Fazail Akmar
I will give U funny reels
.Funny contant
.Funny Text and Pics
Ta Ta ta
If U Are here Then What Will U Choose 1 Or 2
18/03/2026
ایک کروڑ پچیس لاکھ مسلمان اسے فالو کرتے ہیں — اور اس نے سورہ فاتحہ کا مذاق بنا دیا۔نہ کسی نے روکا، نہ کوئی ادارہ بولا، نہ کوئی قانون حرکت میں آیا — بس ایک “سوری” ویڈیو آئی اور معاملہ ختم۔لیکن جو سوال آج تک کسی نے نہیں پوچھا — وہ آج پوچھنا ضروری ہے۔
ایک سوال پوچھیں اپنے آپ سے — اگر کوئی غیر مسلم پاکستان آ کر سورہ فاتحہ کی آیت کا مذاق اڑاتا، تو اس ملک کا کیا ردعمل ہوتا؟ سڑکیں بند ہو جاتیں، ٹائر جلتے، ہر چینل بریکنگ نیوز چلاتا — لیکن جب یہی کام ایک کروڑ پچیس لاکھ فالوورز والے اپنے “ہیرو” نے کیا، تو ہم نے بس ہیش ٹیگ چلا کر موبائل رکھ دیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب پتہ چلتا ہے کہ ہمارا غصہ دین کے لیے نہیں، صرف دشمن کے لیے ہے۔
علی جٹ — وہ نام جسے پاکستان کے گھر گھر کے بچے جانتے ہیں۔ وہ چہرہ جو کروڑوں اسکرینوں پر روزانہ آتا ہے۔ اس شخص نے وہ آیتِ کریمہ — “مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن” — جو قیامت کے دن اللہ کی مطلق بادشاہت کا اعلان ہے، جسے مسلمان دن میں سترہ بار نماز میں پڑھتا ہے، جسے پڑھتے وقت صحابہؓ کے دل لرزتے تھے — اسے اپنی TikTok ویڈیو کا “پنچ لائن” بنا دیا۔ محض اس لیے کہ ویڈیو وائرل ہو۔ محض اس لیے کہ views آئیں۔ محض اس لیے کہ ایک اور دن فیم کی بھوک مٹے۔
لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
ویڈیو وائرل ہوئی — اور پھر وہ ہوا جو اس ملک میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ لاکھوں بچوں نے اسی انداز میں ویڈیوز بنانی شروع کر دیں۔ سات سال کے بچے، دس سال کے بچے — جن کے ہونٹوں پر ابھی قرآن کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے — وہ اس آیت کو اسی لہجے میں دہرانے لگے جس لہجے میں علی جٹ نے مذاق بنایا تھا۔ ان بچوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں — انہیں بس یہ معلوم ہے کہ اس سے views آتے ہیں، اس سے لوگ ہنستے ہیں، اس سے “فیمس” ہوا جاتا ہے۔ ایک شخص نے جو بیج بویا، اس کا زہر اب پوری نسل کی رگوں میں اتر رہا تھا۔
اور پھر آئی وہ “معافی” — جو ہر پاکستانی سیلیبریٹی کا آخری ہتھیار ہوتی ہے۔
علی جٹ نے ویڈیو پوسٹ کی — “مافی چاہتا ہوں اپنے اللہ سے اور اپنے بھائیوں سے۔” بس۔ اتنا کافی سمجھا اس نے۔ نہ کوئی تفصیل، نہ کوئی احساسِ ندامت، نہ یہ وعدہ کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا — بس ایک لائن، ایک ویڈیو، اور معاملہ ختم۔ لیکن کیا واقعی معاملہ ختم ہو جاتا ہے معافی سے؟ جب آگ لگ کر بجھ جائے تو راکھ باقی رہتی ہے۔ جو نقصان لاکھوں بچوں کے ذہنوں میں ہو چکا، جو تعلق اس آیت اور مذاق کے درمیان ان کے ذہن میں بن چکا — وہ ایک ویڈیو سے نہیں مٹتا۔ اور سب سے بڑی بات — اس معافی کے بعد بھی اس کے فالوورز کم نہیں ہوئے۔ کیونکہ اس ملک میں سیلیبریٹی کو گناہ معاف ہوتے ہیں — شرط یہ ہے کہ وہ فیمس ہو۔
لیکن ذرا ٹھہریں — یہ صرف علی جٹ کی کہانی نہیں ہے۔
علی جٹ اکیلا نہیں ہے۔ وہ اس زہریلے درخت کا ایک پھل ہے جو ہم سب نے مل کر لگایا ہے۔ ہر اس view نے جو آپ نے اسے دیا، ہر اس ویڈیو نے جو آپ نے اپنے بچے کو دکھائی، ہر اس لمحے نے جب آپ نے موبائل بچے کے ہاتھ میں دے کر اپنی جان چھڑائی — اسی سے یہ درخت پلا بڑھا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کا نظام اس وقت ایسی جگہ پہنچ چکا ہے جہاں views ہی عزت ہے، viral ہونا ہی کامیابی ہے، اور حدوں کو توڑنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ہر بے شرمی پر تالیاں ملیں، جب ہر حد پار کرنے پر فالوورز بڑھیں، جب کوئی ادارہ نہ روکے — تو آدمی ایک دن سورہ فاتحہ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اچانک نہیں ہوا — یہ اس سفر کا منطقی انجام تھا جو کب کا شروع ہو چکا تھا۔
PTA کہاں ہے؟ وہ ادارہ جو وی پی این کے خلاف بیانات دیتا ہے، بینڈ وِڈتھ گھٹاتا ہے، غیر ملکی ویب سائٹس بلاک کرتا ہے — وہ ادارہ ایک کروڑ فالوورز والے شخص کے خلاف خاموش ہے؟ علماء کہاں ہیں؟ حکومت کہاں ہے؟ کیا توہینِ قرآن صرف اس وقت جرم ہے جب کوئی غیر مسلم کرے؟ کیا مسلمان کا نام لے کر گناہ کرنے والے کو تحفظ ملتا ہے اس ملک میں؟ یہ سوال اس لیے ضروری ہے کیونکہ کل کوئی اور علی جٹ آئے گا — اور وہ اس سے بھی آگے جائے گا — اگر آج احتساب نہ ہوا۔
ایک کروڑ پچیس لاکھ پاکستانی اسے فالو کرتے ہیں۔ ایک کروڑ پچیس لاکھ۔ یہ تعداد کئی مسلم ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ اور یہ شخص انہیں کیا دے رہا ہے؟ کلامِ الٰہی کا مذاق۔ اور ہم پوچھتے ہیں کہ نئی نسل دین سے کیوں دور ہو رہی ہے — جواب اسکرین پر موجود ہے، بس دیکھنے کی ہمت چاہیے۔
Hi Gyz Aoa
My Name Is fazail
Bot Fazil Only Fazail I am New On Facebook I Amm The Burger Bacha
My 2 Best Freinds
Click here to claim your Sponsored Listing.
