Kyber pukhtoon khwa

Kyber pukhtoon khwa

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kyber pukhtoon khwa, Swat.

27/08/2026

سوات
د مينګورې ښار د ټرافيک د لوئي مسئلې آسان حل.

26/08/2026

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں مولانا فضل الرحمن کا سیاسی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اُس وقت ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے والے آج ایک میز پر بیٹھے ہیں۔

سیاست کا سبق یہی ہے: آج کے دشمن کل کے دوست بن سکتے ہیں۔

اس لیے تکبر نہیں، تدبر کی ضرورت ہے۔ سیاست میں کوئی دشمنی اور کوئی اتحاد ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔

— صلاح الدین

26/08/2026

⚡مصطفٰی کمال وفاقی وزیر صحت ہیں، ان کے نیچے اسلام آباد میں صرف 2 اسپتال ہیں، ایک پمز اور دوسرا پولی کلینک۔ سابق وزیراعظم کا ٹیسٹ کرنا تھا، مشین خراب۔ آج 15 ماوں سے بچے چھن گئے۔ 3 اسپتال ٹھیک سے نہیں چل پا رہے، ابھی اس بندے نے نئے صوبے بنوا کر وہاں سسٹم ٹھیک کرنا ہے‼️

25/08/2026

یہ پی ٹی وی ، چلے آپ کیلئے ہوگا ۔
سی ایم صاحب بھی بڑا شرارتی...See more

25/08/2026

یونیورسٹی میں فوجی نے گولی چلائی ٹرینڈ بن گیا اور فوجی گرفتار ہو گیا۔ معاملہ ختم۔لیکن کبھی اپنی سوسائٹی پر نظر ڈالی ہے کہ یہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ اب آپ ان درندے کو دیکھیں جنہوں نے ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ زیادتی کی۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ یہ سلسلہ تو بہت پہلے سے چل رہا ہے۔ کبھی کسی مدرسے میں کبھی یتیم خانے میں۔ لیکن آج تک اس پر کسی نے کوئی ٹھوس ایکشن نہیں لی۔ کنٹینٹ کریٹرز صرف ٹرینڈ فالو کر کے پیسے کماتے ہیں اور عام عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو اب ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ ابھی تک اس کا حل کیوں نہیں نکلا۔ میرے نزدیک اس کا صرف ایک ہی حل ہے سزائے موت۔ یہی سزا ان درندوں کو ایسا کام کرنے سے روک سکتی ہے۔ باقی کوئی حل نہیں۔ پہلے جب ہم ایسے واقعات سنتے تھے تو بہت غصہ آتا تھا۔ اب کوئی فکر ہی نہیں کہ چھوڑو، کسی اور کی بچی ہوگی۔ ظالمو اس کی روک تھام ضروری ہے ورنہ کل ہمارے اپنے بچوں کے ساتھ اللہ نہ کرے ایسا ہوسکتا ہے۔ خاندانی انسان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ لیکن اب درندے بڑھ گئے ہیں اور کل اس کے اثرات آپ کو اپنی گلی محلے میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ اگر ہم نے آج آواز نہیں اٹھائی تو کل ہم آواز اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ ایک پشتون معاشرے میں ایسے واقعات رونما ہونا افسوسناک ہے۔

24/08/2026

اسلام آباد یونیورسٹی کیمپس میں فوجی افسر کے وردی میں آنے والا شخص انڈین ایجنٹ ہے جس نے پاک فوج کو بدنام کرنے کیلئے گولیاں چلائی ہیں۔
با حوالہ کتاب شیطانی وسوسہ

24/08/2026

سوال یہ ھے کہ !!
ایک باوردی آن ڈیوٹی کرنل طلباء کے احتجاج میں کیوں گیا ؟؟ اگر کوئی مسئلہ تھا تو پولیس کو بلاتا۔
کیا فوجی آفیسر اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں ؟؟

24/08/2026

منظور پشتین بالکل درست کہتے ہیں کہ جب ریاستی ادارے خود کو عوام سے بالاتر سمجھنے لگیں تو قانون کی جگہ طاقت اور عوامی خدمت کی جگہ بادشاہت جنم لیتی ہے۔

آج اسلام آباد سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا یونیورسٹی کے طلبہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن احتجاج بھی نہیں کر سکتے؟
"آج منظور پشتین کی وہ بات ثابت ہوئی کہ جب وقت آئے گا تو پھر آپکے گریبان اور ہمارے ہاتھ ہوں گے۔"

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں طلباء نے ایک بدمعاش با وردی حاضر سروس کرنل کو گریبان سے پکڑ کر چپیڑیں کرائی ہیں۔ یہی ان کی اوقات ہے اور یہی زبان یہ سمجھتے ہیں۔

بدمعاش کرنل کی جرات دیکھیں کہ اس نے پستول نکال کر طلباء پر براہ راست فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن پستول جام ہو گئی، اگر چل جاتی تو اس نے وہیں پر طلباء کو مار دینا تھا اور اس کا بال بھی باکا نہیں ہونا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ایک فوجی افسر اپنی بیٹی کو یونیورسٹی لایا۔
اسی دوران یونیورسٹی کے طلبہ اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ مبینہ طور پر مذکورہ افسر نے طلبہ کے ساتھ بدتمیزی اور گالم گلوچ کی، اور صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب اس نے اپنی پستول سے مبینہ طور پر فائرنگ بھی کی۔
۔ سوال یہ ہے کہ ایک طالب علم اگر اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے گالی، دھمکی یا پستول کی زبان میں جواب کیوں دیا جائے؟
سرحدوں کی حفاظت کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، وردیاں اور اختیارات دیے جاتے ہیں۔ مگر وردی اور اختیار کا مقصد عوام کو دبانا نہیں بلکہ عوام کے جان و مال، عزت اور حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
لنک
https://www.facebook.com/share/v/1EpGdCDky8/

PTM NEWS.

24/08/2026

یہ ایک تاریخی تصویر ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس کا کام کیا ہے اور یہ کس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
رہنمائی فرمائیے!

24/08/2026

دا بد بختہ قاري عمر صادق، ولد عمر خان، پہ دردیال سوات کہ په مسجد مدرسه زینت القرآن کې ماشومانو ته د قرآن سبق وایي. پرون یې د یو 9 کلنے ماشومے سره جنسي زیاتی کړی دی. د ماشومے پلار غریب په سعودی عرب کہ مزدورئ کئ۔ او مور یہ بے وسہ او غریبه ده صرف ژاړي او د انصاف پہ طمع دہ . ریاست، واکداران، مشران، نران، د چایلڈ پروټیکشن والا او عام خلک دې د دې غریبې ماشومې له مور سره مرسته وکړي. وایي چې ماشومې ته یې دھمکیانے هم ورکړي دي.
د اسے بے ضمیرہ او بے غیرتو د لاسہ درانہ درانہ علما کارام خلق کنزی۔ او پہ ھیچا اعتبار نہ کوی۔ ٹول یو شان نہ دی ۔ ۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Swat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Swat