AzadKashmeer
AzadKashmeer
40سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔
◕ کمرے کے درجہ حرارت کا پانی ہمیشہ آہستہ آہستہ پیئے۔
◕ ٹھنڈا یا برف کا پانی پینے سے پرہیز کریں!
◕ اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممالک "گرمی کی لہر" کا سامنا کر رہے ہیں۔
📌 * احتیاطیتدابیر* :
✦1. ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو بہت ٹھنڈا پانی نہ پئیں، کیونکہ ہماری چھوٹی خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔
✦2. جب باہر کی گرمی 38 ° C تک پہنچ جائے اور جب آپ گھر آئیں تو ٹھنڈا پانی نہ پئیں - صرف گرم پانی ہی آہستہ سے پیئے۔
اپنے ہاتھ یا پیروں کو فوری طور پر نہ دھوئیں،
اگر آپ تیز دھوپ سے آئیں۔ نہانے سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ انتظار کریں۔
✦3. کسی نے گرمی سے ٹھنڈا ہونا چاہا اور فوراً نہا لیا۔ شاور کے بعد، اس شخص کو سخت جبڑے کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا اور اسے فالج کا دورہ پڑا۔
📌 *براہ مہربانی نوٹ کریں* :
◇ گرمی کے مہینوں میں یا اگر آپ بہت تھکے ہوئے ہیں تو فوری طور پر بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رگیں یا خون کی نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں جو کہ فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔
شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر عباس حسین کاظمی نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ میسج حاصل کرنے والا ہر شخص دوسروں کو بھیج دے تو یقیناً کم از کم ایک جان تو بچائی جاسکتی ھے ...
ہم نے اپنے حصّے کا کام کر دیا ہے، امید ہے آپ بھی اپنے حصّے کا کام کریں گے۔ . شکریہ!
⬤ گرم ناریل کا پانی آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔
اپنی صحت کا خود خیال رکھیں۔
جس کنویں سے لوگ پانی پیتے ہیں وہ کبھی نہیں سوکھتا، جس سے پانی لینا چھوڑ دیا جائے وہ سوکھ جاتا ہے، یہ الله کا قانون ہے سوکھنے سے بچنا ہے، تو لوگوں کے لیے فائدہ مند بنیے، جہاں جتنا ممکن ہو لوگوں کا بھلا کیجیے۔
10/03/2026
کیا آپ بیٹھے بیٹھے پہاڑ جتنی نیکی کمانا چاہتے ہیں ؟
!! اگر ہاں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں
اس بچے کا نام زاہد ہے،زاہد کی عمر چھ یا سات سال تھی،سال 2005 میں اپنی بہن کے ساتھ بکریاں چرانے گیا تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے زاہد بہن سے الگ ہوا۔ بہن بکریوں کے پیچھے گئی ۔ زاہد گھر کا راستہ بھول گیا۔
رونا شروع کیا تو ایک شخص نے آکر پوچھا بیٹا کیا ہوا؟ زاہد نے کہا گھر نہیں مل رہا۔
اس شخص نے زاہد کو کہا بیٹا چلو تمہیں گھر پہنچاتا ہوں۔ زاہد خوشی خوشی ساتھ چلا۔
گھر کے بجائے وہ ظالم انسان ٹرین اسٹیشن آیا اور زاہد کو ٹرین میں ساتھ بٹھاکر کسی اور شہر لے گیا۔ زاہد کو ایک گھر میں لاکر بند کیا،اس گھر میں ایک خاتون بھی تھی۔
زاہد کا کہنا ہے کہ میں دو دنوں تک امی ابو کو یاد کرکے روتا رہا۔ ان سے منتیں کرتا رہا مجھے امی کے پاس لےچلو- مجھے جیسے ہی موقع ملا اس گھر سے فرار ہوگیا۔
فرار ہوکر شہر کی طرف آیا تو ایک صاحب کے ہاتھ لگا انہوں نے چند روز کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے کی۔گھر والے نہیں ملے ۔ پھر مجھے وہ ملتان کے ایک شیلٹر میں چھوڑ کر گیا۔
میں نے اپنی فائل نکال کر دیکھی تو اس میں ملتان کے شیلٹر میں داخلے کی تاریخ 22 نومبر 2005 ہے۔
زاہد کو ملتان سے سینکڑوں کلو میٹر دور ایک اور شہر کے شیلٹر بھیج دیا گیا تھا- جہاں اس نے بیس سال کاٹے۔ اور آج وہ چوبیس پچیس سال کا جوان ہے۔
زاہد کو اب بمشکل رہائش ملی ہے۔ ماہانہ چھ ہزار روپے کے عوض کام لیا جارہا ہے۔ اور رہائش دی ہے۔ اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کرسکتا۔
گھر کے تمام افراد کے نام یاد ہیں۔ اپنا شہر اور علاقہ معلوم نہیں ہے۔
زاہد کے والد کا نام بدر اور والدہ کا نام ثمینہ ہے۔
دو بھائی ہیں ایک کا نام عادل اور دوسرے کا نام زاہد ہے۔ چار بہنیں ہیں۔ سلمیٰ ، عظمی، ثناء اور بانو۔
اور اتنا یاد ہے کہ پھوپھی کا گھر نیچے تھا اور انکا گھر اوپر تھا۔ گھر کے قریب کوئی اسکول تھا۔ مزید کسی رشتے دار یا جگہے کا نام معلوم نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس پوسٹ کو پاکستان کے کوچے کوچے میں پھیلا دیں ۔ فیملی ممبرز کے نام یاد ہیں یہ اس کیس کے کامیاب ہونے کے لیے کافی ہے۔
ان شاءاللہ آپ کا ایک شئیر کسی اجڑے چمن کو پھر سے آباد کرسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829
7 mar 2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Lahore
4200
