Muhammad Adil binori
Allah is everything
وفاقی اردو یونیورسٹی عبد الحق کیمپس میں ایک شاندار عشق مصطفی واستحکام پاکستان سیمینار کے موقع پر یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ گفتگو ۔۔۔
تاریخ کے اَوراق اِس بات کی گواہی دینگے کہ جس دور میں وطنِ عزیز کی اکثریتی تعلیمی اداروں میں لا دینیت اور خُدا سے بے نیاز کرنے کی منظم کوششیں کی جا ری تھی۔۔۔۔
وہیں راہِ حق کے روح رواں روایتوں کے امین حق کی قندیلیں جلائے اپنے حصے کی شمع روشن کیئے تھے ۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اس کی عادت ہے پرانی۔۔۔۔
بدبخت گھر بلاتا ہے مار دیتا ہے😭
شہید اسماعیل ہانیہ
جس گھر میں بیوی کی آواز شوہر کے آواز سے بلند ہو جائے
اس گھر کا زوال شروع ہو جاتا ہے
پریس ریلز
وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس میں ہونے والے ناخوشگوار واقعے کی مسلم اسٹوڈنس آرگنائزیشن شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔
عبدالرحمٰن حنفی ناظم جامعہ اردو ایم ایس او
آج یونیورسٹی میں چند فرقہ پرست اور شرپسند عناصر کی جانب سے اساتذہ سے بدتمیزی اور بدمعاشی سے روکنے پر ایم۔ایس۔او کے زمہ دار فضل الرّحمٰن ایوبی بھائی کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی گئی اور شعبہ میں بلاوجہ انتشار پھیلانے کی عرض سے شور شرابہ، توڑ پھوڑ اور طلبہ و اساتذہ کو دھمکیاں دی گئی ۔
مسلم اسٹوڈنس آرگنائزیشن نام نہاد طلبہ تنظیم کی اس گھٹیا فعل کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور انتظامیہ سے درخواست کرتی ہے کہ ایسے شرپسند عناصر جن کا تعلیم سے دور دور تک واسطہ نہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کرے تاکہ آئندہ ایسی کسی بھی قسم کی شرانگیزی اور فساد سے جامعہ کا ماحول بچارہے اور طلبہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے پڑھائی کو جاری رکھے بصورت دیگر MSO اپنے طور پر ایکشن لینے پر مجبور ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار کنوینئر ناظم جامعہ عبدالرحمٰن حنفی اور انکے معاون محمد عادل نے اپنے جاری بیان میں دیا انکا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدہ لے بصورت دیگر اگر ایم ایس او کے کسی بھی کارکن کو کوئ نقصان پہنچا تو حالات کی زمہ دار انتظامیہ خود ہوگی ۔
منجانب: مسلم اسٹوڈنس آرگنائزیشن وفاقی اردو یونورسٹی عبدالحق کیمپس یونٹ خلفاء راشدین رضی اللّٰہ عنہم
29/04/2024
زندگی میں خوش رہنے کےلیے چند لوگوں کا ہونا بھی ضروری ہے
Crazy 4 ❤️
خود کو عقل کل سمجھنے والے
دراصل ناقص العقل ہوا کرتے ہیں
27/03/2024
#بدرِی_313
17 رمضان المبارک یوم الفرقان
غزوہ بدر
20/03/2024
*10 رمضان المبارک یوم وفات اُم المؤمنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللّٰہ عنہا💙*
بڑی امی جان ؓ ... !
اسلام کے ماتھے کا جھومر ، کائنات کے امام ﷺکی پہلی محبت ، عرب کی دھرتی پر ایک وسیع کاروبار رکھنے والی عظیم عورت نے کردار کی خوشبو سونگھی تو محبت کا ہاتھ بڑھا دیا ۔۔ اور کائنات کے امام ﷺ کو اپنا دولہا چن لیا ۔۔ کہ ان جیسا کردار اور حسن و جمال کا پیکر کوئ تھا ہی نہیں اس لئے آپ علیہ السلام ہی حضرت خدیجہؓ جیسی مدبر اور باوقار خاتون کی آنکھوں کا تارا ٹھہرے ۔۔ سو نکاح کرکے اپنی حیات کا شریک بنا دیا ۔۔ اور پھر محبت کی لڑی میں ایسا پرویا کے پچیس سال تک محبت کی انمول کہانیاں جنم لیتی گئیں ۔۔!!
پہلی وحی ۔۔ محبوب کی بے چینی ۔۔ آپؓ کے دلاسے ۔۔ پہلی دعوت ۔۔ اپنوں کے ستم اور پھر آپؓ کے حوصلے دینا ۔۔ کیسی دلفریب راتیں ہوں گی ۔۔ کیسے پربہار سے لمحے ۔۔ وہ چاند فلک سے کیسے ٹک کر دیکھتا ہوگا ۔۔ سارے دن کا تھکا ہارا خدا کا رسولﷺ دستک دیتا ہوگا ۔۔ اور ایک عورت دروازے پہ کھڑی اپنےمحبوب کی منتظر ہوگی ۔۔ وہ آتے ہوں گے ۔۔ تھکے ہارے ۔۔ ستم جھیلتے ہوئے ۔۔ طعنے سنتے ہوئے ۔۔ اپنوں کے تندو تیز نشتر اور طنز سے زخمی سینہ لیا ہوئے ۔۔ پتھر کھا کر ۔۔ اور گھر کی دہلیز میں وہ اور صرف ایک عورت ۔۔ آہ کس قدر محبت سے سب بتاتے ہوں گے ۔۔ ہماری امی جان ان کے اشک پونچھتی ہوں گی ۔۔ حوصلہ دیتی ہوں گی ۔۔ پسینہ سکھاتی ہوں گی ۔۔ ان کی مسکراہٹ بنتی ہوں گی ۔۔ اور ان کی مسکراہٹ کا منظر کائنات کا سب سے حسین منظر ہوتا ہوگا ۔۔ پچیس سالہ ایسی رفاقت جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئ ۔۔!!
ہمارے محبوب پیغمبرﷺجو محبتوں کی آماجگاہ ہیں ۔۔ انہوں نے ان سے ایسی محبت کی کہ ۔۔ ان کی آواز سے بھی عشق تھا ۔۔ جیسا کے بے لوث تعلق اور محبتوں میں ہوتا ہے ۔۔ محبوب کی ایک ایک شے سے عشق ۔۔ ایک دفعہ ماں جی ؓ کی بہن ہالہ بنت خویلد ؓ تشریف لائیں اور اجازت طلب کی ۔۔ ان کی آواز ماں جی کی آواز جیسی تھی ۔۔ ہائے ! وصل کے بیتے لمحے یاد آئے ہوں گے ، ماضی کی ایک شناسا سی آواز کانوں سے لگی ہوگی ۔۔تو آپ علیہ السلام کو ہماری ماں جی کی یاد آگئ اور آپ نے جھرجھری لی ۔۔ آہ یہ محبت !!
جو فضیلتیں اور محبتیں بڑی ماں جی ؓ کے مقدر میں آئیں کائنات میں کسی کو نہ مل سکیں ۔۔ رب تعالی کا سلام اترا ۔۔ جبریل امین حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے ۔۔ عرض کی : " یارسول اللہﷺ ! یہ خدیجہؓ آپ کے پاس سالن یا کھانے کا ایک برتن لارہی ہیں جب وہ لے کر آئیں تو ان کے رب اور میری طرف سے سلام کہہ دیں اور جنت میں انہیں موتی کے ایک محل کی بشارت دے دیں جس میں نہ شور ہوگا نہ تکلیف ہوگی ۔۔ یہ محل اور یہ سلام کیوں نہ ملتا کہ ۔۔ خدائے وحدت کے انعامات بھی بے بہا ہوتے ہیں ۔۔ کس قدر وضاحت سے پیغام بھیجا ایسا محل جس میں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف ۔۔ کیونکہ ماں جی نے آپ کے سامنے کبھی اونچا نہ بولا ۔۔ نہ کبھی ایذاء اور تکلیف دی ۔۔ تو محل بھی ایسا ہی ملنا تھا ۔۔ !!
کیسی قابل رشک محبت تھی امی جان عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ مجھے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر غیرت نہیں آئ سوائے حضرت خدیجہؓ پر ، حالانکہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں تھا ۔۔ لیکن آپﷺ ان کا تذکرہ بہت زیادہ فرماتے تھے ۔۔ محبتوں ، چاہتوں اور الفتوں کے تذکرے ، اسلام کی ابتدائ اذیتوں اور آپؓ کے مرہم اور دلجوئ کے تذکرے ۔۔!!
آپ ﷺ کو تو آپ ؓسے اس قدر محبت تھی کے ان کی سہیلیوں کے لئے بھی ہدیئے اور تحفے بھیجتے ۔۔ بہت دفعہ بکری ذبح کرتے ۔۔ اس کا گوشت بھی ماں جی کی سہیلیوں کو بھیجتے ۔۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ۔۔ میں کبھی حضور کو کہہ دیتی کہ گویا حضرت خدیجہؓ کے سوا دنیا میں کوئ عورت ہی نہ تھی ۔۔آپ فرماتے : " وہ ایسی ہی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے ۔۔!!
کس قدر محبت کی کہانیاں تھیں ۔۔ کیسی الفت کی داستانیں ۔۔ ماں جیؓ کی آپ سے محبت ۔۔ آپ علیہ السلام کی ماں جی ؓ سے ۔۔ اف ۔۔ماں جیؓ نے بھی تو حق ادا کیا ۔۔ صرف آپ علیہ السلام سے نہیں آپ علیہ السلام سے منسلک ہر رشتے سے محبت کرتیں ۔۔ایک دفعہ حضور علیہ السلام کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ تشریف لائیں اور قحط سالی اور مویشیوں کی ہلاکت کا تذکرہ کیا ۔۔ تو حضرت خدیجہؓ نے بطور تحفہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ دیا ۔۔ سخاوت بے مثل کیوں نہ ہوتی ۔۔ کہ جود و سخا کے شہنشاہ ﷺ کی ملکہ تھیں ۔۔ !!
ایسی ملکہ جن کو حضورﷺ کی زبان اطہر سے جنت کی افضل ترین عورتوں میں شمار کیا گیا ۔۔شہنشاہ موجودات ﷺ نے زمین پر چار خطوط کھینچے اور فرمایا ؛ تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کی : اللہ و رسولہ اعلم ۔۔فرمایا جنتی عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت والی عورتیں یہ ہیں
" ١: خدیجہ بنت خویلد ٢ : فاطمہ بنت محمد ٣ : آسیہ بنت مزاحم ۴ : مریم بنت عمران ۔۔!!
یہ سب تو آپ کو ملنا ہی تھا کہ آپ پہلی رفیقہ حیات ، شوہر کی ہر خوشی و غم کی ساتھی ، اسلام کے ابتدائ مشکل دور میں اپنے رفیق ﷺ کا حوصلہ بننے والی ، آپ ﷺ کی دلجوئ کرنے والی ، آپ ﷺ کے دل کو تسکین دینے والی ، اور آپ کے سب غموں کو دور کرکے محبت کے جام پلانے والی تھیں ۔۔ ایسی قابل رشک محبت کی اور ایسی زندگی گزاری کے اسلام پر قدغن لگانے والوں کو چودہ صدیاں قبل بتاگئیں کے اسلام ہی عورتوں کے حقوق کا اصل محافظ ہے ۔۔ اسلام نے ان کو تجارت سے نہیں روکا ۔۔ شام و یمن تک کی کامیاب بزنس مین رہیں ۔۔ ان کے بزنس میں ان کی شادی رکاوٹ نہیں بنی ۔۔ کے رشتوں کی ڈوری نے انہیں مزید مستحکم کیا ۔۔ آج کی ماں ، بہن اور بیٹی کے لئے اگر کوئ آئیڈیل ہیں تو محبت سے بھرپور میری وہ مائیں ہیں ۔۔ جنہیں قرآن چودہ صدیاں قبل ہمارے لئے آئیڈیل کہہ گیا ۔۔ ان کے در پر جائیں ۔۔ عشق ۔۔ محبت ۔۔ الفت ۔۔ چاہت اور وارے جانے کے سب نقوش ملیں گے ۔۔اور ان کے قدموں میں اپنی جنت تلاش کریں ، کہ رب تعالی نے جنت ماوں کے قدموں میں رکھی ہے !!🤍
@highlight
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Category
Address
Karachi
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Adil binori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
