Khalid Bhatti

Khalid Bhatti

Share

We aim to provide honest, truthful information. Your faith is our success.

28/06/2026
28/06/2026

آخر شنو آج آہی گئی اپنے اصلی روپ میں...

28/06/2026

Humility is the greatest glory.

Khalid Bhatti

28/06/2026

Nowadays, people are taught to hide the truth more than to lie.

Khalid Bhatti

28/06/2026

آج کل کے لوگ وفادارکم اور اداکار زیادہ ہیں

28/06/2026

We gave respect, people paid the price.

Khalid Bhatti

27/06/2026

Skin Polish
Best Formula

27/06/2026

The one who keeps his heart soft is the strongest in the world.

Khalid Bhatti

27/06/2026

Kindness in love, and patience in hostility, are the best.

Khalid Bhatti

27/06/2026

گاؤں کی صبح واقعی دودھ کی خوشبو، ہری بھری کھیتیاں، درختوں سے اترتے ہوئے پھل اور صحن میں کھیلتے بچوں کے ساتھ کسی جنت کا منظر لگتی ہے، لیکن اسی جنت کے نیچے دلوں میں ایک ایسا زہر بھی بہتا ہے جو اکثر نسلوں کو برباد کر دیتا ہے؛ شریکہ، برادری کی سیاست، حسد، جلن، کھنچا تانی، “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف – یہ سب مل کر انسان کے پر کاٹ دیتے ہیں۔ ظاہری نعمت یہ ہے کہ تازہ دودھ اور سبزی مل جاتی ہے، مگر اندرونی حقیقت یہ ہے کہ ایک بھائی کے پاس اگر تھوڑی سی زیادہ زمین ہو تو دوسرے کے دل میں چبھن شروع ہو جاتی ہے، کسی کے بچے کو شہر میں نوکری مل جائے تو سلام دعاؤں کے ساتھ ساتھ دل کے اندر بےچینی اور مقابلے کی آگ بھی بھڑک اٹھتی ہے، پھر وہی آگ مشوروں، طعنوں اور رشتوں کے دباؤ کی شکل میں اس نوجوان کے راستے میں دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔
گاؤں میں رہنے والے اکثر یہ جملہ دہراتے ہیں کہ “یہیں سب کچھ ہے، شہر جا کر کیا کرنا ہے؟” لیکن حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی تقسیم شدہ زمینیں، موسمی تباہ کاریاں، محدود اسکول، ناکافی صحت کی سہولیات اور روزگار کے بہت کم مواقع مل کر ایک ایسے نقطے پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں انسان کو یا تو اپنی امنگوں کو دفن کرنا پڑتا ہے، یا پھر شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بڑے شہروں میں خطرات بھی ہیں، خرچے بھی زیادہ ہیں، اکیلا پن بھی ہے، لیکن وہاں یونیورسٹیاں ہیں، ہسپتال ہیں، کارخانے، دفاتر اور چھوٹے بڑے کاروبار ہیں، وہاں آپ محنت کر کے کم از کم اپنے لیے اور اپنی اگلی نسلوں کے لیے راستہ بنا سکتے ہیں، جبکہ گاؤں میں اکثر آپ کو وہی پرانا دائرہ ملتا ہے: صبح کھیت، دوپہر رشتہ داروں کی سیاست، شام تک افواہیں اور رات “کس نے کیا کیا” کی مجلس۔
دلائل واضح ہیں: جو خاندان تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں، عموماً چند سال مشکل ضرور جھیلتے ہیں، لیکن پھر وہی بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں، بہتر ملازمتیں پاتے ہیں، اپنے والدین کو دوبارہ کسی گاؤں یا چھوٹے شہر میں عزت کے ساتھ واپس لے جا سکتے ہیں؛ اس کے برعکس جو صرف برادری کے خوف، شریکے کی ضد اور حسد کے دباؤ میں گاؤں میں رک جاتے ہیں، وہ نہ خود آگے بڑھ پاتے ہیں، نہ ہی اپنی اولاد کو وہ موقع دے پاتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس تحریر کا مقصد گاؤں کی مٹی، اس کی خوشبو، اس کی سادگی کی توہین نہیں، بلکہ اس ذہنیت کو چیلنج کرنا ہے جو تازہ دودھ، سستی سبزی اور برادری کے نام پر انسان کے خوابوں کو زنجیر سے باندھ دیتی ہے؛ پیغام یہ ہے کہ اگر آپ کے لیے گاؤں محبت، سکون اور آزادی کا مقام ہے تو وہیں رہیں، لیکن اگر وہی گاؤں حسد، جلن اور کھنچا تانی کے ذریعے آپ کے اور آپ کی نسلوں کے مستقبل کو روکے ہوئے ہے، تو پھر گاؤں سے شہر کی طرف رخ کرنا بغاوت نہیں، عقل و حکمت ہے، ایک ایسی حکمت جو آنے والی نسلوں کے حق میں فیصلہ کرتی ہے، نہ کہ چند حسد زدہ دلوں کی عارضی خوشی کے لیے اپنے ہی مستقبل کو قربان کر دیتی ہے۔

خالد بھٹی برسبین آسٹریلیا

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Brisbane?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Brisbane, QLD