Health is Gold
In this Era health is better than gold and diamond, I will show authentic information and tips about
The best thing for a health drink hot water in the Early
26/06/2026
Pakistan Zindabad
What are the fruits and foods that typically contain elevated levels of vitamin B12?
یہ 1960 کی بات ہے…
ایک جرمن خاتون، عمر صرف تیس برس، نوجوان، حسین، اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر۔
نام تھا ڈاکٹر رتھ فاؤ۔
وہ پاکستان کیوں آئیں؟
وجہ ایک BBC لندن کی ڈاکومنٹری تھی—
جس میں پاکستان میں جذام (کوڑھ) کے مریضوں کی اذیت ناک زندگی دکھائی گئی تھی۔
اس زمانے میں جذام کو عذابِ الٰہی سمجھا جاتا تھا۔
مریضوں کو معاشرے سے کاٹ دیا جاتا،
جسم پر زخم، پیپ، گلتا ہوا گوشت…
اور اس پر انسانوں کی نفرت—
یہ بیماری سے بھی بڑا عذاب تھا۔
کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ پر ایک جگہ تھی،
جہاں جذام کے مریضوں کو ڈال دیا جاتا۔
لوگ دیوار کے اُس پار سے صرف روٹیاں پھینک جاتے تھے…
قریب جانا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔
اور پھر وہ خاتون آئیں۔
1960 میں ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستان پہنچیں
اور انہی مریضوں کے درمیان ایک جھونپڑی میں کلینک کھولا۔
زخم دھوئے، مرہم رکھی،
ان ہاتھوں کو تھاما جن سے سب نے منہ موڑ لیا تھا۔
تین سال صرف ایک بات سمجھانے میں لگے:
👉 جذام بیماری ہے، سزا نہیں۔
1963 میں ڈاکٹر آئی کے گل اور نرسیں ساتھ مل گئیں۔
اکیلی عورت کا سفر اب قافلہ بننے لگا۔
1965 میں
“میری ایڈ لیپریسی سینٹر” قائم ہوا—
وہ جگہ جہاں نفرت کے مارے انسانوں کو
وقار، علاج اور زندگی واپس ملی۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ نے شادی نہیں کی،
ایک کمرے میں زندگی گزاری—
ایک چارپائی، پانی کا کولر اور چند کتابیں۔
بس یہی ان کی کل دولت تھی۔
1990 میں انہیں پاکستانی شہریت دی گئی۔
اور 1996 میں
عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دیا—
ایشیا کا پہلا ملک!
لیکن وہ نہیں رکیں…
سانس کی آخری رمق تک خدمت جاری رکھی۔
10 اگست 2017
وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
اور 19 اگست کو اسی سرزمین میں دفن ہوئیں
جسے انہوں نے 57 سال دیے۔
وہ خاتون کسی مذہب، قوم یا سرحد کی نہیں تھی—
وہ انسانیت کی تھی۔
اور پاکستان کے لیے
اللہ کی رحمت کا ایک پیغام تھی۔
⸻🌸
کچھ لوگ تاریخ میں نام نہیں، نشان چھوڑ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ — انسانیت کی زندہ مثال 🇵🇰🤍
This message is about a scam warning regarding phone numbers starting with +371, +375, +381, and other international codes. Here's the translation and summary:
*Scam Alert:*
People are receiving calls from these numbers: +94777455913, +37127913091, +37178565072, +56322553736, +37052529259, +255901130460, and others starting with +371, +375, +381.
These scammers:
- Call, ring once, and hang up
- If you call back, they:
- Copy your contact list in 3 seconds
- Steal bank or credit card info if stored on your phone
*Country Codes:*
- +375: Belarus
- +371: Latvia
- +381: Serbia
- +563: Valparaiso
- +370: Vilnius
- +255: Tanzania
*Warning:*
- Don't answer or call back
- Don't dial * #90 or * #09 if prompted
- This scam allows them to control your SIM, make calls, or frame you in a crime
*Source:* Punjab Police - Cyber Crime Department
Please share this message to keep others safe.
یہ پیغام *بہت ہی ضروری* ہے — براہِ کرم فوراً اپنے خاندان اور دوستوں تک پہنچائیں:
لوگوں کو درج ذیل نمبروں سے کالز آ رہی ہیں:
- +94777455913
- +37127913091
- +37178565072
- +56322553736
- +37052529259
- +255901130460
اور کوئی بھی نمبر جو +371، +375، +381 سے شروع ہو۔
یہ لوگ صرف ایک بار گھنٹی دے کر کال بند کر دیتے ہیں۔
اگر آپ کال واپس کریں تو یہ لوگ:
- صرف *3 سیکنڈ میں* آپ کی *کانٹیکٹ لسٹ* کاپی کر لیتے ہیں
- اگر آپ کے فون میں بینک یا کریڈٹ کارڈ کی معلومات ہیں تو وہ بھی چوری ہو سکتی ہے۔
*ملکوں کے کوڈز:*
- +375: بیلاروس
- +371: لٹویا
- +381: سربیا
- +563: والپیراسو
- +370: وِلنیئس
- +255: تنزانیہ
*خبردار!*
نہ کال کا جواب دیں، نہ واپس کال کریں۔
اور اگر کوئی آپ کو کہے کہ موبائل پر * #90* یا * #09* ڈائل کریں —
تو *ہرگز نہ کریں!*
یہ ایک نیا طریقہ ہے جس سے وہ آپ کا SIM کنٹرول کر سکتے ہیں، آپ کے خرچے پر کالز کر سکتے ہیں، یا آپ کو کسی جرم میں پھنسا سکتے ہیں۔
براہِ کرم یہ پیغام جتنا ممکن ہو، آگے شیئر کریں تاکہ لوگ محفوظ رہیں۔
*بذریعہ:*
*پنجاب پولیس — سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Seceem 33 Ali Complex Super Hogh Way
Karachi
