Meyaree International

Meyaree International

Share

Veterinary services and support enterprise.

12/08/2026

I gained 41 followers and created 26 posts in the past 90 days! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉

History of avian industry in Pakistan - Veterinaria Digital 12/08/2026

History of avian industry in Pakistan - Veterinaria Digital This article includes the conference prepared by PhD. Altaf Gohar, representative of Meyaree International, Pakistan), for the # # Biovet International Symposium, in Tarragona, 2018. Under the title, "History of the poultry industry in Pakistan" the stateof commercial poultry production in Pakistan...

12/08/2026

🌺🌷🪴🪴💫

Photos from Meyaree International's post 25/06/2026

"(پاکستان کی زرعی، لائیو اسٹاک اور پولٹری صنعت)":-
'(خام مال سے عالمی برانڈ تک کا سفر)':

صرف دودھ، گوشت اور اناج نہیں، بلکہ ویلیو ایڈیشن ہی مضبوط معیشت کی اصل بنیاد ہے؛

تحریر: ڈاکٹر الطاف گوھر-

معیاری انٹرنیشنل پاکستان-


اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسی زرخیز زمین، موزوں آب و ہوا، وسیع چراگاہیں، محنتی کسان، بہترین مویشی نسلیں، اعلیٰ معیار کے آم، کینو، کھجور، چاول، گندم، کپاس اور دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی پولٹری انڈسٹری جیسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔
اس کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آج بھی زیادہ تر اپنی زرعی اور لائیو اسٹاک مصنوعات خام (Raw Products) کی شکل میں فروخت کرتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک انہی مصنوعات کو جدید سائنسی طریقوں سے Value Addition کرکے کئی گنا زیادہ قیمت پر پوری دنیا میں فروخت کرتے ہیں۔

اصل فرق صرف پیداوار (Production) میں نہیں بلکہ پروسیسنگ، تحقیق، برانڈنگ، فوڈ ٹیکنالوجی، معیار (Quality Assurance)، کولڈ چین، پیکیجنگ اور عالمی مارکیٹنگ میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی زراعت، لائیو اسٹاک اور پولٹری اپنی حقیقی معاشی صلاحیت کے باوجود عالمی سطح پر وہ مقام حاصل نہیں کر سکیں جو یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برازیل، نیدرلینڈز اور ڈنمارک جیسے ممالک نے حاصل کیا ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال;
پاکستان کی معیشت میں زراعت، لائیو اسٹاک اور پولٹری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ شعبے

لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔
قومی غذائی تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
دیہی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔
ملکی GDP میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برآمدات کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہم آج بھی زیادہ تر

خام دودھ
زندہ جانور
تازہ پھل
سبزیاں
خام گوشت
فروخت کرنے تک محدود ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کیا مختلف کرتے ہیں؟
ترقی یافتہ ممالک کسی بھی زرعی یا حیوانی پیداوار کو صرف خوراک نہیں سمجھتے بلکہ اسے انڈسٹریل ریسورس تصور کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک

ہر فارم ایک صنعت ہے۔

ہر جانور ایک معاشی سرمایہ ہے۔

ہر پھل ایک نئی پروڈکٹ بن سکتا ہے۔

ہر لیٹر دودھ کئی مصنوعات میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دودھ سے سینکڑوں مصنوعات;
پاکستان میں اکثر دودھ صرف

پینے
دہی
لسی
مکھن
گھی
تک محدود رہتا ہے۔

جبکہ جدید ممالک دودھ سے

UHT Milk
Lactose Free Milk
Flavoured Milk
Greek Yogurt
Probiotic Yogurt
Mozzarella Cheese
Cheddar Cheese
Parmesan
Butter
Cream
Ice Cream
Milk Powder
Infant Formula
Whey Protein
Casein Protein
Sports Nutrition
Medical Nutrition
Energy Drinks
Functional Foods
Protein Bars
جیسی سینکڑوں مصنوعات تیار کرتے ہیں۔

اسی لیے ایک لیٹر دودھ کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

گوشت صرف قصائی کی دکان تک محدود نہیں;
ترقی یافتہ ممالک گوشت سے

Ready to Cook Foods
Ready to Eat Meals
Frozen Foods
Sausages
Nuggets
Burgers
Meat Balls
Smoked Meat
Canned Meat
Vacuum Packed Meat
Freeze Dried Foods
بناتے ہیں۔

اس کے علاوہ

Collagen
Gelatin
Pharmaceutical Capsules
Pet Foods
Bone Meal
Blood Meal
Organic Fertilizers
بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

یعنی جانور کا تقریباً ہر حصہ قابلِ استعمال ہوتا ہے۔

پولٹری انڈسٹری میں ویلیو ایڈیشن;
پاکستان دنیا کے بڑے پولٹری پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

لیکن ترقی یافتہ ممالک مرغی سے

Chicken Sausages
Chicken Ham
Chicken Salami
Frozen Nuggets
Popcorn Chicken
Chicken Patties
Chicken Fingers
Ready Meals
Protein Snacks
Egg Powder
Liquid Egg
Egg White Protein
Albumin Products
Vaccine Culture Media
تک تیار کرتے ہیں۔

جبکہ پاکستان میں زیادہ تر مرغی صرف تازہ گوشت کی صورت میں فروخت ہوتی ہے۔

انڈے بھی صرف ناشتہ نہیں;
انڈوں سے تیار ہونے والی مصنوعات

Egg Powder
Egg Albumin
Bakery Mixes
Sports Supplements
Baby Foods
Cosmetics
Pharmaceutical Products
دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہیں۔

پھل اور سبزیوں میں بے شمار مواقع;

پاکستان دنیا کے بہترین پھل

آم
کینو
امرود
انار
کھجور
پیدا کرتا ہے۔

لیکن ویلیو ایڈیشن انتہائی محدود ہے۔

ترقی یافتہ ممالک یہی پھل استعمال کرکے

Fruit Juice
Pulp
Puree
Frozen Fruits
IQF Products
Dried Fruits
Freeze Dried Fruits
Fruit Leather
Jams
Marmalade
Concentrates
Baby Foods
Natural Flavours
Essential Oils
تیار کرتے ہیں۔

زرعی اجناس سے جدید مصنوعات;
گندم صرف آٹا نہیں بنتی۔

اس سے

Breakfast Cereals
Pasta
Noodles
Cookies
Biscuits
Energy Foods
High Protein Flour
بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح مکئی سے

Corn Oil
Corn Starch
Glucose
Bio Plastic
Ethanol
Animal Feed
Pharmaceutical Ingredients
بنائے جاتے ہیں۔

پیکیجنگ کی اہمیت;

ایک اچھی پروڈکٹ اگر ناقص پیکنگ میں ہو تو عالمی مارکیٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جدید دنیا استعمال کرتی ہے

Vacuum Packaging
Modified Atmosphere Packaging (MAP)
Retort Packaging
Aseptic Packaging
Smart Packaging
QR Code Traceability
یہ طریقے مصنوعات کی شیلف لائف بڑھاتے ہیں اور صارفین کا اعتماد بھی مضبوط کرتے ہیں۔

کولڈ چین (Cold Chain);
پاکستان میں سب سے بڑا نقصان فصل کی کٹائی کے بعد (Post-Harvest Losses) ہوتا ہے۔

جدید ممالک میں

Cold Storage
Refrigerated Transport
Blast Freezing
Temperature Monitoring
Controlled Atmosphere Storage
کے ذریعے مصنوعات کو طویل عرصہ محفوظ رکھا جاتا ہے، جس سے ضیاع کم اور منافع زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق اور جدت کی کمی;
پاکستان میں اکثر تحقیق لیبارٹری تک محدود رہتی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیاں، صنعت اور حکومت مل کر نئی مصنوعات، نئی ٹیکنالوجی اور نئی منڈیوں پر مسلسل کام کرتی ہیں۔ فوڈ سائنس، ویٹرنری میڈیسن، ایگریکلچرل انجینئرنگ اور بایوٹیکنالوجی کے اشتراک سے ایسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو عالمی معیار پر پوری اترتی ہیں۔

برآمدات میں رکاوٹیں;

پاکستان کو عالمی منڈی میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں غیر یکساں معیار، ناقص پراسیسنگ، بین الاقوامی فوڈ سیفٹی سرٹیفکیشن کی کمی، محدود کولڈ چین، کمزور برانڈنگ، مہنگی لاجسٹکس، اور تحقیق و ترقی پر ناکافی سرمایہ کاری شامل ہیں۔ ان مسائل کے باعث عالمی خریدار اکثر ایسے ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں معیار، ٹریس ایبلٹی اور سپلائی کا نظام زیادہ قابلِ اعتماد ہو۔

پاکستان کے لیے مستقبل کا روڈ میپ;

اگر پاکستان واقعی زرعی انقلاب لانا چاہتا ہے تو اسے صرف پیداوار بڑھانے کے بجائے ویلیو ایڈیشن پر مبنی زرعی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے:

ہر ضلع میں جدید فوڈ پروسیسنگ زون قائم کیے جائیں۔
دودھ، گوشت، انڈے، پھل اور سبزیوں کی ویلیو ایڈیشن صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔
عالمی معیار کی لیبارٹریاں اور فوڈ سیفٹی نظام مضبوط کیا جائے۔
برآمدی مصنوعات کے لیے جدید پیکیجنگ اور برانڈنگ اپنائی جائے۔
کسانوں، فارمرز اور صنعت کاروں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی جائے۔
یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور نجی صنعت کے درمیان مؤثر تعاون پیدا کیا جائے۔
نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کو ایگرو فوڈ انوویشن میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے۔

حرف آخر:
پاکستان کے پاس زمین بھی ہے، پانی بھی، افرادی قوت بھی، جانور بھی، پولٹری بھی اور اعلیٰ معیار کی زرعی پیداوار بھی۔ جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ویژن، جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن، تحقیق، عالمی معیار کی پراسیسنگ، برانڈنگ اور مؤثر حکمتِ عملی ہے۔
جب تک ہم خام مال بیچنے کی سوچ سے نکل کر "پیداوار سے پروڈکٹ، پروڈکٹ سے برانڈ، اور برانڈ سے عالمی مارکیٹ" کے سفر کا آغاز نہیں کریں گے، تب تک ہماری معیشت اپنی حقیقی صلاحیت تک نہیں پہنچ سکے گی۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، جامعات، ویٹرنری و زرعی ماہرین اور کسان مشترکہ کوشش کریں تو پاکستان نہ صرف غذائی خود کفالت حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی فوڈ ایکسپورٹ مارکیٹ میں ایک نمایاں مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔

-(A Seminar presentation)-

Dr. Altaf Gohar
CEO Meyaree International.

25/06/2026
Photos from Meyaree International's post 30/05/2026

Category

Telephone

Address

Office No. 430, 4th Floor, Bhayani Center, Block M, North Nazimabad
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meyaree International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Karachi.