RG.g

RG.g

Share

Mash Allah ���

18/03/2026

Lahore reels

14/11/2025

جمعہ کا دن ہفتے کے تمام دنوں کا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن میں بے شمار برکتیں رکھی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جمعہ دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے۔”

اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص رحمت نازل فرماتا ہے۔ انسان کی ایک نیکی کو کئی گنا بڑھایا جاتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

---

جمعہ کے دن کی خصوصی ساعت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جس میں مانگی ہوئی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ ساعت عصر کے بعد سے لے کر غروبِ آفتاب تک کے وقت میں زیادہ اُمید کی جاتی ہے۔ اسی لیے اس وقت میں خوب دعا کرنی چاہیے، اپنے لیے بھی اور پوری امت کے لیے بھی۔

---

غسل، خوشبو اور صفائی کی تاکید

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن غسل کرنے، صاف کپڑے پہننے، خوشبو لگانے اور مسجد جلدی جانے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جو شخص جمعہ کی نماز کے لیے بہترین تیاری کرتا ہے، ہر قدم پر اسے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملتا ہے۔

---

درودِ شریف کی کثرت

جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ پر درودِ پاک پڑھنے کی خاص تاکید ہے۔ حدیث میں آتا ہے:

“جمعہ کے دن مجھ پر درود پڑھنے کی کثرت کرو، کیونکہ اس دن تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔”

درود پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے، گناہ معاف ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمت بندے تک پہنچتی ہے۔

---

خطبہ اور جمعہ کی نماز کی اہمیت

جمعہ کی نماز مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اجتماع ہے جو اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے۔ خطبہ جمعہ میں انسان کو نصیحت، اصلاح اور روحانی غذا ملتی ہے۔ جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دیتا ہے، حدیث میں اس کے لیے سخت وعید آئی ہے کہ اس کے دل پر مہر لگ سکتی ہے۔

---

جمعہ کے دن سورت الکہف کی تلاوت

جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھتا ہے، اللہ اس کے لیے اگلے جمعہ تک نور (روشنی) بنا دیتا ہے۔”

یہ نور اس کی زندگی میں برکت، حفاظت اور ہدایت کا سبب بنتا ہے۔

---

اختتامیہ

مؤمن کے لیے چاہیے کہ جمعہ کے دن کو غنیمت سمجھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا خاص دن ہے۔ اس دن صفائی، عبادت، ذکر ِالٰہی، درودِ شریف، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں کا اہتمام کرے۔ جو شخص اس دن کو بہترین طریقے سے گزارتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہفتے بھر کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔🙏🙏❤️❤️

13/11/2025

---

🌊 حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ

حضرت نوح علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت آدم علیہ السلام سے نویں پشت میں جا کر ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اُس وقت رسول بنا کر بھیجا جب زمین پر شرک، بت پرستی اور گناہوں کا طوفان پھیل چکا تھا۔

اس زمانے کے لوگ اپنے ہاتھوں سے بت بناتے، انہیں خدا مان کر ان کے سامنے جھکتے اور قربانیاں پیش کرتے تھے۔ شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال دیا تھا کہ یہ بت ان کے بزرگوں کی یادگار ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے احترام کیا، مگر آہستہ آہستہ ان کی عبادت شروع کر دی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے حضرت نوحؑ کو نبی بنا کر بھیجا۔ آپؑ نے اپنی قوم کو نہایت محبت، نرمی اور صبر سے توحید کی دعوت دی۔
آپؑ فرماتے:

> "اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔"
(سورہ الاعراف: 59)

حضرت نوحؑ نے تقریباً 950 سال اپنی قوم کو دعوتِ حق دی — کبھی دن میں، کبھی رات میں، کبھی علانیہ اور کبھی چھپ کر۔ لیکن ان کی قوم نے ان کا مذاق اُڑایا، ان پر جھوٹا ہونے کے الزامات لگائے، اور انہیں دیوانہ کہا۔
انہوں نے کہا:

> "اے نوح! تم نے ہم سے بہت جھگڑا کیا، اب وہ عذاب لے آؤ جس کا تم وعدہ کرتے ہو!"
(سورہ ہود: 32)

حضرت نوحؑ نے اللہ سے فریاد کی:

> "اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا، لیکن میری دعوت نے انہیں اور زیادہ بھاگنے پر آمادہ کیا۔"
(سورہ نوح: 5–6)

آخرکار جب ان کی قوم ایمان نہ لائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو حکم دیا کہ وہ ایک کشتی (سفینہ) بنائیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> "اور ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ۔"
(سورہ ہود: 37)

حضرت نوحؑ نے اللہ کے حکم سے ایک عظیم کشتی بنائی۔ کفار اس وقت بھی ان پر ہنستے اور مذاق اڑاتے تھے۔ جب وہ کشتی مکمل ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مؤمنین، حضرت نوحؑ کا خاندان (سوائے ان کے نافرمان بیٹے کے) اور ہر جوڑے میں سے ایک نر و مادہ جانور کشتی میں سوار کر لو۔

پھر اللہ کا حکم آیا — زمین سے پانی ابلنے لگا، آسمان سے بارش برسنے لگی۔ پانی اس قدر بڑھا کہ ہر چیز ڈوب گئی۔
قرآن میں ہے:

> "اور زمین نے اپنے چشمے ابل دیے اور آسمان نے اپنے دہانے کھول دیے، اور پانی ایسے ملا کہ ایک طے شدہ کام پورا ہو گیا۔"
(سورہ القمر: 11–12)

وہ طوفان پوری زمین پر چھا گیا۔ حضرت نوحؑ کا نافرمان بیٹا جو پہاڑ کی طرف بھاگ گیا تھا، وہ بھی پانی میں ڈوب گیا۔ حضرت نوحؑ نے درد بھرے دل سے فرمایا:

> "اے میرے رب! میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے۔"
اللہ نے فرمایا:
"اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے اعمال صالح نہیں تھے۔"
(سورہ ہود: 45–46)

جب سب کافر ہلاک ہو گئے تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ پانی جذب کر لو، اور آسمان کو کہا کہ رک جا۔ پانی کم ہوا، کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> "کہہ دیا گیا: اے نوح! سلامتی کے ساتھ اترو، ہم سے برکتوں کے ساتھ۔"
(سورہ ہود: 48)

یوں حضرت نوحؑ اور ان کے ساتھی بچ گئے، اور انہی سے نئی نسلِ انسانی کا آغاز ہوا۔ اسی لیے آپؑ کو ابوالبشر ثانی یعنی "انسانیت کا دوسرا باپ" بھی کہا جاتا ہے۔

---

19/07/2025
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Nia
Lahore