Faiz Bin Ismail

Faiz Bin Ismail

Share

𝐌𝐎𝐓𝐈𝐕𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝐅𝐎𝐑 𝐘𝐎𝐔𝐓𝐇
𝐈𝐒𝐋𝐀𝐌𝐈𝐂 𝐂𝐈𝐕𝐈𝐋𝐈𝐙𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍

09/07/2024

*تحریر: فیض الحسن*

*طاغوت کا مختصر تعارف* :

کچھ ایام سے سوشل میڈیا پر دیکھا جارہا ہے کہ طاغوت کے متعلق ایک ہنگامہ مچایا ہوا ہے ایک شو میں کسی موٹیویشنل سپیکر نے ٪95 عورتوں کو جاہل قرار دیا تھا۔اب شاید لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ طاغوت کے بارے میں وہ جان کر عَالِم ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ارکانِ اسلام و فرائضِ اسلام کا علم ہر شخص پر لازم ہے۔ بہرحال میں اس بات کا تأثر دیے بغیر کہ کون جاہل ہے اور کون عالم ہے ۔ طاغوت کے متعلق ایک ناقص تحریر جس میں سلف و صالحین کے اقوال پیش کرکے معنیٔ طاغوت و مفہومِ طاغوت پیش کردوں گا۔

طاغوت کا لغوی معنی :

لفظِ طاغوت ، طغیان سے ماخوذ ہے اور طغیان کا معنی نافرمان ، سرکش ، ظالم ہے۔ (تفسیرِ کبیر , طبری ، بغوی وغیرہ)

اصطلاحی معنی :

امام جرجانی متوفی(816ھ) اپنی کتاب التعریفات میں لکھتے ہیں:
طغیان: مجاوزة الحد فى العصيان.
نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا طغیان کہلاتا ہے۔(التعریفات:183)

امام راغب اصفہانی متوفی(445ھ) اپنی کتاب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں:

الطاغوت:عبارة عن كل متعبد و كل معبود من دون الله.
طاغوت عبارت ہے ہر وہ شخص جو اپنی عبادت کروائے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرے۔(مفردات قرآن:520)

طاغوت کے اصطلاحی مفہوم کے بارے میں سلف صالحین کے اقوال :

امام فخر الدین رازی متوفی(606ھ) طاغوت کے متعلق لکھتے ہیں:

ذَكَرَ المُفَسِّرُونَ فِيهِ خَمْسَةَ أقْوالٍ:
الأوَّلُ: قالَ عُمَرُ ومُجاهِدٌ وقَتادَةُ: هو الشَّيْطانُ.
الثّانِي: قالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: الكاهِنُ.
الثّالِثُ: قالَ أبُو العالِيَةِ: هو السّاحِرُ.
الرّابِعُ: قالَ بَعْضُهم: الأصْنامُ.
الخامِسُ: أنَّهُ مَرَدَةُ الجِنِّ والإنْسِ وكُلُّ ما يَطْغى.

یعنی مفسرین نے طاغوت کے بارے میں پانچ اقوال بیان کیے ہیں:
(1) عمر و مجاہد و قتادہ فرماتے ہیں: کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
(2) سعید بن جبیر نے فرمایا: طاغوت سے مراد کاہن ہے۔
(3) ابو العالیہ نے فرمایا: کہ مراد جادو گر ہے۔
(4) بعض مفسرین نے کہا: بتوں کو پوجنے والے۔
(5) کہ طاغوت سے مراد نافرمان جن و انس ہیں اور ہر وہ شخص جو سرکشی کرے۔

امام طبری متوفی(310ھ) تفسیرِ طبری میں لکھتے ہیں:

قال أبو جعفر: والصواب من القول عندي في"الطاغوت"، أنه كل ذي طغيان على الله، فعبد من دونه، إما بقهر منه لمن عبده، وإما بطاعة ممن عبده له، وإنسانا كان ذلك المعبود، أو شيطانا، أو وثنا، أو صنما، أو كائنا ما كان من شيء.

"طاغوت" کے بارے میں میری نزدیک یہ قول درست ہے کہ اِس سے مراد ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے خلاف سرکشی کرے اور اُسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ پُوجا جارہا ہو اُسکی پوجا یاتو اسکے جبر و قہر کی وجہ سے کی جارہی ہو یا پوجنے والوں کی طرف سے اطاعت کے جذبہ کے تحت اس کی پوجا کی جارہی ہو۔یہ معبود خواہ کوئی انسان ، شیطان ، بُت ہو یا دنیا کی کوئی بھی چیز۔

امام بغوی متوفی(516ھ) تفسیرِ بغوی میں لکھتے ہیں:

﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ﴾ يَعْنِي الشَّيْطَانَ، وَقِيلَ: كُلُّ مَا عُبِدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَعَالَى فَهُوَ طَاغُوتٌ.

(پس جو انکار کرے طاغوت کا) یعنی شیطان کا اور کہا جاتا ہے: ہر وہ شخص جس کی عبادت کی جائے اللہ تعالیٰ کے سوا وہ طاغوت ہے۔

علامہ ابنِ جوزی متوفی(597ھ) تفسیرِ ابن جوزی میں لکھتے ہیں:

فَأمّا الطّاغُوتُ؛ فَهو اسْمٌ مَأْخُوذٌ مِنَ الطُّغْيانِ، وهو مُجاوَزَةُ الحَدِّ.

طاغوت اسم ہے جوکہ طغیان سے ماخوذ ہے اور طغیان حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں۔

بخاری کتاب التفسیر سورة النساء میں عمر بن خطاب فرماتے ہیں:
الجبت السحر و الطاغوت الشیطان.
جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔

اسی میں سیدنا جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں:

کانت الطواغیت التی یتحاکمون الیھا فی جھینة واحد وفی اسلم واحد وفی کل حي واحد کھان ینزل علیھم الشیطان.
کہ طاغوت وہ ہوتے ہیں جن کے پاس لوگ فیصلے لیکر جاتے ہیں۔ جہینہ قبیلہ میں ایک طاغوت تھا۔اسلم قبیلے میں ایک طاغوت تھا۔اور اسی طرح ہر قبیلے میں ایک طاغوت ہوتا ہے۔ یہ طواعیت کاہن ہوتے ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں۔

حضرت پیر کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:
وہ شخص بھی طاغوت ہے جو کسی گمراہ مذہب ، غلط نظریہ اور مضر عمل کا بانی ہو اور کرتا دھرتا ہو۔(تفسیر ضیاء القرآن)

خلاصہ کلام :

زندگی کے کسی بھی میدان میں مخلوق کی بندگی کرنا کلمۂ توحید کے منافی ہے جبکہ اللہ تعالٰی کی توحید کا اقرار اور "طاغوت" کا انکار انبیاء اور رسل کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک بنیادی مقصد ہے۔ جب تک طاغوت کا انکار نہ کیا جائے اس وقت تک نہ تو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان مکمل ہوتا ہے نہ کوئی عمل قبول ہوتا ہے اور نہ ہی انسان کی جان و مال محفوظ ہوسکتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُؕ-فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ.
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو تو ان میں کسی کو اللہ نے ہدایت دیدی اور کسی پر گمراہی ثابت ہوگئی تو تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟ (سورة النحل:36)

کفر بالطاغوت تمام پیغمبروں کی پہلی ذمہ داری تھی اور کوئی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَمَن یَكۡفُرۡ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَیُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ.
جو شخص طاغوت سے انکار کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تحقیق اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (سورة البقرة:256)

رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے "لاالہ الااللہ"کا اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی پوجی جانے والی چیز کا انکار کیا اُس کا مال و خون حرام ہے اور اسکا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
(صحیح مسلم)

ضروری ہے کہ ایمان کا اظہار کرنے سے قبل طاغوت کا انکار کیا جائے۔ اگر طاغوت کا انکار کیے بغیر ہی ایمان کا اظہار کردیا گیا تو ایسا ایمان اس وقت تک فائدہ نہیں دے سکتا جب تک طاغوت کا انکار نہیں کیا جاتا اور شرک سے اجتناب نہیں کیا جاتا ایمان باللہ اور ایمان بالطاغوت دونوں کا کسی ایک آدمی کے دل میں اکٹھا ہونا ممکن نہیں خواہ ایسا ایک لمحہ کے لئے کیوں نہ ہو کیونکہ دونوں میں سے ایک پر ایمان دوسرے کی نفی کو مستلزم ہے۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے دل میں ایمان و کفر جمع نہیں ہوسکتے۔(سلسلہ الصحیحہ)۔

یہ مختصر سا تعارف تھا طاغوت کے بارے میں جوکہ درج ذیل ہے اور طاغوت بہت بڑا گناہ ہے۔ اور اسکی کئی اقسام بھی ہیں جوکہ اہل مفسرین نے اپنی کتب میں نقل کی ہیں ان تمام کا مختصر سی تحریر میں جمع کرنا ممکن نہیں۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ سے کہ وہ ہمیں طاغوت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یارب العالمین۔

23/03/2024

اللهم ارحم مسلمي فلسطين بغيب.

09/03/2024

04/03/2024

04/03/2024
13/02/2024

نماز کی فضیلت:

نماز اسلامی دین کی اہم ترین رکنوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایمان کی عملی تصدیق کا عہد ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے خالق سے تعلق برقرار کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کی راہنمائی میں رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نماز کی اہمیت کو بہت واضح طریقے سے بیان فرمایا ہے۔ جیسے:

1. سورة البقرة: آیت ۲۳۳
- ترجمہ: "اور نماز کو قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع میں (پر) انتظام کرو۔"

2. سورة البقرة: آیت ۲۸۲
- ترجمہ: "اور اگر تم سے پرہیزگار بندہ کی موت موقع آجائے تو اُس کے حق میں دونوں جماعت کے درمیان عدل کا حکم دو۔"

3. سورة آل عمران: آیت ۱۸۴
- ترجمہ: "تمہارے لیے روزوں کا معین کیا گیا ہے۔"

نماز کی فضیلت کو حدیث مبارکہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جیسے:

1. عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ"
- ترجمہ: "قیامت کے دن بندہ کا پہلا حساب نماز کے اعمال کا ہوگا۔ اگر وہ نماز درست ہوگئی تو بندہ کامیاب اور فائز ہوگا، اور اگر نماز مرتکب کرداری ہوگئی تو بندہ ناکام اور زیاں کار ہوگا۔"

2. رویت أبو هریرة رضی الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إِذَا أَقَامَ الْعَبْدُ الصَّلَاةَ، انْفَتَحَ بَابُ السَّمَاءِ فَغُفِّرَ لَهُ النَّفَقَةُ وَالْمُكْتُوبُ، وَتُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَيَتَشَهَّدُ بِالْمَلَكِ أَنْتُمْ أَوَّلُهُمْ فَلَكُمْ بَرَكَةٌ وَتَمَامُهَا"
- ترجمہ: "جب بندہ نماز قائم کرے تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اس کے لیے گناہوں کا معافی چاہیے اور اس کے لیے اس کی معیاری نماز کو قبول کر لیا جاتا ہے، اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اس کے لیے ملکوں کے سامنے گواہی دی جاتی ہے، کہ تم پہلا کروگے، اور اس کے لیے برکت ہے، جو کامیابی تک پہنچا دی جاتی ہے۔"

13/02/2024

نماز کی فضیلت:-

قرآن مجید:
- "إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ" (العنکبوت: ۴۵)
- ترجمہ: "بے شک نماز بدکاریوں اور ناپسندیدہ کاموں سے روکتی ہے۔ اور خدا کی یاد کرنا سب سے بڑی چیز ہے۔ اور خدا جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔"

احادیث مبارکہ:
- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنِّطِينَ."
- ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص دس آیات کے ساتھ نماز قائم کرے، وہ غافلین میں سے نہیں لکھا جاتا۔ اور جو شخص سو آیات کے ساتھ نماز قائم کرے، وہ نیک بندوں میں لکھا جاتا ہے۔ اور جو شخص ایک ہزار آیات کے ساتھ نماز قائم کرے، وہ مقنطروں میں لکھا جاتا ہے۔"

11/02/2024

حدیث مبارکہ سے دم کرنا ثابت ہوتا ہے اور یہ دم بھی جبریل علیہ السلام امت کے سب سے بہترین شخصیت حضور ﷺ کو لہذا اس دعا کو بخار کے وقت دم کیا کریں۔

11/02/2024

*زکوة دینے کی فضیلت*

*قرآنی آیات:*

1. *سورۃ البقرۃ (2:267):*
"الَّذِينَ يُؤْتُونَهُمُ الصَّدَقَاتِ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ"
*ترجمہ:* "وہ لوگ جو زکوة دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔"

2. *سورۃ البقرۃ (2:267):*
"يُرِيدُونَ أَن يُخْرِجُوا مِنَ النَّاسِ وَلَا يُخْرِجُونَ أَنفُسَهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ"
*ترجمہ:* "وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ لوگوں سے نکال دیا جائے، لیکن وہ خود نکلے نہیں جاتے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب معلوم کرتا ہے۔"

3. *سورۃ التوبہ (9:103):*
"خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"
*ترجمہ:* "ان کی مال سے صدقہ لے کر انہیں پاک کر، اور انہیں صفائی دے اور اپنی دعاؤں میں ان کے لئے درخواست کر۔ بے شک تیری نماز ان کے لئے سکون ہے، اور اللہ سنتا ہے، جانتا ہے۔"

4. *سورۃ الحشر (59:7):*
"مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"
*ترجمہ:* "جو مال اللہ نے اپنے رسول پر دیا ہے، وہ ہر قریت کے لوگوں، اللہ کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور راستے میں گم ہوئے کے لئے ہے تاکہ دولتمندوں میں فرق نہ ہو۔"

5. *سورۃ البقرۃ (2:261):*
"مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ"
*ترجمہ:* "وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، ان کا مثل ایسا ہے جیسا کہ ایک دانے کی مثل ہے جس نے سات سنبلیں دی ہیں اور ہر سنبلہ میں سو دانے ہیں، اور اللہ جو چاہے میں بڑھا دیتا ہے۔"

*احادیث مبارکہ:*

1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: بَنِي آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ"
*ترجمہ:* "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: بنی آدم! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔"

2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ"
*ترجمہ:* "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: "مال سے صدقہ دینے سے کبھی بھی مال کم نہیں ہوتا۔"

3. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ لَمْ يَؤُدِ الزَّكَاةَ لَمْ تَقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ"
*ترجمہ:* "حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص زکوة نہ دے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔"

4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"مَنْ آتَى الزَّكَاةَ كَانَ كَمَنْ لَمْ يَصْلُ رَحِمَهُ"
*ترجمہ:* "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص زکوة دے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اپنے رشتے داروں سے رحم نہ کرنے والا۔"

5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الْوَلَدِ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الْجَارِ"
*ترجمہ:* "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک صدقہ، رب کا غضب بجھا دیتی ہے، اولاد کا غضب بجھا دیتی ہے، اور ہمسایوں کا غضب بجھا دیتی ہے۔"

Category

Website

Address


Karachi
74900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiz Bin Ismail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Karachi.