Al Jamiatul Ashrafia Mubarakpur Azamgarh
like and follow this page
17/08/2025
51 واں عرس حضورحافظ ملت و جشن دستار فضیلت 22،23 نومبر 2025 بروز سنیچر اتوار
20/07/2025
*ہندوستان کے مفتی اعظم شیخ ابو بکر احمد مسلیار کی مداخلت سے ٹلی نیمیشا پریا کی پھانسی*
______________________________________
مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی
______________________________________
*نیميشا کیس کی حقیقت:_______*
یہ بات ہے ۲۰۰۸ ء کی جب صوبۂ کیرلا کی رہنے والی ایک نرس جس کا نام نیمیشا پریا (Nimisha Pirya)ہے، اچھی ملازمت کی تلاش میں یمن تک پہونچتی ہے ، یمن کے ایک بڑے ہسپتال میں ایک نرس کی حیثیت سے کام کرتی رہتی ہے۔ اس درمیان ہندوستان ہی میں ٹومی تھامس نام کے ایک شخص سے اس کی شادی ہو جاتی ہے ۔ بچپن سے ہی اس کا عزم تھا کہ وہ مدر ٹریسا کی طرح ایک سوشل اکٹویسٹ بنے، اس کے بچے بھی ہوتے ہیں ۔ کچھ دنوں بعد اس کا شوہر بھی یمن آجاتا ہے اور وہیں کام کرتا ہے، پھر اس کا شوہر کیرلا واپس آجاتا ہے ۔ ماہ و سال گزرتے ہوئے ۲۰۱۴ء آ جاتا ہے ۔
اس درمیان یمن میں سیاسی حالات خراب ہوتے ہیں۔ ملک میں سول وار جیسی حالت پیدا ہو جاتی ہے ، حوثیوں کی بغاوت کے سبب یمن میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے، ان حالات سے پریشان ہو کر نیمیشا بھارت لوٹنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس درمیان اس کا ایک دوست جس کا نام حنان تھا وه اسے مشورہ دیتا ہے کہ تم ہندوستان مت جاؤ ہم دونوں آدمی مل کر پارٹنرشپ میں یہیں ایک ہسپتال کھولتے ہیں ۔ نیمیشا تیار ہو جاتی ہے ۔ ہسپتال کھولنے کی راہ میں یمن کا ایک قانون حائل ہو جاتا ہے وہ یہ کہ یمن کے قانون کے مطابق کسی بھی غیر ملکی شخص کو یہاں کی زمین یا مکان پر مالکانہ حق حاصل نہیں ہوتا ۔ اسی قانون کے سبب وہ ہسپتال کھولنے سے مجبور ہوتی ہے ۔ اس درمیان اس کا دوست حنان مشورہ دیتا ہے کہ اگر تم یہاں کے کسی شہری کو کاغذ میں شوہر بنا لو، وہ صرف کاغذ میں تمہارا شوہر رہے گا تو کام بن جائے گا۔ ان تمام باتوں سے وہ اپنے شوہر ٹومی تھامس کو آگاہ کرتی ہے۔ واضح ہو کہ یمن میں ہاسپٹلوں کی حالت بہت اچھی نہیں ہے وہاں زیادہ تر دیسی جڑی بوٹی کے علاج پر لوگ اکتفا کرتے ہیں۔ جس کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے وہ باہر جاکر علاج کروا لیتا ہے ۔ اس کا شوہر نیمیشا سے کہتا ہے وہاں میرا ایک دوست ہے جس کا نام طلعت عبد المھدی ہے، میں اس سے بات کرتا ہوں۔ وہ اپنے دوست سے بات کرتا ہے اور کہتا ہے تم کاغذ میں نیمیشا کا شوہر بن جاؤ ۔ وہ تیار ہو جاتا ہے اور بدلے میں ہسپتال کے اندر کچھ حصے داری کی مانگ کر تا ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اس کام کے عوض نیمیشا کا پاسپورٹ میں رکھ لوں گا ۔ اب معاملے میں ٹرننگ پوائنٹ یہیں سے آتا ہے۔
ادھر ہسپتال بہت اچھا چلنے لگتا ہے ۔ طلعت عبد المھدی کے دل میں لالچ آجاتی ہے اور وہ طے شدہ حصے سے زیادہ کا ڈیمانڈ کرتا ہے، علاوہ ازیں وہ جگہ جگہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ہسپتال میرا ہے اور نیمیشا میری بیوی ہے ۔ چونکہ قانونی طور پر وہ شوہر ہوتا ہے اس لیے وہ بلا خوف وخطر اس کا اظہار کرتا ہے۔
ادھر نیمیشا اس صورت حال سے دل برداشتہ ہوتی رہتی ہے، کچھ رپورٹوں کے مطابق طلعت اس کو جنسی تعلقات قائم کرنے پر بھی فورس کرتا ہے مگر نیمیشا انکار کر دیتی ہے اور سارا ماجرا اپنے شوہر سے بیان کرتی ہے، اس کا شوہر طلعت کو سمجھاتا ہے مگر وہ اپنی حرکت سے باز نہیں آتا ہے، اس کا شوہر کہتا ہے تم واپس ہندوستان آجائو، مگر چونکہ اس کا پاسپورٹ طلعت کے قبضے میں ہوتا ہے اور وہ دینے کو تیار نہیں ہوتا ہے اب یہ لوگ ۲۰۱۶ء میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں، نیمیشا اس کے خلاف وہاں کے تھانے میں رپورٹ درج کراتی ہے اور ساری باتیں پیش کرتی ہے، یمن کے قانون کے مطابق طلعت کو جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا جاتا ہے، یمن میں شریعت اسلامیہ کا قانون چلتا ہے وہ تفریق نہیں کرتا، مسلم اور غیر مسلم، شہری یا غیر شہری کے درمیان، طلعت یمنی شہری ہو کر بھی جیل پہونچ جاتا ہے۔ یہ واقعہ ۲۰۱۶ء میں پیش آتا ہے۔
ادھر یمن کے حالات مزید خراب ہوتے رہتے ہیں، یمنی حوثیوں کا کنٹرول دار الحکومت صنعا پر ہو جاتا ہے، یمن میں خانہ جنگی چل رہی ہوتی ہے، ۲۰۱۷ء میں طلعت جیل سے رہا ہوتا ہے، مگر ایک انتقامی جذبے کے ساتھ کہ وہ نیمیشا کو اس کا پاسپورٹ نہیں دے گا اور مزید پریشان کرے گا۔
نیمیشا اس سے پاسپورٹ مانگتی ہے مگر وہ نہیں دیتا ہے، اس درمیان حنان نیمیشا کا پارٹنر ایک پلان تیار کرتا ہے اور کہتا ہے تم نرس ہو اور طلعت جیل سے نکلنے کے بعد بیمار ہے، اسے روز انجکشن پڑتے ہیں، تم اس سے قربت بناؤ اور اعتماد میں لو۔ وہ اور حنان اس سے بار بار ملاقات کرتے ہیں یہاں تک کہ گذشته شکوے شکایات ختم ہونے لگتے ہیں ۔ جب کچھ ماحول بن جاتا ہے تب وہ کہتا ہے کہ اس کو بے ہوشی کا انجکشن دے کر اپنا پاسپورٹ نکال لو ۔ نیمیشا اس کو بے ہوشی کا انجکشن دیتی ہے مگر اس کا ڈوز اُوَر ہو جاتا ہے جس کے سبب اس کی موت ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ بے ہوشی کے بجائے موت کا انجکشن ہو ۔ مگر رپورٹوں میں ایسا ہی بتایا گیا ہے۔اس کے مرنے کے سبب یہ دونوں پریشان ہوتے ہیں، اس کی لاش کو چھپا دیتے ہیں، پولس کو خبر ہوتی ہے اور نیمیشا کو گرفتار کر لیا جاتا ہے نیمیشا نے ساری باتیں صحیح صحیح بتا دیں کہ انجکشن میں نے ہی دیا ہے، بیہوشی کا انجکشن دیا تھا تا کہ میں اس سے اپنا پاسپورٹ لے سکوں، مگر غلطی سے اس کی جان چلی گئی، اقبال جرم کے بعد اس پر اور اس کے دوست حنّان پر ہائی کورٹ میں مقدمہ چلنے لگتا ہے۔
۲۰۲۰ء میں ہائی کورٹ میں نیمیشا کا جرم ثابت ہونے پر اسے پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے اور اس کے ساتھی حنان کو عمر قید کی، پھر یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں پہونچتا ہے اور وہاں بھی اس سزا کو برقرار رکھا جاتا ہے، اس درمیان ہندوستان کی حکومت، دفتر خارجہ اور ہندوستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے یمن کے سپریم کورٹ پر دبائو ڈالا جاتا ہے کہ وہ پھانسی کی سزا کو ختم کرے۔
مگر ان سب کی کوششیں بے اثر ثابت ہوتی ہیں، کیوں کہ یمن کی حکومت برائے نام رہتی ہے عملا اس پر حوتیوں کا کنٹرول ہو چکا ہوتا ہے، اب ہندوستان کی حکومت حوثیوں سے بات کر نہیں سکتی کہ وہ حکومت کی باغی تنظیم ہے، جسے قانونی درجہ حاصل نہیں ہے، اس لیے ہندوستان کا دفتر خارجہ، یو، اے، ای اور سعودی عرب میں موجود اپنے سفارت خانے کے ذریعے عرب حکومتوں سے بات کرتا ہے کہ وہ حوثیوں سے بات چیت کرے مگر سعودی عرب ہو یا متحدہ عرب امارات ان کے تعلقات بھی حوثیوں سے ٹھیک نہیں تھے۔ واضح ہو کہ ۲۰۱۴ء میں یمن میں خانہ جنگی چھڑنے اور صنعا پر حوثیوں کے قبضہ کے بعد ہندوستان اپنا سفارت خانہ بند کردیتا ہے اور سفیر کو یمن سے واپس بلا لیتا ہے۔
بات چیت میں نتیجہ کوئی نہیں نکلتا، اتفاق یہ کہ سپریم کورٹ صنعا میں واقع ہے اور وہاں حوثیوں کا مکمل کنٹرول ہے، اور وہ شرعی قانون کے مطابق قصور وار کو سزائے موت دینا چاہتے ہیں۔
اب آخری دروازہ صدر جمہوریہ کا بچا ہوا تھا، یمن کا صدر چاہے تو اس کی سزا بدل سکتی ہے، نیمیشا کے گھر والے، اس کی ماں اور اس کے گھر کے لوگ صدر کے پاس رحم کی درخواست لے کر گئے، لیکن یہاں بھی بات نہیں بنی اور رحم کی درخواست رد کر دی گئی *"صدر رضا محمد السلام"* نے پھانسی کی سزا پر مہر ثبت کر دی۔
ادھر ہندوستانی حکومت، سپریم کورٹ اور دفتر خارجہ کی تمام کوششیں بے نتیجہ رہیں، ۱۶؍ جولائی؍ ۲۰۲۵ء اس کی سزاے موت کی تاریخ مقرر ہوگئی۔
نیمیشا کے گھر والے اس کی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے، قانون کے سامنے بے بس ہو گئے تھے، نیمیشا نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا، اس درمیان نیمیشا کے گھر والوں کو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔
*نیمیشا کیس میں کیرلاکے معمر عالم دین، گرینڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابو بکر احمد کی انٹری:____*
نیمیشا کیس میں ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب اس مایوسی کے شب دیجور میں امید کی ایک کرن نظر آئی، اور وہ روشنی شیخ ابو بکر احمد موجودہ مفتیٔ اعظم ہندوستان ہیں، ممکن ہے کہ نیمیشا کے گھر والوں نے شیخ صاحب سے اس سلسلے میں ملاقات کی ہو مگر میرے پاس اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ محدث کیرلا، فقہ شافعی کے عظیم فقیہ، روحانی عربی اور ہندوستان کے عظیم روحانی پیشوا شیخ ابو بکر احمد (ولادت ۱۹۳۱ء) نے یمن کے مشہور سنی صوفی رہنماء بزرگ عالم دین شیخ حبیب عمر علی زین العابدین الجفری (ولادت: ۱۶؍ اپریل۔ ۱۹۷۱ء) سے رابطہ کیا جو یمن کے عظیم روحانی پیشوا اور صاحب اثر ورسوخ شیخ ہیں، وہ طبع فائونڈیشن یمن اور متحدہ عرب امارات میں ایک تحقیقی ادارہ کے بانی بھی ہیں۔
۲۰۰۹ء میں جارج ٹائون یونیورسٹی کے پرنسپل الولید بن طلال سینٹر فار مسلم کرسچن انڈر اسٹینڈنگ اور اردن کے رائل اسلامک اسٹریئیجک اسٹڈیز سینٹر نے انہیں دنیا کے ۵۰۰ با اثر مسلمانوں کی فہرست میں ۳۷ ویں نمبر پر رکھا، اس وقت وہ ۲۴ ویں نمبر پر ہیں، شیخ ابو بکر احمد صاحب کے ان سے ذاتی اور علمی نوعیت کے تعلقات دہائیوں سے قائم ہیں، یہ دونوں لمبے عرصے سے انٹر نیشنل کانفرنسوں میں ایک دوسرے سے ملتے رہے ہیں۔
*نیمیشا کی سزائے موت مؤخر کرنے کا فیصلہ:_______*
المختصر شیخ صاحب نے شیخ جفری سے اس معاملے پر بات کی اور کہا اسلامی شریعت کی رو سے قتل کے بدلے میں تین آپشنز رکھے گئے ہیں:_____
*١:_________* ایک یہ کہ مقتول کے ورثہ قصاص میں قاتل کو قتل کر دیں۔
*٢:_________* دوسرا آپشن یہ ہے کہ قتل کے بجائے دیت (خوں بہا) جسے آج کی اصطلاح میں Blood mony کہا جاتا ہے دے کر قاتل کو سزا سے بچا لیا جائے۔
*٣:________* تیسرا آپشن یہ ہے کہ دیت لیے بغیر قاتل کو معاف کر دیا جائے۔
یہاں دوسری صورت پر عمل کیا جا سکتا ہے، دیت دے کر جان بچائی جا سکتی ہے، یہ قانون ِ اسلامی کے عین مطابق ہوگا۔ نیمیشا کے گھر والے خون بہا دینے کو تیار ہیں۔
آپ مقتول کے ورثہ کو خون بہا لینے پر راضی کریں، شیخ ابو بکر صاحب کی مداخلت کے بعد سید حبیب علی الجفری نے سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج سے اس سلسلے میں ملاقات کی اور نیمیشا کی سزائے موت کو مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ شیخ حبیب علی الجفری اور ان کے حامیوں کے اثر ورسوخ کی بنیاد پر ۱۴؍ جولائی؍ ۲۰۲۵ء کو سپریم کورٹ نے ۱۶؍ جولائی کو ہونے والی سزا کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
جج صارم الدین مفضل اور رضوان احمد الوجرہ اسپیشل کرمنل کورٹ کے مسئول کی طرف سے ایک لیٹر ۱۹؍ محرم الحرام؍ ۱۴۴۷ء مطابق ۱۴؍ جولائی کو جاری کیا گیا جس میں کہا گیا:
*الأخ / مدير الإصلاحية المركزيۃ بالأمانة تحیۃ طيبه و بعد نخطركم بناء على توجيه النائب العام بتأجيل تنفيذ حكم القصاص قبل المحكوم عليها / نیمیشا برا يا تومی توماس (هندية الجنسية ) في القضیة رقم (68) لسنة ٢٠١٨ م ج ج والتی كان قد تحدد موعد تنفیذ حکم اعدام المحكوم عليها / نیمیشا برايا تومي توماس إلی حين إشعار كم بموعد جديد۔*
اسپیشل کرمنل کورٹ کے جنرل سکریٹری کی ہدایت کے مطابق ہم آپ کو مطلع کرتے ہیں کہ ہندوستانی شہریت کی حامل نیمیشا پریا جس کے مقدمے کا نمبر (۶۸ )ہے اور جس کی سزائے موت کا وقت مقرر ہو چکا تھا اس کے قصاص کے فیصلے کے نفاذ کو اس وقت تک کے لیے مؤخر کیا جاتا ہے جب تک کوئی دوسرا فیصلہ نہ آجائے۔
یہ سزا مؤخر کی جاتی ہے اور دیت دے کر مقتول کے ورثہ کو راضی کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے ۔ شیخ حبیب علی کورٹ کے وکیل یا جج کے ساتھ مقتول کے ورثہ سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کو گفتگو کی میز پر لے آتے ہیں ۔ مختلف سوشل میڈیائی ذرائع کے مطابق ہندوستانی روپے سے ۸؍کروڑ روپے دیت دینے کی پیش کش کی جاتی ہے مگر طلعت کے گھر والے اس پر راضی ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ کوششیں جاری ہیں دیکھیے آگے نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔ اگر یہ سزاے موت ٹل جاتی ہے اور دیت دے کر معاملہ بن جاتا ہے تو اس کا بڑا مثبت اثر ہندوستان کے نفرتی ماحول پر پڑ سکتا ہے۔ جو فرقہ پرست عناصر ہر وقت ہند و مسلم کر کے یہاں کے پر امن ماحول کو خراب کرتے رہتے ہیں ان کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہوگا۔ اور اس سے یہ مؤثر پیغام جائے گا کہ جو سچا مسلمان ہو تا ہے وہ انسانیت کا سچا خیر خواہ بھی ہوتا ہے۔ وہ انسانی خدمت مذہب و ملت، رنگ و نسل، علاقہ اور زبان سے بالاتر ہو کر کرتا ہے ۔ مسلمانوں کی تاریخ اس طرح کے ہمدردانہ سلوک اور غیر مسلموں کے لیے بھی رواداری کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
شیخ ابوبکر احمد کی مداخلت سے وقتی طور پر سزا کے ٹل جانے سے ہندوستان کے باشندوں کو اتنا تو ضرور معلوم ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے ایک مذہبی رہنما کا پاور اور اثر و رسوخ کتنا ہے۔ اگر آج ہندوستان کی حکومت یہاں کے صوفی علما اور روحانی پیشوائوں سے بہتر مشاورت کرے تو عرب ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کی سزاے موت برقرار رکھی بھی جاتی ہے تو بھی شیخ صاحب کی کوششیں رائگاں نہیں جائیں گی بلکہ فرقہ پرست عناصر کو اس سے سبق لینے کا موقع ملے گا۔
راقم سطور نے سوشل میڈیا پر شیخ صاحب کے حوالے سے دیے گئے کمنٹس کو پڑھنا شروع کیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سبھی ہندوں نے شیخ صاحب کے اس عمل کو سراہا ہے اور انہیں ہندوستان کا عظیم ، دانشور اور انسانیت سے محبت کرنے والا کہا ہے۔ اور مسلمانوں کے تعلق سے نفرت پھیلانے والے عناصر کی مذمت کی ہے۔
برادران وطن کا بڑا طبقہ وہ ہے جو مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتا ہے ان کے آپس میں دنیاوی، کاروباری تعلقات ہیں، ایک معمولی طبقہ جو دس فیصد سے بھی کم ہے جس کی سوچ زائنزم (Zionism) اور نازی ازم (Na**sm ) سے متأثر ہے وہی فرقہ پرستی کے زہر کو عام لوگوں میں خاص طور سے یہاں کے ناخواندہ اور جاہل لوگوں میں بھرنے کی کوش کر رہے ہیں۔شیخ صاحب کے اس عمل نے ہندوستانی معاشرے پر ایک اچھا اثر ڈالا ہے، شمالی ہند کے لوگوں کو بالخصوص شیخ ابو بکر احمد صاحب کی تعمیری اور علمی وعملی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں، اگر لوگ ان کی تعلیمی اصلاحات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے میدان میں کی جانے والی کوششوں سے واقف ہو جائیں تو ان کا اسیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
*کون ہیں شیخ ابو بکر؟___________*
اس اکیلے ایک بندے نے نصف صدی کو متأثر کیا ہے، ان کی دینی، علمی اور سماجی خدمات پر آنے والے وقت میں درجنوں پی ایچ ڈی اور ایم فل کی تھیسس لگی جائیں گی۔ وہ اس وقت آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے جنرل سکریٹری، اسلامک ایجوکیشنل بوڑ آف انڈیا کے صدر، مرکز الثقافۃ السنیہ اور نالج سٹی (کیرلا) کے بانی اور چانسلر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں مفتیٔ اعظم ہندوستان تاج الشریعۃ علامہ اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کر جانے کے بعد انہوں نے ۲۴؍ فروری ۲۰۱۹ء کو ہند کے دسویں مفتی اعظم کی حیثیت سے اس منصب کو سنبھالا۔
جامعہ مر کز الثقافۃ السنیہ جنوبی ہند میں وہ اسلامی یونیورسٹی ہے جہاں اس وقت ۲۰۰۰۰؍ (بیس ہزار) سے زائد طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔
*شیخ صاحب کے نظریات:_______*
شیخ صاحب اسلامی شدت پسندی کے مخالف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ داعش جیسے جنگجو گروہ اسلام کی شبیہ کو خراب کر رہے ہیں، انہوں نے ۲۰۱۴ء میں داعش کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا تھا، شیخ صاحب معتدل سنی، صوفی نظریے کے مبلغ ہیں، انہیں کئی بار دنیا کی پانچ سو با اثر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے، مصر، سعودی عرب، دبئی، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر، عمان، اردن، شام ویمن کے کثیر مرتبہ دورے کیے، اسی طرح مغربی ممالک، افریقی ممالک اور ریاستہائے متحدہ امریکہ ان کے دوروں میں متعدد بار شامل رہے، اس مختصر سی تحریر میں ان کی زندگی کے ایک پہلو پر بھی کما حقہ روشنی ڈالنا مشکل ہے، ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ آج تک بخاری شریف کا درس طلبہ کو دے رہے ہیں اور یہ سلسلہ تقریبا پچاس سالوں سے قائم ہے، وہ کئی درجن کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔
تفصیل کے لیے فقیر کی کتاب *’’نیپال میں اسلام کی تاریخ‘‘* کا مطالعہ کریں۔
شیخ ابو بکر ہندوستانی مسلمانوں کی عظمت کا استعارہ، ریاست کیرلا کے عظیم معمار، دور اندیش قائد، زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا مفکر، ہندوستان کی شان اور فخر ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے۔ آمین
تحریر :____مفتی محمد رضا مصباحی، قادری، نقشبندی
چیف ایڈیٹر: عربی ماہنامہ الفجر،وبانی ومہتمم ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز
شب ۲۲؍ محرم الحرام ؍۱۴۴۷ھ
۱۸؍ جولائی؍ ۲۰۲۵ء
18/07/2025
---
📣 ایک بابرکت خبر
آج پنجاب، بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان یونیورسٹی طالب علم نے بغیر کسی دباؤ کے، خوش دلی سے اسلام قبول کیا۔ یہ سعادت انہیں مفکرِ اسلام حضرت علامہ قمر الزمان اعظمی دامت برکاتہم کے دستِ مبارک پر نصیب ہوئی مولیٰ انہیں اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
یہ طالب علم، جو پہلے سکھ تھا اور اب پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے جا رہا ہے، علامہ صاحب کے روح پرور خطابات سے بے حد متاثر ہوا۔
آپ سب سے درخواست ہے کہ اس کے لیے دعا کریں – اللہ تعالیٰ اسے اچھا، نیک اور عامل مسلمان بنائے اور حصول علم میں خوب خوب برکت عطا فرمائے۔
مفتیِ اعظمِ ہند کے فیوض و برکات سے مالا مال فرماۓ اور اس عالم رنگ و بو میں خوب خوب اسلام کی ترویج و اشاعت کرتے رہے اورحضور مفکر اسلام ععلامہ قمر الزماں خان کے عمر میں مزید برکتیں عطا فرمائے آمین بجاہ سید الامینﷺ________!!
28/05/2025
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا اعلان
ماہ ذی الحجہ کا چاند نظر آ گیا
عیدالاضحٰی(بقرعید) 7 جون،2025 سنیچر کو.
18/05/2025
___________علامہ یٰسین اختر مصباحی: کچھ یادیں کچھ باتیں
مفتی غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
(دوسری برسی پر یاد داشتوں کا ایک سلسلہ)
رئیس التحریر حضرت مولانا یاسین اختر مصباحی کے نام سے ہم اس وقت آشنا ہوئے جب ہمارا درس نظامی کا ابتدائی دور چل رہا تھا۔آشنائی کا ذریعہ بنی ان کی کتاب "اصلاح فکر و اعتقاد" جو محدث الحرمین علامہ سید محمد علوی مالکی مکی علیہ الرحمہ [متوفی 2004] کی کتاب "مفاہیم یجب ان تصحح" کا اردو ترجمہ تھی۔اسے مصباحی صاحب کے زر نگار قلم کی خوبی ہی کہا جائے گا کہ ترجمہ ہونے کے باوجود کتاب اصل تصنیف کی طرح محسوس ہوتی ہے۔یہ بلا شبہ عربی و اردو پر ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس کتاب کے کے بعد علامہ صاحب قبلہ کی تحریرات ماہنامہ کنزالایمان دہلی کے صفحات کے ذریعے نظر نواز ہوتی رہیں اور ہم ان کے انداز تحریر اور فکری شعور کی بلندیوں کو عالم تصور میں نِہَارتے رہے۔
_______جامعہ نعیمیہ کا عہد طالب علمی تھا۔یہاں ہماری ایک مشقی و تحریری انجمن (انجمن رضائے مصطفےٰ) ہوا کرتی تھی۔یہ انجمن کئی جہتوں سے دیگر انجمنوں سے ممتاز ومنفرد تھی، ایک تو انجمن کی اپنی ذاتی لائب ریری تھی۔دوسرے روایتی تقریری کتابوں پر پابندی تھی۔ہر طالب علم کو لائب ریری سے ہمہ وقت ایک کتاب رکھنا لازم تھا، کتاب رکھنے کی اکثر مدت ایک ماہ تھی۔اس ایک ماہ میں اسی کتاب کے مطالعے کا ماحاصل بطور تقریر بیان کرنا ہوتا تھا۔انجمن میں کئی رسائل بھی آتے تھے جن میں ماہنامہ کنزالایمان بھی ہوا کرتا تھا۔ہمارے حلقہ احباب میں اکثر مصباحی صاحب کا طرز تحریر اور اسلوب بیان موضوع سخن ہوا کرتا تھا۔ہم مصباحی صاحب کی تحریرات میں استعمال تراکیب، تشبیہات اور نئے نئے الفاظ کو نشان زد کرتے، کاپی میں نوٹ کرتے اور کوشش کرتے کہ اپنی تحریر وتقریر میں ان کو کسی نہ کسی طرح شامل کیا جائے۔آج جب کہ مصباحی صاحب اپنی تمام تر تابانیاں سمیٹ کر تہہ مزار آرام فرما رہے ہیں تو ہم ان کی تحریرات، ان سے ہونے والی ملاقاتوں اور ان کی معیت و سرپرستی میں ہونے والے اجلاس و سیمینار اور سرد راتوں کے رَت جگوں میں ہونے والی لمبی باتوں پر غور کرکے ان کے فکری شہ پاروں کو کھنگالنے/یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دہلی آمد اور مصباحی صاحب سے ملاقاتیں_______
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کا آخری سال شروع ہوا چاہتا تھا کہ ہم جیسے خانماں برباد وارد دہلی ہوئے۔آنکھوں میں کچھ خواب تھے جن کی تعبیر کی تلاش خواجگان دہلی کی چوکھٹ تک کھینچ لائی تھی۔آمد کے پہلے ہی سال میں ہماری پہلی تالیف "اسلامی نظریات" منظر عام پر آئی۔جس کا رسم اجرا أستاذ گرامی علامہ ہاشم نعیمی رحمہ اللہ کے ہاتھوں ہوا۔اس موقع پر مصباحی صاحب کو تو نہیں بلا سکا لیکن ہلکی پھلکی شناسائی کے باوجود مولانا ظفرالدین برکاتی نے شرکت کرکے یہ احساس دلایا کہ دوستی کے لیے پرانی پہچان ضروری نہیں ہے، صرف چند ملاقاتیں بھی دوستی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔اس درمیان مصباحی صاحب سے کئی جلسوں/میٹنگوں اور دارالقلم میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔مصباحی صاحب اپنے کتابی انداز ہی کی طرح سنجیدہ ومتین تھے، ہاں بعض مواقع پر بڑی پر لطف اور گدگدانے والی باتیں بھی کرتے تھے۔
سال 2011 میں ہم نے صدرالافاضل علیہ الرحمہ کے یادگار رسالے "ماہنامہ سواد اعظم مرادآباد" کی نشأۃ ثانیہ کا بیڑا اٹھایا۔اسی حوالے سے مصباحی صاحب سے مشاورت کے لیے دارالقلم پہنچا۔مصباحی صاحب نے مجھے سننے کے بعد کچھ دیر خاموشی اختیار کیے رکھی، چہرہ ایک دم سپاٹ، کوئی تاثر نہیں، پان دان کھولا، پان لگایا اور پھر کچھ دیر بعد بولنا شروع کیا۔قدیم وجدید رسالے کا خاکہ مانگا، معاون کار اور مالی اخراجات کے ذرائع کے بارے میں دریافت فرمایا۔رسائل کی مشکلات اور زمینی حقائق کے سخت تجربات بیان کر کے کہا کہ؛
"رسالہ بہت سوچ سمجھ کر جاری کرنا، کہ بغیر اسباب کے صرف لوگوں کے زبانی بھروسے اور جوانی کے جوش میں شروع کردینا آسان ہے لیکن جاری رکھنا بے حد دشوار۔رسالہ چل جائے تو لوگ حاسد اور بند ہو جائے تو یہی زبانی ہمدرد سب سے بڑے ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔"
مصباحی صاحب کی ساری باتیں تجرباتی تھیں اس لیے میں بغور سنتا رہا۔جیسا مصباحی صاحب نے بیان کیا وقت نے ویسا ہی ثابت بھی کیا۔
قرطاس وقلم کے رئیس________
مولانا یٰسین اختر مصباحی جماعت اہل سنت ہی نہیں بل کہ ملک کے ان چنندہ اہل قلم میں سے ایک تھے جن کی تحریریں اپنے اور بیگانے سبھی کو متاثر کرتی تھیں۔ان کی تحریریں مکررات اور لمبی لمبی تراکیب سے کافی حد تک دور ہوتی تھیں اس لیے پڑھتے وقت قاری کو اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔اپنے مافی الضمیر کو سادہ مگر بہترین اسلوب میں بیان کرنا مصباحی صاحب کا ایسا وصف تھا جو چنندہ اہل قلم ہی میں پایا جاتا ہے۔یہ بات درست ہے کہ مصباحی صاحب کا انداز تحریر بے حد دل چسپ اور پر کشش ہوا کرتا تھا۔جس کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو تعریف کے پردے میں تنقیص وتضحیک کا کام انجام دیتے ہیں۔تعریف کے نام پر ان کے انداز تحریر کو "غیر بریلویانہ" کہنا صرف اپنی تنگ نظری کا اظہار کرنا ہے ورنہ سنجیدہ اور دل چسپ اسلوب تحریر کی بات کی جائے تو کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں اہل سنت میں پرکشش انداز تحریر کے حاملین نہ رہے ہوں۔خود مصباحی صاحب کے حلقہ احباب میں خیرالاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی، مولانا عبدالمبین نعمانی جیسے نام شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان کے ہم عصروں میں مولانا وارث جمال قادری، ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی، ڈاکٹر فضل الرحمن شرر مصباحی جیسے نام اور ان کے ٹھیک بعد ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی ، ڈاکٹر ساحل شہسرامی اور ڈاکٹر امجد رضا امجد، ڈاکٹر غلام زرقانی جیسے افراد موجود ہیں جو پر کشش اور سنجیدہ ومتین انداز تحریر کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔یہ نام بھی صرف بطور نمونہ ذکر کیے نہیں تو موجودہ نسل میں ایسے افراد کی کوئی کمی نہیں ہے جن کا انداز تحریر اپنوں کے ساتھ بیگانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔اگر اس عنوان پر بفرصت لکھا جائے تو مصباحی صاحب کی تحریر کو "غیر بریلویانہ" تحریر لکھنے والے مداح نما معترض کو منہ چھپانے کو ببی جگہ نہ ملے گی، لیکن ابھی ہمیں مصباحی صاحب کی شخصیت پر کلام کرنا ہے اس لیے اس عنوان کو بعد کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
_________مصباحی صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ انہوں نے ہمیشہ ضرورت اور منصوبہ بندی کے ساتھ لکھا یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریرات میں اخیر وقت تک عوام وخواص کی دل چسپی بنی رہی۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک صاحب قلم جوانی سے بڑھاپے تک اپنے چاہنے والوں کے درمیان یکساں مقبول رہے، مصباحی صاحب ان چنندہ اہل قلم میں سے تھے جنہوں نے عہد شباب سے جس مقام کو حاصل کیا اسے دور اخیر تک برقرار رکھا۔درمیان میں ایسے بھی کچھ مواقع آئے جب ان کی بعض تحریرات پر اعتراض اور عدم اتفاق کی باتیں منظر عام پر آئیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز اور حیرت انگیز امر نہیں ہے۔ضروری نہیں کہ لکھنے والے کی ہر بات ہمیشہ من وعن تسلیم کی جائے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لکھنے والا درستی نیت کے ساتھ ایک نتیجہ نکالتا ہے لیکن دوسرے اہل علم دلائل کی بنیاد پر اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ یہ اختلاف بشری تقاضوں کے تحت شکر رنجی میں بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔الفاظ میں قدرے تپش اور شدت سی محسوس ہوتی ہے مگر پھر بھی نظریاتی یکسانیت دیرینہ محبت کو ٹوٹنے نہیں دیتی کہ؛
گلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں اصاغرین کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔جن کی رگ وپے میں شائستگی ہوتی ہے وہ یا تو خاموشی اختیار کرتے ہیں یا پھر عرض مدعا کے تحت نفس مسئلہ پر ہی کلام کرتے ہیں۔خلط مبحث کرنے یا ذات کو نشانہ بنانے کا کام نہیں کرتے۔
توکل اور سادگی________
توکل اور سادگی کہنے سننے میں بہت آسان سے لفظ ہیں لیکن ان لفظوں کو جینا انتہائی مشکل کام ہے۔تاریخ کے صفحات کھنگالنے پر ایسے بہت سارے علما ومشائخ ملتے ہیں جن کی زندگی توکل اور سادگی کا نمونہ تھی۔مگر اب ایسے لوگ بھی پرانی کتابوں کی طرح ہوگیے جو ڈھونڈے سے نہیں ملتے، خصوصاً آج کے دور حرص و ہوس میں ایسے لوگوں کو تلاشنا آب حیات کی تلاش سے کم نہیں ہے، لیکن فقیر نے اپنی مختصر سی زندگی میں ایسے دو چند افراد کو دیکھا ہے جن کی زندگی میں حقیقی توکل اور سادگی کے اثرات نظر آئے، علامہ یٰسین اختر مصباحی ان میں سے ایک ہیں۔مصباحی صاحب نے دلی میں قریب 35 سال سے زائد وقت گزارا مگر اس لمبے دورانیے میں وہ اتنا پیسہ بھی نہ کما سکے کہ اپنا ذاتی مکان بنا پاتے۔حالانکہ ان کی ملکیت میں ایک مکان ضرور تھا مگر اس کی داستان عجیب بھی ہے اور توکل علی اللہ کی بہترین مثال بھی۔مصباحی صاحب نے ایک مرتبہ توکل پر گفتگو کرتے ہوئے ہم سے یہ بات بیان کی کہ؛
"عرصہ دراز تک میرے پاس رہنے کو کوئی مکان نہیں تھا۔کچھ وقت مٹیا محل کے کوٹھری نما آفس میں گزرا بعدہ دارالقلم کے حجرے میں۔ان دنوں اہل خانہ وطن مالوف ہی رہتے تھے کیوں کہ دہلی میں سر چھپانے کو کوئی جگہ تھی نہ خریدنے کے لیے پیسے! اچانک ایک دن میرے نام ایک رجسٹری آئی، میں نے سوچا کہ رسالہ کے متعلق کوئی خط وغیرہ ہوگا لیکن جب لفافہ کھول کر دیکھا تو پتا چلا کہ یہ ایک فلیٹ کی ملکیت کے کاغذات ہیں، جو میرے نام پر خریدا گیا تھا۔خریدنے والے نے اپنا نام مخفی رکھا تھا۔میں آج تک نہیں جانتا کہ وہ بندہ خدا کون تھا جس نے میرے لیے فلیٹ خریدا اور خود کو اس قدر مخفی رکھا کہ ملکیت کے کاغذ بھی ڈاک سے بھیجے اور اس پر بھی اپنا نام پوشیدہ رکھا۔اس ایک واقعے سے قرآن کی اس آیت کریمہ وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ۔(سورہ طلاق:3) پر یقین اور پختہ ہوگیا۔"
اس گفتگو میں ہمارے علاوہ مولانا عمران احمد ازہری(جامعہ امام احمد رضا رتنا گیری) اور مولانا فیضان احمد نعیمی(خطیب وامام قادری مسجد ذاکر نگر) بھی موجود تھے۔
اس واقعے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مصباحی صاحب کس قدر متوکل اور سادگی پسند تھے۔ان کے توکل کا اندازہ اس سے بھی کر سکتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی دارالقلم سے کوئی تن خواہ نہیں لی، خطیب وہ تھے نہیں اور پیر وہ بن نہیں سکتے تھے۔عموماً علما ومشائخ امور خانہ داری کے لیے تدریس/امامت/خطابت یا بیعت واردات کا میدان پسند فرماتے ہیں۔مصباحی صاحب زیادہ تر میدانوں کے لیے مس فٹ تھے۔کنزالایمان کے ادارتی دور میں ضرور ایک مختصر سا مشاہرہ ملتا تھا، ادارت سے مستعفی ہونے کے بعد وہ بھی جاری نہ رہا مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی کسی سے چندہ مانگا نہ تعاون، مال ودولت سے اس قدر بے نیازی کے بعد بھی گھر کے اخراجات کہاں سے پورے ہوتے تھے، اس کے بارے میں ایک مرتبہ مصباحی صاحب نے بتایا کہ؛
"ابتدائی دور میں میری قلمی شہرت کی وجہ سے بہت سارے علما مجھے جلسوں میں بلا لیا کرتے تھے لیکن جب میں وہاں خطاب کرتا تو منتظمین جلسہ اور مجھ پر اچھی طرح یہ بات ظاہر ہو جاتی کہ میرا اور روایتی جلسوں کا ایک دوسرے سے نباہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔اس لیے کچھ منتظمین نے بلانا بند کر دیا اور کچھ میں نے ہی جانا بند کردیا۔منتظمین نے اس لیے کہ میں جلسوں کے روایتی کھانچے میں فٹ نہیں بیٹھتا تھا اور میں اس لیے دور ہوگیا کہ ایک تو جلسوں کی ہنگامہ خیزیاں ناپسند تھیں دوسرے وقت بہت ضائع ہوتا تھا اس لیے میں جلسوں سے دوری ہی میں عافیت سمجھی۔جلسہ وجلوس کی آمدنی بند ہونے کے بعد بھی اللہ کا فضل شامل رہا بایں طور کہ کتنے ہی ناشناسا محبین آتے اور کچھ نہ کچھ نذر پیش کر جاتے حالانکہ نہ میں پیر تھا نہ خطیب لیکن یہ سب اللہ پر توکل کا نتیجہ تھا۔بارہا ایسا بھی ہوا کہ کوئی شخص دارالقلم آتا اور ماہانہ ضرورت کے کچھ پیسے لفافے میں رکھ کر دے جاتا۔کبھی وہ کسی طالب علم کو دے جاتا تو کبھی ایسا بھی ہوتا کہ میری غیر موجودگی میں میرے حجرے ہی میں رکھ جاتا۔"
_______قلندر نما مفکر
جاننے والوں کے لیے علامہ یٰسین اختر مصباحی کی شخصیت کے دو روپ ہیں۔اور یہ تقسیم "جاننے پہچاننے" والوں کی تقسیم کی بنیاد پر ہے۔آپ کو جاننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جس نے آپ کو صرف آپ کی تحریرات و تصنیفات کی بدولت آپ کو جانا، ملاقات کا موقع نہیں ملا۔دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے آپ کو تصنیفات و تحریرات کے ساتھ ساتھ آپ کی صحبت اٹھائی، ملاقاتیں کیں، اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا اور سفر وحضر میں وقت گزارا۔ہر دو طبقات کی نگاہ میں مصباحی صاحب کی شخصیت میں قدرے تفاوت پایا جانا فطری ہے۔جن لوگوں سے مصباحی صاحب کی شناسائی ان کی کتابوں ہی کی حد تک رہی ان کے لیے مصباحی صاحب یقیناً ایک ایسی شخصیت ہوں گے جو اپنی پر کشش تحریر اور جاذب نظر اسلوب کی طرح بڑے کر وفر اور تحریر کی طرح پر کشش وضع قطع کے حامل ہوں گے۔ایسے طبقے کے بعض لوگ جب ان سے ملتے تو انہیں حیرت کا جھٹکا لگتا کہ جس انسان کی تحریر اس قدر صوری ومعنوی خوبیوں سے بھری ہوتی ہے اس شخص کی ذاتی زندگی اس قدر سادہ اور معمولی سی تھی کہ یقین کرنا مشکل ہوتا تھا کہ یہ شخص قلم وقرطاس کا رئیس اور فکر وشعور کا اختر تھا۔
مصباحی صاحب پہننے اوڑھنے کی حد تک حد درجہ لا پرواہ اور بے نیاز تھے۔عمومی طور پر وہ کرتا اور تہہ بند میں رہتے تھے۔ان کا حجرہ بھی تعمیر اور رنگ وروغن کے چند سال بعد ان کی بے نیازی سے مقابلہ آرائی پر اتر آیا تھا اور وہ بھی اپنے مکین کی طرح سادگی کی مجسم تصویر بن گیا تھا۔حاضر باشوں کی نگاہ سے یہ مقابلہ پوشیدہ نہ ہوگا۔پوربی یوپی اور بہار کے جو شوق عوام وخواص میں یکساں پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک شوق سے مصباحی صاحب بھی اچھوتے نہیں تھے، وہ شوق تھا پان دان سے وابستگی کا۔آپ کے حجرے میں کتابوں کی طرح پان دان بھی ہمیشہ قریب ہی رہتا تھا، یہ الگ بات ہے کہ پان دان بھی ان کے پان کی طرح مختلف رنگوں سے مزین نظر آتا تھا۔سرد راتوں میں آپ کا پہلا پان گفتگو کا ایک دورانیہ طے کرتا تھا۔دوسرے دور کے لیے مصباحی صاحب کی انگلیاں دو ہی کام کرتی تھیں، اپنے لیے پان لگانے کا اور ہم جیسے حاضر باشوں کے لیے چائے منگانے کا۔
اس کام کے لیے مصباحی صاحب کے پاس ایک چھوٹی سی گھنٹی لگی ہوئی تھی، آپ کی انگلی بٹن دباتی اور آپ کے خادم خاص حاضر ہو جاتے۔مصباحی صاحب کے خادم خاص بھی سفید ریش اور علما نواز تھے، رات کے حصے میں خاصی لذیذ چائے پیش کر دیا کرتے تھے۔گفتگو کا دورانیہ مختصر ہوتا تو چائے خاصی اجلی رنگت والی ہوتی تھی اور گفتگو لمبی چلنے والی ہوتی تو دوسری چائے کا روپ تبدیل ہو جاتا تھا اور اجلی رنگت بلالی رنگت میں تبدیل ہوجاتی تھی۔لیکن یہ تبدیلی محض ظاہری شکل و صورت کی ہوتی تھی، دوسری چائے ہمیشہ ہی پہلی کے مقابلے زیادہ لذیذ ہوا کرتی تھی۔
کوئی صاحب اجلی اور بلالی چائے کو مصباحی صاحب کی کفایت شعاری نہ سمجھیں بل کہ بعد والی بلالی چائے اصل میں لیموں چائے ہوا کرتی تھی جسے ممبئی کی زبان میں سلیمانی چائے بھی کہا جاتا ہے۔
(جاری)
9 ذوالقعدہ 1446ھ
8 مئی 2025 بروز جمعرات
Follow the page for more contents
Al Jamiatul Ashrafia Mubarakpur Azamgarh Aljamiatul Ashrafia Jamia Ashrafia Official
26/03/2025
26/03/2025
Al Jamiatul Ashrafia Mubarakpur Azamgarh
19/02/2025
جامعہ اشرفیہ کے امتحان داخلہ کی نئی تاریخ جاری 👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
Al Jamiatul Ashrafia Mubarakpur Azamgarh
18/02/2025
اعلان خاص
اشرفیہ کے امتحان داخلہ کی تاریخ منسوخ
اب امتحان داخلہ ان شاءاللہ شوال 1446ھ میں ہوگا۔
16/01/2025
سراج الفقہا حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی عزیز المساجد، جامعہ اشرفیہ مبارک میں طلبہ اشرفیہ کو بخاری شریف کا آخری درس دیتے ہوۓ۔
Al Jamiatul Ashrafia Mubarakpur Azamgarh
10/01/2025
جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں
تـقـریـب خـتـم بـخــاری شـریـف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علما فرماتے ہیں کہ ختم بخاری شریف کے وقت دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
إن شاء الله 16؍ جنوری 2025ء بروز جمعرات، بوقت صبح، عزیز المساجد جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں سراج الفقہا، حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی ، شیخ الحدیث و صدر شعبۂ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور "صحیح بخاری شریف"
کا آخری درس دیں گے۔ اس بابرکت درس میں شرکت فرماکر سعادت دارین سے مالا مال ہوں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Arabic University Of India
Azamgarh
MUBARAKPUR
