Amazing Urdu noval
Amazing noval
27/08/2026
اے پروردگار ہمیں معاف کر دے اور ہمیں ان ظالم بے حِس حکمرانوں سے بچا لے ہمیں ایمان دار اور زمہ دار حکمران عطا فرما۔
27/08/2026
Epi # 19
رات کی تاریخی میں وہ کمرے میں موجود بالکونی میں کھڑی ہوئی وہ دور سے نظر آتے اونچے اونچے پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی،، تیز رفتار میں ٹھنڈی چلتی ہوئی ہوا جب اُس کے بدن سے ٹکراتی تو پورے دن کی تھکاوٹ کا احساس کہیں ختم ہو جاتا۔۔۔ اس حویلی میں بسنے والے لوگ بھی روشانے کو ان پہاڑوں کی مانند لگتے،، سخت دل۔۔۔
کہنے کو تو شمشیر جتوئی اور فیروز جتوئی اس کے سگے نانا اور ماموں تھے مگر اُن دونوں نے ایک بار بھی اُسے رباب کی بیٹی سمجھ کر پیار سے گلے نہیں لگایا تھا
اس کو یہاں پر ضیغم کی بیوی کی حیثیت سے عزت دی جارہی تھی۔۔۔ نہ جانے وہ کبھی بھی اس کو رباب کی بیٹی کی حیثیت سے پیار کریں گے بھی کہ نہیں۔۔ یہ خلاہ روشانے کے دل میں موجود تھا۔۔۔ وہ اُداسی سے سوچتی ہوئی اپنے خالی کمرے کو دیکھ کر بالکونی سے کمرے میں آ کر بیڈ پر لیٹ گئی
آج رات کھانے کی ٹیبل پر کشمالا سب کے سامنے فیروز جتوئی سے کہہ چکی تھی کہ جب تک اُس کا بیٹا حویلی میں چند دن موجود ہے وہ کوئی اور کمرے میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈ لے۔۔روشانے نے جُھکا ہوا پلیٹ سے سر اٹھا کر سب کی طرف دیکھا تو کسی نے بھی کشمالا کی بات پر اعتراض نہیں کیا شاید وجہ یہ تھی کہ کشمالا کی طبیعت ناساز تھی اور وہ کافی حساس ہو رہی تھی۔۔ کھانے کے بعد سب کو قہوہ دے کر وہ ضیغم کے بیڈروم میں آ گئی تھی
بیگ سے اپنا موبائل نکالا تو اس پر زرین کی مسڈ کال شو ہو رہی تھی۔ ۔۔زرین سے بات کرکے اُسے ژالے کی طبعیت خرابی کا معلوم ہوا۔ ۔۔ بات کرنے کے بعد وہ اپنا موبائل واپس آف کرکے بیگ میں رکھ چکی تھی
روشانے نہیں چاہتی تھی اِس کے موبائل کو دیکھ کر دوبارہ کوئی فساد اٹھے۔۔۔ اُس کے کالج جانے پر بھی شمشیر جتوئی اور فیروز جتوئی نے کافی اعتراضات اٹھائے تھے
وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی کروٹیں بدل رہی تھی مگر اس کو نیند نہیں آرہی تھی،، اُسے بیڈ پر لیٹ کر ضیغم کی کمی کا احساس شدت سے ہوا۔۔۔ ایک ماہ میں ہی وہ اُس کی عادی ہو چکی تھی۔۔۔ ضیغم اِس وقت کمرے میں موجود نہیں تھا تو یہ احساس ہی اسے افسردہ کرنے لگا۔۔۔ روشانے دوبارہ جا کر بالکونی میں کھڑی ہوگئی۔۔۔ ابھی چند سیکنڈ ہی گزرے تھے تب اُس کی پشت پر کھڑے ہوئے وجود نے روشانے کو اپنے مضبوط بازوؤں میں گھیر لیا
"آپ یہاں کیوں آگئے ہیں"
وہ دیکھے بغیر ہی ضیغم کے لمس کو، اسکی خوشبو کو محسوس کر سکتی تھی۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کرتی ہوئی ضیغم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر بولی جو اُس کے پیٹ پر بندھے ہوئے تھے
"کیونکہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی مجھے بری طرح یاد کر رہا ہے"
ضیغم اپنے ہونٹ روشانے کے کان کے قریب لا کر سرگوشی کے انداز میں بولا۔۔۔ روشانے نے ضیغم کے بازو میں قید اُس کو مڑ کر دیکھا تو ضیغم نے آہستگی سے اُس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے
"خیر ایسی تو کوئی بات نہیں تھی، آپ کون سے دور ہیں جو میں آپ کو یاد کروں گی،، دو کمرے کو چھوڑ تیسرے کمرے میں ہی تو آپ موجود تھے"
روشانے اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی ضیغم سے بولی تو ضیغم اُس کے گرد سے اپنے بازوؤں کو ہٹا کر گھورتا ہوا روشانے کو دیکھنے لگا
"اگر ایسی بات ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں"
ضیغم روشانے کو بولتا ہوا واپس جانے کے لیے مڑا
"سائیں پلیز میری بات تو سنیں مذاق کر رہی تھی میں۔۔ آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ کتنا زیادہ مِس کر رہی تھی میں آپ کو"
وہ خفا ہو کر واپس جانے کے لیے مڑا تو روشانے جلدی سے اُس کے سامنے آتی ہوئی بولی اور جھٹ سے ضیغم کے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا تاکہ وہ ناراضگی بھی برقرار نہ رکھ سکے
"اب تو میں بھی یہاں تب رکو گا،، جب تم مجھے اچھی طرح احساس دلاؤ گی کہ تم مجھے واقعی مِس کر رہی تھی"
ضیغم اپنے ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ کو چھپاکر روشانے کو دیکھ کر بولا
وہ خود بھلا کونسا یہاں سے جانے والا تھا۔۔۔ شہر میں تو وہ آفس سے آنے کے بعد ہر وقت روشانے کے آس پاس موجود رہتا، آج تو اس نے صحیح سے اُس کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔ ضیغم کی بات سن کر روشانے اُس کے سینے سے سر اٹھا کر ضیغم کو گھورنے لگی
"آپ کو خود احساس ہونا چاہیے اپنی بیوی کی فیلنگز کا۔،۔۔۔ اب کیا بیوی خود احساس کرواتی ہوئی اچھی لگے گی"
روشانے نے بولتے ہوئے نازک سے ہاتھ کا مُکّا بنا کر ضیغم کے سینے پر مارا۔ ۔۔ اس کی ادا پر ضیغم دل کھول کر مسکرایا
وہ روشانے کو اپنے بازوؤں میں بھرتا ہوا بیڈ تک لایا۔ ۔۔۔ ہفتے بھر سے روشانے کے مڈ ٹرم چل رہے تھے جس کی وجہ سے وہ شرافت کا مظاہرہ کرتا ہوا، اُسے بالکل ڈسٹرب نہیں کر رہا تھا
"مامی کو کیا کہا آپ نے"
اس نے روشانے کو بیڈ پر بٹھایا تبھی روشانے بےساختہ ضیغم سے پوچھنے لگی
"وہ سو چکی ہیں ان کی فکر نہیں کرو"
ضیغم روشانے کو بتانے کے بعد اس پر جھُکتا ہوا اُس کے بال کھولنے لگا
"اگر وہ صبح جاگ گئی تو بہت ناراض ہو گیں"
ضیغم روشانے کے گلے میں پڑی ہوئی چین اتارنے لگا تو روشانے اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہوئی بولی
"مجھ سے ناراض ہو گیں وہ میرا مسئلہ ہے،، تم پریشان مت ہو۔۔۔ میں نے پورے ہفتے تمہیں ڈسٹرب نہیں کیا اب تم مجھے ڈسٹرب مت کرنا"
ضیغم روشانے کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھتا ہوا اسے ریلیکس کرتا بولا۔۔۔ وہ جانتا تھا اور روشانے اُس کی ماں سے ڈرتی ہے لیکن اِس وقت وہ کوئی دوسری بات نہیں سوچنا چاہتا تھا۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ روشانے کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چکا تھا،، جس پر روشانے نے اپنی آنکھیں بند کی، وہ ضیغم کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ ضیغم اُس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر روشانے کی سانسوں کی خوشبو سے اپنی سانسوں کو مہکا رہا تھا،
اب وہ روشانے کے ہونٹوں کو آزاد کرتا ہوا بے حد قریب سے روشانے کا چہرہ دیکھ رہا تھا، جو اس وقت اپنی آنکھیں بند کئے لیٹی تھی۔۔۔ ایک ماہ کے اندر وہ اس حد تک روشانے کا عادی ہو چکا تھا کہ اُس کی قُربت ضیغم کو اپنے اندر تک سکون کا احساس بخشتی تھی۔۔۔
اپنے چہرے پر ضیغم کی نظروں کی تپش سے روشانے نے آئستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔ وہ اس پر جُھکا ہوا غور سے روشانے کو دیکھ رہا تھا، روشانے اپنا ہاتھ ضیغم کے گال پر رکھا جسے تھام کر وہ روشانے کی ہتھیلی کو چومنے لگا
"ماں بہت زیادہ زیادتی کر جاتی ہیں تمہارے ساتھ، تم پلیز محسوس مت کیا کرو اُن کی باتوں کو،، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کا رویہ ٹھیک ہو جائے گا"
ضیغم روشابے کا ہاتھ تھام کر، اپنا دوسرا ہاتھ اُس کے گال پر رکھتا ہوا بولا
"میں آپ کے خاطر برداشت کر سکتی ہوں سائیں آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیے گا"
روشانے کے بولنے پر ضیغم نے پیار بھری مہر اس کے ماتھے پر سجائی۔ ۔۔۔
روشانے کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے گرد ہائل کرتا ہوا وہ اس کی گردن پر جُھک چکا تھا۔۔۔ اب وہ اپنی سانسوں کو روشانے کے جسم کی خوشبو سے مہکا رہا تھا۔۔۔ ہفتے بھر کی دوری کا احساس وہ اپنے اور اُس کے ملاپ سے زائل کرنے کے موڈ میں تھا
کبھی کبھی وہ اُس کی دیوانگی اور وارفتگی پر بوکھلا سی جاتی تھی جیسے اِس وقت وہ اُس کی گردن پر جُھکا ہوا اُس کے ہوش اُڑا رہا تھا۔۔۔ روشانے نے آہستہ سے اپنی نیم وا آنکھیں کھولیں اور کمرے کی چھت کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ اپنا دوسرا ہاتھ بھی ضیغم کے گرد حائل کر چکی تھی
بے ساختہ روشانے کی نظر سامنے بالکونی میں موجود کھڑکی پر پڑی حیرت اور خوف کے مارے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔ وہ تیمور خان ہی تھا جو کہ اس وقت بالکونی میں کھڑا ہوا کھڑکی سے اندر کا منظر غضب ناک نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ چند دن پہلے اُس کے فلیٹ میں بھی آیا تھا روشانے اس کو کیسے بھول گئی تھی اُس نے جلدی سے ضیغم کے گرد سے اپنے دونوں ہاتھ ہٹائے۔ ۔۔۔ روشانے کو لگا اس کا دل ابھی بند ہوجائے گا
"سائیں پلیز پیچھے ہٹیئے"
روشانے لرزتی ہوئی آواز میں کھڑکی کی طرف دیکھ کر ضیغم سے بولی
ضیغم روشانے کی بات کا نوٹس لیے بغیر اُس کے بالوں میں پھنسائے ہوئے اپنے ہاتھ سے روشانے کا منہ آئستگی سے بند کر چکا تھا۔۔۔ تیمور خان خونخواہ نظروں سے روشانے کو دیکھ رہا تھا جبکہ روشانے آہستہ آہستہ نفی میں سر ہلانے لگی
"سائیں پلیز"
روشانے ضیغم کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹا کر ایک بار پھر بولی۔۔۔
شرمندگی کے مارے وہ اپنے دونوں ہاتھ ضیغم کے سینے پر رکھ کر اُسے پیچھے ہٹانے لگی مگر ضیغم اس وقت کسی اور ہی موڈ میں تھا وہ روشانے کے دونوں ہاتھ اپنے سینے سے تکیے پر رکھتا ہوا اس کی دونوں کلائیاں تھام چکا تھا
روشانے کی بے بسی انتہا کو چھونے لگی۔۔۔ اُس کا دل چاہا کے وہ ضیغم کو تیمور خان کی یہاں موجودگی کے بارے میں اگاہ کردے، اگر وہ ایسا کرتی تو تیمور خان کا اِس حویلی سے آج رات زندہ بچ کر جانا نا ممکن ہوتا۔۔۔ اگر اُسے سردار اسماعیل خان اور زرین کا خیال نہ ہوتا تو وہ ایسا ہی کرتی
"سائیں"
جب ضیغم اس کی گردن سے تھوڑا نیچے جھکا تب روشانے کو رونا آنے لگا۔ ۔۔ اس نے اپنے ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کی تو تیمور خان کھڑکی کے شیشے پر اپنی انگلی سے کراس کا نشان بنانے لگا
"سنائی نہیں دے رہا ہے آپ کو، کب سے بول رہی ہوں کہ دور ہو جائیں"
روشانے اُسے پیچھے دھکیلتی ہوئی خود بھی بیڈ سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔۔ ۔
اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا تبھی وہ غصے میں چیخی تھی۔۔۔ ضیغم پہلے اُسے حیرت ذدہ ہوکر دیکھنے لگا پھر دوسرے ہی پل اُس کے چہرے کے تاثرات غُصے میں تبدیل ہوئے۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا کمرے سے باہر نکلنے لگا۔۔ ۔ روشانے کو معلوم تھا کہ تیمور بھی یہاں سے جا چکا ہے۔۔۔ وہ خود بھی بیڈ سے اُٹھ کر ضیغم کے پاس آئی
"سائیں میری بات سنیں پلیز،، میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو اس لیے میں نے ایسا کہا"
روشانے نہیں چاہتی تھی کہ ضیغم اُس سے ناراض ہو کر کمرے سے جائے اِس لیے وہ بات بناتی ہوئی ضیغم سے بولی
ابھی وہ کچھ اور بھی بولتی ضیغم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے پیچھے دھکا دیا جس سے روشانے دو قدم پیچھے ہوئی
"اب نہ میرے پیچھے آنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجھ سے بات کرنے کی ضرورت ہے"
وہ سخت لہجے میں روشانے سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
****
رات والا منظر بار بار یاد اس کی آنکھوں کے سامنے آکر اُسے پاگل کئے دے رہا تھا جب اُسے خبر ملی کہ ضیغم جتوئی روشانے کو لے کر آج ہی اپنی حویلی پہنچا ہے،، تو وہ رات کے پہر روشانے سے ملنے کے غرض سے دشمنوں کی حویلی پہنچا۔۔۔ بہت احتیاط کے ساتھ ضیغم جتوئی کے کمرے کی بالکونی تک پہنچا تو اُسے اندر کی صورتحال کا ہرگز اندازہ نہیں تھا مگر وہ منظر دیکھ کر اُس کی آنکھوں سے شرارے نکلنے لگے
جب تیمور خان وہاں سے واپس جانے کا ارادہ کیا تب تک روشانے اُسے دیکھ چکی تھی،، روشانے کے چہرے پر شرمندگی کے ساتھ خوف بھی موجود تھا۔۔۔ تیمور خان چاہتا تھا روشانے خود ضیغم کو اپنے آپ سے دور کرے اس لیے نہ چاہتے ہوئے،، خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ وہی کھڑا رہا۔۔۔ وہ شرمندہ تھی بے بس تھی اور اُسے دور ہٹا رہی تھی مگر وہ ضیغم جتوئی۔۔۔
تیمور خان کا خون کھولنے لگا اُس کے خاندان کی لڑکی جس کی پرورش اُس کے ماں باپ نے کی، جس کے ساتھ اس کا نکاح ہونے والا تھا اُس لڑکی کے ساتھ اُس کا دشمن۔۔۔ بے شک اب وہ روشانے کا شوہر تھا مگر تیمور خان کا دل چاہا وہ کمرے میں جاکر ضیغم جتوئی کے ٹکڑے کر دے۔۔۔ اُس سے پہلے کہ بات حد سے زیادہ آگے بڑھتی اور شرم کی دیوار قائم نہیں رہتی تیمور خان وہاں سے چلا آیا
رات بھر وہ شراب پیتا رہا تھا مگر اس کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا اب جبکہ وہ صبح بیدار ہوچکا تھا دماغ کو کئی طرح کی سوچ منتشر کئے دے رہی تھی،، شاید اُسے سب کچھ بھول جانا چاہیے۔۔۔ مطلب اپنے دشمنوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ روشانے کو وہ یہاں لا کر کیا کرے گا،، بے شک وہ اِس خاندان کی لڑکی تھی لیکن اب روشانے کا مقدر اُس کے دشمنوں کا ٹھکانا بن چکا تھا۔۔۔ اب اُسے ساری باتیں فراموش کرکے اپنی ذات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔۔۔ تیمور خان کے اندر مثبت سوچو نے جنم لیا تو اپنے کمرے میں گھٹن کا احساس بڑھنے لگا، وہ کمرے سے باہر نکل آیا
"کیا کر رہی ہیں ژالے بی بی"
ملازمہ کو ژالے کے کمرے سے باہر نکلتا ہوا دیکھ کر تیمور خان اُس سے پوچھنے لگا
"ابھی کھانا دے کر آئی ہوں مگر وہ لیٹی ہوئی آرام کر رہی ہیں"
ملازمہ نے تیمور خان کو بتایا تو تیمور خان نے ژالے کے کمرے کا رخ کیا
****
وہ ژالے کمرے میں آیا تو ژالے آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی
"محبت حاصل وصول کو سوچ سمجھ کر نہیں کی جاتی خان، وقت تو ژالے کے ہاتھ سے کب کا نکل گیا ہے۔۔۔ اس نے تمہیں تب سے اپنے دل میں بسایا ہے جب وہ خود اس جذبے سے واقف نہیں تھی"
ژالے کے الفاظ،، محبت کے اظہار کی صورت یاد کرکے تیمور خان کا دل بے اختیار دھڑکا
اور پھر میں نے روشانے کا نام لے کر، یہ تک نہیں سوچا کہ اس لڑکی کا دل کیسے ٹوٹا ہوگا۔۔۔ اگر میں اُس دن شراب کے نشے میں، میں اِس لڑکی کے ساتھ زیادتی کر بیٹھتا تو کھبی بھی سر اُٹھانے کے لائق نہیں رہتا۔۔۔ تیمور خان دل ہی دل میں اپنے اوپر ملامت کرتا ہوا بیڈ پر ژالے کے قریب آکر بیٹھا
روشانے پر نہ ہی وہ کوئی حق رکھتا تھا اور نہ ہی اُس کا اختیار تھا مگر اپنے سامنے لیٹے اِس وجود کے سارے حقوق اور اختیارات وہ اپنے نام کر چکا تھا جو کہ اس کی محبت کی دعویدار بھی تھی۔۔۔ تیمور خان گہری نظروں سے ژالے کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ اُسے لگا اگر آج ژالے اسے محبت سے اپنالے گی تو وہ ہمیشہ کے لئے ہر برے کام چھوڑ سکتا ہے۔۔۔ آج وہ نہ جانے خود کو کیوں بکھرا ہوا اور ٹوٹا ہوا محسوس کر رہا تھا
وہ ژالے کے چہرے کے قریب جھک کر اس کے ماتھے پر موجود زخم پر انگلی پھیرنے لگا۔۔۔ جب تیمور خان نے اپنے ہونٹ ژالے کے ماتھے پر رکھے، تو ایک سکوت سا سارے ماحول پر طاری ہوگیا۔۔۔ یہی عمل اُس نے دوبارہ دہرایا مگر اب کی بار اُس نے ژالے کے ماتھے کی بجائے اپنے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھے تھے
بخار کی تیزی کافی حد تک کم ہونے کے باوجود وہ کافی نقاہت محسوس کر رہی تھی اِس لیے اپنے ماتھے پر ہونٹوں کے لمس کے احساس سے کوشش کرنے کے باوجود آنکھیں نہیں کھول پائی لیکن جب یہی عمل اس کے ہونٹوں پر دہرایا گیا تو ژالے نے فوراً اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔ تیمور خان کو اپنے ہونٹوں پر جھکا ہوا دیکھ کر اُسے شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھ تیمور خان کے سینے پر رکھ کر اُسے پیچھے دھکیلتی ہوئی ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئی
"کیا کرنے لگے تھے خان تم میرے ساتھ۔۔۔ اُس دن مجھے لوٹنے کی کوشش تکمیل تک نہیں پہنچی تو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے یوں دن دہاڑے میرے کمرے کے اندر چلے آئے ہو۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کمرے میں آنے کی نکل جاؤ، میں کہتی ہوں نکل جاؤ یہاں سے"
ژالے غصّے میں بری طرح ہانپتی ہوئی بولی
"جو اپنی چیز ہو اُن کو لوٹا نہیں جاتا۔۔۔ بس سارے اختیارات حاصل ہونے چاہیے، جو کہ نکاح کے بعد مجھے حاصل ہو چکے ہیں، اس کمرے میں آنے کی یا تمہیں چھونے کی کسی سے اجازت درکار نہیں ہے مجھے"
تیمور خان نے بولتے ہوئے ژالے کو اپنی باہوں میں بھرنا چاہا تو وہ بدک کر پیچھے ہوئی اور فوراً بیڈ سے نیچے اتر گئی
"اپنی حد میں رہو خان،، میں تمہیں اپنے آپ کو چھونے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی۔۔۔ اگر تمہیں ایسی کوئی ضرورت درکار ہے تو بے شک تم اپنی خواہش کے حصول کے لیے کسی دوسری عورت کے پاس جا سکتے ہو"
ژالے تیمور خان کو دیکھ کر غُراتی ہوئی بولی
"سوچ لو اگر آج میں کہیں اور چلا گیا،، تو تم اپنے ساتھ ساتھ اُس کی زندگی بھی برباد کرو گی،، جس کے پاس میں تمہاری ٹھوکر کھا کر جاؤنگا۔۔۔ آج خان خود تمہارے پاس آیا ہے۔۔۔ میرے اِس بکھرے وجود کو سمیٹ لو،، آج مجھے اپنا بنا لو ژالے۔۔۔ خان تاعمر پھر تمہارا ہی رہے گا"
وہ تھکے ہوئے انداز میں بولا تو ژالے اسکو دیکھ کر طنزیہ مسکرائی
"اوو تو تم روشانے کی یادوں کو بھلانے کے لئے میرے وجود کا سہارا لے رہے ہو،، ایک بات میری یاد رکھنا،، تم روشانے کو کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔ نہ اس کو حاصل کر سکتے ہو اور نہ اب مجھے پا سکتے ہو نکل جاؤ میرے کمرے سے"
ژالے تڑخ کر بولی تو تیمور خان سے اپنا غصہ روکنا محال ہوگیا وہ ایک دم بیڈ سے اُٹھ کر ژالے کے پاس آیا اور سختی سے اُس کے دونوں بازو پکڑے
"جس سے محبت کا دعوا کیا جائے اُس کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہیں ہے۔۔۔ کہاں گئی اب وہ تمہاری محبت، جس کا تم نے مجھ سے میرے سامنے اعتراف کیا تھا"
تیمور خان ژالے کے دونوں بازوؤں کو جھنجھوڑتا ہوا پوچھنے لگا تو ژالے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ سجاتی ہوئی اُسے دیکھنے لگی
"کس محبت کی بات کر رہے ہو تم مجھ سے خان۔۔۔ اُس محبت کی جس کا گلا تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ کر مجھ سے میری ذات کا غرور چھیننا چاہا۔۔۔ وہ محبت تو اُسی دن مر چکی تھی جس دن تم نے مجھے طاقت کے نشے میں بری طرح روندھ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ اب میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے"
ژالے اپنے بازوؤں سے اس کے دونوں ہاتھوں جھٹکتی ہوئی بولی تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے مزید مشتعل ہوا
"میری محبت اپنے دل سے نکال کر اب کسے اپنے دل میں بسانے کا ارادہ رکھتی ہوں تم، اُس خرم کو۔۔۔ جبھی دوڑ دوڑ کر اُس کے پاس جاتی ہو۔۔۔ میں تمہیں کبھی بھی آزاد نہیں کروں گا چاہے تم کتنے ہی ہاتھ کر مار لو،، اُس خرم کو بھی دیکھ لوں گا اور اب روشانے کو بھی واپس اِس حویلی میں نہ لایا تو میرا نام تیمور خان نہیں"
اپنے آپ کو ٹھکرائے جانے پر وہ غُصے میں پاگل ہونے لگا جبھی وہ ژالے کو دھمکی دیتا ہوا اُس کے کمرے سے باہر نکل گیا
****
3.5k k bad next epi ajj he🙂
27/08/2026
وہ سفید پھولوں سی اک دعا
میرے ساتھ ساتھ رہی سدا
یہ اسی کا فیض ہے بارہا
میں بکھر بکھر کے سنور گیا
میرے گھر کی وائیٹ بیوٹی۔ ماشاء اللّٰہ
27/08/2026
Epi # 18
صبح 9 بجے کا وقت تھا جب تیمور خان شہر سے واپس لوٹ کر حویلی کی طرف آ رہا تھا، دو دن پہلے وہ ضیغم جتوئی کے فلیٹ میں گیا تھا روشانے کو اچھی طرح باور کروانے کہ وہ روشانے کی زندگی سے کبھی نہیں نکلنے والا نہ ہی روشانے اسے بھولنے کی غلط کرے۔۔۔ اندھیرے میں بھی وہ روشانے کی آنکھوں میں خوف محسوس کر سکتا تھا جو اُسے تسکین بخش رہا تھا وہ ساری زندگی روشانے کو یونہی ڈرا ہوا سہما ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔۔
بےشک اب وہ تیمور خان کی نہیں رہی تھی، نہ اُسے حاصل کرنا تیمور خان کا مقصد تھا مگر وہ اُس حویلی میں ضیغم جتوئی کی بیوی کی حیثیت سے رہے تیمور خان ایسا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔ نہ ہی وہ اپنے دشمن ضیغم جتوئی کو خوش اور آباد دیکھ سکتا تھا اس نے سوچ رکھا تھا کہ روشانے کو واپس اپنی حویلی لے کر آئے گا جہاں وہ پلی بڑھی ہے، روشانے کو واپس حویلی لا نا ہی اُس کا مقصد تھا
تیمور خان ڈرائیونگ کرتا ہوا یہی باتیں سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے علاقے کی حدود میں داخل ہو چکا تھا تھوڑے فاصلے پر ہی ژالے کی خالہ کا گھر موجود تھا اب تیمور خان کا دھیان روشانے سے ژالے کی طرف چلا گیا تھا
کئی دنوں سے وہ ژالے کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت اور غصہ دیکھ رہا تھا جو اب اُسے بری طرح چُبھ رہا تھا۔۔۔ جیسے وہ روشانے کی آنکھوں میں اپنے نام پر خوف دیکھنا پسند کرتا تھا۔۔ ویسے ہی وہ ژالے کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا پسند کرتا تھا جو کہ شروع سے دیکھتا آ رہا تھا اور وہ اسی کا عادی تھا
ژالے سے نکاح کرکے وہ اگر بہت زیادہ خوش نہیں تو، اسے کچھ خاص برا بھی نہیں لگ رہا تھا،، کیونکہ ژالے ایک اچھی لڑکی تھی بس روشانے کی طرح اُس سے ڈرتی نہیں تھی مگر وہ رخصتی کے بعد ژالے کو سیدھا کر لے گا تیمور خان سوچتا ہوا ڈرائیونگ کر رہا تھا تب اس کی نظر سامنے سے آتی ہوئی گاڑی پر پڑی جو اُسی کا ڈرائیور ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ پیچھے بڑی سی چادر سر پر اوڑھے ژالے موجود تھی تیمور خان نے اپنی گاڑی کو ژالے کی گاڑی کے آگے روک دیا جس کی وجہ سے ڈرائیور کو بھی گاڑی روکنا پڑی ڈرائیور کے گاڑی روکنے پر تیمور خان اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر تیزی سے نکلا
"یہ کیا حرکت ہے خان، ہاتھ چھوڑو میرا"
تیمور خان ژالے کی طرف کا دروازہ کھول کر ژالے کی کلائی کو پکڑتا ہوا اسے گاڑی سے باہر نکال چکا تھا جس پر ژالے اپنی کلائی چھڑواتی ہوئی تیمور خان سے بولی
"یہ گاڑی واپس حویلی کر جاؤ"
تیمور خان ڈرائیور کو حکم دیتا ہوا ژالے کی کوئی بھی بات سنے بغیر اُسے اپنی گاڑی میں بٹھا چکا تھا
"کس نے مشورہ دیا ہے تمہیں کہ ہر روز صبح صبح اپنی خالہ کے گھر جا کر حاضری لگاؤ"
وہ ژالے کے غُصے کی پرواہ کیے بغیر گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا ژالے سے بولا
"اس بات سے تمہیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے خان"
ژالے تیمور خان کی بات سن کر کافی بدتمیزی سے بولی جس پر تیمور خان اسے آنکھیں دکھانے لگا
"مجھے غرض ہے تبھی بول رہا ہوں اور یہ زبان کیسے چلا رہی ہوں تم مجھ سے، قابو میں کرو اسے ورنہ دو منٹ لگیں گدی سے کھینچنے میں"
تیمور خان ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ ساتھ غصے میں اُس کی طبیعت صاف کرتا ہوا بولا
"کیا غرض ہے تمہیں مجھ سے ذرا مجھے بھی تو معلوم ہو، تم مجھے میری خالہ کے گھر جانے پر نہ مجھ پر اعتراض کر سکتے ہو، نہ مجھ پر پابندی لگا سکتے ہو، بھلے میری زبان کو گدی سے کھینچ ڈالو مگر مجھے کبھی بھی اپنی تابع نہیں کر سکتے تم"
ژالے اس کے غُصّے کی پرواہ کیے بغیر دو بدو جواب دیتی ہوئی بولی جس پر تیمور خان نے بریک لگا کر گاڑی کو روکا تیمور خان کے غصے کی پروا کیے بغیر وہ اسے بے خوفی سے دیکھنے لگی
"اس گاڑی کے اندر بتا دو کہ تم سے کیا غرض ہے مجھے، اب تو نکاح بھی ہو چکا ہے تمہارے ساتھ میرا، غرض اور مفاد جب چاہے نکال سکتا ہوں بلکہ تم پر اعتراضات بھی اٹھا سکتا ہوں اور پابندی لگا سکتا ہوں۔۔۔ ویسے روز روز اپنی خالہ کے گھر کس لئے جاتی ہو اُس خرم کا دل بہلانے،، اسے گدھے کو بولو اپنی بیوی کو جاکر میکے سے لے آئے اور اُسی سے اپنا دل بہلائے"
ژالے کی آنکھوں میں اُس کے لیے نہ عزت تھی نہ محبت۔۔ اس لئے تیمور خان اپنے لفظوں کے تیر و نشتر چلاتا ہوا اُسے زخمی کرنے لگا
"مجھے تمہاری گھٹیا باتوں پر رتی برابر بھی افسوس نہیں ہے خان کیونکہ اب مجھے اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے تم کچھ بھی کر سکتے ہو کچھ بھی بول سکتے ہو۔۔۔ مگر میری ایک بات یاد رکھنا میں ژالے ہو،، روشانے نہیں۔۔۔ تم یہ آقا اور غلام والا کھیل میرے ساتھ مت کھیلنا اور ایک بات اور بھی اپنے دماغ میں بٹھالو ہم دونوں کا صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں،، اس لیے اپنے تمام تر غرض اور اپنی مفادات اپنے تک محدود رکھو"
اس نے روشانے کے ساتھ بھی یہی کیا تھا،، شمروز جتوئی کے گھر سے لاکر روشانے کی کردار پر سوال اٹھایا تھا۔۔۔ اب وہ خرم کو لے کر اُس کے کردار پر بات کر رہا تھا۔۔۔ اسی لئے ژالے نے اس کو منہ توڑ جواب دیا۔۔۔ روشانے کے نام پر وہ بری طرح تلملا گیا تھا اس لیے ژالے کی کالائی کو سختی سے پکڑتا ہوا بولا
"صرف نکاح ہوا ہے، رخصتی نہیں۔۔۔ رخصتی میں کتنی دیر لگتی ہے،، یہاں سے سیدھا حویلی پہنچ کر تمہارا ہاتھ پکڑتا ہوا،، اگر اپنے کمرے میں لے کر چلا جاؤ تو پھر کون روکے گا مجھے، تم یا پھر گھر والے۔۔۔ اگلی بار اگر تم مجھے اِس گھر کے قریب دکھی ناں تو ایسا ہی کروں گا میں، اُس رات میرا جانوروں والا روپ تمہیں ذرا پسند نہیں آیا ہوگا اس لئے اب تمہیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔۔۔ اچھی بیویوں کی طرح برتاؤ کرو یہی آگے جا کر تمہارے حق میں بہتر ہوگا"
وہ تیمور خان کو گھور رہی تھی تب تیمور خان آخری بات بولتا ہوا ژالے کا گال چھونے لگا۔۔۔ جس پر ژالے نے غُصے میں اُس کا ہاتھ دور جھٹکا۔۔۔ ہاتھ جھٹکنے کی دیر تھی تیمور خان چادر سمیت ژالے کے بالوں کو اپنے ہاتھ کی مٹھی میں بھر چکا تھا
"یہ آنکھیں نیچے کرو اپنی،، ورنہ ابھی یہی گاڑی میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گا میں"
وہ اپنے بالوں کو آزاد کروائے بغیر، تیمور خان کی دھمکی کی پرواہ بنا ابھی بھی بےخوفی سے اُسے دیکھ رہی تھی
"یعنی کہ خان کا حکم نہیں ماننا ہے تمہیں"
تیمور خان ژالے کے بالوں پر مزید گرفت سخت کرتا ہوا اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لاکر ژالے سے پوچھنے لگا۔۔۔
مگر وہ ابھی بھی اپنی نظریں نیچے کیے بنا ڈھیٹ بنی تیمور خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے سامنے ژالے کی نظریں جھکانا چاہتا تھا تبھی اس کے ہونٹوں پر جُھکنے لگا۔۔ جس پر ژالے نے اُسے پوری طاقت سے پیچھے دھکا دیا اور خود گاڑی کے شیشے سے جا لگی
اُسی وقت گاڑی کی فرنٹ شیشے پر فائر آکر لگا جس سے گاڑی کا شیشہ چکنا چور ہوا۔۔۔ ژالے کے منہ سے زور دار چیخ نکلی مگر تیمور خان کی نظر سامنے درخت پر تھی جس پر سے کوئی نیچے کودا اور بھاگنے لگا۔۔۔
تیمور خان ہاتھ میں ہتھیار لے کر برق رفتاری سے گاڑی سے باہر نکلا اور بھاگتے ہوئے اس آدمی کے پیچھے لپکا جو کہ چادر میں لپٹا ہوا تھا۔۔۔ تیمور خان نے بڑی سی گالی دیتے ہوئے اس آدمی پر فائر کھولا، جس نے اس کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔۔۔۔ وہ فائر اُس آدمی کی ٹانگ پر لگا اور وہ نیچے گر گیا
"خان"
اِس سے پہلے تیمور خان اُس آدمی تک پہنچتا ژالے کی آواز جس میں تکلیف کا عنصر شامل تھا،، تیمور خان پلٹنے پر مجبور ہوا
ژالے کا خیال آتے ہی وہ اُس آدمی کو چھوڑ کر اپنی گاڑی کی طرف بھاگا
"ژالے یہاں دیکھو میری طرف"
ژالے کی پیشانی پر خون دیکھ کر وہ بدحواس ہو چکا تھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھے بری طرح رو رہی تھی اس کی پیشانی سے نکلتا ہوا خون اس کے چہرے کو سرخ کر چکا تھا۔۔۔ اُس کا خون سے تر چہرا تیمور خان کو اندر تک ڈرا چکا تھا
"ژالے یہاں دیکھو میری طرف،، بالکل مت پریشان ہونا ہم ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں، تم آنکھیں مت بند کرنا پلیز"
شیشے کا ایک بڑا ٹکڑا ٹوٹ کر ژالے اس کے ماتھے پر لگا تھا۔۔۔ جو اسے بری طرح زخمی کر گیا تھا۔۔۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے تیمور خان بار بار ژالے کو دیکھ رہا تھا جہاں ژالے اپنی آنکھیں بند کرنے لگتی۔۔ تیمور خان اس کا ہاتھ زور ہلاتا ہوا یا اُسے آواز دے کر واپس ہوش کی دنیا میں لے آتا
ڈاکٹر کے پاس پہنچنے سے لے کر ٹانکے لگانے تک ژالے وقفے وقفے سے روتی رہی تھی اس سارے عرصے تیمور خان نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔۔۔ تاکہ ژالے کو احساس رہے کہ وہ اُس کے پاس موجود ہے۔۔۔ ژالے کو تکلیف میں دیکھ کر وہ خود بھی بے چین ہوگیا تھا۔۔۔ وہ اتنا خود غرض ہرگز نہیں تھا کہ اُسے کسی خاص غرض کے لیے بے چینی ہوتی۔۔۔ وہ اب اس کی بیوی تھی اُس سے رشتہ جڑ چکا تھا۔۔۔ اُس لیے اُس کا پریشان ہونا بنتا تھا۔۔
تیمور خان ڈاکٹر کے پاس سے ژالے کو واپس حویلی لے جاتے ہوئے ڈرائیونگ کے دوران بار بار ژالے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ نیم غنودگی میں گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگائی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے ماتھے پر زخم دیکھتے ہوئے اب تیمور خان کو غُصہ آنے لگا تھا۔۔۔ یہ زلیل حرکت یقیناً فیروز جتوئی کی تھی جو اُس نے اپنے کسی آدمی سے کروائی تھی۔۔۔ اب وہ فیروز جتوئی کو چھوڑنے والا نہیں تھا اور نہ ہی اس کے بیٹے ضیغم جتوئی کو
****
"کیا سوچ رہی ہو اترو گاڑی سے"
ضیغم روشانے کو دیکھتا ہوا بولا تو وہ پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی
آج وہ پورے ایک ماہ بعد اس حویلی میں قدم رکھ رہی تھی کل رات کال پر کشمالا کی طبیعت خرابی کا سن کر ضیغم کا دوپہر تک یہاں آنے کا پروگرام بن گیا تھا وہ روشانے کو اکیلا چھوڑ کر نہیں آ سکتا اِس لئے اپنے ساتھ لا آیا
"سائیں مامی مجھے دیکھ کر بہت خفا ہوگیں ان کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے"
روشانے افسوس کرتی ہوئی ضیغم کو کہنے لگی وہ سارے راستے یونہی خاموش سفر کرتی ہوئی آئی تھی
"معلوم ہے، تمہیں دیکھ کر ماں کا بخار دُگنا ہو جائے گا لیکن تمہیں چھوڑ کر بھی تو نہیں آسکتا تھا ورنہ تمہیں دیکھے بنا مجھے بخار چڑھ جانا تھا"
ضیغم شرارتی انداز میں روشانے کو دیکھ کر بولا تو وہ خفا ہو کر ضیغم کو دیکھنے لگی۔۔۔ ضیغم نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما
"یار ساس بہو کا رشتہ تو ایسا ہی ہوتا ہے، اتنا مت سوچو،، ہفتے بھر کی تو بات ہے پھر میں ہوں تو تمہارے ساتھ"
ضیغم اُس کا ہاتھ تھامے اُسے حوصلہ دینے والے انداز میں بولا تو روشانے اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ اُسے کشمالا سے بہت ڈر لگتا تھا کشمالا اُسے دادی حضور کی طرح سخت گیر خاتون لگتی
"یوں اچانک چلے آئے ہو تم بیوی کو لے کر، آنے سے پہلے اطلاع تو دینی چاہیے تھی میں ڈرائیور کو بھیج دیتا۔۔۔ یوں اکیلے آنا خطرناک ہے"
حویلی کے داخلی راستے سے اندر آتے ہی فیروز جتوئی روشانے کو سلام کا جواب دیتا ہوا ضیغم سے بغلگیر ہو کر بولا
ہفتے بھر پہلے ہی اس نے تیمور خان پر جان لیوا حملہ کروایا تھا مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہ بچ گیا۔۔۔ لیکن کل ہی اُسے اپنے آدمی کی لاش نالے سے ملی جس سے اُس نے تیمور خان پر حملہ کروایا تھا
"آپ ہی نے تو کہا تھا کہ تمہاری ماں یاد کر رہی ہے تمہیں کافی دنوں سے، تو آج دوپہر ہی میں پروگرام بن گیا۔۔۔ ویسے اب خطرے والی کیا بات ہے،، سب ٹھیک ہے ناں"
ضیغم فیروز جتوئی کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا فیروز جتوئی نے ایک نظر روشانے کو دیکھا پھر ضیغم کو دیکھ کر بولا
"ہاں ہاں سب ٹھیک ہے،، بعد میں بات کرتے ہیں،، بابا سائیں اس وقت آرام کر رہے ہیں،، جاؤ جاکر اپنی ماں سے مل لو خوش ہو جائے گی وہ تمہیں دیکھ کر"
فیروز جتوئی ضیغم کو بولتا ہوا حویلی سے باہر نکل گیا
"آؤ"
ضیغم اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا بیگ ملازم کو پکڑا کر، روشانے کو دیکھتا ہوا بولا
روشانے اپنی چادر کو مزید اچھی طرح سر پر جماتی ہوئی ضیغم کے پیچھے کشمالا کے کمرے میں جانے لگی۔۔۔ اپنے فلیٹ میں تو وہ صرف دوپٹہ ہی لیتی تھی چادر کا استعمال وہ کالج جاتے وقت کرتی تھی لیکن اُسے یہاں جب تک رہنا تھا اُس بات کا خیال رکھنا تھا کہ دوپٹہ اُس کے سر پر ٹکا رہے۔۔۔ یہ سب باتیں اسے ضیغم نے نہیں بتائی تھی اُسے خود معلوم تھی
ضیغم روشانے کو کشمالا کے کمرے میں سلام کروانے کے غرض سے لے کر جا رہا تاکہ کسی بات کو موضوع بنا کر کوئی مسئلہ نہ اٹھے
"آ گیا تو،، مجھے لگا اپنی ماں کی موت کی خبر سن کر ہی آئے گا اب کی بار تو"
کشمالا بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی، اپنے کمرے میں ضیغم کو آتا دیکھ کر خوشی کے مارے اٹھ بیٹھی ضیغم نے اسے سلام کر کے گلے لگایا تو کشمالا کی نظریں دروازے پر کھڑی روشانے پر پڑی روشانے نے جلدی سے اُسے سلام کیا، اُس کے سلام کو نظرانداز کرتی ہوئی وہ ضیغم سے شکوہ کرنے لگی
"ماں بہت غلط بات کر رہی ہیں آپ،، اپنے لئے اپنی زبان سے ایسے الفاظ مت استعمال کیا کریں مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اب خوش ہو جائیں آپ، میں تین چار دن کے لیے نہیں پورے ہفتے بھر کے لئے آیا ہوں آپ کے پاس"
ضیغم کشمالا کو بہلاتا ہوا بولا
"اب دو ہفتوں سے پہلے تھوڑی نہ جانے دوں گی تجھے، اپنی بات منوا کر کی تجھے رخصت کرو گی"
وہ کشمالا کی بات کو خوب جانتا تھا اکثر موبائل پر وہ اس سے پلورشہ کی نند کا ذکر کرتی تھی اور یہ بھی کہ وہ اب دوسری شادی صرف اور صرف اس کی پسند سے کرے گا۔۔۔۔ ضیغم کشمالا کی بات کو نظرانداز کرتا ہوا دروازے پر کھڑی روشانے کو دیکھنے لگا
"وہاں کیوں کھڑی ہو ادھر آؤ ناں ماں سے نہیں ملی تم"
ضیغم روشانے کو دیکھتا ہوا بولا تو روشانے کمرے کے اندر آئی اور کشمالا کو دوبارہ سلام کرنے لگی
"اس کو ساتھ لانا ضروری تھا کیا"
نحوست سے اس کے سلام کا جواب دیتی ہوئی کشمالا ضیغم کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"اب اِس کے بغیر آپ کے بیٹے کا گزارا جو نہیں ہے"
ضیغم نے سنجیدگی سے کشمالا کو جواب دیا روشانے ایک نظر کشمالا کو دیکھ کر گھبرا کر جلدی سے سُر جھکا لیا
"بے شرم کہیں کا اپنی ماں کے سامنے اس طرح بات کرتے ہیں"
کشمالا ضیغم کے گال پر چپت رسید کرتی ہوئی بولی مگر اندر ہی اندر اسے اپنے بیٹے کی پسند پر آگ لگ گئی تھی
"اِس طرح سے اس لیے بات کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی جان لیں، آپ کے بیٹے کی زندگی میں اِس کی اہمیت"
ضیغم نرم لہجے میں کشمالا کو جتاتا ہوا بولا جس پر کشمالا منہ بنا کر خاموش ہو گئی
"کھڑی کیو ہو،، کیا بیٹھنے کے لئے کہنا پڑے گا تمہیں"
ضیغم روشانے کو دوبارہ مخاطب کرتا ہوا بولا تو وہ صوفے پر بیٹھنے لگی
"کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں بیٹھنے کی، یہاں سے سیدھا باورچی خانے میں جا اور رات کے کھانے کی تیاری کر"
روشانے جو کہ صوفے پر بیٹھنے لگی تھی کشمالا کی کرخت آواز سن کر دوبارہ کھڑی ہوگئی
"ماں وہ سیدھا کالج سے ہوتی ہوئی یہاں چار گھنٹے کا سفر کرکے پہنچی ہے"
ضیغم نے کشمالا کو دیکھتے ہوئے بتایا کیونکہ وہ صبح آفس سے ضروری کام نمٹانے کے بعد روشانے کو موبائل پر کال کرکے اپنا پروگرام اسے بتا چکا تھا
روشانے نے گھر آکر یونیفارم چینج کیا تھا اور حویلی آنے کے لیے بیگ تیار کیا تھا۔۔۔ دوپہر کا کھانا بھی انہوں نے راستے میں کھایا تھا
"تُو زیادہ میرے سامنے اِس کی وکالت مت کیا کر ضیغم، وہ اپنے سسرال آئی ہے برات میں نہیں اور کھانا بنا کر اس کی ہڈیاں نہیں گِھس جائے گیں"
کشمالا اب غُصے میں ضیغم کو دیکھتی ہوئی بولی
اسے یوں بات بات پر بیوی کی وکالت کرتا دیکھ کر کشمالا کو غصہ آئے جا رہا تھا
"میں بنا لیتی ہوں کھانا کوئی مسئلہ نہیں ہے"
روشانے آہستہ آواز میں بولی۔۔۔ ضیغم نے افسوس بھری نظر کشمالا پر ڈالی
"مسلہ ہونا بھی نہیں چاہیے تجھے، تین چار طرح کے کھانے بنا لینا اور ساتھ میں میٹھا بھی، بابا سائیں کا پرہیزی کھانا بنے گا الگ سے۔۔۔ شانو سے صرف مدد لینا ہے سارا کام خود ہی کرنا تاکہ تیرے دادا سُسر اور سُسر کو تیرے آنے کی خوشی ہو کہ اُن کی بہو آئی ہے"
کشمالا کڑے تیوروں کے ساتھ روشانے کو ہدایت دیتی ہوئی بولی جس پر روشانے جی کہہ کر کمرے سے نکل گئی
اب اسے چادر اتار کر منہ ہاتھ دھو کر سیدھا کچن کا رخ کرنا تھا شاید اُس کی ساس اُس سے اِسی طرح خوش ہو جاتی
"میں تھوڑی دیر آرام کروں گا آپ بھی ریسٹ کریں اب"
ضیغم کشمالا کے رویے پر اچھا خاصہ بد دل ہوا تھا وہ بیڈ سے اٹھنے لگا تبھی کشمالا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس اپنے پاس بٹھا لیا
"آرام ہی کرنا ہے تجھے تو یہی میری نظروں کے سامنے کرلے اس طرح تجھے دیکھ کر میری طبیعت بحال ہوتی رہے گی"
کشمالا اب ضیغم کو دیکھتی ہوئے محبت سے بولی تو وہ وہی بیڈ پر لیٹ گیا
*****
جاری ہے
27/08/2026
27/08/2026
ہمارے معاشرے میں نفرتوں کو اولاد کی طرح پالا جاتا ہے
اور محبتوں کو یتیموں کی طرح،
27/08/2026
ایک دن مجھ سے کسی نے کہا
جو محبت تھکا دے اسے چھوڑ دینا چاہیے
میں نے سُنا تو ایک افسردہ سی ہنسی میرے ہونٹوں کو چھو گئی
اور میں نے دھیرے سے سرگوشی کی کہ
"محبت" کبھی نہیں تھکاتی
جس کو چاہا جائے اس کی
"بے رخی اور بے حسی تھکا دیتی ہے" ! 🖤🍂
27/08/2026
"سب کو دلاسہ دینے والا انسان اکثر اپنے دکھوں میں اکیلا ہوتا ہے."
26/08/2026
دل سے چاہو، مگر جہاں قدر نہ ہو وہاں فیصلہ کن انداز میں رخصت ہو جاؤ جہاں تمہاری قدر نہ ہو، وہاں کبھی واپس مت لوٹو 🖤
26/08/2026
احباب کی نذر ❣️
کِس سلیقے سے کَٹ رہی ہُوں میں
کتنے حصوں میں بَٹ رہی ہُوں میں
اے میرے دوستا ! تجھے کَیا غم
تیرے غم سے نِمٹ رہی ہوں میں
ترچھی نظروں سے اسکو دیکھا ہے
وار کر کے پَلٹ رہی ہُوں میں
پھر نظر کو نظارہ کر لینا
ٹھہر ! منظر سے ہَٹ رہی ہُوں میں
اُس کا سارا وجود دھوکہ ہے
ساۓ سے کیوں لِپٹ رہی ہُوں میں
چودھویں شب کا چاند ہے مریمؔ
شرم سے کیوں سِمٹ رہی ہوں میں
Click here to claim your Sponsored Listing.
