Geo intertainment
Welcome! 🎬 Original Content Creator
📸 Latest Celebrity Photos
📰 Authentic & Verified News"
02/07/2026
جیو انٹرٹینمنٹ کی طرف سے چیلنج ھے۔ کون کتنا بڑا فین ھے صائمہ نور جی کا جس کے پاس جتنی تصویریں ھوں کمنٹ میں سنڈ کرے صرف تصویریں اور ❤سنڈ کرنیے ھیں
02/07/2026
02/07/2026
معروف اداکارہ و میزبان جگن کاظم نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں تفریحی مقامات پر بکھرے ہوئے کچرے، پلاسٹک کی بوتلوں اور ریپرز کی نشاندہی کرتے ہوئے عوامی رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو لوگ ملک کی مخدوش صورتحال کا گلہ کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب خود صفائی ستھرائی کی بنیادی ذمہ داریوں سے بالکل غافل نظر آتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ ملک کے مستقبل اور حالات کی خرابی کا رونا تو روتے ہیں، مگر جب تک ہم بطور شہری اپنے کچرے اور صفائی کی ذاتی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، تب تک معاشرے میں کسی بھی مثبت تبدیلی کی امید رکھنا فضول ہے۔ اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ عموماً سوشل میڈیا پر سخت لہجہ یا الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرتی ہیں، لیکن اس افسوسناک صورتحال اور سنگین غفلت کو دیکھ کر ان کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔
02/07/2026
وقار یونس پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کی تیز رفتار اور ہلاکت خیز یارکرز نے دنیا کے مایہ ناز بلے بازوں کو ہمیشہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ کرکٹ کی دنیا پر راج کرنے والے یہ سابق فاسٹ باؤلر ان دنوں لاہور میں ایک پرسکون اور سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کا وقت زیادہ تر لاہور اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے درمیان سفر کرتے ہوئے گزرتا ہے، کیونکہ ان کا پورا خاندان وہیں مقیم ہے۔ ان کے بڑے بیٹے میڈیکل کی پڑھائی مکمل کر کے ڈاکٹر بن چکے ہیں، جبکہ بڑی بیٹی بھی اسی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اور سب سے چھوٹی بیٹی سڈنی میں قانون پڑھ رہی ہیں۔ وقار یونس کی شریکِ حیات، فریال، خود بھی پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں۔
وقار یونس کے دل میں آج بھی ایک پرانی کسک باقی ہے کہ وہ 1987 میں آسٹریلیا میں منعقد ہونے والے یوتھ ورلڈ کپ کا حصہ نہ بن سکے۔ اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں:
"اُن دنوں میں مسلسل وکٹیں اڑا رہا تھا اور انضمام الحق شاندار سینچریاں بنا رہے تھے۔ ہم دونوں کو پورا یقین تھا کہ ہمارا انتخاب پکا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انضمام تو چلے گئے اور میں رہ گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ میرٹ کے بجائے سفارش چل گئی اور فیصل آباد کے ایک کمشنر کے بیٹے کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ وہ نوجوان صرف آسٹریلیا کی سیر کرنے گیا تھا، اسے میچز کھیلنے سے کوئی سروکار نہیں تھا اور نہ ہی اس نے وہاں کوئی میچ کھیلا۔"
ان کے بائیں ہاتھ کی ایک انگلی نہ ہونے کا قصہ بھی بڑا حیرت انگیز ہے۔ وقار یونس بتاتے ہیں کہ لڑکپن میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر نہر میں نہایا کرتے تھے اور نہر پر بنے ہوئے پل کے لوہے کے جال کو پکڑ کر اوپر چڑھا کرتے تھے۔
"ایک روز نہانے کے بعد جب میں اوپر چڑھ رہا تھا تو اچانک میرا پاؤں سلپ ہو گیا۔ خود کو سنبھالنے کے لیے میں نے لپک کر لوہے کے جال کو پکڑنے کی کوشش کی، لیکن ایک ہاتھ چھوٹ گیا۔ جب دوسرے ہاتھ سے پورا وزن روکنے کی کوشش کی تو میری انگلی اس لوہے کے جال میں پھنس کر کٹ گئی۔ میں وہاں سے سیدھا نیچے گرا، جس کے نتیجے میں میری دو پسلیاں بھی فریکچر ہو گئیں اور مجھے ایک بڑے آپریشن سے گزرنا پڑا۔"
جہاں تک ان کی محبت اور شادی کا تعلق ہے، تو یہ کہانی بھی کسی فلمی سین سے کم نہیں ہے۔ لاہور میں ایک میچ کے دوران فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبات کا ایک گروپ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آیا ہوا تھا، جن میں فریال بھی موجود تھیں۔
"میرا دھیان فریال پر پڑا اور وہ پہلی ہی نظر میں میرے دل میں اتر گئیں۔ میں نے اسی وقت پکا ارادہ کر لیا کہ شادی صرف انہی سے کروں گا۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ جاننا تھا کہ کیا وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہیں؟"
چونکہ فریال کا خاندان آسٹریلیا میں سیٹ تھا، اس لیے کچھ ابتدائی ملاقاتوں اور جان پہچان کے بعد وقار یونس نے باقاعدہ طور پر ان کے گھر رشتہ بھیجا، جسے ان کے گھر والوں نے بخوشی قبول کر لیا۔ یوں یہ دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر بن گئے اور آج یہ رشتہ ایک انتہائی کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی کی بہترین مثال ہے
01/07/2026
ڈراما انڈسٹری کی مایہ ناز اداکارہ کنزا ہاشمی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں انڈر ریٹڈ مانا جاتا ہے، لیکن وہ اس سوچ کو خود پر حاوی نہیں کرتیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض مواقع پر انہیں بھی یہ احساس ہوا کہ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو کماحقہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اپنی کارکردگی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک ہی ڈرامے میں دو متضاد کردار ادا کرنا ان کی ورسٹائل اداکاری کا ثبوت ہے۔ کنزا ہاشمی کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ چیلنجنگ اور اچھوتے کرداروں کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ اپنی اداکاری کے مختلف رنگ دکھا سکیں، اور ان کے تمام پچھلے ڈرامے اس منفرد انتخاب کی واضح مثال ہیں
01/07/2026
جب عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی ادھوری محبت کا قصہ سنایا
01/07/2026
ایک نجی ٹی وی چینل کے کامیڈی شو کے دوران جب میزبان نے معروف اداکار وسیم عباس کو ان کے بیٹے علی عباس کے ساتھ ایک تصویر دکھائی، تو انہوں نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ میری اور علی کی تصویر ہے۔ میں نے اس پر لکھا تھا کہ یہ 'میں اور میرا عکس' ہے، کیونکہ وہ میرا ہی بیٹا اور میرا پرتو ہے، میری وفات کے بعد لوگ مجھے اسی کے روپ میں دیکھیں گے۔"
اپنے اس پرانے بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "میں کراچی جانے پر بیٹے کے ہاں قیام نہیں کرتا"، کی وضاحت پیش کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ "میرے اس جملے کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا کہ میرا بیٹا یا بہو میری قدر نہیں کرتے۔ جب بھی میں ان کے ہاں رکتا ہوں، میری بہو خود اپنے ہاتھوں سے میرے لیے کھانا بناتی ہے اور مجھے بالکل تازہ اور گرما گرم روٹیاں پیش کرتی ہے۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ "میں کئی بار بہو سے کہتا ہوں کہ کھانا مائیکرو ویو اوون میں گرم کر لیا کرے، لیکن وہ میری خاطر ایسا نہیں کرتی اور خود چولہے پر بناتی ہے۔"
وسیم عباس کا کہنا تھا کہ "میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ مجھے ان کے ساتھ مستقل رہ کر ان کی نجی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے، اسی لیے میں الگ ہوٹل وغیرہ میں ٹھہرتا ہوں اور ویک اینڈ پر ان سے ملنے چلا جاتا ہوں۔"
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ "میرا ماننا ہے کہ فنِ اداکاری کوئی کسی کو سکھا نہیں سکتا، یہ انسان کے اندر خود بخود بیدار ہوتی ہے۔ میں اتنے سالوں بعد بھی خود کو اداکاری کا ایک معمولی شاگرد ہی مانتا ہوں۔"
01/07/2026
برصغیر کی مایہ ناز اور سینئر اداکارہ زینت امان، جنہوں نے اپنی جاندار اداکاری سے فلم انڈسٹری پر گہرے نقوش چھوڑے، مختلف سماجی و معاشرتی موضوعات پر اپنی بے باک اور کھل کر رائے دینے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک بار پھر 'لیو اِن ریلیشن شپ' بغیر نکاح کے یکجا رہنے جیسے حساس اور متنازع موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
زینت امان کا ماننا ہے کہ شادی ایک انتہائی سنجیدہ اور بڑا لائف ٹائم کمٹمنٹ ہے، اس لیے اس بندھن میں بندھنے سے پہلے دونوں شراکت داروں کے درمیان ذہنی اور عملی ہم آہنگی کا ہونا لازمی ہے۔ ان کے مطابق، ایک چھت تلے رہنے سے دونوں افراد ایک دوسرے کے مزاج، عادات اور طرزِ زندگی کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں اداکارہ نے واضح کیا کہ کوئی بھی رشتہ اسی وقت پائیدار ہو سکتا ہے جب دونوں فریقین کی ذہنی اور جذباتی فریکوئنسی آپس میں ملتی ہو۔ خاص طور پر زندگی کے اہم معاملات، جیسے کہ مالیاتی فیصلے اور بچوں کی پرورش پر یکساں سوچ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ اگر ابتدا ہی میں یہ مطابقت نہ ہو، تو مستقبل میں رشتہ شدید تلخیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
"رشتے مستقل تبدیلی کا نام ہیں زینت امان کے مطابق، انسانی تعلقات وقت کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں اور کوئی بھی رشتہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جسے کامیاب بنانے کے لیے باہمی سمجھوتہ، مؤثر گفتگو اور گہری سمجھ بوجھ ناگزیر ہے۔ 5 سالہ آزمائشی دور کا مشورہ
اپنے اسی موقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے کم از کم پانچ سال تک ساتھ رہ کر ایک دوسرے کو پرکھنا چاہیے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی پچھتاوے یا غلط فیصلے سے بچا جا سکے۔
ذاتی زندگی کے تلخ تجربات
اپنی رائے کے حق میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی دو شادیاں ہوئیں، لیکن بدقسمتی سے دونوں ہی ناکام رہیں اور انہیں خوشی کے بجائے شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ سنجے خان کے ساتھ ان کی پہلی شادی گھریلو تشدد اور تلخیوں کی نذر ہوئی، جبکہ اداکار مظہر خان کے ساتھ دوسری شادی (جس سے ان کے دو بیٹے ہیں) بھی کامیاب نہ ہو سکی اور علیحدگی پر ختم ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تلخ تجربات کے بعد انہوں نے تنہا اپنے بیٹوں کی پرورش کی، اور یہی وجہ ہے کہ وہ رشتے کو باقاعدہ نام دینے سے پہلے اس کی مضبوطی کو پرکھنے پر زور دیتی ہیں۔
01/07/2026
مقبول اداکار خالد انعم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک انتہائی گہری بات شیئر کرتے ہوئے لکھا، "انسان کو اتنا پیسہ ضرور کمانا چاہیے کہ علالت کی صورت میں اسے کسی ماہر معالج کی ضرورت پڑے، نہ کہ کسی قانونی ماہر (وکیل) کی سہاروں کی۔"
ان کا مدعا یہ تھا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی اس انداز میں بسر کرنی چاہیے جہاں تندرستی کو سب سے مقدم رکھا جائے۔ کیونکہ جب انسان علیل ہو، تو اس کے سرمائے کا بہترین اور درست استعمال اس کی شفا یابی پر ہونا چاہیے، نہ کہ کچہریوں اور قانونی چکروں کی نذر۔
فنکار کے اس اچھوتے اور پُرمغز خیال کو سوشل میڈیا پر بے حد پسند کیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے اسے زندگی کا ایک سنہرا اصول قرار دیتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایک پرسکون زندگی کے لیے اچھی صحت اور قانون کا احترام
دونوں ہی بے حد ضروری ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Punjab
Bahawalpur
