Chaman syed

Chaman syed

Share

knowledge and information

06/07/2026

Chaddar ne maar mukaya

06/07/2026
05/07/2026

Ye hay mera Abbas as ❤🚩

02/07/2026

"مدینے سے چلی تو بتول تھی، شام پہنچ کر زینبؑ بن گئی"

یہ ویڈیو صبر کی اس ملکہ کے نام جو مدینے سے بتول بن کر نکلی، مکے میں جانشینِ رسولؐ بنی، کربلا میں حسنؑ بنی، شام غریباں میں عباسؑ بنی، اور 11 محرم کو علیؑ بن گئی.

6666 میل کا سفر ننگے پاؤں، ننگے سر.
72 بازاروں سے گزاری گئی.
144 گلیوں میں روکی گئی.
288 موڑوں پر ماری گئی.
1 سال بغیر چھت کے زندان میں.

پھر 15 رجب کو شام کی پہاڑی پر رو کر کہا: "میرے اللہ، اب زینب تھک گئی" 💔

یہ ہے کربلا کے بعد کی زینبؑ. جس نے قید میں بھی یزید کے دربار ہلا دیے. جس نے بتایا کہ چادر چھن سکتی ہے، کردار نہیں.

اس ویڈیو میں:
بیبی زینبؑ کا مدینے سے شام تک کا سفر
روضہ امام حسینؑ کے مناظر
دردناک نوحہ: "اب زینب تھک گئی"

Like | Share | Subscribe اگر بیبیؑ کی مظلومیت آپ کا دل چھو گئی ہو.

Muharram2026 Noha KarbalaToShaam ZainabBinteAli

29/06/2026

Amma fizza

28/06/2026

امام حسینؑ کوئی فرد نہیں، ایک نظریہ ہیں. کربلا کوئی مقام نہیں، ایک سوچ ہے.

یہ ویڈیو اس عظیم قربانی کو سلام ہے جس نے دنیا کو سکھایا کہ سر کٹ سکتا ہے، جھک نہیں سکتا. حسینؑ نے یزیدیت کے سامنے کھڑے ہو کر بتایا کہ حق کی قیمت جان سے زیادہ ہے.

کربلا آج بھی زندہ ہے. ہر اس دل میں جو ظلم کے خلاف بولتا ہے. ہر اس انسان میں جو باطل کے آگے نہیں جھکتا.

یہی حسینیت ہے. یہی کربلا کا پیغام ہے.

27/06/2026

Mera mazloom Hussain as

27/06/2026

ایسا سوال جس نے پوری مجلس کو خاموش کر دیا!

علامہ عبدالحسین امینیؒ اور حلب کے قاضی القضات کا حیرت انگیز مناظرہ

کبھی کبھی ایک سوال... ہزاروں دلائل پر بھاری پڑ جاتا ہے۔

یہ واقعہ ہے علامہ عبدالحسین امینیؒ، مصنفِ شہرۂ آفاق الغدیر کا۔

کہا جاتا ہے کہ علامہ امینیؒ علمی تحقیق کے لیے شام کے تاریخی شہر حلب تشریف لے گئے۔ وہاں دن رات کتب خانوں میں قدیم اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ اسی دوران ایک نہایت مہذب، پڑھے لکھے اور خوش اخلاق سنی تاجر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ چند ملاقاتوں میں یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔

ایک دن اس تاجر نے عرض کیا:

"علامہ صاحب! کل رات آپ میرے غریب خانے کی رونق بڑھائیں، یہ میرے لیے باعثِ سعادت ہوگا۔"

علامہ نے دعوت قبول کر لی...

لیکن جب اگلی رات وہ اس گھر میں داخل ہوئے تو منظر کچھ اور ہی تھا۔

یہ عام دعوت نہیں تھی...

گھر میں شہرِ حلب کے بڑے بڑے علماء، جامعہ کے پروفیسرز، وکلاء، تاجر، دانشور، اور سب سے بڑھ کر قاضی القضات موجود تھے۔

یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک علمی عدالت سج چکی ہو...

کھانا ختم ہوا، محفل خاموش ہوئی، اور سب کی نظریں علامہ امینیؒ پر جم گئیں۔

اچانک قاضی القضات نے خاموشی توڑی اور بلند آواز میں کہا:

"جناب امینی! آخر یہ شیعہ مذہب کس بنیاد پر قائم ہے؟ وہ کون سی دلیل ہے جس کی وجہ سے آپ لوگ اس عقیدے کو نہیں چھوڑتے؟"

مجلس میں مکمل سکوت چھا گیا...

ہر شخص علامہ کے جواب کا منتظر تھا۔

علامہ امینیؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

"اس سے پہلے کہ میں جواب دوں، صرف ایک سوال کا جواب دے دیجیے..."

پھر فرمایا:

«کیا آپ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث صحیح ہے؟»

««مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»»

"جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کیے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔"

قاضی نے فوراً جواب دیا:

"جی ہاں، یہ حدیث صحیح ہے، ہم بھی اسے قبول کرتے ہیں۔"

علامہ نے فرمایا:

"الحمدللہ... پھر آج کی پوری گفتگو کے لیے یہی ایک حدیث کافی ہے۔"

یہ سن کر پوری مجلس حیران رہ گئی...

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد علامہ نے دوسرا سوال کیا۔

"آپ کی نظر میں حضرت فاطمہ زہراؑ کا مقام کیا ہے؟"

قاضی نے فوراً جواب دیا:

"حضرت فاطمہؑ قرآن کی نص کے مطابق پاک و مطہر ہیں۔ ان کی عظمت پر کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔"

علامہ نے فرمایا:

"بہت خوب..."

پھر وہ تاریخی سوال کیا...

ایسا سوال جس نے پوری مجلس کی سانسیں روک دیں...

علامہ نے فرمایا:

"اگر حضرت فاطمہ زہراؑ اپنے زمانے کے حکمران سے ناراض ہو کر دنیا سے رخصت ہوئیں... تو پھر حقیقت کیا ہے؟"

کیا وہ حک

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Lahore