Mughal E Azam

Mughal E Azam

Share

fun

23/06/2026

کلام باھو

22/06/2026
21/06/2026

ناصبیت کو رگڑا علامہ یسن قادری

21/06/2026

اس گٹر کے سور کی بھی سنتے جائے اور لعنتیں ڈالتے جائیں
یزیدی ملا فضل گشتی

21/06/2026

اویس رضا قادری

21/06/2026

چراغ گولڑہ پیر سید نصیر الدین نصیر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

21/06/2026

(اہل سنت میں فروغ ناصبیت ؛ 12 اماموں کے بارے میں شکوک و شبہات)

پوسٹ کیے گئے کلپ میں تحقیق کے نام پر جس طرح غیر محسوس انداز میں اہل سنت کے اندر ناص-ب-یت کا زہر گھولا گیا ہے وہ نہایت افسوس ناک ہے. اس وقت خطائی ناصبیوں نے بارہ اماموں کے خلاف باقاعدہ تحریک چلا رکھی ہے. پوسٹ کی گئی ویڈیو میں مولانا نے اپنے بیان میں جو کچھ کہا ہے اس پر ہماری معروضات حسب ذیل ہیں..

1.. حضرت سیدنا امام حسن مثنی علیہ السلام کو حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام سے افضل قرار دیا گیا ہے، لیکن اس پر اسلاف علماء اہل سنت کا کوئی متفقہ و مستند حوالہ نہیں دیا گیا.

2..کہا گیا ہے کہ آج سے ہر ہر سنی حضرت سیدنا حسن مثنی کا مبلغ بن جائے..... اس پر سوال یہ ہے کہ چودہ سو سال سے سنی سواد اعظم کو یہ تحریک چلانے کی ضرورت کیوں پیش نہیں آئی اور آج چودہ سو سال بعد یکدم اس کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ اب تک سنی سواد اعظم اس سلسلے میں کیوں خاموش رہا؟ کیا یہ تمام سنی اسلاف کو مجرم بنانے والی گھناؤنی بات نہیں کہ انہوں نے اس معاملے کو چھپائے رکھا؟

3.. مزید کہا گیا ہے کہ امام زین العابدین کو بارہ اماموں میں شامل کیا گیا ہے مگر ان میں نہ تو حضرت حسن مثنی کو شامل کیا گیا اور نہ ہی ان کی اولاد کو، فلہذا یہ سازش ہے، یہ گیم ہے......اس پر سوال یہ ہے کہ یہ سازش کس نے کی؟ کیا چودہ سو سال سے چلے آنے والے جمیع اکابر اہل سنت نے؟ کیونکہ تشیع کا تو سنیت سے ویسے ہی دور دور کا واسطہ نہیں کہ اس کا الزام اس کے سر دھرا جائے.

4..یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بارہ امام اللہ نے نہیں چنے، لوگوں نے اس میں اپنی مرضی کی ہے، یہ سلیکشن من مانی ہے،رب رسول کا اس سلیکشن سے کوئی تعلق نہیں، سنیت سوال کرتی ہے،انصاف سوال کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ..... اس پر سوال یہ ہے کہ آپ بارہ اماموں کے عرفی چناؤ کا اس خطرناک انداز میں انکار کر کے کون سی سنیت کی خدمت کر رہے ہیں اور کون سے اسلام کو فروغ دے رہے ہیں؟ بارہ اماموں کی سلیکشن کو من مانی کہہ کر رد کرنے کا جو انداز آپ نے اختیار کیا ہے یہ اکابر نے کیوں اختیار نہیں کیا؟
ان بارہ اماموں کو تو تین عظیم مجددوں (مجدد الف ثانی، امام احمد رضا بریلوی، پیر مہر علی شاہ صاحب رحمہم اللہ) نے باقاعدہ تسلیم کیا ہے. تو کیا آپ کی ایجاد کردہ جدید سنیت نے ان تین ہستیوں اور ان کے جمیع سنی پیروکاروں کو للکارنا شروع کر دیا ؟

آئیے! ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ مجدد الف ثانی، احمد رضا بریلوی اور پیر مہر علی شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے بارہ اماموں کے بارے میں کیا لکھا ہے.

>>1..امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
اس راہ سلوک کے واصلین کے پیشوا اور اُن کے سردار اور اُن کے بزرگوں کے منبعِ فیض حضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں، اور یہ عظیم الشان منصب اُن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس راہ میں گویا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں قدم مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مبارک سر پر ہیں اور حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اِس مقام میں اُن کے ساتھ شریک ہیں.... میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ اپنی جسدی پیدائش سے پہلے بھی اس مقام کے ملجا و ماویٰ تھے، جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ جسدی پیدائش کے بعد ہیں. اور جسے بھی فیض و ہدایت اس راہ سے پہنچی ان کے ذریعے سے پہنچی، کیونکہ وہ اس راہ کے آخری مرکزی نقطہ ہیں.. جب حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا دور ختم ہوا تو یہ عظیم القدر منصب ترتیب وار حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو سپرد ہوا اور ان کے بعد وہی منصب ائمہ اثنا عشرہ (بارہ اماموں) میں سے ہر ایک کو ترتیب وار اور تفصیل سے تفویض ہوا، اور ان بزرگوں کے زمانہ میں اور اِسی طرح ان کے انتقال کے بعد جس کسی کو بھی فیض اور ہدایت پہنچی ہے انہی (ائمہ اثنا عشر) بزرگوں کے ذریعہ پہنچی ہے، اگرچہ اقطاب و نجبائے وقت ہی کیوں نہ ہوں، سب کے ملجا و ماویٰ یہی بزرگ ہیں کیونکہ اطراف کو اپنے مرکز کے ساتھ الحاق کئے بغیرچارہ نہیں ہے۔‘‘( مکتوبات شریف)

>>2..احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بارہ اماموں کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا :
امامت اگر دینی راہنما کے معنی میں ہو تو بلاشبہ ( یہ تو یہ) ان کے غلام اور غلاموں کے غلام بھی دینی راہنما ہیں. اور اگر امامت سے مراد ولایت ہے تو بلاشبہ یہ سب حضرات غوث ہوئے.. امام جعفر صادق رضی ﷲ تعالی عنہ تک تو بلاشبہ یہ حضرات ائمہ کرام ائمہ مجتہدین تھے، اور باقی حضرات بھی غالبا (غالب گمان یہ ہے کہ) مجتہد ہوں گے۔وﷲ تعالی اعلم ۔
باطنی طور پر ان بارہ اماموں کا مقام یہ ہے کہ بلا شبہ یہ سب حضرات عین الشریعۃ الکبری تک واصل تھے.
بعض لوگوں کا یہ محض غلط و افتراء ہے کہ ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیں، اہلسنت کی جتنی کتابیں حالات اکابر کے بیان میں ہیں سب ان پاک مبارک محبوبان خدا (بارہ اماموں) کے ذکر سے گونج رہی ہیں اور خود ان کے ذکر میں مستقل کتابیں ہیں۔ وﷲ تعالی اعلم (فتاوی رضویہ)

>>3...مزید فرماتے ہیں :
یہ مقام ولایت حضرت مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کے بعد بارہ اماموں میں سے ہر ایک کے لیے ترتیب وتفصیل کے ساتھ قرار پذیر ہوا۔ ان بزگوں کے زمانے میں،، اسی طرح ان کی رحلت کے بعد جسے بھی فیض وہدایت پہنچتی تھی انہی بزرگوں (بارہ اماموں) کے توسط سے تھی اور سب کا ملجا یہی حضرات تھے یہاں تک کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ تک نوبت پہنچی.( فتاوی رضویہ)

>>4...مزید ارشاد فرماتے ہیں :
ائمہ اثنا عشر (بارہ امام) رضی اللہ عنہم امام فی الدین ہیں، ائمہ باطن ہیں.سب اپنے اپنے وقت کے غوث و قطب الاقطاب ہیں. ان میں اکثر مجتہدین بھی ہیں. اور مولا علی، امام حسن اور امام مہدی رضوان اللہ علیہم خلفاء کرام بھی ہیں. ( فتاویٰ رضویہ)

>>5... تاج دار گولڑہ ،بحر العلوم، امام علم و عرفان، فاتح مرزائیت غوث زمان قطب الاقطاب نائب غوث اعظم دستگیر حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حوالہ بھی ملاحظہ فرما لیجیے.آپ فرماتے ہیں :
اہل علم کو چاہیے کہ اہل بیت کرام کے مشاہیر ائمہ دوازدہ (بارہ امام) علیہم السلام کے مرویہ مناقب و فضائل کو نصب العین بنائیں اور خوف خدا کرتے ہوئے ایسی تقریروں سے کنارہ کش رہیں کہ کیا ہوتا اگر حسین یزید کی بیعت قبول کر لیتا،معاذ اللہ. بنو امیہ کا خاندان تو ختم ہو گیا لیکن ان کے سکہ کی تاثیر و تصرف اب تک بھی بعض دلوں پر اثرانداز ہے. تاریخ دانوں پہ مخفی نہیں کہ بنو امیہ کے بادشاہوں کا برتاؤ حضرات اہل بیت سے بہت ہی برا رہا ہے. اور وہ ہمیشہ حضرات اہل بیت کی اہانت میں کوشاں رہے. لیکن اس کے باوجود انہیں مجالس و معارضات میں ہاشمی فصاحت و بلاغت سے ہمیشہ ذلت و رسوائی نصیب ہوتی رہی. (ملفوظات مہریہ)

>>6.. امام آلوسی بغدادی علیہ الرحمہ تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں : قطبیت کبریٰ یعنی ولایت کا مرکز ہمیشہ اہل بیت پاک کے پاس ہوگا اور اصل میں وہی قطب الاقطاب ہوں گے. اگر ان کے علاوہ کوئی قطب ہو تو وہ انکا نائب ہوگا. اور یہ قطبیت کبری اہل بیت کے مشہور بارہ اماموں کو حاصل ہے. (تفسیر روح المعانی)
مذکورہ حوالہ جات کے بعد بھی اگر کسی کو بارہ اماموں کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں تو وہ قلبی و دماغی امراض کا علاج کروائے اور بریلویت سے توبہ کرے

21/06/2026

Engineer Muhammad Ali Mirza

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lahore