Yaran e Nabi
Islamic video
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے "داماد" ہیں اور جناب حسنین کریمین کے "بہنوئی" ہیں ۔
لوگوں میں یہ امر مسلم ہے کہ دو شخصوں کے درمیان رشتہ داری کا قائم ہونا ایک آدمی کا لڑکی کا رشتہ دینا دوسرے شخص کا اس کو قبول کرنا باہم اعتماد اور وثوق کی بنیاد پر ہوتا ہے اور آپس میں رشتہ کر لینے کے بعد یہ برادرانہ رابطہ مضبوط تر ہو جایا کرتا ہے۔
اس تمدنی اور نفسیاتی اصول کے تحت حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب نے حضرت علی المرتضی سے ان کی صاحبزادی "ام کلثوم" کا رشتہ طلب کیا (جو کہ سیدہ فاطمۃ الزھراء کے بطن سے ھیں) اور حضرت علی نے بخیر خوبی اور رضامندی سے اپنی عزیزہ کا نکاح کر دیا۔
اس موقع پر حضرت عمر فاروق نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سردار دو عالم نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بیان کیا جو انہوں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یعنی فرمان نبوت ہے کہ "قیامت کے روز تمام رشتے اور تعلقات ختم ہو جائیں گے مگر صرف میرے خاندان کے ساتھ رشتہ اور انتساب کام آئیگا".
حضرت عمر نے کہا میری دلی آرزو ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے کے ساتھ میری نسبت قائم ہو جائے.
ام کلثوم بنت علی جو حضرات سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کے بطن مبارک سے تھی ان کا نکاح حضرت علی المرتضی نے بخوشی ورضا حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب سے کر دیا حضرت عمر نے اس نکاح کو سعادت مندی تصور کرتے ہوئے عقیدت مندی کے ساتھ قبول فرمایا یہ رشتہ ان دونوں حضرات کے باہمی حسن تعلقات کی بڑی مضبوط دلیل ہے۔ ایسے دلائل واضح کو نہ تسلیم کرنا اور پھر بھی ان حضرات کی باہمی دشمنی اور عداوت کا تصور قائم رکھنا عدل و انصاف کے خلاف ہے قرآن مجید،حدیث و تاریخ کو پس پشت ڈال دینے کے مترادف ہے یہ مسئلہ حدیث، روایات اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔
حوالہ جات درج ذیل ہیں
(1)- "کتاب السنن" قسم اول ج3 ص130 لسعید بن منصور الخراسانی المکی المتوفی 227 ھ قسم اول جلدثالث باب النظر الی المرأۃ اذا افراد ان یتزوجھا۔
(2)- المستدرک للحاکم ،ج3ص142،باب فضائل علی
(3)- کنز العمال ج7ص98،روایت825-طبع قدیم(بحوالہ ابن سعد وابن راہویہ مختصراً رواہ بتمامہ)
(4)- مجمع الزوائد للہیثمی ج9ص173 تحت فضل اھل بیت ۔
(5)- کتاب نسب قریش ص41 تحت ولد علی بن ابی طالب
(6)- کتاب المحبر، ص56 تحت اصہار علی
(7)- "المعارف" لابن قتیبہ ص89، 80 تحت اولاد عمر بن خطاب
(8)- کتاب انساب الاشراف بلاذری ص 428
(9)- کتاب الثقات لابن حبان ج2 ص144.تحت بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(10)- جمہرہ انساب العرب لابن حزم ص37، 38 تحت اولاد علی
کتب شیعہ سے۔ (1)- فروع کافی ج2ص141،کتاب النکاح ،باب تزویج ام کلثوم
(2)- الاستبصار جزء ثالث ص186،ابواب العدۃ
(3)- تہذیب الاحکام ص238 کتاب الطلاق باب عدۃ النساء
اسکے علاوہ بیشمار حوالہ جات موجود ھیں
سب سے پہلا انتشار فی الاسلام کا مجرم
امت محمدیہ میں سب سے پہلے جس نے انتشار پیدا کیا وہ شخص "عبداللہ بن سبا" تھا جو نسلاً یہودی تھا اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مختلف مقامات پر مختلف قوموں میں اپنے پروگرام کا پرچار کیا لوگوں کو ہم نوا بنایا۔ اس کی منافقانہ چالوں میں جو لوگ آگئے ان کو آمادہ کر کے خلیفہ اسلام سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر وار کرنے کے لیے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی مرکز اسلام پر حملہ کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کیا۔ اس طرح اہل اسلام میں افتراق اور انتشار کا باب ہمیشہ کے لیے کھل گیا ۔
(1)- وہ لوگوں سے دریافت کرتا تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمانوں سے واپس تشریف لائیں گے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ہاں آئیں گے تو کہتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیسی علیہ السلام سے یقینا افضل ہے تو پھر ان کے واپس آنے سے کیوں انکار ہے۔
(2)- پھر یہ چیز پیش کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں وصیت کی تھی یعنی ان کو اپنا وصی اور اپنا قائم مقام مقرر کیا تھا پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور علی المرتضی خاتم الاوصیاء ہیں۔
(3)- اس کے بعد یہ بات سامنے رکھتا کہ خلافت و امارت کے لیے حضرت عثمان سے حضرت علی بن ابی طالب زیادہ حقدار ہیں اور عثمان نے اپنی خلافت کے درمیان کئی قسم کی زیادتیاں کر ڈالی ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں تھی کہتا ہے کہ حضرت علی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں لیکن وصیت کو پورا نہیں کیا گیا یعنی ان کا حق غصب کیا گیا حضرت عثمان نے خلافت کو ناحق طور پر لے لیا لوگوں کو اس مسئلہ پر برانگیختہ کیا کرتا تھا۔ اپنے اس کردار کی وجہ سے وہ بصرہ سے نکال دیا گیا پھر کوفہ میں داخل ہوا پھر وہاں سے شام چلا گیا شام سے اسے نکالا گیا پھر مصر میں داخل ہوا مصر وغیرہ کے بہت سے لوگ اس کے پراپگنڈا سے متأثر ہو کر فتنوں میں مبتلاء ہوئے۔ ان لوگوں نے کوفہ، بصرہ کے عوام کی جماعتوں کی طرف مراسلت خط و کتابت جاری کر رکھی تھی شکایات عثمانی ان مراسلات کا موضوع ہوتا تھا اس طریقے سے انہوں نے لوگوں کو مخالفت عثمانی پر مجتمع کیا۔ اور کچھ لوگ حضرت عثمان کی طرف بحث و جدال کرنے کے لیے مدینہ ارسال کیا ۔وہاں جا کر انہوں نے کبار صحابہ کرام کو معزول کرنے اور اپنے رشتہ داروں کو امیر بنانے کے طعن ذکر کیے۔ اس طرح لوگوں کے قلوب میں شبہات ڈالنے کی کوشش کی۔
یہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت علی کی "امامت" کے فرض ہونے کا دعوی کیا اور حضرت علی کے مخالفین سے براءت کرنے کو ضروری قرار دیا (یعنی تبری' کرنے کو لازم ٹھہرایا)
حاصل کلام یہ ہے کہ عثمانی خلافت کے آخری ایام میں ابن سبا کی یہ منافقانہ تحریک اہل اسلام میں اختلاف ڈالنے کے لیے چلائی گئی تھی اور ابن سبا نے مختلف علاقوں میں اپنے ہمنواء شر پسند افراد پیدا کر لیے تھے۔ جو حضرت عثمان پر اعتراض کرتے اور ان کے عمال کی زیادتیاں شمار کرتے تھے۔ یہ لوگ مشورہ کے ساتھ کوفہ سے بصرہ سے اور مصر سے چڑھائی کر کے مدینہ منورہ میں آئے تھے۔ اور حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اہل مصر کا سرگروہ عبدالرحمن بن عدیس البلوی تھا۔ بصریوں کا لیڈر حکیم بن جبلہ العبدی تھا اور اھل کوفہ کی پارٹی کا سربراہ مالک بن حارث الاشتر النخعی تھا۔
پہلے کچھ ایام ان لوگوں نے محاصرہ عثمانی کئے رکھا اس دوران مختلف مطالبات حضرت عثمان سے منوانے کے لیے حیلے اور بہانے بنائے رکھے۔ لیکن اصلی مقصد چونکہ دوسرا تھا (یعنی اسلام کے مرکز کو ختم کرنا مقصود تھا) اس لیے مطالبات تسلیم ہونے پر بھی وہ کسی صورت میں مطمئن اور راضی نہیں ہوتے تھے۔ آخر کار انہوں نے اپنے مزموم مقاصد کی طرف اقدام کیا مرکز اسلام (خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان ذوالنورین 84 سال کی عمر میں) موقع پا کر 18 ذوالحجۃ 35ھجری کو شہید کر دیا۔۔۔
اسکے بعد امت سے آج تک اس انتشار کا خمیازہ بھگت تھی ھے یہ تھی سبائی ٹولے کی بنیاد۔
عبداللہ بن سباء کی اسلام دشمنی اور افتراق بین المسلمین کی مختصر سی کارگزاری ذکر کر دی ہے۔ مزید اس کے حالات اگر ملاحظہ کرنے مطلوب ہوں تو مندرجہ ذیل مقامات کی طرف توجہ کریں
(1)۔ البدایہ والنہایہ لابن کثیر ج 7ص 167،168تحت34ھ
(2)۔ تاریخ ابن خلدون (عبدالرحمن بن خلدون المغربی )ج 2۔ ص 1027 تحت بدأ الانتقاض علی عثمان
(3)۔تاریخ ابن جریر طبری ج5ص 90،98،99 تحت33ھ،35ھ
(4)- میزان الاعتدال للذہبی ج2ص 40 تحت حرف العین (تذکرہ عبداللہ بن سباء)
(5)- لسان المیزان لابن حجر ج3 ص 289 تحت حرف العین (تذکرہ عبداللہ بن سباء)
(6)- کتاب التمہید والبیان فی مقتل شہید عثمان، ص 88 تحت ذکر بعث ابن سوداء دعاتہ فی البلاد۔
(7)- تاریخ خلیفہ ابن خیاط ج1 ص 145 تحت 35 ھ( الفتنہ زمن عثمان)
(1)-سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس شخص نے حضرت عثمان کے دین سے تبری اور بیزاری اختیار کی یقینا وہ اپنے ایمان و اسلام سے بری ہوگیا۔
("الاستیعاب" معہ اصحابہ ج3 ص 76. تذکرہ عثمان)
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیانات کے ذریعہ یہ مسئلہ فیصلہ شدہ ہے کہ جو آدمی حضرت عثمان کو ایماندار نہیں جانتا وہ خود ایماندار نہیں جو حضرت عثمان سے بیزار ہوگا وہ دین اسلام سے بیزار ہوگا۔
(2)ـ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اسی نقش قدم پر چل رہا ہوں جس پر عثمان رضی اللہ عنہ آ رہے تھے اللہ کے دین کے معاملے میں انہیں (خیرات و حسنات میں) وہ سبقتیں حاصل ہیں جن کے بعد اللہ ان کو کبھی بھی عذاب نہیں دے گا۔
(انساب الاشراف بلاذری ج5ص9)
(3)- حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے زمین کرید رہے تھے اور آیت ہذا (ان الذين سبقت لهم من الحسنى اولئك انها مبعدون) پڑھ کر فرمایا یہ لوگ حضرت عثمان اور انکے ساتھی ھیں۔ (جنکے لئے جنت مقرر ھو چکی ھے اور وہ دوزخ سے دور ھیں۔)
(انساب الاشراف بلاذری ج 5 ص 10 باب امر عثمان بن عفان۔)
سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام تو واضح ھے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کے بارے گمراہ کرنے والے سے پوچھا جائے تیرا کیا تعارف ھے؟
حضور نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما جن کی ماں حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا ہے۔
یکے بعد دیگرے حضرت عثمان بن عفان کے نکاح میں آئیں ۔اس دوھرے رشتہ کی بناء پر حضرت عثمان کو امت نے "ذوالنورین" کے لقب سے یاد کیا. یعنی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے دو نور نظر یکے بعد دیگرے ان کو نکاح میں نصیب ہوئے۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ نے تاریخ الخلفاء باب ذکر عثمان میں لکھا ہے کہ "حضرت عثمان کے سوا پوری اولاد آدم میں کوئی شخص ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں ائی ہوں"
(1)- تاریخ الخلفاء سیوطی ص 105 باب ذکر عثمان بن عفان۔
(2)- الصواعق المحرقہ لابن حجر المکی ص107 ،الباب السابع، الفصل الاول۔
(3)- کنز العمال جلد 6ص 371 تحت فضائل ذن النورین عثمان۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دوھرے داماد رسول ہیں۔ اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہم زلف (ساڈھو) ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے بہنوئی ہیں۔ سیدین حسنین کریمین کے "خالو " ھیں۔
لہٰذا محبت اھل بیت انکی رشتہ داری کے ادب کا تقاضا کرتی ھے۔
ھمارے رشتے دار تو قابلِ احترام ھوں اور نبی کے رشتہ دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور ھم تو اپنی بیٹیوں کے رشتے بڑی تحقیق کے بعد معزز لوگوں میں کرتے ھیں لیکن تعجب ھے ایک طبقہ امام الانبیاء کے بارے کیوں .....؟
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:-
"جس نے درخت کے نیچے (میرے ہاتھ) پر بیعت رضوان کی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا
(ترمذی شریف جلد 2ص 226)
حضرت جابر ھی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-
"جس نے درخت کے نیچے بیعت رضوان کی وہ یقینا جنت میں جائیں گے"
( حوالہ بالا)
فائدہ :- حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی وہ سب یقینا جنتی ہیں جن کی تعداد تقریبا ڈیڑھ ہزار ہے۔ قرآن کریم میں بھی ہے کہ اللہ تعالی نے ان اصحاب کرام کی تعریف فرما کر ان کو اپنی رضا کا پروانہ نصیب فرمایا (سورۃ الفتح کی آیت نمبر18) کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو دنیا ہی میں رضائے خداوندی کا پروانہ نصیب ہو گیا اس لیے بجائے اس کے کہ ہم ان کے عیوب تلاش کرتے پھریں ان کی اقتدا کریں۔ ان کے نقش پا پر چلنے کی کوشش کریں تاکہ ہم بھی خدا کی نظروں میں پیارے بن سکیں۔
نوٹ:- یاد رھے یہ بیعت سیدنا عثمان ذوالنورین کے خون کا بدلہ لینے کے لئے منعقد ھوئی جب انکی شہادت کی افواہ اڑی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ھاتھ مبارک کو سیدنا عثمان کا ھاتھ قرار دےکر بیعت کی اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اسی بیعت میں نبئ کریم کے پہریدار دار تھے
(سیدہ عثمان اور سیدنا مغیرہ پر اعتراض کرنے والے کو ذرا اپنا تعارف بھی کرانا چاھئے)
سیدنا براء بن عاذب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:-
کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو گالیاں نہ دینا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں ان کی تھوڑی سی صحبت تمہاری سب عمر کے اعمال سے افضل ہے ۔
(کنز العمال ج 6 ص 311)
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-
" میرے صحابہ میں سے کوئی بھی کسی سرزمین میں انتقال کرے وہ قیامت کے دن اس سرزمین کے لوگوں کے لیے پیشوا اور نور بنا کر اٹھایا جائے گا"-
(مشکوۃ شریف صفحہ 554)
فائدہ :- حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین جس سرزمین میں ہوں وہ وہاں کے قائد ہوں گے اور ان کے لیے نور ہی نور ہے۔ اللہ اللہ! کتنا بڑا مقام ہے صحابہ کرام کا-
سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔
" میں اپنے صحابہ کے بارے میں ہر اس شخص کو جو میری رسالت کی گواہی دیتا ہے اس بات سے روکتا ہوں کہ وہ ان کے حق میں بری بات کہے بے شک اللہ تعالی ان سے راضی ہو چکا اور اپنی کتاب میں ان کی بہتری اور افضلیت بیان کی۔ (اور فرمایا) میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ میرے صحابہ کی (عزت و عظمت و حرمت) کا خیال رکھنا کیونکہ جب لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑا تو انہوں نے مجھے سینہ سے لگایا۔ لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو انہوں نے میری تصدیق کی۔ لوگوں نے میرے ساتھ لڑائی کی تو انہوں نے میری نصرت و عیانت کی۔
پھر میں خاص طور پر انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اللہ ان کو میری طرف سے جزاء خیر عطا فرمائے کہ وہ میرے خاص رازدان دوست تھے۔ عام مصاحب نہ تھے۔"
( کنز العمال ج6 ص311)
فائدہ :- حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی عزت و عظمت اور حرمت کا خیال رکھے ان کے بارے میں بری بات کہنے سے بچے اس لیے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر وہ کچھ کر دکھایا اس کی مثال چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
صحابہ کرام کی تعظیم کے سلسلے میں اس حدیث پاک نے بہت واضح اعلان کر دیا
اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے یہ روایت فرما کر اس روایت کی مزید تائید فرما دی۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-
اللہ تعالی نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا اور میرے صحابہ کو (میری مدد و نصرت کے لیے) چن لیا- یاد رکھو ایک قوم آئے گی جو میرے صحابہ کو گالی دے گی، ان کے نقائص بیان کرے گی ۔(تمہیں چاہیے کہ) ان کے پاس نہ بیٹھو، نہ کھاؤ، نہ پیو، نہ ان کے ساتھ نکاح شادی کا معاملہ کرو ۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ج 11 ص 274 ،
غنیۃ الطالبین صفحہ 54)
اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو ۔
(شرح الشفا ج 2 ص755)
نہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا، ان پر اللہ کی لعنت ہوا کرے گی۔
( کفایہ ص 48)
فائدہ :- حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی بدگوئی کرنے والے سے ہر طرح کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، نہ ان کے ساتھ لین دین ہو، شادی بیاہ کا معاملہ، نہ عیادت ،نہ نماز جنازہ ہر طرح ان سے الگ تھلگ رہے اس لیے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو گالیاں دی ہیں جو خیر امت تھے۔
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-
" اللہ تعالی نے (سب مخلوقات) میں سے مجھے چن لیا اور (میری صحبت کے لیے) میرے صحابہ کو چن لیا ان میں سے بعضوں کو میرے وزراء ، خسر اور داماد بنایا۔ پس جس نے ان کو برا کہا اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت، نہ اس کا فرض مقبول نہ اس کا نفل مقبول۔
(مرقاۃ المفاتیح جلد 11 ص274، مظاہر حق جلد4 ص578 مجمع الزوائد ص 12)
فائدہ:- حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں بدگوئی اور بد کلامی کرنے والے پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت ہوتی ہے۔ نہ اس کے فرائض قابل قبول نہ اس کے نوافل کا کوئی اعتبار و اعتماد ، کتنا بد نصیب ہے وہ شخص جو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی بدگوئی کر کے اپنے سر لعنت کا بوجھ لیتا ہے۔ (العیاذ باللہ)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Khushab
123456
