Crunchy Bites ASMR
my fb page like and follow plz
30/09/2025
"چراغِ راہ کی روشنی بس لمحہ بھر کا سہارا ہے،
ورنہ یہ سفر صدیوں کی تنہائی سنبھالے ہوئے ہے۔💖
ہر مسافر جانتا ہے کہ راستے کی روشنی وقتی ہوتی ہے،
اصل سفر تو وہ ہے جو دل کے اندر طے ہوتا ہے۔" 🌷🚶♂️
25/09/2025
*ایک ماں کی اصل ذمہ داری اسکے بچوں کی تربیت ہے*
عید کے دن ملاقات ہوئی۔۔
یونیورسٹی کے زمانے کی دوست ہیں اپنی تین عشرے پہلے کی یادیں دہرا رہی تھی۔۔۔
*شعبہ فارمیسی کی گولڈ میڈلسٹ ہیں۔۔ بولیں:" جب مجھے پتہ چلتا تھا کہ میری دوستوں کو فلاں فرم* *میں اتنی اچھی ملازمت* *مل گئی۔* ۔۔
کسی کو یونیورسٹی سے لیکچرر شپ کی آفر آئی تو میرے اندر ایک کسک اٹھتی کہ میں بھی جاب کرتی, اپنا کیریئر بناتی۔۔۔
اللہ نے شادی کے بعد اولاد کی نعمت سے نوازا۔۔۔
*اس وقت شادی کو پانچ برس ہوئے تھے میرے تین بچے تھے۔۔۔*
ایک دن میں اپنی ساس کے پاس آئی اور میں نے کہا:" میرا دل چاہتا ہے میں ملازمت کروں۔۔
گاہے گاہے گھر میں اس خواہش کا ذکر کرتی رہتی تھی۔۔ دیور نے ایک ویکینسی لا کر دکھائی کہ۔۔
بھابھی آپ تو اس اہلیت پر پورا اترتی ہیں۔۔ بس میرے دل کی حسرت چٹکیاں لینے لگی۔۔
میں سسرال کے گھر میں رہتی تھی۔۔ اماں اس وقت کپڑے سی رہی تھیں۔۔۔
کپڑے سینا ان کا سب سے پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔ بھرے پرے کنبے میں شاید ہی کوئی بچی ہو جس نے دادی, نانی کے ہاتھ کے سلے ہوئے آڑے پاجامے, غرار شرارے نہ پہنے ہوں۔ملازمت کا سن کر لمحے بھر کو سلائی کرتے کرتے ان کے ہاتھ رک گئے۔۔ انہوں نے بغور میرے چہرے کی طرف دیکھا اور دوبارہ نظریں مشین پر گاڑھ دیں۔
بولیں :"ہاں ہاں ضرور"۔
*میں نے پوچھا:"بچوں کو آپ سنبھال لیں گی؟"*
*بولیں:" دیکھا جائے گا,اللہ مالک ہے"۔*
*میں ان کے پاس سے اٹھ کر آگئی* ۔
*میرا دل اتنا بڑا ہو گیا ان کے اس مثبت جواب سے۔۔*
کیونکہ میں اس جواب کی توقع نہیں کر رہی تھی۔۔ تین بچوں کو سنبھالنا کوئی اسان بات تو نہ تھی۔۔۔
انہوں نے اس بات سے میرے دل میں مزید گھر کر لیا۔۔
*میں جب خود سوچتی کہ مجھے ایسا کرنا چاہیے تو میری اپنی ہمت جواب دے جاتی کہ تین بچوں کا حق مارا جائے گا۔۔۔*
ہمارے شعبے میں ایک ویکنسی نکلی تو ہماری سربراہ شعبہ نے میری دوست کو اس کی آفر کی۔۔
جب اس نے مجھے فون کرکے فخریہ بتایا تو میرا دل بہت دکھا کہ میں تو گولڈ میڈلسٹ ہوں میڈم نے مجھے کیوں نہیں آفر کی؟
بس میں ڈیپارٹمنٹ پہنچ گئی۔۔میں نے جا کر میڈم سے شکوہ کیا کہ اس لیکچرر شپ کی اہلیت پر تو میں بھی پورا اترتی تھی؟
*وہ بولیں:" میں نے تمہارا معلوم کیا۔۔ مجھے پتہ چلا تمہارے* *ماشاءاللہ بچے ہیں۔۔تمہیں اللہ نے زیادہ بڑی جاب کے لیے منتخب کیا ہے۔۔ دنیا میں بچوں کو سنبھالنے* *سے بڑی کوئی ملازمت ہے؟*
*یہ تو بہت بڑی سعادت اور کیریئر ہے"۔*
*میرے دکھتے دل پر جیسے کسی نے مرہم رکھ دیا۔میں مالا مال ہو کر گھر واپس آئی کہ میں تو اپنے کیریئر کے بہترین دور میں ہوں۔"۔*
قصہ مختصر یہ کہ عید کا دن بھی گزر گیا اور وہ نشست بھی۔۔۔
*کہنا یہ تھا کہ کبھی نظر بھر کے دیکھ لینا ہزار نصیحتوں پر بھاری ہوتا ہے۔۔*
*کبھی استاد کے شفقت سے کہے ہوئے دو جملے انسان کے لیے نشانات منزل کا تعین کر دیتے ہیں۔۔*
*اس لیے اگر آپ ساس ہیں تو* *ضروری نہیں کہ ہر بات پہ رد عمل کریں کبھی بہو کو صرف نظر بھر* *کے دیکھ لیا کریں وہ خود دادی بن کر بھی اس نظر کی لذت کو محسوس کرے گی۔۔۔*
*اگر آپ استاد ہیں تو اپنے ان دو جملوں کی وقعت پہچانیے جو طالب علم کے لیے نشانات منزل متعین کر دیں۔۔*
*ان پڑھ سی نظر آنے والی غریب عورت اتنا بڑا سبق پڑھا گئی*
سکول ٹیچر بس میں سوار ہوئی۔
*بس میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی,,,,*
*ایک غریب عورت جو سیٹ پر بیٹھی تھی ۔اِس نے بڑی عزت کے ساتھ آواز دی ،آپ یہاں بیٹھ جائیں ،"*
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ پر استانی کو بیٹھا دیا اور خود بس میں کھڑی ہو گئی *میڈم نے بہت بہت شکریہ ادا کیا اور "میری تو بری حالت تھی سچ میں "، کہتے ہوئے دعائیں دی، اس غریب عورت کے چہرے پر ایک خوشکن مسکان پھیل گئی کچھ دیر بعد استانی کی پاس والی سیٹ خالی ہو گئی ، لیکن اس عورت نے ایک اور عورت کو (جو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور مشکل سے بچے کو اٹھا پا رہی تھی) سیٹ پر بیٹھا دیا اگلے پڑاؤ پر بچے والی عورت بھی اتر گئی ، سیٹ پھر خالی ہوگئی* ،
*لیکن اس نیک دل عورت نے پھر بھی بیٹھنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ اس پر ایک کمزور اور بزرگ آدمی کو بیٹھا دیا ، جو ابھی ابھی بس میں سوار ہوئے تھے۔*
*مزید کچھ دیر کے بعد وہ بزرگ بھی اتر گئے ، سیٹ پھر سے خالی ہو گئی ،*
*بس میں اب چند مسافر ہی رہ گئے تھے ،*
اب اس استانی نے غریب خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ
*"کتنی بار سیٹ خالی ہوئی لیکن آپ لوگوں کو بٹھاتی رہیں ، خود نہیں بیٹھیں ، کیا بات ہے ؟*
اس خاتون نے جواب دیا
*میڈم میں مزدور ہوں ،* *میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کچھ صدقہ و خیرات کر سکوں ،*
*تو میں کیا کرتی ہوں کہ ، سڑک پر پڑے پتھروں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہوں ،*
*کبھی کسی ضرورت مند کو پانی پلا دیتی ہوں ،*
*کبھی بس میں کسی کے لیے سیٹ چھوڑ دیتی ہوں ،*
*پھر جب سامنے والا مجھے دعائیں دیتا ہے تو میں اپنی غربت بھول جاتی ہوں ، میری دن بھر کی تھکن دور ہو جاتی ہے ،*
*اور تو اور ، جب میں روٹی کھانے کے لیے باہر بینچ پر بیٹھی ہوتی ہوں، کچھ پرندے میرے قریب آکر بیٹھ جاتے ہیں ، میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے انکے سامنے ڈال دیتی ہوں ،*
*جب وہ خوشی سے چلاتی ہیں تو خدا کی اس مخلوق کو خوش دیکھ کر میرا پیٹ بھر جاتا ہے ،*
*روپے پیسے نہ سہی ، سوچتی ہوں دعائیں تو مل ہی جاتی ہوں گی ، مفت میں ، فائدہ ہی ہے نا ،*
*اور ہمیں لے کر جانا ہی کیا ہے اس دنیا سے ۔ "*
*استانی ہکا بکا رہ گئیں ،*
*ایک ان پڑھ سی نظر آنے والی غریب عورت اتنا بڑا سبق جو انہیں پڑھا گئی*
اگر دنیا کے آدھے لوگ بھی ایسی خوبصورت اور مثبت سوچ اپنا لیں تو یہ زمین جنت بن جائے گی ہم سب کے لئے ۔
10/08/2025
Achieving success being a top priority for you, it is essential that you surmount your diffidence, take bold initiatives, and create your own trajectory. The outcome of your future pursuits depends on the decisions you make at present.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Sha Aalim Colany
Faisalabad
