Doctor Inam Chughtai

Doctor Inam Chughtai

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Doctor Inam Chughtai, Township 60-2-b1, .

02/08/2026

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Photos from Doctor Inam Chughtai's post 01/07/2026

الحمداللہ

29/04/2026

بچے کا کھلا منہ خطرے کی گھنٹی ہے،

دانت، چہرہ اور جسم سب متاثر ہو سکتے ہیں۔!

اگر کوئی بچہ اکثر منہ کھول کر سانس لے رہا ہو

تو اسے معمولی عادت نہ سمجھیں۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ بچے کی سانس، دانت، چہرہ اور جسم کا انداز آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔ جب بچہ ناک کے بجائے منہ سے سانس لیتا ہے تو اس کا سر آگے کی طرف جھکنے لگتا ہے، زبان نیچے رہتی ہے حالانکہ اسے اوپر ہونا چاہیے، اور اوپر والا جبڑا صحیح نہیں پھیلتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دانتوں کے لیے جگہ کم پڑتی ہے اور وہ ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کے ہونٹ خشک رہتے ہیں، رات کو خراٹے آتے ہیں، بار بار نزلہ زکام ہوتا ہے، چہرہ لمبا لگنے لگتا ہے، آنکھوں کے نیچے حلقے آ جاتے ہیں اور بچہ تھکا تھکا محسوس کرتا ہے۔

بعض اوقات یہی بچہ پڑھائی میں کمزور
یا زیادہ چڑچڑا بھی ہو جاتا ہے۔

سادہ مثال یہ ہے کہ جیسے پودے کو صحیح ہوا اور جگہ نہ ملے تو وہ ٹیڑھا بڑھتا ہے، بالکل اسی طرح بچہ بھی غلط سانس اور عادتوں کی وجہ سے بدلنے لگتا ہے۔

اب حل بھی سن لیں، بچے کو بار بار نرمی سے یاد دلائیں کہ ناک سے سانس لے اور منہ بند رکھے، اس کے بیٹھنے اور چلنے کا انداز سیدھا رکھیں۔

👈موبائل اور ٹی وی کم کریں تاکہ سر آگے نہ جھکے۔🙏

گاجر اور سیب جیسی چیزیں چبانے دیں تاکہ جبڑا مضبوط ہو،

سوتے وقت دیکھیں کہ منہ کھلا تو نہیں، اگر خراٹے یا ناک بند رہتی ہو تو ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔اور چھوٹی عمر میں دانتوں کا چیک اپ کروانا عادت بنائیں۔

یہ چھوٹے قدم ہیں مگر یہی بچے کی شکل، صحت اور اعتماد کو بچاتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ اگر ایسے کسی بچے کو دیکھیں تو خود اس پر تحقیقات کریں دانتوں کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں ۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔

تحریر و تحقیق : جاوید اختر آرائیں

ترتیب و تدوین : ڈاکٹر انعام چغتائی

15/04/2026

السلام علیکم۔۔🫡

سلامت۔آباد اور خوش رہیں۔۔

اپنی صحت بارے آج اور کل پر ٹالنے والا رویہ بدلیئے۔۔

جنوبی ایشیا کے مرد وقت سے پہلے مر رہے ہیں۔ مائیکرو پلاسٹکس کی وجہ سے نہیں، نان اسٹک برتنوں کی وجہ سے نہیں—بلکہ اس لیے کہ ان کا اپنا جسم ان کے خلاف کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

35 سال کی عمر تک ٹائپ 2 ذیابیطس۔ بچوں کے اسکول ختم کرنے سے پہلے دل کا دورہ۔ ایسا فالج کہ آپ کی بیوی کو ہر فیصلہ خود کرنا پڑے۔

ہم پہلے ہی ایسے جینیاتی رجحانات رکھتے ہیں جو ہمیں کم وزن پر بھی پیٹ کی چربی (visceral fat)، انسولین ریزسٹنس، اور دل کی بیماریوں کے لیے زیادہ حساس بناتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وزن کو آپ “بعد میں کم کر لوں گا” کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں، وہ آپ کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے جتنا کسی اور کو اسی وزن پر ہوتا۔

اور سب سے بڑی بات؟ زیادہ تر جنوبی ایشیائی مردوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

توانائی ختم ہو رہی ہے۔ پیٹ بڑھتا جا رہا ہے چاہے کچھ بھی کریں۔ خراٹے زیادہ ہو رہے ہیں۔ بلڈ پریشر کی ریڈنگ دیکھ کر ڈاکٹر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔

لیکن پھر بھی وہ انتظار کرتے رہتے ہیں۔
صحیح وقت کا۔
موٹیویشن آنے کا۔
یا یہ کہ سب خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔
ایسا نہیں ہوگا۔

آپ کی لسٹ میں یہی وہ ایک چیز ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ آپ ان لوگوں کے لیے موجود رہیں گے جو آپ پر انحصار کرتے ہیں۔ نہ آپ کی نوکری۔ نہ آپ کی سرمایہ کاری۔ صرف یہ۔

اگر آپ ایک جنوبی ایشیائی مرد ہیں جو اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے اور اپنی زندگی، اپنے شیڈول، اور اپنے جسم کے مطابق ایک حقیقی پلان چاہتے ہیں—

تو آئیے بات کرتے ہیں۔۔

خیر اندیش۔ڈاکٹر انعام چغتائی

09/04/2026

آپ کا گال بلیڈر آپ کے میٹابولزم کا "گمنام ہیرو" ہے۔ 👇

اگر آپ کو دائیں طرف پسلیوں میں درد، انڈے کھانے کے بعد متلی، یا دائمی اپھارہ کا سامنا ہے، تو آپ کے پت کے بہاؤ میں سمجھوتہ ہونے کا امکان ہے۔ جب آپ کا پت "کیچڑ" ہو جاتا ہے، تو آپ کا جسم زندگی کے لیے ضروری وٹامنز جیسے A، D، E، اور K کو جذب کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس سے آپ کے خلیات کو دماغی وضاحت اور توانائی کے لیے درکار ایندھن کے مؤثر طریقے سے بھوک لگتی ہے۔

درستگی:

👈بہاؤ کو متحرک کریں: نظام کو "جاگنے" کے لیے کھانے سے 15 منٹ پہلے لیموں کا پانی یا ہاضمہ کڑوا استعمال کریں۔

کوالٹی فیٹس:

👈ٹرانس فیٹس سے پرہیز کریں جو "کیچڑ" پیدا کرتی ہیں، لیکن انتہائی کم چکنائی میں نہ جائیں۔ آپ کے پتے کو فعال اور صاف رہنے کے لیے صحت مند چربی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سائز کے معاملات:

👈"پت گھبراہٹ" سے بچنے اور مناسب غذائی اجزاء کے جذب کو یقینی بنانے کے لیے چھوٹا، یکساں فاصلہ والا کھانا کھائیں۔

اس وقت تک انتظار نہ کریں جب تک کہ آپ سرجری کے لیے مقرر نہ ہو جائیں تاکہ آپ اپنے پت کے بہاؤ کا خیال رکھنا شروع کر دیں۔

اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ شیئر کریں جو ہمیشہ بھاری کھانے کے بعد پھولا رہتا ہے۔

نوٹ:

👈پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، جو اظہار کیا گیا ہے مریض کے لیے مخصوص طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے۔، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔

تحریر: عاصم رزاق
ترتیب و تدوین و پیشکش: ڈاکٹر انعام چغتائی

05/02/2026

خوشبو۔حس شامہ اور حس سامعہ کا تعلق۔۔!!

چونکا دینے والا انکشاف: خوشبو اور کان کی سماعت
کا آپس میں حیرت انگیز گہرا تعلق جسے آزمانا چاہیے۔!

تحریر تقریباً نو سو الفاظ پر مشتمل ہے، سہولت سے پڑھنے میں پانچ منٹ لگ سکتے ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ توجہ سے پڑھنے پر زندگی بھر کام آنے والی بات سکھا سکتی ہے۔

یہ تجربہ ایک نیچروپیتھی کے ماہر نے کیا، اور سچ یہ ہے
کہ یہ نہ صرف حیران کن تھا بلکہ سوچ کو ایک نئی سمت دینے والا بھی تھا۔ ایک ایسی خاتون جن کی سماعت کمزور ہو چکی تھی، ان کا سادہ مگر بامعنی ٹیسٹ کیا گیا۔ ماہر ان کے پیچھے کھڑے ہوئے، انگلی اور انگوٹھے سے بہت ہلکی سی چٹکی بجاتے رہے، پہلے دائیں کان کی طرف، پھر بائیں کان کی طرف۔ آغاز میں آواز قریب سے سنائی دی، مگر جیسے جیسے فاصلہ بڑھایا گیا، تقریباً ایک فٹ کے بعد آواز سنائی دینا بند ہو گئی۔

اس کے بعد اصل تجربہ شروع ہوا۔ خاتون کو پیپرمنٹ
یعنی پودینے کے ایسینشل آئل کی ایک چھوٹی سی بوتل دی گئی۔ انہیں کہا گیا کہ ایک نتھنا بند کریں اور دوسرے نتھنے سے اس خوشبو کو آہستہ آہستہ سونگھتی رہیں۔ اسی دوران وہی چٹکی والا عمل دوبارہ دہرایا گیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب وہی ہلکی آواز تقریباً تین فٹ کے فاصلے سے بھی سنائی دینے لگی یعنی تین گنا بہتری ۔ پھر یہی عمل دوسرے نتھنے کے ساتھ کیا گیا، اور نتیجہ وہی رہا۔

یہاں سے ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ کان، ناک
اور گلا ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جب سونگھنے کی حس یعنی قوتِ شامہ متحرک ہوتی ہے تو سماعت کا نظام بھی بیک وقت ایکٹو ہو جاتا ہے۔ اس تجربے نے یہ بات واضح کر دی کہ بعض اوقات مسئلہ صرف کان میں نہیں ہوتا بلکہ پورے نظام میں سستی آ جاتی ہے۔

یہاں ایک سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ کیا صرف پیپرمنٹ ہی ضروری ہے؟ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ پیپرمنٹ ایک مثال ہے۔ آپ کوئی بھی قدرتی اور پسندیدہ خوشبو استعمال کر سکتے ہیں۔ لونگ، پودینہ، گلاب، لیونڈر، یا تیز خوشبو دار مصالحہ جات بھی کام آ سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ خوشبو نیچرل ہو، مصنوعی نہ ہو۔

طریقہ نہایت سادہ ہے۔ پہلے سماعت کا ٹیسٹ لے کر سا اندازہ لگائیں، پھر خوشبو سونگھنے کے ساتھ دوبارہ آزمائیں۔ یہ عمل دن میں دو سے پانچ بار کیا جا سکتا ہے۔ بچوں، بزرگوں، حتیٰ کہ ان افراد کے ساتھ بھی جنہیں خوشبو کم یا بالکل محسوس نہیں ہوتی، یہ مشق فائدہ دیتی ہے۔ اکثر افراد میں چند ہفتوں کے اندر قوتِ شامہ میں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے، اور اس کے ساتھ سماعت بھی بہتر ہونے لگتی ہے۔

ایک اور سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس کے ساتھ کچھ اور بھی کیا جا سکتا ہے؟ جی ہاں۔ نیم گرم پانی میں نمک ملا کر ناک کی صفائی، ہلکے غرارے، اور چہرے، کانوں، گردن اور سر کے اوپری حصے کی ہلکی مساج نہایت مفید ہے۔ یہ مساج دن میں کم از کم دو بار خود بھی کی جا سکتی ہے، اگر کوئی مدد کرنے والا موجود نہ ہو۔

بھاپ لینا بھی اس عمل کو مزید مؤثر بنا دیتا ہے، چاہے وہ سادہ پانی کی ہو، ہلدی والے پانی کی ہو یا پودینے والے پانی کی۔ اس کے بعد خوشبو سونگھنے کی مشق کریں۔ مسلسل عمل کے ساتھ تین ماہ بعد اگر چاہیں تو باقاعدہ آڈیو میٹری ٹیسٹ بھی کروا سکتے ہیں، ان شاء اللہ بہتری واضح محسوس ہو گی۔

یہ پیغام خاص طور پر ان تمام گھروں کے لیے ہے جہاں کسی بھی فرد کو سماعت کی کمزوری کا سامنا ہے۔ چھوٹے چھوٹے قدرتی طریقے، اگر مستقل مزاجی سے اپنائے جائیں، تو زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے اسی صفحے پر کان، سماعت اور ای این ٹی سے متعلق تحریریں تلاش کریں گے تو مزید رہنمائی بھی ملے گی، مگر آغاز اس سادہ خوشبو والی مشق سے کیجیے۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے

تحقیق و تحریر: جاوید اختر آرائیں
ترتیب و تدوین: ڈاکٹر انعام چغتائی

28/01/2026

دل۔کے پٹھوں کی بیماری کی پہلی علامت عام طور پر سانس کا پھولنا ہے جو بھاری کام کرنے ، تیز چلنے ، سیڑھیاں چڑھنے یا بہت زیادہ جذباتی کیفیت کے دوران پیدا ہوتا ہے ۔ اگر وقت پر تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بیماری کے بڑھ جانے کی وجہ سے سانس اتنا زیادہ پھولتا ہے کہ سیدھا لیٹنا محال ہو جاتا ہے ۔ سیدھا لیٹتے ہی خاص طور پر کھانے کے بعد ، شدید گھبراہٹ شروع ہوجاتی ہے ۔ سینے میں دباؤ اور سانس لینے میں تکلیف کے ساتھ ساتھ کھانسی بھی شروع ہوجاتی ہے ۔ بعض اوقات یہ کیفیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ مریض ساری رات بستر سے پاؤں لٹکا کر بیٹھ کر بے چینی میں گزار دیتے ہیں ۔ دل کے پٹھے اگر بہت موٹے ہوجائیں تو بھاری کام کرنے یا تیز چلنے سے سینے میں بوجھ ، گھٹن ، دباؤ یا درد شروع ہوجاتا ہے ۔
صحیح تشخیص اور علاج نہ کرنے کی صورت میں جگر کے پھولنے کی وجہ سے پیٹ کے اوپر والے حصے میں درد اور دکھن شروع ہو جاتی ہے ۔ پیٹ میں پانی آسکتا ہے ، ٹانگیں اور پاؤں سوج جاتے ہیں ۔ بلڈپریشر کم ہونے کی وجہ سے دماغ ، گردوں اور جسم کے دوسرے اعضا کو خون کی فراہمی میں کمی آ سکتی ہے ۔
شدید کمزوری اور نقاہت طاری ہوجاتی ہے ۔
بعض مریضوں میں مایوسی طاری ہوجاتی ہے ۔ لوگوں سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا ۔ ہر چیز بری لگنا شروع ہو جاتی ہے ۔
اچھی بات یہ ہے کہ اگر سانس کے پھولنے ، سینے میں درد ، دھڑکن ، ٹانگوں کی سوجن کو نظرانداز نہ کیا جائے اور اسی وقت صحیح تشخیص کے بعد علاج شروع کر دیا جائے ، زندگی کے معمولات میں مثبت تبدیلی لائی جائے ، خوراک خاص طور پر نمک اور پانی کے استعمال کا خیال رکھاجائے ، روزانہ کے حساب سے وزن پر نگاہ رکھی جائے ، دوائیں پابندی سے کھائی جائیں اور ڈاکٹرز کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے ، ان کے تجویز کردہ نسخے میں کبھی بھی کسی کے کہنے پر ردوبدل نہ کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ مریض کتنی جلد صحتیابی کی طرف گامزن ہوتے ہیں ۔
اللہ تعالی سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ۔

تحریر : ڈاکٹر جاوید سبزواری ۔کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
ترتیب تدوین و پیشکش: ڈاکٹر انعام چغتائی

14/01/2026

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے۔۔۔!!!

‏آٹھ سال کی عمر میں ’پیڈ‘ سنبھالتی ہوئی آپ کی بیٹی
‏یہ ترقی ہے یا زوال؟

‏کل ہی کی بات ہے۔ او پی ڈی میں ایک ماں باپ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لے کر آئے۔ بچی کے ایک ہاتھ میں اب بھی اس کی پسندیدہ گڑیا تھی اور دوسری طرف ماں کی آنکھوں میں آنسو۔
‏شکایت کیا تھی؟
‏“ڈاکٹر صاحب، اسے ماہواری (Periods) شروع ہو گئی ہے۔”
‏یہ پڑھ کر آپ کا دل دہل گیا نا؟
‏میرا نہیں دہلا، کیونکہ اب میرے کلینک میں یہ روز کا معاملہ بن چکا ہے۔ جس عمر میں بچیوں کو رسّی کودنی چاہیے، اس عمر میں ان ننھے وجودوں کو سینیٹری پیڈز اور پیٹ کے درد سنبھالنے پڑ رہے ہیں۔
‏“امی، مجھے خون کیوں آ رہا ہے؟”
‏۸ سال کی بچی کا یہ سوال سن کر اس ماں کا کلیجہ پھٹ گیا تھا… اور ایک ڈاکٹر کے طور پر میرا دماغ سُن ہو گیا تھا۔
‏کیا یہ بچپن چھین لینا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
‏ایک ماہرِ اطفال (Pediatrician) کے طور پر میں آپ کو ایک نہایت تلخ سچ بتا رہا ہوں، جو ہضم کرنا مشکل ہوگا:
‏ہم اپنے بچوں کو پال نہیں رہے، ہم انہیں پھلا رہے ہیں۔
‏جس طرح پولٹری فارم میں انجیکشن دے کر ۴۰ دن میں ’برائلر مرغی‘ تیار کی جاتی ہے، کچھ ویسی ہی حالت آج ہم نے اپنی اولاد کی کر دی ہے۔ یہ نشوونما نہیں، یہ جسم کی سوجن ہے!
‏اس کا ذمہ دار کون ہے؟
‏ہماری ’ماڈرن‘ لائف اسٹائل اور والدین کی سہل پسند سوچ!
‏دیکھیں ہم لاشعوری طور پر ان کی زندگی سے کیسے کھیل رہے ہیں:
‏ ۵۰۰ روپے کا پیزا یا زندگی کی ہولی؟
‏ویک اینڈ پر مال میں ۵۰۰–۸۰۰ روپے کا پیزا/برگر کھاتے ہوئے آپ تصویر کھینچ کر انسٹاگرام پر ڈالتے ہیں… “فیملی ٹائم!”
‏ارے، یہ فیملی ٹائم نہیں، یہ آپ کے بچوں کی صحت کی ہولی ہے! ربڑ جیسے میدے اور پروسیسڈ چیز کا یہ کھانا ہارمونل عدم توازن کی فیکٹری ہے۔
‏جسم میں جتنی زیادہ چربی، اتنا ہی زیادہ ایسٹروجن بنتا ہے۔ اور یہی اضافی ہارمون اس ۸ سالہ بچی کے نازک دماغ کو پیغام دیتا ہے:
‏“بچی، تمہارا بچپن ختم، اب تم عورت ہو!”
‏ گرم کھانے کے لیے پلاسٹک کا ڈبہ؟
‏اسٹیل کا ڈبہ بھاری لگتا ہے اور پلاسٹک کا فینسی، اس لیے وہی بچوں کو دے رہے ہو؟
‏جب آپ اس میں بھاپ اڑاتی گرم سبزی رکھتے ہیں تو اس میں موجود زینو-ایسٹروجنز (Xenoestrogens) کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل جسم میں جا کر بہروپئے کی طرح کام کرتے ہیں۔ جسم کو لگتا ہے کہ یہ ایسٹروجن ہے، اور جسم قبل از وقت بالغ ہونے لگتا ہے۔
‏آپ کی ’فینسی‘ عادت نے قدرتی گھڑی ہی بگاڑ دی ہے!
‏ دودھ-چکن یا ’ہارمونل بم‘؟
‏“ڈاکٹر، بچی بہت دبلی ہے، نان ویج دیں؟ دودھ کتنا پلائیں؟”
‏کھلائیں ضرور، مگر بازار کا وہ ۴۰ دن میں پھولا ہوا برائلر چکن اور تھیلی کا ’کیمیائی‘ دودھ دیتے وقت سو بار سوچیں۔
‏چکن: مرغی کو جلدی بڑا کرنے کے لیے گروتھ ہارمونز کے بھاری ڈوز دیے جاتے ہیں۔ وہی ہارمون بچی کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل چوتھی جماعت کی بچیوں کے ہونٹوں پر بال (Facial Hair) آ رہے ہیں۔ یہ PCOD کی پہلی علامت ہے!
‏دودھ: گائے-بھینس کو زیادہ دودھ کے لیے دیے گئے آکسیٹوسن کے انجیکشن دودھ کے ذریعے آپ کی بچی کے ننھے سے رحم کو “بڑا ہونے” کے غلط سگنل دیتے ہیں۔
‏جن چیزوں کو آپ ’پروٹین‘ سمجھ کر کھلا رہے ہیں، وہ دراصل ہارمونل بم ہیں!
‏💉 سب سے خوفناک حقیقت:
‏اس عمر میں ماہواری شروع ہو جائے تو ہڈیاں جلدی جُڑ جاتی ہیں اور قد ہمیشہ کے لیے رک جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟
‏“ہارمون سپریشن تھراپی!”
‏ذرا تصور کریں…
‏اس ۸ سالہ نازک پھول کو، اپنی ماہواری روکنے کے لیے اگلے ۳–۴ سال تک ہر مہینے ایک تکلیف دہ، موٹے انجیکشن کی سوئی لگوانی پڑے گی!
‏آپ کی لاڈلی بیٹی ہر مہینے اس سوئی کے خوف سے کانپے گی، اور آپ بے بس ہو کر یہ سب دیکھیں گے۔
‏سوچیے والدینو…
‏۱۰ سال بعد جب وہ آپ سے پوچھے گی:
‏“امی، ابو، تب کیوں دھیان نہیں دیا؟ کیا وہ پیزا-برگر میری زندگی سے زیادہ اہم تھے؟”
‏تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟
‏ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا… سدھر جاؤ!
‏1۔ کچن سے ’سفید زہر‘ (میدہ، چینی) باہر پھینک دیں۔
‏2 پلاسٹک کے ڈبوں کو آگ لگا دیں: صرف اسٹیل استعمال کریں۔
‏3 بچوں کو ’برائلر‘ نہ بنائیں: انہیں مٹی میں کھیلنے دیں، دھوپ میں دوڑنے دیں۔
‏4 لاڈ پیار کا مطلب زہر کھلانا نہیں، یہ بے حسی اب بند کریں!
‏اس مضمون کو پڑھ کر بھول مت جانا۔ یہ معلومات ہر فیملی گروپ تک پہنچانا آپ کا اخلاقی فرض ہے۔
‏اپنی بیٹیوں کا بچپن بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔
‏کیا آپ کے آس پاس بھی ایسی صورتحال نظر آتی ہے؟
‏اپنے تجربات نیچے ضرور شیئر کریں۔

‏(ڈاکٹر سُجیت بھارت پاٹل)
‏(ماہرِ اطفال، پونے)

06/01/2026

گٹ برین ایکسس:-!!!

سائنس اب اس بات کو تسلیم کرچکی ہے کہ معدہ صرف خوراک /غذا کو ہضم کرنے والی مشین نہیں، بلکہ یہ "دوسرا دماغ" ہے۔ پیٹ اور دماغ کے درمیان اس تعلق کو "گٹ-برین ایکسس" (Gut-Brain Axis)
کہا جاتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق، پیٹ اور دماغ ایک دوسرے سے ویگس نرو (Vagus Nerve) کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تعلق میں خرابی کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں

مائیکروبائیوٹا میں بگاڑ (Dysbiosis)

پیٹ میں موجود کھربوں بیکٹیریا سیروٹونن اور ڈوپامائن جیسے کیمیکلز بناتے ہیں۔ جب ان کا توازن بگڑتا ہے تو دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔

دیرینہ تناؤ (Chronic Stress)

ذہنی دباؤ جسم میں کورٹیسول بڑھاتا ہے، جو آنتوں کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔

لیکی گٹ (Leaky Gut)

جب آنتوں کی جھلی کمزور ہو جائے تو زہریلے مادے خون میں شامل ہو کر دماغ تک پہنچتے ہیں اور "نیورو انفلامیشن" پیدا کرتے ہیں۔

2. خرابی کی اہم علامات

پیٹ اور دماغ کے تعلق میں خرابی کی 5 بنیادی سائنسی وجوہات

1. ویگس نرو (Vagus Nerve) کی کارکردگی میں کمی
ویگس نرو وہ اہم اعصاب ہے جو دماغ کو آنتوں سے جوڑتی ہے۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق، جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ (Stress) میں رہتا ہے، تو اس اعصاب کے سگنلز بھیجنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ پیٹ کو ہاضمے کے درست احکامات نہیں دے پاتا، جس سے بدہضمی اور ذہنی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

2. مائیکروبائیوٹا ڈسبائیوسس (Microbiota Dysbiosis)
ہمارے پیٹ میں کھربوں مفید بیکٹیریا ہوتے ہیں جو "نیورو ٹرانسمیٹرز" (جیسے سیروٹونن) پیدا کرتے ہیں۔

سائنسی حقیقت
جسم کا 95% سیروٹونن (خوشی محسوس کروانے والا کیمیکل) پیٹ میں بنتا ہے۔

جب اینٹی بائیوٹکس کا زیادہ استعمال یا ناقص غذا ان بیکٹیریا کو ختم کرتی ہے، تو سیروٹونن کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جو براہِ راست ڈپریشن اور اینگزائٹی کا باعث بنتی ہے۔

3. لیکی گٹ سنڈروم (Leaky Gut / Intestinal Permeability)

ہماری آنتوں کی دیواریں ایک فلٹر کی طرح کام کرتی ہیں۔ جب سوزش یا غلط غذا کی وجہ سے ان دیواروں میں باریک سوراخ ہو جاتے ہیں، تو اسے "لیکی گٹ" کہتے ہیں۔

اثر
زہریلے مادے (Toxins) اور ادھ ہضم شدہ خوراک خون میں شامل ہو کر دماغ تک پہنچتی ہے اور وہاں "امیون رسپانس" پیدا کرتی ہے، جس سے Brain Fog (ذہنی دھند) اور توجہ کی کمی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

4. نیورو انفلامیشن (Neuro-inflammation)

جب پیٹ میں سوزش ہوتی ہے، تو جسم ایسے پروٹینز (Cytokines) خارج کرتا ہے جو خون کے ذریعے دماغ کے حفاظتی غلاف (Blood-Brain Barrier) کو عبور کر لیتے ہیں۔ یہ سوزش دماغی خلیات کو متاثر کرتی ہے، جس سے موڈ میں تبدیلی اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے۔

5. ایچ پی اے ایکسس (HPA Axis) کا عدم توازن
یہ جسم کا وہ نظام ہے جو تناؤ (Stress) کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب ہم پریشان ہوتے ہیں، تو دماغ پیٹ کو "لڑو یا بھاگو" (Fight or Flight) کا سگنل دیتا ہے۔ اس دوران پیٹ کی طرف خون کی روانی کم ہو جاتی ہے اور ہاضمہ رک جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت طویل ہو جائے، تو پیٹ کے پٹھے مستقل کھچاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، جو IBS کی بنیادی وجہ ہے۔

خلاصہ
یہ وجوہات ثابت کرتی ہیں کہ پیٹ کی خرابی صرف بدہضمی نہیں بلکہ اعصابی نظام کا ایک بڑا بگاڑ ہے جسے ہومیوپیتھک ادویات (جو کہ اعصاب پر اثر کرتی ہیں) کے ذریعے بہت مؤثر طریقے سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

جب یہ رابطہ ٹوٹتا ہے تو درج ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں

جسمانی: آئی بی ایس (IBS)، دائمی قبض، پیٹ میں مروڑ، اور غذا کے بعد شدید سستی۔

ذہنی: اینگزائٹی (بے چینی)، ڈپریشن، ذہنی دھند (Brain Fog)، اور توجہ کی کمی۔

3. ہومیوپیتھک علاج

ہومیوپیتھی اس تعلق کو بحال کرنے کے لیے مریض کی ذہنی اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھتی ہے۔

Nux Vomica
ذہنی کام کی زیادتی اور بدہضمی کے لیے۔

Argentum Nitricum
امتحانی خوف یا گھبراہٹ سے پیٹ خراب ہونا۔

Lycopodium
گیس اور خود اعتمادی کی کمی۔

Anacardium
جب کھانے سے ذہنی تناؤ اور معدے کے درد میں سکون ملے۔

Ignatia
شدید صدمے یا جذباتی دکھ کے بعد پیٹ کی خرابی۔

Arsenicum Album
بے چینی، موت کا خوف اور پیٹ میں جلن۔

Pulsatilla
چکنائی سے بیماری اور مزاج میں نرمی۔

Carbo Veg
پیٹ کے اوپری حصے میں ہوا کا دباؤ۔

Gelsemium
گھبراہٹ سے اسہال (Diarrhea) لگ جانا۔

Natrum Mur
تنہائی پسندی اور پرانے غم کے ساتھ قبض۔

Hydrastis Can Q
معدے کی جھلیوں کی سوزش دور کرنے کے لیے۔

Passiflora Inc Q
ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہونے والی بدہضمی اور بے خوابی۔

Carduus Marianus Q
جگر کی اصلاح اور ڈپریشن کے لیے۔

Damiana Q
اعصابی تھکن اور ہاضمے کی کمزوری۔

Avena Sativa Q
دماغی ٹانک جو ہاضمے کو تقویت دیتا ہے۔

Kali Phos 6x
اعصابی کمزوری اور ذہنی تھکن کا بہترین نمک۔

Mag Phos 6x
پیٹ کے مروڑ اور اعصابی دردوں کے لیے۔

Nat Phos6x
تیزابیت اور معدے کی کھٹاس کو ختم کرنے کے لیے۔

Ferrum Phos 6x
آنتوں کی سوزش اور خون کی کمی کے لیے۔

Calc Phos 6x
ہاضمے اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے۔

طرزِ زندگی کی اہمیت
سائنسی تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ صرف ادویات کافی نہیں، بلکہ پروبائیوٹکس (دہی)، فائبر والی غذا، اور روزانہ 20 منٹ کی ورزش ویگس نرو کو متحرک کر کے پیٹ اور دماغ کے تعلق کو دوبار بحال کر سکتی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر حسین
ترتیب و تدوین:ڈاکٹر انعام چغتائی

18/12/2025

ہمارے ہاں کچھ لوگ چاولوں کے بہت شوقین ہیں یا وہ لوگ جو چاولوں کو صحتمند طریقے سے پکانا یا کھانا چاہتے ہیں ان کے لئیے ایک یہ اچھی دیسی ترکیب ہے۔ ​آپ لوگ چاولوں کو صاف پانی میں بھگونے کے بعد اس میں چند قطرے لیموں کا رس اور تھوڑا سا سفید سرکہ شامل کر کے کم از کم 10 منٹ تک انہیں بھگو کر رکھیں ، لیکن اگر آپ کے پاس وقت ہو تو 20 سے 30 منٹ تک بھگونا زیادہ بہتر نتائج دیتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک کلو چاول میں ایک چمچ سرکہ یا آدھا لیموں کافی ہے۔ زیادہ ڈالنے سے ذائقہ کھٹا ہو سکتا ہے۔اس ترکیب کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ چاول قدرتی طور پر زمین سے آرسینک جذب کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، چاولوں کو پکانے سے پہلے اچھی طرح دھونا اور بھگو کر رکھنا آرسینک کی مقدار کو 40 سے 60 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ سرکہ یا لیموں کا تیزابی عنصر اس عمل میں مزید مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ان کے اندر لیموں یا سرکہ شامل کرنے سے چاول کا گلیسیمک انڈیکس (GI) کم ہو سکتا ہے۔​اصل فائدہ تب ہوتا ہے جب چاول پکنے کے بعد ٹھنڈے کیے جائیں۔ ٹھنڈا کرنے سے اسٹارچ کی ساخت بدل جاتی ہے جو شوگر کے مریضوں کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ یہ ​سرکہ اور لیموں قدرتی جراثیم کش (Antiseptic) خصوصیات رکھتے ہیں۔ یہ چاول کی سطح پر موجود مٹی، کیڑے مار ادویات کے بقایا جات اور ممکنہ فنگس کو صاف کرنے میں بہت مؤثر ہیں۔

آخر میں سب سے اہم بات باورچی خانے کے نقطہ نظر سے بھی یہ طریقہ بہترین ہے۔ سرکہ یا لیموں ڈالنے سے چاول ٹوٹتے نہیں اور پکنے کے بعد ایک دوسرے سے جڑتے نہیں ہیں اور اس سے چاول زیادہ سفید اور چمکدار نظر آتے ہیں۔

تحریر : سہیل افضل
ترتیب و تدوین: ڈاکٹر انعام چغتائی

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Inam Chughtai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.