Khan Gee
Ads running service available
11/08/2026
Affiliate partnerships is another way to monetize your content by recommending products you love to your audience – no inventory, no shipping, just sharing and earning.
Learn more in comments
دسمبر 2006 کی ایک سرد رات کو رانا ارشاد اپنی اہلیہ اور تین بچوں (دو بیٹیاں، ایک بیٹے) کے ساتھ گھر میں سو رہے تھے کہ اچانک 20 سے 25 افراد ان کے دروازے پر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ الیاس موٹا کے گھر ڈکیتی ہو رہی ہے اور ڈاکوؤں کو پکڑنے میں مدد چاہیے۔ کیونکہ رانا ارشاد گاؤں کے ایک سماجی ورکر بھی تھے اس لیے ان کے ساتھ چلے گئے، تو سب لوگ مختلف سمتوں میں ٹولیاں بنا کر پھیل گئے تاکہ ملزمان فرار نہ ہو سکیں۔ اسی دوران فائرنگ ہوئی، تو گاؤں کے لوگوں کے پاس بھی اسلحہ تھا انہوں نے بھی فائرنگ کی اور بعد میں معلوم ہوا کہ گاؤں کے رہائشی انصر جاں بحق ہو چکے ہیں۔
انصر کے گھر والوں نے رانا ارشاد پر قتل کا مقدمہ درج کروا دیا۔ رانا ارشاد کے مطابق پولیس کی پہلی تفتیش میں وہ بے گناہ قرار پائے، پھر درخواست پر دوسری تفتیش ہوئی اور اس میں بھی انہیں بے گناہ قرار دیا گیا۔ مگر جب مقدمہ عدالت پہنچا، مختلف جج صاحبان کے سامنے چلتا رہا، تو بالآخر انہیں 25 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
اس وقت ان کے بچے چھوٹے تھے، والدین عمر رسیدہ تھے اور گھر کی تمام ذمہ داری انہی کے کندھوں پر تھی۔ رانا ارشاد بتاتے ہیں کہ جیل کا پہلا سال رشتہ داروں اور دوستوں کی آمدورفت میں گزرا، دوسرے سال لوگوں کی تعداد کم ہوتی گئی، اور تیسرے سال تک زیادہ تر صرف ان کی اہلیہ ہی ملاقات کے لیے آتی تھیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2010 میں، جب وہ جیل میں تھے، ان کی والدہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کے بقول یہ ان کی زندگی کے سب سے تکلیف دہ لمحات میں سے ایک تھا۔
رانا ارشاد کے مطابق مقدمہ لڑتے لڑتے ان کی ساری جمع پونجی ختم ہو گئی۔ پہلے اہلیہ کا تقریباً دس تولے سونا فروخت کرنا پڑا، پھر چار ایکڑ زمین بھی بک گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ مقدمے پر مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ وہ ایک فیکٹری میں ریکوری کے شعبے میں کام کرتے تھے، مگر عدالتوں اور مقدمے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ میں اپیل تقریباً آٹھ سال تک چلتی رہی اور اس دوران وہ سیکڑوں مرتبہ عدالت گئے، مگر کبھی جج صاحب دستیاب نہ ہوتے، کبھی وکیل صاحب، کبھی ہڑتال اور کبھی کسی اور وجہ سے سماعت ملتوی ہو جاتی۔ آخرکار 2016 میں ہائی کورٹ نے انہیں باعزت بری کر دیا۔
رانا ارشاد اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب انہوں نے جیل سے باہر پہلا قدم رکھا تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے پاؤں زمین پر نہیں بلکہ ہوا میں ہوں۔ برسوں بعد کھلی فضا میں سانس لینا ان کے لیے کسی نئی دنیا میں داخل ہونے جیسا تھا۔
لیکن وہ کہتے ہیں کہ اصل صدمہ اس کے بعد محسوس ہوا۔ جن بچوں کو وہ چھوڑ کر گئے تھے، وہ جوان ہو چکے تھے۔ جنہیں جوان چھوڑا تھا، وہ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے۔ دس سال صرف کیلنڈر کے ورق نہیں تھے، بلکہ زندگی کا وہ حصہ تھے جو کبھی واپس نہیں آ سکتا۔
رانا ارشاد یہ بھی بتاتے ہیں کہ رہائی کے بعد کئی راتیں ایسی گزریں جب وہ اچانک نیند سے جاگ جاتے، پھر اپنے بستر کو ہاتھ لگا کر خود کو یقین دلاتے کہ وہ واقعی جیل سے باہر آ چکے ہیں یا ابھی بھی قید میں ہیں۔ ان کے مطابق، طویل قید انسان کی نفسیات پر ایسے اثرات چھوڑ جاتی ہے جو رہائی کے بعد بھی فوراً ختم نہیں ہوتے۔ اور وہ ایک بات بار بار دہراتے ہیں: “جو بندہ اس نظام میں پھنس جائے، اس کا کچومر نکل جاتا ہے۔”
یہ کہانی صرف رانا ارشاد کی نہیں، بلکہ اس سوال کی بھی ہے کہ اگر کوئی شخص برسوں بعد بے گناہ ثابت ہو جائے تو اس کی کھوئی ہوئی جوانی، بچوں کا بچپن، والدین کا ساتھ، بکا ہوا زیور، فروخت شدہ زمین اور زندگی کے قیمتی سال کون واپس کرے گا؟
17/07/2026
https://pinealguardianvip.com/ds/indexts.php =umarkha551k3ced
Wali Dil ko aur roh ko sakoon deny wali Telawat
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Khanpur
Khanpur
64400

17/07/2026
17/07/2026