SohnaPind 197EB
197eb People information
عیدالاضحی مبارکباد
تعمیر کیتے جیہڑے دل وچ میں
تیرے خلق دے بت مسمار ہو گئے
انجے نت دے تیرے طنزاں طعنے
میرے مانڑ کیتے تلوار ہو گئے
نفرت دیاں تیراں دے کارن
میرے دل تے کاری وار ہو گئے
مطلب تائیں جیون شاہ راہندن
سجنڑاں دے انج کردار ہو گئے
جیون شاہ بخاری فرام عارف والا
21/05/2026
اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنئیے۔۔
میں آج تک اس راز کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا کہ آخر کچھ نغمے خود اپنے وجود میں اتنی الوہیت اتنی سحر انگیزی اور ایسی ازلی کشش رکھتے ہیں کہ اپنے گلوکار کے ہونٹوں کو چھو کر اسے بھی امر کر دیتے ہیں؟
یا پھر یہ ان آوازوں اور شخصیتوں کا کرشمہ ہوتا ہے جو غیرمعمولی جادو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی ہیں کہ نغمے جب ان کے لبوں سے جنم لیتے ہیں تو وقت کی زنجیروں سے آزاد ہو کر سدا بہار ہو جاتے ہیں... اور پھر خاموشی سے لاکھوں دلوں کو اپنی گرفت میں لے کر انہیں اپنا اسیر بنا لیتے ہیں....
ایک دن فیس بک پہ سکرولنگ کرتے ہوئے ملتان کے سید فہیم ساجد بخاری بھائی کا ایک کلپ دکھائی دیا..... وہ لوک گیت، نعتیہ اور صوفی کلام اپنی خوبصورت اور جادو بھری آواز میں گاتے اور سناتے رہتے ہیں...
مختلف مقامی ثقافتی اجتماعات اور محفلوں میں انہیں مدعو کیا جاتا ہے..... ان کی آواز اتنی مسحور کن اور میٹھی ہے کہ موسیقی کے بغیر بھی انسان کو مضمحل اور مفلوج کردیتی ہے....
پنجاب کی ثقافت کا رس ان کی آواز میں گھلا ہوا ہے... فیس بک پہ ان کا ایک پیج بھی ہے جہاں پر وہ وقتا فوقتاً چھوٹے بڑے ویڈیو کلپس اپلوڈ کرتے رہتے ہیں ۔۔
اس کلپ میں وہ جنوب وسطی پنجاب کے خدائے موسیقی استاد منصور علی ملنگی کا گایا ہوا مشہور گیت "اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنئیے" اپنی آواز میں گارہے تھے....
کلام کچھ ایسا تھا... کہ دل بے اختیار اس کی طرف کھنچتا چلا گیا.... میں سوچنے لگا... کہ ہو نہ ہو یوٹیوب پہ یہ عظیم گیت مکمل صورت میں مل جائے گا.....
دوستو.. اسی کلپ کی وجہ سے میرا تعارف اس عظیم گلوکار منصور علی ملنگی سے ہوا.... کیا کلام ہے..... سن کے ایک عجیب طرح کی غنودگی چھا جاتی ہے انسان پہ....... یوں لگتا ہے جیسے روح اس فانی پنجرے سے آزاد ہو کر ہواؤں کے دوش پر سفید بادلوں کے درمیان اڑ رہی ہو.........
ایک سحر ہے... ایک جادو ہے......
ذرا کچھ بول ملاحظہ کیجئے.....
مندا ہووے انہاں لوکاں دا جنہاں ساڈے سجن نکھیڑے
منہ تے کر کے مٹھیاں گلاں ونج دیندین غلط سنیڑے
توں ماہی آباد رویں ساڈے دس چا زور نی کیہڑے
جور سجن پردیسی دے ماہی سنجے وے ڈسیندے ویہڑے
تانی تنی ہوئی اے
سٹے نئیں چن ماہی ڈاڈھی رونک بنی ہوئی اے
سن حسن دیے سرکارے
نہیں رسدے سجن پیارے
اک پھل موتیئے دا مار کے جگا سوہنئیے.
جو لوگ استاد منصور علی ملنگی کو نہیں جانتے انہیں بتاتا چلوں کہ وہ 1947 میں پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے...... ان کے والد بھی ایک گلوکار تھے..... انہوں نے بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ مل کر دنیائے موسیقی میں قدم رکھا......
لیکن ان کو شہرت تب ملی جب انہوں نے 1974 میں یہ گانا اپنی جادو بھری آواز میں گا کر لاکھوں انسانوں کو مسحور کردیا........
اس گانے نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا...... ان کو پنجاب کی لوک گلوکاری اور موسیقی کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے...... اس کے علاوہ انہوں نے اور بھی ہٹ گیت پیش کیے.... جیسے "کیہڑی غلطی ہوی اے ظالم " اور بلوچا ظالما وغیرہ.......
اس کے علاوہ انہوں نے خواجہ غلام فرید کا صوفی کلام بھی گایا..... جیسے اکھ پھڑکاندی اے، وچ روہی دے اور گزر گیا دن سارا..........
2012 میں ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز عطا کیا گیا... جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ حق با حق دار رسید کی عملی مثال قائم کی گئی..... حالانکہ اقربا پروری کے اس دور میں قابل اور ہنر مند فنکاروں اور کلاکاروں کے بارے میں شدید غفلت برتی جاتی ہے...... بہرحال...
سچی بات بتاؤں تو موسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی، کوئی سرحد نہیں ہوتی...کوئی قومیت نہیں ہوتی...... موسیقی ایک آفاقی اور ہمہ گیر حقیقت ہے.... جس کا انکار شاید ہی کوئی کر سکے.... اگر ایسا ہوتا.. تو یہ پٹھان استاد کی آواز سن کر مسحور کیوں ہوتا....... اور ان کو خراج عقیدت کیسے پیش کرتا...
میشکات اللّه خان / Film Walay فلم والے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Burewala
