Dr Syed Tasaduq Mehdi

Dr Syed Tasaduq Mehdi

Share

Old Ravian
Nishtarian
Pediatric Surgeon
Hope Hospital near chungi #1, Multan.

28/07/2026
06/07/2026

بچوں کی گردن میں پیدائشی سوجن (Cystic Hygroma)

بعض بچوں کی پیدائش کے وقت یا زندگی کے ابتدائی مہینوں میں گردن پر ایک نرم، پانی سے بھری ہوئی سوجن نظر آتی ہے۔ اس کیفیت کو سسٹک ہائیگروما (Cystic Hygroma) یا لمفی رگوں کی پیدائشی خرابی (Lymphatic Malformation) کہا جاتا ہے۔ یہ کینسر نہیں ہوتا بلکہ پیدائشی بیماری ہے۔

یہ کیوں ہوتا ہے؟

حمل کے دوران لمفی (Lymphatic) نظام کی نشوونما مکمل نہ ہونے کی وجہ سے لمف کا پانی مخصوص جگہ پر جمع ہو جاتا ہے، جس سے گردن یا کبھی کبھار بغل، چہرے یا جسم کے دیگر حصوں میں سوجن بن جاتی ہے۔

علامات

گردن میں نرم اور بغیر درد کے سوجن

سوجن کا آہستہ آہستہ بڑا ہونا

انفیکشن ہونے پر درد، لالی اور بخار

اگر سوجن بہت بڑی ہو تو سانس لینے یا نگلنے میں دشواری

بعض بچوں میں آواز متاثر ہو سکتی ہے

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

ماہر ڈاکٹر معائنے کے بعد ضرورت کے مطابق درج ذیل ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں:

الٹراساؤنڈ (Ultrasound)

ایم آر آئی (MRI)

سی ٹی اسکین (CT Scan)

یہ ٹیسٹ سوجن کے سائز اور اس کے پھیلاؤ کا درست اندازہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔

علاج

ہر بچے کا علاج اس کی عمر، سوجن کے سائز اور مقام کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔

علاج میں شامل ہو سکتے ہیں:

سکلروتھراپی (Sclerotherapy): مخصوص دوا سوجن میں داخل کر کے اسے سکڑایا جاتا ہے۔

آپریشن (Surgery): اگر سوجن بڑی ہو، بار بار انفیکشن ہو یا سانس اور خوراک میں رکاوٹ بن رہی ہو تو آپریشن کیا جاتا ہے۔

بعض بچوں میں دونوں طریقوں کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

کیا یہ خطرناک بیماری ہے؟

زیادہ تر صورتوں میں یہ قابلِ علاج بیماری ہے، لیکن اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو سوجن بڑھ سکتی ہے، انفیکشن ہو سکتا ہے اور بعض اوقات سانس لینے میں بھی مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔

والدین کے لیے اہم پیغام

اگر آپ کے بچے کی گردن میں پیدائش سے موجود یا بعد میں بننے والی کوئی نرم سوجن ہو تو اسے معمولی گلٹی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ جلد از جلد کسی ماہر پیڈیاٹرک سرجن سے معائنہ کروائیں تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔

ڈاکٹر سید تصدق مہدی
پیڈیاٹرک سرجن (بچوں کے سرجن)

06/07/2026

بچوں کے سر میں پانی (Hydrocephalus) — والدین کے لیے ضروری معلومات

بعض بچوں میں پیدائش کے وقت یا بعد میں دماغ کے اندر موجود پانی (CSF) معمول سے زیادہ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو ہائیڈروسیفالس (Hydrocephalus) یا عام زبان میں سر میں پانی بھر جانا کہا جاتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ بچے کی دماغی نشوونما، بینائی، جسمانی حرکت اور ذہنی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

ہائیڈروسیفالس کیوں ہوتا ہے؟

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں:

پیدائشی دماغی بیماری (ساخت میں)

دماغ کے راستوں میں رکاوٹ

دماغی انفیکشن (میننجائٹس)

دماغ میں خون بہنا، خصوصاً قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں

دماغی رسولی (Brain Tumor)

علامات کیا ہیں؟

شیر خوار بچوں میں:

سر کا غیر معمولی تیزی سے بڑا ہونا

سر کے نرم حصے (Fontanelle) کا ابھر جانا

بار بار الٹی آنا

دودھ کم پینا

غنودگی یا سستی

آنکھوں کا نیچے کی طرف جھک جانا (Sun-setting eyes)

بڑے بچوں میں:

شدید یا بار بار سر درد

صبح کے وقت الٹی

نظر دھندلا جانا

چلنے میں دشواری

دورے پڑنا

پڑھائی یا یادداشت میں کمی

تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

ڈاکٹر بچے کا معائنہ کرنے کے بعد ضرورت کے مطابق:

الٹراساؤنڈ (چھوٹے بچوں میں)

سی ٹی اسکین (CT Scan)

ایم آر آئی (MRI)

تجویز کر سکتے ہیں۔

علاج کیا ہے؟

ہائیڈروسیفالس کا علاج زیادہ تر آپریشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

عام طریقے یہ ہیں:

VP Shunt لگانا، جس میں اضافی پانی ایک باریک نالی کے ذریعے پیٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

بعض مریضوں میں Endoscopic Third Ventriculostomy (ETV) نامی دوربین کے ذریعے آپریشن بھی کیا جا سکتا ہے۔

والدین کے لیے اہم پیغام

اگر آپ محسوس کریں کہ بچے کا سر غیر معمولی طور پر بڑھ رہا ہے، بار بار الٹی آ رہی ہے، بچہ سست رہتا ہے یا اس کی آنکھوں میں غیر معمولی تبدیلی ہے تو فوراً کسی ماہر اطفال یا پیڈیاٹرک سرجن/نیورو سرجن سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے اکثر بچے صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

یاد رکھیں: ہائیڈروسیفالس قابلِ علاج بیماری ہے، لیکن علاج میں تاخیر بچے کے دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ڈاکٹر سید تصدق مہدی
پیڈیاٹرک سرجن (بچوں کے سرجن)

15/06/2026

بچوں کے گلے میں گلٹی (گردن کی سوجن) — کب فکر کرنی چاہیے؟

بچوں کے گلے یا گردن میں گلٹی بن جانا والدین کے لیے تشویش کا باعث ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے اکثر گلٹیاں معمولی انفیکشن کی وجہ سے بنتی ہیں اور مناسب علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہیں، لیکن بعض صورتوں میں ان کی مکمل جانچ ضروری ہوتی ہے۔

گردن میں موجود لمف نوڈز (Lymph Nodes) جسم کے دفاعی نظام کا حصہ ہیں۔ جب بچے کو گلے، کان، ناک یا دانتوں کا انفیکشن ہوتا ہے تو یہ غدود سوج سکتے ہیں اور گلٹی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

کن علامات پر فوری توجہ ضروری ہے؟

گلٹی کا سائز مسلسل بڑھ رہا ہو۔

گلٹی دو سے چار ہفتوں میں کم نہ ہو۔

گلٹی سخت اور بے حرکت محسوس ہو۔

بچے کو مسلسل بخار آتا ہو۔

وزن کم ہو رہا ہو یا بھوک ختم ہو رہی ہو۔

گلٹی میں پیپ بن جائے یا جلد سرخ ہو جائے۔

سانس لینے یا نگلنے میں دشواری ہو۔

تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

مریض کی مکمل تاریخ اور معائنے کے بعد خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ اور بعض اوقات دیگر خصوصی ٹیسٹ یا بایوپسی کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

علاج

علاج کا انحصار وجہ پر ہوتا ہے۔ بعض بچوں میں صرف ادویات کافی ہوتی ہیں، جبکہ کچھ صورتوں میں جراحی (سرجری) کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خصوصاً جب گلٹی پیدائشی ہو، بار بار انفیکشن کا شکار ہو یا تشخیص کے لیے نمونہ درکار ہو۔

والدین کے لیے پیغام

گلے یا گردن میں ہر گلٹی خطرناک نہیں ہوتی، لیکن کسی بھی گلٹی کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ اگر گلٹی برقرار رہے، بڑھتی جائے یا مذکورہ علامات موجود ہوں تو اپنے بچے کا معائنہ کسی مستند پیڈیاٹرک سرجن سے ضرور کروائیں۔

ڈاکٹر سید تصدق مہدی
پیڈیاٹرک سرجن (بچوں کے سرجن)
بچوں کی پیدائشی بیماریوں، گردن کی گلٹیوں، ہرنیا، خصیوں کے مسائل اور دیگر جراحی امراض کے علاج کے لیے مشورہ حاصل کریں۔

11/06/2026

Basic Surgical Skills Workshop

29/05/2026

بچے کے خصیے کس عمر میں اپنی تھیلی میں آ جاتے ہیں؟

بچے کے خصیے (Te**es) حمل کے دوران پیٹ کے اندر بنتے ہیں اور پیدائش سے پہلے آہستہ آہستہ نیچے اتر کر اپنی تھیلی یعنی اسکر وٹم (Sc***um) میں آ جاتے ہیں۔ عام طور پر مکمل مدت کے بچے میں پیدائش کے وقت دونوں خصیے تھیلی میں موجود ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک یا دونوں خصیے پیدائش کے وقت نیچے نہیں آئے ہوتے، اس حالت کو “Undescended Testis” یا “خصیہ نہ اترنا” کہا جاتا ہے۔

زیادہ تر بچوں میں اگر خصیہ پیدائش کے وقت اوپر ہو تو وہ پہلے چند مہینوں میں خود بخود نیچے آ جاتا ہے۔ عموماً 6 ماہ کی عمر تک انتظار کیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں قدرتی طور پر خصیہ نیچے آنے کا امکان رہتا ہے۔ اگر 6 ماہ کے بعد بھی خصیہ اپنی تھیلی میں نہ آئے تو پھر بچے کو لازماً پیڈیاٹرک سرجن یا بچوں کے سرجن کو دکھانا چاہیے۔

خصیہ اپنی تھیلی میں ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ تھیلی کا درجہ حرارت جسم سے تھوڑا کم ہوتا ہے، جو مستقبل میں سپرم بننے اور نارمل تولیدی صلاحیت کے لیے ضروری ہے۔ اگر خصیہ زیادہ عرصہ پیٹ یا اوپر کی جگہ پر رہے تو اس سے بانجھ پن، خصیے کے کمزور ہونے، مڑ جانے (Torsion) یا مستقبل میں کینسر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

اس مسئلے کا علاج عموماً ایک چھوٹے آپریشن کے ذریعے کیا جاتا ہے جسے “Orchiopexy” کہتے ہیں۔ بہترین وقت یہ ہے کہ یہ آپریشن 6 ماہ سے 1 سال کی عمر کے درمیان کر دیا جائے تاکہ خصیہ محفوظ رہے اور اس کی نشوونما بہتر ہو سکے۔

والدین کو چاہیے کہ بچے کے نہلانے یا کپڑے تبدیل کرتے وقت دونوں خصیوں کی موجودگی پر توجہ دیں۔ اگر تھیلی خالی محسوس ہو، ایک خصیہ نظر نہ آئے یا کبھی اوپر کبھی نیچے محسوس ہو تو فوراً ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور علاج بچے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔
سید تصدق مہدی ( پیڈیاٹرک سرجن )

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Hope Hospital Near Chungi # 1
Multan