Advocate Mehar Adnan International Law Firm
Alhamdulillah
24/04/2026
⚖️ اہم قانونی آگاہی — کم عمری کی شادی، مرضی اور کسٹڈی کا فیصلہ
حال ہی میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں یہ اصول واضح کیے گئے کہ اگر کوئی لڑکی عدالت کے سامنے خود بیان دے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو اس کی کسٹڈی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا
✔️ دفعہ 164 Cr.P.C کے تحت دیا گیا رضاکارانہ بیان انتہائی اہمیت رکھتا ہے
✔️ اگر لڑکی اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہو تو اسے اغواء یا غیر قانونی حراست نہیں کہا جا سکتا
✔️ اسلامی قانون کے مطابق مسلمان مرد عیسائی عورت سے نکاح کر سکتا ہے
✔️ کم عمری کی شادی قانوناً جرم ہو سکتی ہے، لیکن ایسا نکاح خود بخود کالعدم (void) نہیں ہوتا
✔️ Habeas Corpus (دفعہ 491 Cr.P.C) میں عدالت صرف یہ دیکھ ہے کہ حراست غیر قانونی ہے یا نہیں، پیچیدہ نکاحی تنازعات کا فیصلہ نہیں کرتای
عدالت نے واضح کیا کہ جب لڑکی اپنی مرضی اور رضامندی ظاہر کرے تو اسے زبردستی واپس نہیں بھیجا جا سکتا.
ایسے معاملات میں سب سے اہم عنصر "رضامندی" (Consent) ہے، جبکہ عمر اور دیگر حقائق کا فیصلہ ٹرائل کے دوران کیا جاتا ہے، نہ کہ فوری درخواستوں میں۔
⚖️ بطور وکیل ہائی کورٹ، عوام کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر کیس اپنے حقائق پر منحصر ہوتا ہے، اور عدالتیں ہمیشہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔
Advocate Mehar Adnan
Lahore High Court
Call/Whatsapp:03110359977
, , ,
, , ,
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Lahore
