Islamic

Islamic

Share

"Welcome to our Islamic page. Here we share Islamic teachings, Hadith, Quranic verses, and reminders to help us all stay connected with our Deen.

Let's spread peace, love, and knowledge together.Join us on the path of Imaan and peace."

29/09/2026

اللّٰه تعالیٰ ہمارے تمام ساتھیوں کی تکلیفیں دور کرے، اور قرآن وسنت کی نشر واشاعت کی خدمت آخری دم تک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

*`اللّٰهم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علٰی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید`*

*`اللھم بارک علیٰ محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید`*

29/09/2026

`23 سال میں نازل ہونے والے قرآن کے نزول کی 23 حکمتیں۔`

**حکمتِ نزولِ قرآنِ کریم**

**تمہید:** شيخ القرآن نے متعدد آیات سے قرآن مجید کے نزول کی حکمت کو دو جملوں میں بیان کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: "والحق أن القصد الأصلي من نزول القرآن هو تهذيب النفوس البشرية ودمغ العقائد الباطلة و نفي الأعمال الفاسدة" [ الفوز الكبير في اصول التفسير : 14]

حکمتِ نزولِ قرآنِ کریم سے مراد وہ عظیم مقاصد اور فوائد ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو اپنے بندوں کی ہدایت، اصلاح، تزکیہ، تثبیت، انذار، بشارت اور زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کے لیے نازل فرمایا، اور قرآنِ کریم نے خود مختلف مقامات پر ان حکمتوں کی وضاحت فرمائی ہے۔

**1۔ ہدایت و رہنمائی:** قرآنِ کریم کی بنیادی حکمت انسانوں کو گمراہی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنا اور انہیں حق و ہدایت کا راستہ دکھانا ہے۔
**سورۃ البقرۃ: 2** — ﴿هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾
**سورۃ الإسراء: 9** — ﴿يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾
**سورۃ النحل: 102** — ﴿هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾
**سورۃ النمل: 1-2** — ﴿هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ﴾
**سورة الشورىٰ: 52** —﴿وَلَٰكِن جَعَلْنَٰهُ نُوراٗ نَّهْدِے بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاۖ﴾

**2۔ لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکالنا:** قرآنِ کریم کی ایک عظیم حکمت یہ ہے کہ وہ انسانوں کو کفر، شرک، جہالت اور گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان، توحید اور ہدایت کے نور میں داخل کرتا ہے۔
**سورۃ إبراہیم: 1** — ﴿لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾
**سورۃ الطلاق: 10-11** — ﴿لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾
امام قرطبی فرماتے ہیں: " لِتُخْرِجَ النَّاسَ أي بالكتاب، وهو القرآن، أي بدعائك إليه. مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّور أي من ظلمات الكفر الضلالة والجهل إلى نور الإيمان والعلم ... من البدعة إلى السنة، ومن الشك إلى اليقين" [الجامع لاحكام القرآن 338:9]

**3۔ اہلِ ایمان کو ثابت قدم کرنا:** قرآنِ کریم کے نزول کی ایک اہم حکمت اہلِ ایمان کو حق پر ثابت قدم رکھنا، ان کے ایمان کو مضبوط کرنا اور انہیں دنیا و آخرت میں استقامت عطا کرنا ہے۔
**سورۃ النحل: 102** — ﴿لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا﴾
**سورۃ إبراہیم: 27** — ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾

**4۔ انذار اور آخرت سے خبردار کرنا:** قرآنِ کریم کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور آخرت کے عذاب سے ڈراتا اور انہیں اپنے انجام سے خبردار کرتا ہے۔
**سورۃ إبراہیم: 44** — ﴿وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ﴾
**سورۃ الأنعام: 51** — ﴿وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ﴾
**سورۃ الأنبیاء: 45** — ﴿إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ﴾
**سورۃ الأنعام: 92** — ﴿وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا﴾

**5۔ تذکیر، نصیحت اور یاد دہانی:** قرآنِ کریم انسان کو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی ذمہ داری، آخرت اور اپنے انجام کی یاد دلاتا ہے تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوکر اللہ کی طرف رجوع کرے۔
**سورۃ بنی اسرائیل: 41** ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِے هَٰذَا اَ۬لْقُرْءَانِ لِيَذَّكَّرُواْ ﴾
**سورۃ النور: 1** — ﴿لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾
**سورۃ ص: 29** — ﴿وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
**سورۃ طٰہٰ: 3** — ﴿تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ﴾
**سورۃ الأنبیاء: 50** — ﴿وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ﴾
**سورۃ ق: 45** — ﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ﴾
**سورۃ الذاریات: 55** — ﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾

**6۔ قرآن میں تدبر اور غور و فکر پیدا کرنا:** قرآنِ کریم اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ انسان اس کی آیات میں غور و فکر کرے، ان کے معانی کو سمجھے اور ان سے نصیحت حاصل کرے۔
**سورۃ ص: 29** — ﴿لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ﴾
**سورۃ محمد** — ﴿ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ اَ۬لْقُرْءَانَ ﴾
**النساء: 81** — ﴿ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ اَ۬لْقُرْءَانَ ﴾

**7۔ واعظ و نصیحت:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے واعظ و نصیحت ہے جو انہیں حق کی طرف متوجہ کرکے ان کی اصلاح کرتی ہے۔
**سورۃ یونس: 57** — ﴿مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ﴾
**سورة النساء: 57**— ﴿ إِنَّ اَ۬للَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۖ ﴾
**سورة البقرة: 229** — ﴿ وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اَ۬للَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ اَ۬لْكِتَٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦۖ وَاتَّقُواْ اُ۬للَّهَۖ ﴾

**8۔ دلوں کی شفا اور روحانی اصلاح:** قرآنِ کریم دلوں کے امراض کے لیے شفا، اہلِ ایمان کے لیے رحمت اور انسان کے باطن کی اصلاح و پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
**سورۃ یونس: 57** — ﴿وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ﴾
**سورۃ الإسراء: 82** — ﴿مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ﴾
**سورۃ فصلت: 44** — ﴿هُدًى وَشِفَاءٌ﴾

**9۔ صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی:** قرآنِ کریم انسان کو اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی معرفت دیتا، اس کی پیروی کی دعوت دیتا اور دوسرے گمراہ راستوں سے بچاتا ہے۔
**سورۃ الأنعام: 126** — ﴿صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا﴾
**سورۃ الأنعام: 153** — ﴿هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ﴾

**10۔ فحشاء و منکر کا سدِّباب:** قرآنِ کریم انسان کو ایسی عبادت اور عملی زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اسے فحشاء و منکر سے روکے اور پاکیزگی اختیار کرنے میں مدد دے۔
**سورۃ العنکبوت: 45** — ﴿اتل ما سحي اليك من الكتب إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾

**11۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور احکام کو مرجع بنانا:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو واضح کرتا اور انسان کو اس بات کی رہنمائی دیتا ہے کہ فیصلہ اور حکم کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کو اصل مرجع مانا جائے۔
**سورۃ الأنعام: 114** — ﴿أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا﴾
**سورۃ الأنعام: 114** — ﴿وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا﴾

**12۔ حجت قائم کرنا اور اتمامِ حجت:** قرآنِ کریم حق کو واضح کرکے انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم کرتا ہے تاکہ منکرین کے لیے حق کے مقابلے میں کوئی عذر باقی نہ رہے۔
**سورۃ الأنعام: 157** — ﴿{ أَوۡ تَقُولُوا۟ لَوۡ أَنَّاۤ أُنزِلَ عَلَیۡنَا ٱلۡكِتَـٰبُ لَكُنَّاۤ أَهۡدَىٰ مِنۡهُمۡۚ فَقَدۡ جَاۤءَكُم بَیِّنَةࣱ مِّن رَّبِّكُمۡ وَهُدࣰى وَرَحۡمَةࣱۚ ﴾
**سورۃ الأنعام: 149** — ﴿فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ﴾

**13۔ سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق:** قرآنِ کریم سابقہ آسمانی کتابوں میں موجود اصل حق کی تصدیق کرتا اور ان کے بنیادی پیغام کی حقانیت کی گواہی دیتا ہے۔
**سورۃ الأنعام: 92** — ﴿مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ﴾

**14۔ قرآن کا اتباع:** قرآنِ کریم کے نزول کی حکمت یہ بھی ہے کہ لوگ اس کی ہدایت و احکام کو قبول کرکے اس کی پیروی کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔
**سورۃ الأنعام: 155** — ﴿فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا﴾

**15۔ اہلِ ایمان کے لیے بشارت:** قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو ہدایت کے ساتھ دنیا و آخرت کی کامیابی، رحمت اور اجرِ عظیم کی خوشخبری دیتا ہے۔
**سورۃ النمل: 2** — ﴿هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ﴾
**سورۃ النحل: 102** — ﴿هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾
**سورۃ الإسراء: 9** — ﴿وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا﴾

**16۔ مسلم دلوں کو متحد کرنا اور اجتماعیت قائم کرنا** قرآنِ کریم مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے، باہمی تفرقے سے بچنے اور ایمان کی بنیاد پر باہمی اخوت و اتحاد قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
**سورۃ آل عمران: 103** — ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾—﴿فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا﴾

**17۔ روحانی زندگی اور نور عطا کرن:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ایسی وحی ہے جو انسان کے دل و باطن کو نورِ ہدایت عطا کرتی اور اسے صراطِ مستقیم کی طرف لے جاتی ہے۔
**سورۃ الشوریٰ: 52** — ﴿أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا﴾
**سورۃ الشوریٰ: 52** — ﴿وَ{ وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحاٗ مِّنَ اَمْرِنَاۖ﴾

**18۔ میزانِ عدل اور حق و باطل کا معیار:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وہ معیار ہے جو انسان کو حق و باطل، عدل و ظلم اور درست و غلط کے درمیان امتیاز کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
**سورۃ الشوریٰ: 17** — ﴿أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ﴾

**19۔ حکمتِ بالغہ:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی بالغ حکمت اور ایسی کامل نصیحت پر مشتمل ہے جو انسان پر حق کو واضح کرنے اور اسے انجام سے خبردار کرنے کے لیے کافی ہے۔
**سورۃ القمر: 5** — ﴿حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ﴾

**20۔ اظہار حق کے لیے:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا گیا تاکہ حق واضح ہو اور اللہ تعالیٰ کا پیغام صحیح صورت میں لوگوں تک پہنچے۔
**سورۃ النحل: 102** — ﴿نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ﴾
**سورۃ الإسراء: 105** — ﴿وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ﴾

**21۔ احکام الٰہی/قوانین رب ذوالجلال کو واضح اور کھول کر بیان کرنا:** قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آیات کو واضح اور مفصل انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ انسان انہیں سمجھ کر نصیحت حاصل کرے اور ہدایت پائے۔
**سورۃ النور: 1** — ﴿آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾
**سورۃ الأنعام: 126** — ﴿قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ﴾

**22۔ حق و باطل اور مجرموں کے راستے میں امتیاز:** قرآنِ کریم حق و باطل کے راستوں کو واضح کرکے انسان کو مجرموں اور باطل پرستوں کے طریقے سے ممتاز راستۂ حق اختیار کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔
**سورۃ الأنعام: 55** — ﴿وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ﴾

**23۔ فتنوں سے بچاؤ کے لیے:** نبی علیہ السلام نے فتنوں سے آگاہ کیا تو ان سے نجات کا راستہ قرآن بتلایا
حدیث: الا انھا ستکون فتنة! قال علي قالت ما المخرج منها یارسول اللّٰه؟ قال علیہ السلام: کتاب الله ۔۔۔ الی الاخر حدیث (مکمل حدیث عظمت قرآن کے تحت نقل ہے)

29/09/2026

`سلسلہ 'قرآن سیکھو سکھاؤ'`
`عنوان:` *آدابِ فہمِ قرآن، حکمتِ نزول اور حقیقتِ شرک*
`درس بلسان:` *استاذ محترم ڈاکٹر مولانا محمد نواز صافی صاحب (تیسری نشست)*
`تحریر و ترتیب:` *میشال بنتِ اسرار*

*أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.*
*سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ. رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن* *لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي. رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ.*

`قرآن مجید سمجھنے کے بنیادی اصول اور آداب`

قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے سے پہلے شروع میں ہم بعض آداب اور اصول ذکر کرتے ہیں کیونکہ قرآن مجید سمجھنے کے لیے ان ابتدائی امور کو سمجھنا نہایت ضروری ہے اور ان سے غفلت برتنا درست نہیں۔ قرآن مجید کا ایک طالب علم جب ان آداب اور اصول کی رعایت کرتا ہے تو قرآن مجید کا سیکھنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ ہم نے ابتدا میں اختصاراً قرآن مجید کے چار آداب بیان کیے ہیں:

`پہلا ادب: نیت کی اصلاح`

سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ اپنی نیت کی اصلاح کریں۔ اگر اللہ نے قرآن مجید کے لیے بیٹھنے کی توفیق دی ہے تو نیتوں کی درستگی ضروری ہے اور ہر مرتبہ جب آپ درس کے لیے آئیں تو نیت کی اصلاح ضرور کریں۔ امام المحدثین سفیان ثوری رحمہ اللہ (المتوفی 161 ہجری) نیت کے بارے میں فرماتے ہیں: "مَا عَالَجْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ نِيَّتِي؛ لِأَنَّهَا تَتَقَلَّبُ عَلَيَّ" (میں نے اپنی نیت کی اصلاح سے زیادہ مشکل کسی چیز کو نہیں پایا، کیونکہ یہ مجھ پر بار بار بدلتی رہتی ہے)۔ شیطان انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور انسان کے نفس میں بھی خواہشات ہوتی ہیں جو نیت میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں۔ اسی لیے برابر اپنی نیت کی اصلاح کرتے رہنا چاہیے۔ نیت کی درستگی یہ ہو کہ یہ میرے رب کا کلام ہے، اگر میں قرآن سیکھوں گا تو میرا رب مجھ سے راضی ہوگا، میرے عقیدے اور عمل کی اصلاح ہوگی اور میری دنیا و آخرت سنور جائے گی۔

`دوسرا ادب: دل میں قرآن کی عظمت`

دوسرا ادب یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ کی کتاب کی عظمت ہو۔ اس کلام کا نازل کرنے والا بہت بڑی ذات ہے۔ انسان ایک کتاب کو محض اس کے مصنف کے نام کی وجہ سے عظیم سمجھ لیتا ہے، تو قرآن مجید تو اللہ رب العزت کی کتاب ہے؛ جب اللہ کی ذات اتنی عظیم ہے تو اس کا کلام کتنا عظیم ہوگا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "فَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ" (اللہ کے کلام کی فضیلت دیگر تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ مومن پر)۔ لہٰذا تمام علوم اور فنون اس کتاب کے تابع ہونے چاہئیں۔

`تیسرا ادب: درسِ قرآن کے آداب`

تیسرا ادب دورانِ درس کا ہے کہ انسان بروقت آئے۔ ہفتے میں جو دو دن قرآن کے لیے دیے ہیں، ان اوقات کو کسی اور کام میں صرف نہ کیا جائے۔ انسان یہ ارادہ کرے کہ آج میرے درسِ قرآن کا دن ہے، باقی مصروفیات دیگر ایام میں منتقل کر دے لیکن یہ وقت خالص قرآن کو دے۔ درس کے دوران نوٹس لکھے؛ قرآن کے نسخے (بیاض) پر مختصر بات اور اپنی کاپی یا رجسٹر میں تفصیلی بات لکھے۔ قرآن کے سننے کے علاوہ کہیں اور توجہ نہ ہو۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں ایسے ساکن بیٹھتے تھے: "كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ" (جیسا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں)۔ ایسا بظاہر نہ ہو کہ آپ درس میں بیٹھے ہیں اور توجہ موبائل چیٹ پر ہو یا گھر کے کاموں میں مشغول ہوں۔ یہ قرآن کا ادب نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار نہیں ہے تو بغیر عذر کے ٹیک لگا کر بیٹھنا بھی بے ادبی ہے۔
قرآن مجید میں جنات کا واقعہ آتا ہے (سورہ الاحقاف اور سورہ الجن میں) کہ انہوں نے اللہ کے پیغمبر کا بیان سنا تو قرآن نے 'سماع' (يَسْمَعُونَ) کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ فرمایا: "وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ". 'استماع' اسے کہتے ہیں کہ دیگر مشاغل کو ترک کر کے انسان صرف اللہ کی کتاب کی طرف پوری توجہ دے۔

`چوتھا ادب: قرآن کی تبلیغ`

یہاں جو کچھ بیان کیا جائے، آپ اسے آگے اوروں کو پڑھائیں اور سمجھائیں۔ جب آپ اوروں کو سکھائیں گے تو قرآن کو صحیح معنوں میں خود بھی سمجھیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" اور فرمایا: "بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً"۔ حجۃ الوداع کے خطبے میں آپ ﷺ نے فرمایا: "فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ"۔

`قرآن سیکھنے کی فضیلت`

صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے گھر سے نکلے اور ہم 'صفہ' میں تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟" (تم میں سے کون چاہتا ہے کہ ہر روز صبح سویرے بطحان یا عقیق کی منڈی جائے اور وہاں سے دو بڑے کوہان والی قیمتی اونٹنیاں حلال طریقے سے لے آئے؟) اس دور میں اونٹ مالداری کی بہت بڑی علامت ہوا کرتی تھی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے پیغمبر! ہم میں سے ہر کوئی یہ چاہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ" (تو تم میں سے کوئی صبح سویرے مسجد کیوں نہیں جاتا کہ اللہ کی کتاب کی دو آیات سیکھ لے یا پڑھ لے، یہ اس کے لیے دو قیمتی اونٹنیوں سے بہتر ہے...)۔
ایک آیت کی قدر و قیمت تو پوری دنیا سے بڑھ کر ہے، لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے دنیا کے مال کی مثال دی۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لَوْ يَعْلَمُ الْمُلُوكُ مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ السُّرُورِ لَجَالَدُونَا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ" (اگر بادشاہوں کو معلوم ہو جائے کہ قرآن کی وجہ سے ہمارے دلوں میں کتنا اطمینان ہے، تو وہ اسے ہم سے چھیننے کے لیے تلواریں نکال لیں)۔

`حکمتِ نزولِ قرآن`

مسلمانوں نے آج قرآن کو محض تلاوت، چوما چاٹی، برکت اور تعویذ کی کتاب بنا دیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:
"بِآيَاتِهِ تُرَا كَارِى جُزِ اِين نِيست... كِه اَز يَاسِينَ اُو آسَان بِمِيرِى"
(تیرا قرآن سے بس اتنا ہی تعلق رہ گیا ہے کہ مرتے وقت سورہ یٰسین پڑھ کر آسانی سے جان نکل جائے)۔

`قرآن خود اپنے نزول کا مقصد بیان کرتا ہے:`

`سورہ ص (آیت 29):` "كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ" (یہ برکت والی کتاب ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں)۔ امام قرطبی فرماتے ہیں: "وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ مَعْرِفَةِ مَعَانِي الْقُرْآنِ" (یہ آیت دلیل ہے کہ قرآن کا معنی سیکھنا واجب اور فرض ہے)۔

`سورہ نساء (آیت 82):` "أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ". امام قرطبی فرماتے ہیں: "عَابَ الْمُنَافِقِينَ بِالْإِعْرَاضِ عَنِ التَّدَبُّرِ... وَدَلَّتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى وُجُوبِ التَّدَبُّرِ فِي الْقُرْآنِ لِيُعْرَفَ مَعْنَاهُ" (اللہ نے منافقین کی تدبر سے اعراض پر برائی بیان کی ہے، اور یہ آیت تدبر کے واجب ہونے پر دلیل ہے)۔

`سورہ حشر کی آیت 21 کے تحت امام قرطبی لکھتے ہیں:` "وَبَيَّنَ أَنَّهُ لَا عُذْرَ فِي تَرْكِ التَّدَبُّرِ" (اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ قرآن میں تدبر چھوڑنے کا کوئی عذر نہیں)۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وَاللَّهِ مَا تَدَبُّرُهُ بِحِفْظِ حُرُوفِهِ وَإِضَاعَةِ حُدُودِهِ... أُنزِلَ الْقُرْآنُ لِيُعْمَلَ بِهِ فَاتَّخَذُوا تِلَاوَتَهُ عَمَلًا" (خدا کی قسم تدبر یہ نہیں کہ حروف یاد کر لیے جائیں اور احکام پامال کر دیے جائیں... قرآن اس لیے اترا تھا کہ اس پر عمل کیا جائے، لوگوں نے محض تلاوت ہی کو عمل بنا لیا)۔

`سورہ ابراہیم (آیت 1):` "كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ" (تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں)۔ تفسیر قرطبی کے مطابق اندھیروں سے مراد کفر، گمراہی، جہالت، بدعت اور شک کے اندھیرے ہیں، اور روشنی سے مراد ایمان، ہدایت، علم، سنت اور یقین کی روشنی ہے۔

`سورہ ابراہیم (آیت 52):` "هَٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ" (یہ قرآن لوگوں کے لیے تبلیغ کی کتاب ہے تاکہ اس کے ذریعے ڈرائے جائیں اور جان لیں کہ وہی ایک حاجت روا ہے)۔

`شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ 'الفوز الکبیر' میں فرماتے ہیں:` "وَالْحَقُّ أَنَّ الْقَصْدَ الْأَصْلِيَّ مِنْ نُزُولِ الْقُرْآنِ هُوَ تَهْذِيبُ النُّفُوسِ الْبَشَرِيَّةِ، وَدَمْغُ الْعَقَائِدِ الْبَاطِلَةِ، وَنَفْيُ الْأَعْمَالِ الْفَاسِدَةِ" (قرآن کے نزول کا اصل مقصد انسانی نفوس کی تہذیب، باطل عقائد کا رد اور فاسد اعمال کی نفی کرنا ہے)۔

`قرآن مجید کے مخاطبین`

قرآن کے مخاطبین بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں:

`منقادین:` اللہ کے فرمانبردار اور تابعدار (مومنین)۔

`غیر منقادین:` یہ چار قسم پر ہیں: مشرکین، یہود، نصاریٰ، اور منافقین۔

شاہ ولی اللہ 'الفوز الکبیر' میں 'علم المخاصمہ' (علم الجدل) کے تحت لکھتے ہیں: "فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَلَا تَحْسَبْ أَنَّ الْمُخَاصَمَةَ كَانَتْ مَعَ قَوْمٍ انْقَرَضُوا... كَلَّا، بَلْ مَا مِنْ بَلَاءٍ كَانَ فِيمَا سَبَقَ مِنَ الزَّمَانِ إِلَّا وَهُوَ مَوْجُودٌ الْيَوْمَ بِطَرِيقِ النَّمُوذَجِ" (یہ نہ سمجھو کہ قرآن صرف ان قوموں سے خطاب کر رہا ہے جو ماضی کا حصہ بن گئیں، بلکہ گزشتہ زمانے کی جو بھی گمراہی تھی، آج بھی نمونے کے طور پر وہ ہمارے معاشرے میں موجود ہے)۔ حدیث میں آتا ہے: "لَتَتْبَعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ"۔

`شرک کی حقیقت`

شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ (شاہ ولی اللہ کے بیٹے) نے سورہ البقرہ (آیت 221) کے تحت 'موضح القرآن' میں شرک کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے: "شرک یہ ہے کہ اللہ کی صفت کسی اور میں جانے"۔ یعنی اللہ کی کوئی صفت کسی غیر کو دے دینا شرک ہے، مثلاً کسی کے بارے میں یہ سمجھنا کہ اسے علم غیب ہے، یا ہمارا بھلا برا اس کے اختیار میں ہے، یا اس کی تعظیم پر خرچ کرنا اور اسے سجدہ کرنا۔ شرک کی یہی تعریف شاہ اسماعیل شہید نے 'تقویۃ الایمان' میں اور شاہ ولی اللہ نے 'الفوز الکبیر' میں کی ہے۔

`مشرکینِ مکہ کا عقیدہ اور اعمال`

مشرکینِ مکہ اللہ کو خوب مانتے تھے۔ وہ دو خداؤں کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ اللہ کو سب سے بڑا خدا مانتے تھے۔ ترمذی کی روایت کے مطابق، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے والد حصین نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ سات خداؤں کی پوجا کرتے ہیں (چھ زمین میں، ایک آسمان میں) لیکن جب آپ ﷺ نے پوچھا کہ سب سے بڑا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ جو اوپر آسمان میں ہے۔

`قرآن مجید نے مشرکین کے ان عقائد کو بار بار ذکر کیا ہے کہ وہ اللہ کو مانتے تھے:`

`سورہ المؤمنون (آیات 84-89):` جب آپ ان سے پوچھیں گے کہ زمین اور اس میں جو کچھ ہے کس کا ہے؟ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ کس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے؟ "سَيَقُولُونَ لِلَّهِ" (وہ فوراً کہیں گے کہ سب کچھ خاص اللہ کے لیے ہے)۔

`سورہ العنکبوت (آیات 61-63):` اگر آپ ان سے پوچھیں کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا اور سورج چاند کو کس نے مسخر کیا؟ بارش کون برساتا ہے؟ "لَيَقُولُنَّ اللَّهُ" (تو وہ ضرور بضرور کہیں گے کہ اللہ نے)۔

`سورہ یونس (آیت 31):` اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون نکالتا ہے؟ "فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ" (وہ فوراً کہیں گے کہ اللہ ہی یہ سب کچھ کرتا ہے)۔

جب وہ کسی مصیبت میں پھنستے تو خالص اللہ کو پکارتے تھے۔ سورہ العنکبوت (آیت 65) میں ہے: "فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" (جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کے لیے اپنی پکار کو خالص کر لیتے ہیں)۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانے کا سبب بھی یہی بنا جب طوفان میں ملاح نے کہا کہ یہاں لات اور منات کام نہیں آئیں گے، صرف اللہ کو پکارو۔ امام آلوسی بغدادی رحمہ اللہ 'روح المعانی' میں لکھتے ہیں کہ مشرکینِ مکہ طوفان اور سمندر میں صرف اللہ کو پکارتے تھے، جبکہ آج کا مشرک سمندر کے طوفان میں بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے، تو بتائیں ان دونوں میں ہدایت کے قریب کون ہے؟

`مشرکین کا حج، عبادات اور تلبیہ`

وہ بیت اللہ میں نمازیں پڑھتے (سورہ الانفال: 35)، حاجیوں کو پانی پلاتے اور مسجد حرام کی تعمیر کرتے تھے (سورہ التوبہ: 19)۔ عبد الکریم شہرستانی (المتوفی 548 ہجری) اپنی مشہور کتاب 'الملل والنحل' میں ذکر کرتے ہیں کہ یمن سے 'عک' قبیلہ حج کے لیے آتا تھا اور وہ برہنہ طواف کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جن کپڑوں میں گناہ کیے ہیں، ان میں مناسکِ حج ادا کرنا مناسب نہیں۔ وہ دو سیاہ فام لڑکوں کو آگے کر دیتے جو تیز آواز میں کہتے: "نَحْنُ غُرَابَا عُكّ" (ہم عک قبیلے کے دو کوے ہیں)۔ تو پیچھے چلنے والا قافلہ جواب دیتا: "عُكٌّ إِلَيْكَ عَانِيَة، عِبَادُكَ الْيَمَانِيَة" (عک قبیلہ تیرے سامنے برہنہ/عاجز ہے، اور تیرے بندے یمن سے آ رہے ہیں)۔

صحیح مسلم کی روایت (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) کے مطابق وہ تلبیہ پڑھتے تھے: "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ"۔ جب وہ "لَا شَرِيكَ لَكَ" کہتے تو رسول اللہ ﷺ انہیں روکتے اور فرماتے: "قَدْ، قَدْ" (بس اتنا کافی ہے، آگے شرکیہ کلمات نہ ملاؤ)۔ لیکن وہ بدبخت آگے شرکیہ کلمات ملاتے۔

اس کے علاوہ وہ عاشورہ (محرم) کا روزہ بھی رکھتے تھے۔ ان کے نام بھی اسلام سے قبل 'عبداللہ' اور 'عبدالرحمن' جیسے ہوا کرتے تھے۔

`خلاصہ اور آئندہ درس کا عنوان`

ان تمام عقائد اور اعمال کے باوجود قرآن نے انہیں مشرک کیوں کہا؟ ایمان والوں اور مشرکین کے درمیان بنیادی تنازعہ کس بات پر تھا؟ یہ ان شاء اللہ ہم کل کے درس میں قرآن کی آیات اور دلائل سے بیان کریں گے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

28/09/2026

*نیت کی درستی: اسلافِ امت کے اقوال*

بندہ کو لگتا ہے کہ اس نے عمل جس نیت سے شروع کر دیا وہی اسکا مدار ہوگا حالانکہ نیت کا معاملہ اس سے کئی سخت ہے اول ابتداء میں نیت کی تصحیح مشکل ہے کیونکہ بند کبھی کوئی کام کسی دوسرے کو خوش کرنے کے لیے شروع کرتا ہے، کبھی کسی کی ضد میں، کبھی اپنی نفس کے لیے شہرت و مقبولیت کے حصول کے لیے۔ *نیت کو خراب ہوتے دیر نہیں لگتی* لھٰذا اس کا مشاھدہ ہر لمحہ ضروری ہے، کہ یہ عمل میں کیوں کر رہا ہوں اس میں اللّٰه کی رضا کتنی مطلوب ہے کسی سے مقابلہ، برابر خوشنودی وغیرہ تو مطلب نہیں؟ اس حوالے سے اسلاف کے بہتر اقوال موجود ہیں کچھ ان میں سے درج ذیل ہیں:

**امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:*«نیت کا معاملہ بڑا سخت ہے۔»

• قال الإمام أحمد رحمه الله: (أمر النية شديد) .نیت کی درستی: اسلافِ امت کے اقوال

• وقال سفيان الثوري: "ما عالجت شيئا، أشد علي من نيتي لأنها تتقلب علي".
*سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا:** «میں نے کسی چیز کا علاج اپنی نیت سے زیادہ دشوار نہیں پایا، کیونکہ وہ مجھ پر بار بار پلٹتی اور بدلتی رہتی ہے۔»

• وقال يوسف بن إسباط: "تخليص النية من فسادها، أشد على العاملين من طول الاجتهاد".
*یوسف بن اسباط رحمہ اللہ نے فرمایا:** «نیت کو فساد سے پاک کرنا اہلِ عمل پر طویل ریاضت و مجاہدے سے بھی زیادہ بھاری ہے۔»

• وقال سهل بن عبد الله: "ليس على النفس شيء أشق من الإخلاص، ولأنه ليس لها فيه نصيب".
*سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا:** «نفس پر اخلاص سے زیادہ کٹھن کوئی چیز نہیں، کیونکہ اس میں نفس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔»
• وقال يوسف بن الحسين: (أعز شيء في الدنيا: الإخلاص، وكم أجتهد في إسقاط الرياء عن قلبي، وكأنه ينبت فيه على لون آخر، فيجب على من نصح نفسه أن يكون اهتمامه بتصحيح نيته، وتخليصها من الشوائب، فوق اهتمامه بكل شيء، لأن الأعمال بالنيات، ولكل امرئ ما نوى
*یوسف بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا:* «دنیا میں سب سے نایاب شے اخلاص ہے۔ میں اپنے دل سے ریا کو نکالنے کی کتنی ہی کوشش کرتا ہوں، مگر گویا وہ کسی اور رنگ میں پھر اُگ آتی ہے۔ پس جو شخص اپنا سچا خیرخواہ ہو، اس پر لازم ہے کہ نیت کی درستی اور اسے ہر آلائش سے پاک کرنے کو ہر چیز پر مقدم رکھے، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔»

اب یہی پیغام لکھتے میرے دل میں اس کے حوالے سے نیت کئی رنگ سامنے آئے، اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ عمل میں استقامت اور نیت میں استقامت دونوں یکساں کوشش سے ہی حاصل ہو سکتی ہے، اور یہی ہر عمل کو عبادت کے درجہ دے سکتا ہے۔

*تحریر از: طالب علم سید محب شاہ*

28/09/2026

🔊... _REMINDER 🌸_

📑 *نمازکےبعدمسنون اذکار*

🤲🏻یعنی وہ دعائیں جو ہمارے پیارے *رسولﷺ* نماز کے بعد لازماً پڑھا کرتے تھے آپ بھی ان دعاؤں کوخود پر لازم کریں،تاکہ ہماری نمازمسنون طریقہ پر مکمل ہو،اور ہم اپنے پیارے حبیب *رسول اللہ ﷺ* کی اتباع میں اپنےربِّ کی محبت ، رحمت اور مغفرت پا سکیں
*ان شاء اللہ تعالیٰ*

1⃣ *اَللهُ اَکْبَرُ*
اللّه سب سے بڑا ہے

(ایک بار)

2⃣ *اَسْتَغْفِرُ اللهَ۔*
میں اللّه سے بخشش طلب کرتا ہوں

(تین بار)

3⃣ *اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ۔*
اے اللّه تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے ۔ اے بزرگی اور عزت کے مالک! تیری ذات بڑی بابركت ہے

(ایک بار)

4⃣ *رَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِکَ۔*
اے میرے رب! اپنا ذکر،شکر اور بہترین عبادت کرنے میں میری مدد فرما

(ایک بار)

5⃣ *رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔*
اے میرے رب! مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔

(ایک بار)

6⃣ *لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُ*
اللّه کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، تمام بادشاہت اسی کے لئے ہے اور تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پہ قدرت رکھنےوالا ہے ۔ اے اللّه! نہیں کوئی روک سکتا جو آپ عطا کرنا چاہیں اور نہیں کوئی دے سکتا جو آپ نہ دینا چاہیں اور نہیں فائدہ دے سکتی کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی۔

(ایک بار)

7⃣ *اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ مَا اَخَّرْتُ وَ مَا اَسْرَرْتُ وَ مَا اَعْلَنْتُ وَ مَا اَسْرَفْتُ وَ مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ اَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ۔*
اے الله! میرے گناه بخش دے جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کیے، جو پوشیدہ کیے اور جنہیں ظاہراً کیا، اور جو میں حد سے گزرتا رہا، اور وه جن کے متعلق تو مجھ سے زیادہ باخبر ہے، تو ہی (جسے چاہے) آگے کرنے والا ہے اور (جسے چاہے) پیچھے رکھنے والا ہے۔ تیرے علاوه اور کوئی معبود نہیں۔

(ایک بار)

8⃣ *لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ لَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ۔*
اللّه کے سوا کوئی معبود نہی، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، تمام بادشاہت اسی کے لئے ہے اور تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پہ قدرت رکھنےوالا ہے۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق اللّه کی طرف سے ہے۔ اللّه کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے سوائے اس کے۔ تمام نعمتیں اور تمام فضل اسی کی طرف سے ہے ور تمام بہترین تعریف اسی کے لئے ہے۔ اللّه کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ہم اسی کے لئے دین کو خالص کرنے والے ہیں اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو۔

(ایک بار)

9⃣ *اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْیَا وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔*
اے اللّه! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں کے میں بےبسی کی عمر کی طرف لوٹا دیا جاؤں ۔ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے ۔

(ایک بار)

0⃣1⃣ *سُبْحَانَ اللهِ* اللّه پاک ہے
*اَلْحَمْدُ للهِ* تمام تعریف اللّه ہی کے لئے ہے
*اَللهُ اَکْبَرُ* اللّه سب سے بڑا ہے
(33 بار) (33 بار)
(34 بار)

1⃣1⃣ *اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْاَعْوَرِ الْکَذَّابِ۔*
اے اللّه میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے، اے اللّه میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ کے عذاب سے ،اے اللّه میں تیری پناہ چاہتا ہوں کھلے اور چھپے فتنوں سے. اے اللّه میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کانے (دجال) کے فتنے سے جو بہت بڑا جھوٹا ہوگا

(ایک بار)

2⃣1⃣ *آیت الکرسی* پڑھیں

3⃣1⃣ *معوّذات*
(سُوْرَةُ الْاِخْلَاصِ، سُوْرَةُ الْفَلَقِ اور سُوْرَةُ النَّاسِ) پڑھیں۔
(تین تین بار)

🌅 نماز فجر کے بعد مانگی جانے والی دُعا:
🌨 *اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّ رِزْقًا طَیِّبًا وَّ عَمَلًا مُّتَقَبَّلاً۔*
اے اللّه! میں آپ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق، قبولیت والے عمل کا سوال کرتا ہوں ۔
(ایک بار)

🌨 *لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔*
اللّه کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، تمام بادشاہت اسی کے لئے ہے اور تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پہ قدرت رکھنےوالا ہے

(10 بار صبح اور شام )

💝 *نمازکےبعدمسنون اذکار*

28/09/2026

اللہ وہ کچھ بھی دیکھ رہا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور پوشیدہ ہے!
وہ بند ہو جانے والا / روکا جانے والا دروازہ
وہ موقع جو آپ کے ہاتھ سے نکل گیا ،

وہ شکست و شکستگی جس سے آپ گزرے ،
وہ انکار جس نے آپ کے دل کو دکھ پہنچایا ، اور وہ آزمائش جس نے آپ کی روح کو بوجھل کر دیا…

ان میں سے کچھ بھی بے مقصد اور عبث نہیں تھا ، اور نہ ہی یہ سب اللہ کے علم اور حکمت سے باہر تھا!

بلکہ وہ پاک ذات تو (ان تمام مراحل میں) آپ کی حفاظت فرما رہی تھی ، آپ کی نگہداشت کر رہی تھی ، اور
آپ سے اس شر و برائی کو دور موڑ رہی تھی
جسے آپ نہیں جانتے تھے

چاہے آپ کو اس وقت اس بات کا ادراک و احساس
ہی نہ ہوا ہو!

پس مطمئن ہو جائیے…کیونکہ اللہ کا دیکھنا ہمارے دیکھنے جیسا نہیں ہے ، اور اس کا علم ہمارے علم جیسا نہیں!

ہم صرف موجودہ لمحے کو دیکھتے ہیں ، جبکہ وہ
سبحانہ و تعالیٰ انجام اور عواقب کو دیکھتا ہے۔

ہم تو محض اس چیز سے دل لگا بیٹھتے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں ، جبکہ وہ خوب جانتا ہے کہ
ہمارے دین ،
دنیا اور آخرت کے حق میں کیا
چیز سب سے زیادہ بہتر اور مفید ہے

آپ سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کیا گیا کہ
اللہ کی تقدیر کے ہر فیصلے کی حکمت کو سمجھیں

بلکہ آپ سے صرف یہ مطلوب ہے کہ آپ اس کی حکمت پر کامل بھروسہ رکھیں ، اس سے اچھا گمان رکھیں ،

اور اس بات پر پختہ یقین رکھیں کہ اس کا آپ کے لیے انتخاب ، آپ کے اپنے انتخاب سے کہیں زیادہ بہترین ہے۔

جو تکلیف اور درد آج آپ کو پہنچ رہا ہے ، وہ ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے؛ اور جس چیز کو اللہ نے آپ سے مؤخر کر دیا یا آپ سے دور موڑ دیا ، اس میں اس کی بے شمار حکمتیں اور رحمتیں ہیں
چاہے وہ فی الوقت آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے
وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
"اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہی تمہارے لیے بری ہو؛ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"
(سورۃ البقرۃ: 216)

پس اپنے تمام غموں اور اندیشوں کو اللہ کے حضور ڈال دیجیے ، اور ایک اطمینانِ قلب سے بھرپور دل کے ساتھ اپنے راستے پر آگے بڑھتے رہیے

کیونکہ جس ذات نے کل آپ کے معاملات کو سنبھالا اور سنوارا تھا ، وہی ذات آج بھی ان کی تدبیر کر
رہی ہے

اور وہ آپ کے لیے صرف وہی منتخب فرمائے گی جس میں خیر و بھلائی ہے—چاہے آپ کو اس کا ادراک کچھ عرصے بعد ہی کیوں نہ ہو۔!

زونی ۔

28/09/2026

دنیا سے آخرت تک — سورۃ المرسلات کا سفر

قسط نمبر 4

ایک حقیر قطرے سے انسان تک… پھر غرور کس بات کا؟

کبھی اپنے آپ کو غور سے دیکھا ہے؟

وہ انسان جو کبھی اپنی طاقت پر فخر کرتا ہے، کبھی اپنے مال پر، کبھی اپنی خوبصورتی پر، کبھی اپنی عقل پر اور کبھی اپنی شہرت پر…

وہی انسان جس کی ابتدا ایک ایسی حقیقت سے ہوئی جسے وہ خود بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔

پھر یہ غرور کہاں سے آگیا؟

ہم اپنی زندگی میں اتنی چیزیں حاصل کر لیتے ہیں کہ آہستہ آہستہ ہمیں اپنی اصل بھولنے لگتی ہے۔

گھر مل جاتا ہے تو لگتا ہے ہم محفوظ ہیں۔

دولت مل جاتی ہے تو لگتا ہے ہم طاقتور ہیں۔

علم مل جاتا ہے تو لگتا ہے ہم دوسروں سے بہتر ہیں۔

شہرت مل جاتی ہے تو لگتا ہے ہماری کوئی خاص حیثیت ہے۔

لیکن قرآن انسان کو ایک ایسی جگہ واپس لے جاتا ہے جہاں اس کا غرور خود بخود خاموش ہونے لگتا ہے:

اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ ۝ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ۝ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ ۝ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ ۝ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

ترجمہ:
“کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟ پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا، ایک مقررہ مدت تک۔ پھر ہم نے اندازہ مقرر کیا، اور ہم کیا ہی خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔”

یہ آیات انسان کو اس کی ابتدا یاد دلا رہی ہیں۔

اور شاید اس لیے کہ انسان جب اپنی ابتدا بھولتا ہے تو اپنی حقیقت بھی بھولنے لگتا ہے۔

ایک قطرہ… اور پھر ایک مکمل انسان

انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اسے ایک مکمل شخصیت نظر آتی ہے۔

آنکھیں۔

کان۔

دماغ۔

دل۔

ہاتھ۔

پاؤں۔

زبان۔

سوچنے کی صلاحیت۔

فیصلہ کرنے کی طاقت۔

احساسات۔

خواہشات۔

یادداشت۔

اور ایک ایسی عقل جو پوری دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

لیکن قرآن پوچھتا ہے:

یہ سب کہاں سے آیا؟

وہ انسان جو آج کائنات کے راز سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے، کبھی خود ایک نہایت ابتدائی حالت میں تھا۔

اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ شہرت۔

نہ عہدہ تھا، نہ کوئی شناخت۔

نہ اس نے اپنے لیے کچھ منتخب کیا تھا، نہ وہ اپنی پیدائش کا فیصلہ کر سکتا تھا۔

اسے وجود دیا گیا۔

اور یہی لفظ انسان کے اندر ایک بہت بڑی حقیقت پیدا کرتا ہے:

میں خود سے نہیں آیا۔

میرا وجود میری اپنی تخلیق نہیں۔

میری زندگی میری ملکیت نہیں۔

میری طاقت میری مستقل طاقت نہیں۔

میں ایک مخلوق ہوں۔

اور مخلوق جتنی بھی بڑی ہوجائے، خالق نہیں بن سکتی۔

انسان کی اصل بھول کیا ہے؟

انسان کی اصل بھول صرف یہ نہیں کہ وہ اللہ کو بھول جاتا ہے۔

کبھی کبھی انسان اللہ کو مانتا بھی ہے، لیکن اپنی زندگی ایسے گزارتا ہے جیسے اسے اپنے وجود کا کوئی جواب نہیں دینا۔

وہ نماز پڑھتا ہے مگر معاملات میں اللہ کو بھول جاتا ہے۔

وہ قرآن پڑھتا ہے مگر اپنی خواہش کے سامنے حق چھوڑ دیتا ہے۔

وہ اللہ کی نعمتیں مانتا ہے مگر نعمت دینے والے کو اپنی ترجیحات میں پیچھے کر دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسان کو بار بار اس کی ابتدا یاد دلائی جاتی ہے۔

جو اپنی ابتدا کو پہچان لے، وہ اپنی حیثیت بھی پہچان لیتا ہے۔

“ماءٍ مَّهِينٍ” — انسان کے غرور کے لیے ایک آئینہ

قرآن انسان کو اس کے آغاز کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

یہ تحقیر کے لیے نہیں بلکہ غرور توڑنے کے لیے ہے۔

انسان کو اپنی پیدائش پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔

بلکہ اسے اس بات پر حیران ہونا چاہیے کہ اللہ نے ایک معمولی آغاز سے اسے شعور، عقل، احساس اور اختیار عطا کیا۔

یہی تو قدرت ہے۔

انسان اپنی ابتدا نہیں بنا سکتا تھا، لیکن اللہ نے اسے ابتدا سے اٹھا کر شعور رکھنے والی مخلوق بنا دیا۔

پھر انسان اسی شعور کو اپنے خالق سے دوری کے لیے استعمال کرے تو اس سے بڑا تضاد کیا ہوگا؟

جس عقل سے وہ کائنات کو سمجھتا ہے، اسی عقل سے اسے اپنے خالق کو پہچاننا چاہیے۔

جس زبان سے وہ ہزاروں الفاظ بولتا ہے، اسی زبان سے اسے اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

جس دل میں محبت کی صلاحیت ہے، اسی دل میں اللہ کی یاد بھی ہونی چاہیے۔

ایک محفوظ جگہ — زندگی اتفاق نہیں

اللہ فرماتے ہیں:

فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ

“پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔”

انسان کی پیدائش میں ایک ترتیب ہے۔

ایک مدت ہے۔

ایک نظام ہے۔

ایک حفاظت ہے۔

ایک تقدیر ہے۔

یہ سب انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کی زندگی بے مقصد اور بے ترتیب حادثہ نہیں۔

ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ اتفاق سمجھ لیتے ہیں۔

لیکن قرآن بار بار انسان کو اللہ کی قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

تمہاری پیدائش۔

تمہاری نشوونما۔

تمہاری زندگی۔

تمہاری صلاحیتیں۔

تمہاری سانسیں۔

یہ سب تمہارے اختیار سے باہر کی حقیقتیں ہیں۔

تو پھر جو شخص اپنی پیدائش کا بھی مالک نہیں، وہ اپنی زندگی پر مکمل اختیار کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے؟

“ایک مقررہ مدت تک”

پھر فرمایا:

إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ

“ایک مقررہ مدت تک۔”

یہاں بات صرف پیدائش کی نہیں رہتی۔

یہ پوری زندگی کی طرف اشارہ بن جاتی ہے۔

انسان دنیا میں آتا ہے۔

ایک مدت گزارتا ہے۔

پھر چلا جاتا ہے۔

کوئی بچپن میں چلا جاتا ہے۔

کوئی جوانی میں۔

کوئی بڑھاپے میں۔

لیکن ہر انسان کے لیے ایک حقیقت مشترک ہے:

اس کی مہلت محدود ہے۔

ہم اپنی عمر کو سالوں میں دیکھتے ہیں۔

اللہ کے نظام میں ہماری زندگی ایک مقررہ مہلت ہے۔

اور یہی تصور زندگی کو سنجیدہ بناتا ہے۔

اگر وقت لامحدود ہوتا تو تاخیر کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔

اگر زندگی کبھی ختم نہ ہوتی تو توبہ کو مؤخر کرنا نقصان نہ ہوتا۔

لیکن جب مہلت محدود ہے تو ہر دن کی اپنی قیمت ہے۔

آج کا دن واپس نہیں آئے گا

ہم اکثر کہتے ہیں:

“کل سے بدل جاؤں گا۔”

“اگلے ہفتے سے نماز کی پابندی کروں گا۔”

“رمضان میں توبہ کروں گا۔”

“جب حالات بہتر ہوں گے تو قرآن پڑھوں گا۔”

“جب مصروفیات کم ہوں گی تو اللہ کے قریب ہوجاؤں گا۔”

لیکن قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے:

مہلت مقرر ہے۔

ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم اپنی زندگی کی آخری تاریخ خود طے کریں۔

اسی لیے نیکی کے لیے بہترین وقت “بعد میں” نہیں۔

بہترین وقت وہ ہے جو ابھی ہمارے پاس ہے۔

اللہ کی قدرت صرف انسان کو بنانے میں نہیں

پھر فرمایا:

فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ

“پھر ہم نے اندازہ مقرر کیا، اور ہم کیا ہی خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔”

یہاں انسان کو اپنی کمزوری کے ساتھ اللہ کی قدرت دکھائی جاتی ہے۔

انسان محدود ہے۔

اللہ کی قدرت محدود نہیں۔

انسان بھولتا ہے۔

اللہ نہیں بھولتا۔

انسان غلط اندازہ لگا سکتا ہے۔

اللہ کا فیصلہ کامل ہے۔

انسان مستقبل نہیں جانتا۔

اللہ ہر چیز کے علم کا مالک ہے۔

یہ فرق سمجھ لینا انسان کے اندر توکل اور عاجزی پیدا کرتا ہے۔

پھر انسان غرور کیوں کرتا ہے؟

یہ شاید اس قسط کا سب سے اہم سوال ہے۔

اگر تم خود اپنی پیدائش کے فیصلے میں شریک نہیں تھے…

اگر تم اپنی شکل خود منتخب نہیں کرسکے…

اگر تم اپنی عمر خود مقرر نہیں کرسکتے…

اگر تم اپنی موت کو روک نہیں سکتے…

اگر تم اپنی سانسوں کے نظام کو خود نہیں چلا رہے…

تو پھر غرور کس بات کا؟

انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ عطا ہے۔

عطا پر شکر کیا جاتا ہے، تکبر نہیں۔

اگر اللہ نے عقل دی ہے تو شکر کرو۔

اگر مال دیا ہے تو شکر کرو۔

اگر علم دیا ہے تو شکر کرو۔

اگر خوبصورتی دی ہے تو شکر کرو۔

اگر طاقت دی ہے تو شکر کرو۔

کیونکہ نعمت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ تمہارے پاس کتنی ہے۔

اصل امتحان یہ ہے کہ نعمت ملنے کے بعد تمہارا دل کیسا ہوگیا؟

علم بڑھا یا عاجزی؟

آج انسان نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔

ہم خلاء تک پہنچ گئے۔

سمندروں کی گہرائیوں تک پہنچ گئے۔

دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لمحوں میں رابطہ کر لیتے ہیں۔

لیکن علم بڑھنے کے ساتھ اگر عاجزی نہ بڑھے تو علم انسان کو اللہ کے قریب کرنے کے بجائے غرور کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

قرآن کا مطلوب انسان وہ نہیں جو صرف بہت کچھ جانتا ہو۔

قرآن کا مطلوب وہ انسان ہے جو جاننے کے بعد پہچانتا بھی ہو۔

اپنی حقیقت پہچانے۔

اپنی کمزوری پہچانے۔

اپنے رب کی قدرت پہچانے۔

اپنی ذمہ داری پہچانے۔

اور اپنے انجام کو پہچانے۔

زندگی صرف وجود نہیں، امانت ہے

اللہ نے ہمیں صرف پیدا نہیں کیا۔

ہمیں شعور دیا۔

اختیار دیا۔

حق اور باطل میں فرق سمجھنے کی صلاحیت دی۔

پھر ہمیں ایک محدود مدت دی۔

تو زندگی محض “زندہ رہنے” کا نام نہیں۔

زندگی ایک امانت ہے۔

ہم اپنے وقت کے امین ہیں۔

اپنی زبان کے امین ہیں۔

اپنی آنکھوں کے امین ہیں۔

اپنی صلاحیتوں کے امین ہیں۔

اپنے مال کے امین ہیں۔

اپنے رشتوں کے امین ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر اپنے ایمان کے امین ہیں۔

یہ احساس انسان کی زندگی بدل سکتا ہے۔

پھر وہ ہر کام سے پہلے سوچتا ہے:

“کیا میں اس امانت کا حق ادا کر رہا ہوں؟”

اگر ابتدا اللہ کے ہاتھ میں تھی تو انجام بھی اسی کے علم میں ہے

انسان اپنی پیدائش پر اختیار نہیں رکھتا۔

اور موت پر بھی مکمل اختیار نہیں رکھتا۔

پھر اس کے درمیان کی زندگی بھی مکمل طور پر اس کے اختیار میں نہیں۔

یہ احساس انسان کو بے بس کرنے کے لیے نہیں۔

بلکہ اسے اللہ پر اعتماد سکھانے کے لیے ہے۔

کوشش تمہاری ذمہ داری ہے۔

نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔

تمہیں نیکی کی طرف چلنا ہے۔

تمہیں غلطی کے بعد واپس آنا ہے۔

تمہیں اپنے نفس سے لڑنا ہے۔

تمہیں حق کا ساتھ دینا ہے۔

اور پھر اپنے رب پر بھروسہ کرنا ہے۔

اپنے جسم کو دیکھو… پھر اپنے رب کو یاد کرو

کبھی تنہائی میں چند لمحوں کے لیے اپنے ہاتھوں کو دیکھیں۔

یہ ہاتھ خود نہیں بنے۔

اپنی آنکھوں کو دیکھیں۔

یہ آنکھیں خود نہیں بنیں۔

اپنی سانس محسوس کریں۔

آپ ہر سانس خود نہیں چلا رہے۔

اپنے دل کی دھڑکن محسوس کریں۔

آپ ہر دھڑکن کا حکم خود نہیں دیتے۔

پھر اپنے آپ سے کہیں:

“میں خود اپنی تخلیق نہیں ہوں۔ مجھے پیدا کیا گیا ہے۔ مجھے مہلت دی گئی ہے۔ اور ایک دن مجھے واپس جانا ہے۔”

شاید یہی چند جملے انسان کے اندر وہ عاجزی پیدا کردیں جو لمبی تقریریں نہیں پیدا کرتیں۔

اصل مسئلہ غرور نہیں، بھول ہے

انسان جب اپنی اصل بھول جاتا ہے تو غرور پیدا ہوتا ہے۔

جب اپنی محدودیت بھولتا ہے تو تکبر پیدا ہوتا ہے۔

جب اپنی مہلت بھولتا ہے تو غفلت پیدا ہوتی ہے۔

جب اپنے انجام کو بھولتا ہے تو گناہ معمولی لگنے لگتا ہے۔

اور جب اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو دل میں ایک عجیب توازن پیدا ہوتا ہے:

نعمت ملے تو شکر۔

مشکل آئے تو صبر۔

غلطی ہو تو توبہ۔

کامیابی ملے تو عاجزی۔

مستقبل کی فکر ہو تو توکل۔

یہی وہ زندگی ہے جس میں انسان دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہیں بھولتا۔

ایک قطرے سے انسان… اور انسان سے کیا بننا ہے؟

یہ قسط ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔

یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ:

ہمیں کہاں جانا ہے؟

ایک معمولی آغاز سے اللہ نے ہمیں انسان بنایا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس انسان نے اپنی زندگی میں کیا انتخاب کیا؟

کیا وہ اپنے رب کو پہچان سکا؟

کیا وہ اپنی نعمتوں پر شکر گزار ہوا؟

کیا اس نے اپنی مہلت کو ضائع ہونے سے بچایا؟

کیا اس نے اپنی خواہش سے اوپر اللہ کی رضا کو رکھا؟

کیا وہ اس دنیا سے ایسا گیا کہ اس کا رب اس سے راضی ہو؟

اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنا بڑا بن گیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کے سامنے کتنا جھک گیا۔

آج کی اصلاح

آج اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے سے پہلے اپنی ابتدا یاد کریں۔

آج اپنی نعمتوں پر فخر کرنے سے پہلے نعمت دینے والے کو یاد کریں۔

آج وقت ضائع کرنے سے پہلے یاد کریں کہ یہ وقت دوبارہ نہیں ملے گا۔

آج کسی کمزور انسان کو حقیر سمجھنے سے پہلے یاد کریں کہ تمہاری اپنی ابتدا بھی کمزوری سے ہوئی تھی۔

اور آج اللہ سے دوری محسوس ہو تو یہ نہ سوچیں کہ واپسی مشکل ہے۔

جس رب نے تمہیں عدم سے وجود دیا، وہ تمہاری ٹوٹی ہوئی زندگی کو بھی سنوار سکتا ہے۔

بس شرط یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت پہچان کر اپنے رب کی طرف واپس آ جائے۔

تدبر کا سوال

اگر آپ کو ہر روز اپنی اصل اور اپنی محدود مہلت یاد رہے، تو آپ کے رویّے، فیصلے اور ترجیحات میں کیا بدل سکتا ہے؟

اگر یہ تحریر دل کو چھو گئی ہے تو پسند کریں، دوسروں تک پہنچائیں اور ہمارے صفحے سے جڑ جائیں۔
اور تبصرے میں ضرور بتائیں: کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی نعمت کو صرف “اپنا حق” سمجھ لیا ہے؟
اگلی قسط کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔

Category

Website

Address

Uop
Peshawar
GPA