں انسان کے لئے مضرت رساں اور نقصان دہ ہیں ، ان کو حرام قرار دیا ؛ چنانچہ نباتات میں مہلک یعنی بلاک کر دینے والی اشیاء اور مسکر یعنی نشہ میں مبتلا کرنے والی اشیاء کو حرام قرار دیا ، باقی تمام نباتات کو حلال قرار دیا گیا؛ کیونکہ اپنی اصل کے اعتبار سے وہ انسان کے لئے مفید ہیں نہ کہ نقصاندہ۔
حیوانات میں جن کا کھانا صحت انسانی کے لئے نقصاندہ ہو، یا جن کی وجہ سے انسانی اخلاق پر اثر پڑ سکتا تھا، ان کو منع کیا گیا؛ کیونکہ جیسے جسم انسانی پر غذاؤں کا اثر ہوتا ہے ، کوئی غذ از هر بن جاتی ہے اور کوئی اکسیر ، اسی طرح انسانی اخلاق پر بھی غذا کا اثر ہوتا ہے۔
اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ہے اور وہی ان کے نفع و نقصان اور منفعتوں اور مضرتوں سے پوری طرح آگاہ ہے ، اس لئے کسی شئے کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے: "إِنَّ الأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ " (آل عمران: ۱۵۴ )، ایک اور موقع پر ارشاد ہوا کہ کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالی ہی کو ہے : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ " (یوسف: (۴۰) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی لی ایم کو بھی اس کا حق نہیں دیا گیا کہ آپ ملی ایم اپنے طور پر کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کردیں (التحریم : 1) اگر کوئی شخص یا کوئی قوم حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے کا مرتکب ہو ، تو در اصل وہ خدا کے حقوق و اختیارات میں دخل دینے کی کوشش کرتا ہے، اسی لئے جیسے انسان کے لئے کسی حلال کو حرام کرنا جائز نہیں، ویسے ہی کسی حرام کو حلال کرنا بھی درست نہیں .(شمع فروزاں: ۲۰۰/۱-۱۹۹)

شعبه انتخاب: محمد ندوی اسلامی حیدرآباد)

Photos from ‎فقہ الحلال - حلال آگہی‎'s post 29/01/2025
23/01/2025

انڈوں میں خون کے ذرات کا حکم

سوال
ہمارا تعلق ایک پروسیسنگ یونٹ سے ہے، جس میں ہم انڈے سے پاوڈر بناتے ہیں جس کے لیے ایک دن میں تقرینا پانچ لاکھ انڈے استعمال ہوتے ہیں۔
پاؤڈر بنانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے انڈے کو مشین سے چیک کرکےچھانٹی کرلیا جاتا ہے،پھر یہ انڈہ کنویر پر رکھا جاتا ہے جہاں وہ واش ہوتا ہے اور ٹوٹ کر اس کا لیکویڈ اور چھلکا الگ الگ ہو جاتا ہے ،احتیاطا کنویر پر لڑکے بھی کھڑے ہوتے ہیں جو تھوڑا بہت کچرا اگر آبھی جائے تو اسے بھی نکال دیتے ہیں ۔اس کے بعد انڈے کا لیکویڈ بہت باریک چھلنیوں سے گزر کر ٹینکوں میں جاتا ہے ۔اس کے بعد جراثیم کو ختم کرنے کے لیے 70ڈگری درجہ حرارت پر پکایا جاتا ہے ،پھر لیکویڈ کا پاؤڈر بنانے کے لیے لیکویڈ کو 180درجہ حرارت پر پکایا جاتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود اگر پانچ لاکھ انڈوں میں سے ایک سے پانچ فیصد انڈے کی زردی یا سفیدی میں معمولی سا خون آجاتا ہے ،حالانکہ حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ خون کو نکالا جاسکے اور خون بالکل بھی لیکویڈ میں نہ جائے ،لیکن اس کے باوجود اگر خون کے ذرات لیکویڈ میں چلے جائیں تو شرعی لحاظ سے پاؤڈر کی حلت و حرمت کا کیا حکم ہے؟

تنقیح: سائل نے بتایا ہے کے خون کے ذرات انتہائی قلیل مقدار میں اور کبھی کبھار ہوتے ہیں ،جس کی وجہ سے ان کا رنگ اور بو وغیرہ کے اثرات مجموعے پر بالکل بھی ظاہر نہیں ہوتے۔

*جواب*
¹ اگر پورا انڈہ خراب ہوکر خون وغیرہ بن جائے تو حرام اور نجس ہوگا ² لیکن اگر انڈے میں صرف خون کا نقطہ پایا جائے تو اس سے متعلق کتب حنفیہ میں ہمیں صریح جزئیہ نہیں ملا، البتہ اصول کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ ³ خون کا نقطہ جب تک بہنے کے قابل نہ ہو، پاک ہے، چناچہ فقہ مالکی میں تو اس کی صراحت ہےکہ انڈے میں پایا جانے والا خون کا یہ نقطہ دم مسفوح نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے انڈہ نجس ہوگا۔

کتب مالکیہ میں موجود چند جزئیات درج ذیل ہیں:

۔يوجد في وسط صفار البيض أحيانا نقطة دم ،يتولد منه ،فمقتضى مراعاة السفح في نجاسة الدم، لا تكون نجسة .وقد وقع فيها البحث مع جماعة ولم يظهر غيره.( الذخيرة للقرافي:4 / 107،وکذا فی مواهب الجليل في شرح مختصر خليل :3/ 234)
۔… إلا المذر (ش) هذا إخراج من عموم الحكم في البيض على طريق الاستثناء المتصل، يعني أن البيض المذر۔ وهو ما فسد بعد انفصاله من الحي بعفن ،أو صار دما، أو صار مضغة، أو فرخا ميتا۔ نجس .ويطلق على ما اختلط صفاره ببياضه ،لكن هذا الأخير طاهر ما لم يحصل فيه
عفن، وأما ما يوجد من نقطة دم في وسط بياض البيض فمقتضى مراعاة السفح في نجاسة الدم، الطهارة في هذه ،كما في الذخيرة.
(قوله إلا المذر) بذال معجمة مكسورة ،ومثل المذر إذا صار اللبن دما من الحي ،فهو نجس ،لا ماء أصفر أو أبيض فالظاهر أنه طاهر. فلو كان اللبن بعضه دم ،وبعضه لبن فهو نجس أيضا .

(قوله: وأما ما يوجد إلخ) أي فتلك النقطة طاهرة على ما هو مقتضى عدم السفح، كذا ظهر لي مع بحث الفضلاء، ولم يظهر غيره .كذا نقل الحطاب عن القرافي. (شرح مختصر خليل للخرشي :1/ 85)

۔(إلا المذر) بذال معجمة مكسورة، وهو ما عفن، أو صار دمًا، أو مضغة ،أو فرخًا ميتًا .وأما ما اختلط بياضه بصفاره، فالظاهر طهارته كما أن الظاهر طهارة ما وجد في بياضه ۔أي أو صفارة ۔نقطة دم .قاله القرافي .انظر ح. ولا يعارضه قول " الكافي" إذا وجد في البيضة فرخ ميت أو دم ،حرم أكلها اهـ.
إما ؛لأنه مقابل أو لأن قوله أو دم أي مختلط بجميع أجزاء البيضة ،لا نقطة فقط. (شرح الزرقاني على مختصر خليل وحاشية البناني :1/ 459)

۔قال ابن عرفة وأطلقه الشيخ وعبارة الكافي: إذا وجد في البيضة فرخ ميت أو دم ،حرم أكلها. انتهى. انظر قد يتفق أن يوجد في البيضة نقطة دم ۔قيل: ويكون ذلك من أكلها الجراد .الذخيرة۔فمقتضى مراعاة السفح في الدم، لا تكون هذه البيضة نجسة. وقد وقع في هذا بحث وما ظهر غيره. ) التاج والإكليل لمختصر خليل :1/ 131)
۔عرق كل حي ولو كان يشرب خمرا ،أو يأكل نجاسة ،وكذا دمعه ،ومخاطه، ولعابه ( وهو ما سال من فمه في يقظة أو نوم، ما لم يعلم أنه من المعدة بصفرة أو نتن ريح، فإنه نجس ) وبيضه ولو من حشرات ،ما لم يفسد بعفونة، أو زرقة ،أو صار دما، أو مضغة، أو فرخاميتا، فإنه نجس . أما الذي اختلط صفاره ببياضه بغير عفونة أو وجود نقطة دم غير مسفوح فيه، فلا يفسد، ويبقى طاهرا . (فقه العبادات على مذهب المالكي ص: 36)

*ان تمام حوالوں سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں*

1۔انڈے میں خون کا قطرہ پایا جائے تو وہ انڈہ حرام اور ناپاک شمار نہیں ہوگا۔

۲۔خون کا قطرہ پائے جانے کے باوجود انڈے کے نجس نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ قطرہ خون تو ہے لیکن مسفوح نہیں ۔

3۔ جہاں خون کی وجہ سے انڈے کے خراب ونجس ہونے کا حکم لگایا گیا ہے وہاں مراد پورے انڈے کا خون میں بدل جانا یا خون کا انڈے کے تمام اجزاء کے ساتھ مل جانا ہے۔

4۔ ان تمام حوالوں میں اصل اور ماخذ "علامہ قرافی" کی کتاب "الذخیرہ" ہےاور بقول علامہ قرافی کے یہ نتیجہ اور حکم اہل ِعلم سے مباحثے ومناقشے کے بعد سامنے آیا ہے۔

مذکورہ مسئلے میں احناف کے ہاں جزئیہ نہ پائے جانے، نیز عمومِ بلوی اور ضرورت وحرج کی بنا پر مالکیہ کے قول کے مطابق فتوی دیے جانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، بلکہ اگر غیرمسفوح ہونے کی علت کو دیکھا جائے تو پھر عدمِ نجاست کا حکم احناف کے اصولوں کے بھی مطابق ہوگا، کیونکہ دم غیر مسفوح احناف کے نزدیک بھی نجس نہیں، اس لیے اگرچہ تنہا اس خون کا داخلی استعمال مستقذر ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہو، تب بھی صورت مذکورہ میں ایک بڑے مجموعے میں چند نقطوں کےبقدر ہونے کی وجہ سے "القلیل مغتفر" اور اس سے احتراز میں مشقت وحرج کی وجہ سے "المشقة تجلب التیسیر" کا قاعدہ بھی اس پر جاری ہوسکتا ہے، جیسا کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت میں پایا جانے والا خون غیر مسفوح ہونے اور احتراز میں مشقت پائے جانے کی وجہ سے نجس نہیں ،چناچہ حاشیۃ الطحطاوی اور رد المحتار میں ہے :

قوله: "والدم المسفوح" أي السائل من أي حيوان إلى محل يلحقه حكم التطهير. قهستاني .والمراد أن يكون من شأنه السيلان ،فلو جمد المسفوح۔ ولو على اللحم ۔فهو نجس، كما في منية المصلى .وكذا ما بقي في المذبح ؛لأنه دم مسفوح ،كما في ابن أمير حاج. قوله: "لا الباقي في اللحم الخ" ؛لأنه ليس بمسفوح ؛ولمشقة الإحتراز عنه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ،ص: 153)

(كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر)

(قوله والدم المسفوح) أما الباقي في العروق بعد الذبح ؛فإنه لا يكره. (الدر المختار مع رد المحتار:6/ 749)

گویا مذکورہ حکم خود احناف کے اصولوں پر بھی پورا اترتا ہے اور عمومِ بلوی کی وجہ سے مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش بھی ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل کے بعد سوال میں بیان کردہ صورت میں اگر اپنی جانب سے مکمل احتیاط اور نگرانی کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس کے باوجود ایسا ہوجائے تو پاؤڈر حلال ہوگا، لیکن اچھی ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامات کو بروئے کار لاکر ان ذرات کو بھی نکالنے کی کوشش کی جائے۔

حوالہ جات
قوله: "والدم المسفوح" أي السائل من أي حيوان إلى محل يلحقه حكم التطهير. قهستاني .والمراد أن يكون من شأنه السيلان ،فلو جمد المسفوح۔ ولو على اللحم ۔فهو نجس ،كما في منية المصلى .وكذا ما بقي في المذبح ؛لأنه دم مسفوح ،كما في ابن أمير حاج. قوله: "لا الباقي في اللحم الخ" ؛لأنه ليس بمسفوح ؛ولمشقة الإحتراز عنه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ،ص: 153)

(كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر)

(قوله والدم المسفوح) أما الباقي في العروق بعد الذبح ؛فإنه لا يكره. (الدر المختار مع رد المحتار:6/ 749)

ماخذ: دار الافتاء جامعة الرشید کراچی
فتوی نمبر: 61386
تاریخ اجراء: 2017-12-19

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Karachi