Womens Health Hub

Womens Health Hub

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Womens Health Hub, Health/Beauty, kasur, Kasur.

"Women Health Hub ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں خواتین کی صحت سے متعلق اہم معلومات آسان اور قابلِ اعتماد انداز میں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہاں آپ کو ہیلتھ ٹپس، بیوٹی کیئر، بالوں اور جلد کے مسائل کے مؤثر حل کے ساتھ ساتھ PCOS، ہارمونی مسائل اور بانجھ پن (Infertili

02/05/2026

دن 1: ایگ (O**m) کا کردار
ایگ یا بیضہ عورت کے تولیدی نظام کا بنیادی حصہ ہے جو اووری میں بنتا ہے اور حمل ٹھہرنے کی بنیاد بنتا ہے۔ہر لڑکی میں پیدائش کے وقت لاکھوں انمیچور ایگز ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ چند ہی میچور ہوتے ہیں۔ہر ماہ اوویولیشن کے دوران ایک میچور ایگ خارج ہو کر فیلوپین ٹیوب میں جاتا ہے جہاں سپرم سے ملاپ ممکن ہوتا ہے۔اگر فرٹیلائزیشن ہو جائے تو حمل ٹھہر جاتا ہے ورنہ یہ ایگ ضائع ہو کر پیریڈز کی صورت میں خارج ہو جاتا ہے۔ایگ کی کوالٹی بہت اہم ہے کیونکہ کمزور ایگ کنسیو کے چانس کم کر دیتا ہے جبکہ صحت مند ایگ امکانات بڑھاتا ہے۔ہارمونز خاص طور پر FSH اور LH اس عمل کو کنٹرول کرتے ہیں، اور عمر، اسٹریس، غذا اور نیند بھی ایگ کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اگر ایگ صحیح وقت پر میچور نہ ہو تو اوویولیشن متاثر ہو جاتی ہے جس سے حمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اسی طرح ہارمونل عدم توازن جیسے PCOS بھی ایگ کی کوالٹی اور ریلیز پر اثر ڈالتا ہے، اس لیے بروقت تشخیص ضروری ہے۔صحت مند غذا، مناسب نیند اور ذہنی سکون ایگ کی بہتری میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اگلے لیکچر میں ہم اوویولیشن کے عمل کو مزید سمجھیں گے، اس لیے اگلے لیکچر کا انتظار کریں۔

28/04/2026

اکثر خواتین یہ سوال کرتی ہیں کہ HSG ٹیسٹ نارمل آنے کے باوجود حمل کیوں نہیں ہو رہا اور کیا ایسی صورت میں لیپروسکوپی کروانی چاہیے۔ اس حوالے سے سمجھنا ضروری ہے کہ اگر HSG رپورٹ ٹھیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کم از کم ٹیوب کھلی ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود حمل نہ ہونے کی اور کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ان وجوہات میں سب سے اہم اوویولیشن کا صحیح نہ ہونا، ہارمونز کا عدم توازن، انڈے یا سپرم کی کوالٹی کا مسئلہ، یا پیٹ کے اندر ہلکی چپک (adhesions) شامل ہو سکتی ہیں جو بعض اوقات HSG میں واضح نہیں ہوتی۔ لیپروسکوپی ہر مریضہ میں لازمی نہیں ہوتی بلکہ یہ تب کی جاتی ہے جب کافی عرصہ کوشش کے باوجود حمل نہ ہو رہا ہو یا ڈاکٹر کو اندرونی کسی مسئلے کا شبہ ہو جیسے اینڈومیٹریوسس یا چپکنے کا مسئلہ۔ اس لیے ایسے کیسز میں پہلے مکمل ہارمونز چیک اپ، اوویولیشن کا جائزہ اور شوہر کے اسپرم ٹیسٹ کو مکمل کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے، اور اگر یہ سب رپورٹس نارمل ہوں اور پھر بھی مسئلہ برقرار رہے تو پھر ڈاکٹر لیپروسکوپی کا فیصلہ کرتا ہے۔

27/04/2026

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ شادی شدہ جوڑے اولاد کے لیے کتنی دعاؤں، علاج اور امیدوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، ہر مہینے ایک نئی امید بنتی ہے اور پھر مایوسی دل توڑ دیتی ہے، ہسپتال کے چکر، دوائیاں اور رپورٹس ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں، یہ سفر آسان نہیں ہوتا، اولاد اللہ کی عطا ہے کسی انسان کا کمال نہیں، جس کے پاس ہے وہ شکر کرے اور جس کے پاس ابھی نہیں ہے اس کا دل نہ دکھائے، طنز یا طعنے کسی کا درد کم نہیں کرتے بلکہ مزید بڑھاتے ہیں، ہمیں نہیں پتہ سامنے والا کس ذہنی اور جذباتی کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے، اس لیے الفاظ ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنے چاہئیں کیونکہ ایک جملہ بھی کسی کے دل کو گہرا زخم دے سکتا ہے، اللہ سب کو صبر بھی دیتا ہے اور اپنے وقت پر اپنی رحمت سے ضرور نوازتا ہے، اس لیے ہمیں دوسروں کے لیے دعا اور نرمی کا رویہ رکھنا چاہیے نہ کہ تکلیف۔

24/04/2026

افسوس کی بات ہے کہ آج کے دور میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سائنسی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے۔ میڈیکل سائنس واضح کرتی ہے کہ کنوارہ پن کا کوئی سو فیصد قابلِ اعتماد ٹیسٹ موجود نہیں اور نہ ہی صرف خون آنا اس کا معیار ہے۔
تعلیم کا مقصد سوچ کو وسیع کرنا ہوتا ہے، نہ کہ غلط فہمیوں کو آگے بڑھانا

24/04/2026

کیا اسٹریس حمل نہ ہونے کی وجہ بن سکتا ہے؟
جی ہاں، اسٹریس حمل نہ ہونے کی ایک عام اور اہم وجہ ہو سکتا ہے۔ جب انسان زیادہ ذہنی دباؤ، پریشانی یا ٹینشن میں رہتا ہے تو جسم کے ہارمونز کا توازن متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ ہارمونز عورت کے تولیدی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں، خاص طور پر بیضہ بننے اور اس کے وقت پر خارج ہونے کے عمل (ovulation) کو۔ جب یہ عمل متاثر ہوتا ہے تو حمل ٹھہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
اسٹریس کی حالت میں جسم مسلسل “alert mode” میں رہتا ہے، جس سے نہ صرف ہارمونی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ نیند بھی خراب ہو جاتی ہے۔ نیند کی کمی جسم کی قدرتی کارکردگی کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ اسی طرح اسٹریس کی وجہ سے جسم میں ایسے کیمیکل بھی بڑھ جاتے ہیں جو تولیدی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
بعض خواتین میں اسٹریس کی وجہ سے ماہواری بھی بے قاعدہ ہو جاتی ہے، جو حمل کے لیے مزید مشکل پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر حضرات اکثر یہ مشورہ دیتے ہیں کہ جو خواتین conceive کرنے کی کوشش کر رہی ہوں انہیں ذہنی طور پر پرسکون رہنا چاہیے۔
حمل کے لیے صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی سکون بھی بہت ضروری ہے۔ اگر انسان ہر وقت پریشانی میں رہے تو جسم اپنی قدرتی کارکردگی صحیح طریقے سے نہیں دکھا پاتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ روزمرہ زندگی میں مثبت سوچ اپنائی جائے، غیر ضروری سوچوں سے بچا جائے اور خود کو مصروف رکھا جائے۔ ہلکی ورزش، اچھی نیند، متوازن غذا اور خوشگوار ماحول اسٹریس کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ ذہنی سکون صرف حمل کے لیے نہیں بلکہ پوری صحت کے لیے بہت اہم ہے۔

23/04/2026

میرے پاس ایک نیا شادی شدہ جوڑا آیا جن کے گھر میں اس بات پر کافی پریشانی اور غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی کہ شادی کو ابھی صرف ایک ماہ ہوا ہے تو حمل دو ماہ کیسے بتایا جا رہا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ حمل کا حساب شادی کے دن سے نہیں بلکہ آخری ماہواری (LMP) سے شروع ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جب ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو حمل پہلے ہی 5 سے 6 ہفتے تک پہنچ چکا ہوتا ہے، اس لیے مہینوں کا فرق نظر آنا ایک نارمل بات ہے۔
یہ غلط فہمی اکثر لوگوں میں علم کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اسی وجہ سے گھر میں بے جا شک، پریشانی اور لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ مکمل طور پر میڈیکل اصول کے مطابق ہوتا ہے۔
ایسی صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ گھبراہٹ یا شک کے بجائے ڈاکٹر سے کنفرمیشن لی جائے اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے صحیح عمر معلوم کی جائے۔
گھر والوں کو بھی چاہیے کہ سننے اور سمجھنے کا رویہ رکھیں تاکہ غلط فہمیاں بڑھنے کے بجائے ختم ہوں۔ صبر اور اعتماد کے ساتھ چلنے سے زیادہ تر مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔

23/04/2026

کل کلینک میں ایک 22 سالہ لڑکی آئی جو کافی پریشان تھی، اس نے بتایا کہ رات گول گپے کھاتے ہوئے اچانک اس کے جبڑے میں “کڑک” سی محسوس ہوئی اور اس کے بعد ہلکی سی تکلیف شروع ہوگئی۔ یہ عموماً اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب ہم منہ کو غیر معمولی حد تک زیادہ کھولتے ہیں یا سخت چیزیں چبانے کے دوران جبڑے کے جوڑ پر اچانک دباؤ پڑ جاتا ہے تو TMJ یعنی جبڑے کا جوڑ متاثر ہو سکتا ہے، اس جوڑ میں موجود نرم ڈھانچہ وقتی طور پر اپنی جگہ سے ہلکا سا ہل جائے یا پٹھوں میں کھچاؤ آ جائے جس کی وجہ سے کڑک یا کھنچاؤ جیسا احساس ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر خطرناک نہیں ہوتا اور آرام، نرم غذا اور احتیاط سے خود ہی بہتر ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو بھی کبھی اس طرح جبڑے میں کڑک یا ہلکا سا کرڈل پڑے تو پریشان نہ ہوں، یہ عام طور پر وقتی مسئلہ ہوتا ہے جو زیادہ زور دینے یا مسلسل غلط پوزیشن میں منہ کھولنے سے ہو جاتا ہے، بس چند دن احتیاط کریں اور جبڑے کو آرام دیں تو مسئلہ خود بہتر ہو جاتا ہے۔

22/04/2026

کامیابی کا معیار بڑی چیزیں نہیں ہوتیں، بلکہ اندر کا سکون ہوتا ہے۔
جو لوگ سادگی میں خوش رہنا سیکھ لیں، وہی اصل “healthy mind” کے مالک ہوتے ہیں۔

22/04/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Amjad Ali, Afzal Butt, Abu Bakar Jutt, Arvind Kumar Satya, Hafiz Sultan, Ahmad Ali, Qadeer Khan

Website

Address

Kasur
Kasur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Womens Health Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Kasur.