Professor Dr. Muhammad Zafar Iqbal
My page is about spreading health education & approaching the patients in very legal & ethical way
08/06/2026
بڑھاپے میں اولاد کے ساتھ رہنے کا تضاد:
کنفیوشس نے ایک بار خبردار کیا تھا: "بڑھاپے میں اپنی جوان اولاد کے بہت زیادہ قریب رہنا، حیرت انگیز طور پر انہیں آپ سے دور کر سکتا ہے۔
یہ کہانی ڈھائی ہزار سال پرانی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے جیسے یہ آج کے دور، ہمارے والدین اور ہماری اولاد ہی کے لیے لکھی گئی ہو۔
یہ قصہ لی وی نامی ایک بوڑھے شخص کا ہے جو عظیم فلسفی کنفیوشس کے پاس وہ سوال لے کر گیا جو آج بھی بہت سے بزرگوں کو پریشان کرتا ہے:
"اپنی پوری زندگی اولاد کے لیے وقف کرنے کے بعد بھی، ہم بڑھاپے میں خود کو تنہا کیوں محسوس کرتے ہیں؟
وہ پیالہ جو کبھی نہیں بھرتا
لی وی کوئی برا باپ نہیں تھا۔ اس کے برعکس، اس نے اپنی اولاد کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ اس نے انتھک محنت کی تاکہ وہ کبھی کسی چیز کے محتاج نہ رہیں۔ جب وہ بڑے ہو گئے، اپنے خاندان بسا لیے اور آزاد زندگیاں گزارنے لگے، تو لی وی نے سوچا کہ اب اس کی محنت کا پھل سمیٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس نے اپنا گھر بیچا اور اپنے بیٹے کے پاس رہنے چلا گیا—یہ سوچ کر کہ اب وہ خاندان اور پوتے پوتیوں کے درمیان سکون اور اپنائیت سے رہے گا۔
لیکن وہ خوشی کبھی نہ ملی جس کی اسے امید تھی۔ گھر بھرا ہوا تھا... مگر اس کا دل خالی تھا۔
دن بھر سب مصروف رہتے، شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتے اور خاموشی چاہتے۔ وہ اس کی باتیں ادھورے دل سے سنتے، اس کے مشورے انہیں چڑچڑاہٹ میں مبتلا کرتے اور اس کی موجودگی کو ایک بوجھ یا معمول کی بات سمجھ لیا گیا۔
وہ جتنا قریب ہونے کی کوشش کرتا، وہ اتنے ہی دور ہوتے جاتے۔
lجواب کی تلاچ
لی وی نے کنفیوشس کے پاس جا کر اپنا دکھ بیان کیا: "استادِ محترم! میں نے اپنی زندگی بچوں کے نام کر دی۔ میں نے سوچا تھا کہ ان کے قریب رہنے سے مجھے سکون ملے گا، لیکن میں تو خود کو ان کے درمیان 'ناپسندیدہ' محسوس کرتا ہوں۔ ایسا کیوں؟
کنفیوشس نے اسے کھوکھلی تسلی نہیں دی، بلکہ تین سادہ سبق سکھائے:
پہلا سبق: پانی کا برتن
عظیم فلسفی نے ایک برتن کو لبالب پانی سے بھر دیا۔ "بتاؤ، اگر میں اس میں مزید پانی ڈالوں تو کیا ہوگا؟
لی وی نے جواب دیا، "یہ چھلک جائے گا۔"
کنفیوشس نے کہا: "بالکل! رشتوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جب ہم کسی ایسی جگہ خود کو زبردستی گھسانے کی کوشش کرتے ہیں جو پہلے ہی بھری ہوئی ہو، تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ تم نے اپنے بچوں کے لیے گھر بنایا تاکہ وہ بڑھ سکیں، لیکن اب تم دوبارہ اس گھر کا مرکز بننا چاہتے ہو۔ ان کے گھر کا مرکز اب ان کی اپنی زندگیاں اور ان کے بچے ہیں۔ تم ایک ایسے برتن میں خود کو انڈیل رہے ہو جس میں اب جگہ باقی نہیں رہی۔
دوسرا سبق: دو درخت
کنفیوشس نے پاس اگے ہوئے دو درختوں کی طرف اشارہ کیا جن کی شاخیں ایک دوسرے میں الجھی ہوئی تھیں۔ "جب درخت بہت قریب اگتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
لی وی نے کہا، "وہ ایک دوسرے کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور مقابلے بازی شروع ہو جاتی ہے۔
"کیا وہ مضبوط ہوتے ہیں؟
نہیں، وہ کمزور اور بدشکل ہو جاتے ہیں۔
کنفیوشس نے سمجھایا: "زندگی میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ قربت ہی اتحاد ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ قربت تناؤ پیدا کرتی ہے۔ ترقی کے لیے جگہ (Space) کی ضرورت ہوتی ہے۔
تیسرا سبق:
مٹھی بھر ریت
کنفیوشس نے ریت مٹھی میں لی اور اسے زور سے بھینچ لیا۔ "اگر میں اسے ایسے پکڑوں تو کیا ہوگا؟
لی وی نے کہا، "یہ انگلیوں سے پھسل جائے گی۔
کنفیوشس نے جواب دیا: "انسانی تعلقات بھی ایسے ہی ہیں۔ محبت اور عزت دباؤ میں پروان نہیں چڑھتی۔ تم جتنا زیادہ قریب رہنے کا مطالبہ کرو گے، رشتہ اتنی ہی تیزی سے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
انہیں آزادی دو، تو جو حقیقت میں تمہارا ہے وہ تمہارے پاس رہے گا۔
سب سے اہم حقیقت:
کنفیوشس نے پوچھا: "جب تم درخت لگاتے ہو، تو کیا یہ سوچتے ہو کہ یہ بڑھاپے میں تمہیں سایہ دے گا؟
نہیں استاد، میں اسے اس لیے لگاتا ہوں تاکہ وہ بڑھ سکے۔ سایہ تو ایک تحفہ ہے، کوئی فرض نہیں۔
تو اپنی اولاد سے مختلف توقع کیوں رکھتے ہو؟ تم نے انہیں اپنے لیے نہیں، بلکہ دنیا کے لیے پالا تھا۔ اور دنیا کا ان پر اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا۔
لی وی پہلی بار حقیقت سمجھ گیا۔
بڑھاپے کی دانائی:
کنفیوشس نے اسے بیجوں کی ایک تھیلی دی۔ "تم اب بھی بیج بو سکتے ہو، سکھا سکتے ہو اور سیکھ سکتے ہو۔ بڑھاپا انتظار کا وقت نہیں بلکہ نئی شروعات کا نام ہے۔ اپنی اولاد سے محبت کا مطالبہ نہ کرو، بلکہ وہ کام شروع کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔
لی وی اپنے بیٹے کے گھر رہنے کے️ بجائے اپنے آبائی شہر واپس آ گیا، ایک اسکول کے پاس چھوٹا سا گھر کرائے پر لیا اور بچوں کی مدد شروع کر دی۔ اس نے اپنی کہانیاں سنائیں، درخت لگائے اور لوگوں کے کام آنے لگا۔ جلد ہی لوگ اسے "ماسٹر لی" کہہ کر پکارنے لگے۔
وہ جتنا کم مداخلت کرتا، لوگ اس کی اتنی ہی زیادہ قدر کرتے۔
وہ جتنی کم توجہ مانگتا، اسے اتنی ہی سچی توجہ ملتی۔
جب محبت لوٹ آتی ہے
ایک دن اسے اپنے بیٹے کا خط ملا: "ابو! بہت عرصہ گزر گیا، ہمیں آپ کی یاد آتی ہے۔ بچے آپ کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ ہم سے ملنے آئیں—مستقل رہنے کے لیے نہیں، بلکہ صرف ہمارے ساتھ وقت گزارنے کے لیے۔
جب لی وی وہاں پہنچا، تو اس کا والہانہ استقبال ہوا۔ برسوں میں پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک "مطلوب مہمان" ہے، بوجھ نہیں۔
اسے سمجھ آ گیا کہ: جب اس نے محبت کی توقع کرنا چھوڑ دی، تو محبت نے خود اسے ڈھونڈ لیا۔
اس کہانی کا اصل مقصدکیا ہے۔۔
بڑھاپے میں اولاد کے ساتھ رہنا ایک غلطی ہے" کا مطلب تنہائی کا شکار ہونا نہیں ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ سچی قربت آزادی سے جنم لیتی ہے، مجبوری یا فرض سے نہیں۔
جب ہم موجودگی کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ہم رشتے کا دم گھونٹ دیتے ہیں۔
جب ہم خود کو دوسروں پر تھوپتے ہیں، تو ہم غیر مرئی (Invisible) ہو جاتے ہیں۔
جب ہم دوسروں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں، تو وہ ہمیں اپنی خوشی سے منتخب کرتے ہیں۔
جیسا کہ کنفیوشس نے سکھایا: محبت اور احترام کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، انہیں صرف سینچا جا سکتا ہے۔
03/05/2026
By the GRACE of ALMIGHTY ALLAH the following Programs in Endocrinology ( "FCPS in Endocrinology ,MD Endocrinology & DIPLOMA in DIABETES" )Department at NISHTAR MEDICAL UNIVERSITY MULTAN have been approved & recommended by the Inspectors of PMDC .
The whole department of Endocrinology at NISHTAR MEDICAL UNIVERSITY deserve the Heartiest Congratulations for this GREAT Achievement.
یہ ایک مبینہ “انٹیلیجنس رپورٹ” ہے جس میں “امارات” کے نام سے ایک پراسرار معاملے پر بات کی گئی ہے، جسے مرحوم صحافی جمال ریان نے 2021 میں تحریر کیا۔
ترجمہ (اردو):
"امارات" کا وہ راز جسے کوئی نہیں جانتا
صحافی: جمال ریان
کوئی یہ سمجھ نہیں سکتا کہ "امارات" جیسا ایک ملک—جس کا رقبہ 75 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ نہیں، اور جس کی مقامی آبادی 8 لاکھ سے بھی کم ہے—اتنی تیزی اور حیرت انگیز انداز میں کیسے ترقی کر گیا!
متحدہ عرب امارات کی نہ کوئی خاص سیاسی تاریخ ہے، نہ آزادی کی کوئی تحریک، اور نہ ہی کوئی مضبوط ثقافتی یا فکری ادارے۔
کیا شیخ زاید نے اس پر سورہ یٰسین دم کر دی تھی کہ یہ راتوں رات تعمیر و ترقی کا مرکز بن گیا اور مغربی ایشیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ "یو اے ای پراجیکٹ" کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ تھا۔ مغرب میں موجود امیر یہودیوں نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی بستی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جو مالی مفادات اور تجارتی بہاؤ کو محفوظ رکھ سکے، بغیر اس کے کہ انہیں "اصل ریاست" سے براہِ راست وابستگی رکھنی پڑے۔
1971 سے—یعنی قیام کے سال سے—مغرب نے امارات کو تقسیم رکھا: پہلے چھ، پھر سات الگ الگ امارات میں۔ ہر امارت کا اپنا حکمران، فوج، پولیس اور سیکیورٹی نظام ہے۔
ابو ظہبی کل رقبے کے تین چوتھائی حصے پر مشتمل ہے—یہ ترتیب اس لیے رکھی گئی کہ کوئی ایک امارت کبھی متحد ریاست کی بنیاد نہ بن سکے۔
اگر ہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مقامی آبادی 7 لاکھ 50 ہزار بھی مان لیں، تو اس کے مقابلے میں غیر ملکیوں کی تعداد 90 لاکھ ہے، جو 200 قومیتوں اور 150 نسلوں پر مشتمل ہیں۔
یہاں تک کہ اگر تمام شہریوں کو فوج اور سیکیورٹی اداروں میں شامل کر لیا جائے، تب بھی وہ اپنے ملک کا مناسب دفاع نہیں کر سکتے!
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جب آپ یو اے ای میں داخل ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی یورپی یا ترقی یافتہ ایشیائی ملک میں آ گئے ہوں—جہاں نظم و ضبط، پیشہ ورانہ رویہ، صاف ستھری سڑکیں اور بہترین نظام موجود ہے۔
لیکن مقامی شہریوں کو تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے؛ تقریباً ہر کام—ایئرپورٹ سے لے کر رہائش تک—غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے۔
مختلف عرب ممالک کے لوگ وہاں موجود ہیں، جبکہ ہوائی اڈے دنیا کے بڑے ترین مراکز کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی طرح بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت بھی حیران کن ہے۔
کیا واقعی ایک سادہ مزاج اماراتی اتنے پیچیدہ نظام کو چلا سکتا ہے؟
یو اے ای، خصوصاً ابو ظہبی، دنیا میں امیر افراد کی سب سے بڑی تعداد رکھتا ہے—تقریباً 75 ہزار کروڑ پتی—جن میں بڑی تعداد یہودیوں کی بتائی جاتی ہے۔
یہ صورتحال ایک محفوظ ماحول کی متقاضی ہے تاکہ اس مالی طاقت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اسی لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ محمد بن زاید کو اسرائیل کی طرف لے جانے والا شخص ایک یہودی سرمایہ دار، حائم سبان تھا۔
یو اے ای صرف بلند عمارتوں، خوبصورت سڑکوں اور تجارتی سرگرمیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی بستی ہے جو عرب اور اسلامی دنیا کے خلاف سازشوں کے لیے قائم کی گئی ہے۔
اصل سوال یہ ہے:
یو اے ای دنیا میں اسلحہ پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر کیوں ہے؟
اس کی فوج کہاں ہے؟ اور یہ کن سرحدوں کا دفاع کر رہا ہے؟
جواب یہ ہے کہ یہ اسلحہ خطے میں دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہوتا ہے—اور شاید ہی کوئی عرب یا مسلم ملک ہو جس کے معاملات میں یو اے ای نے مداخلت نہ کی ہو۔
آخری سوال:
کیا آل زاید خاندان اتنے قابل ہیں کہ اتنے پیچیدہ معاملات سنبھال سکیں؟
اور کیا ان کے مفاد میں ہے کہ وہ دور دراز ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں؟
ایک اور سوال:
سرمایہ دار خود براہِ راست یو اے ای پر حکومت کیوں نہیں کرتے، بلکہ ان "بدویوں" کو سامنے رکھتے ہیں؟
اس کا جواب ہنری فورڈ کی کتاب The International Jew میں دیا گیا ہے: "یہودی دنیا کو پسِ پردہ رہ کر چلانا پسند کرتے ہیں۔"
ایک اور سوال:
انہوں نے سرمایہ کاری کے لیے اسرائیل کی بجائے یو اے ای کو کیوں چنا؟
جواب: اسرائیل ایک فوجی چوکی ہے، غیر مستحکم ہے، اور وہاں کاروبار کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
نتیجہ: یو اے ای دراصل 1971 سے ایک اسرائیلی بستی کے طور پر کام کر رہا ہے۔۔
Copied
🚨 گریگ چیپل کا cricinfo پر دھماکہ خیز مضمون: دنیا عمران خان کو بھول نہیں سکتی!
"ایک طوفانی رات کی خاموشی میں، لائٹ ہاؤس کا نگہبان صرف لہروں کو نہیں دیکھتا؛ وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ روشنی ایک تھکے ہوئے مسافر کے لیے امید کی ایک مستقل علامت بنی رہے، بڑھتی ہوئی تاریکی کے مقابل ایک واحد نقطۂ روشنی۔ یہ نگہبان جانتے ہیں کہ ان کی پہرہ داری صرف حال کی ذمہ داری نہیں بلکہ نسلوں پر پھیلی حفاظت کی روایت سے وابستگی ہے۔
اسی نگہبانی کے جذبے کے تحت میں خود کو قدم اٹھانے پر مجبور پایا۔ جب مجھے اپنے پرانے دوست اور حریف عمران خان کے گرد موجود سنگین حالات کی خبر ملی تو مجھے احساس ہوا کہ جنگل میں جلتا ایک چراغ کافی نہیں ہوگا۔ کرکٹ کے عظیم ترین ستاروں میں سے ایک کے گرد گہراتے اندھیرے کو چیرنے کے لیے مجھے آوازوں کا ایک قافلہ جمع کرنا تھا — کپتانوں کا ایسا اجتماعی گروہ جس کی مشترکہ تاریخ سیاسی بے حسی کی آندھی میں نظرانداز نہ کی جا سکے۔
میں عمران کو کئی دہائیوں سے جانتا ہوں، اور ہمارا تعلق ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی رہا ہے، جو باؤنڈری لائن سے کہیں آگے تک جاتا ہے۔ ہم پہلے حریف تھے، ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں جہاں کردار تیز گیندبازی اور ذہنی مضبوطی کی بھٹی میں ڈھلتا ہے۔ مجھے وہ بے پناہ کشش رکھنے والا اور اس سے بھی زیادہ مضبوط ارادے کا مالک یاد ہے۔ وہ ایسا رہنما تھا جو صرف اپنی ٹیم کی قیادت نہیں کرتا تھا بلکہ ایک قوم کو متاثر کرتا تھا۔ جب اس نے 1992 میں پاکستان کو تاریخی ورلڈ کپ جتوایا تو اس نے ایسی ثابت قدمی دکھائی جو اس کی زندگی کی پہچان بن گئی۔ اس نے وہ ٹرافی اپنی ذات کی نمائش کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے ملک بھر میں گھمائی کہ وہ عظمت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سفر کے دوران کسانوں اور عام لوگوں سے سنی کہانیوں نے اس کے دل کو چھو لیا اور اس کے سیاسی مستقبل کے بیج بو دیے۔
ہماری راہیں کھیل کے دن ختم ہونے کے بعد بھی ملتی رہیں۔ 2004 میں، جب میں لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ کر رہا تھا، ہم نے ایک ڈنر اکٹھا کیا جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں آنے کے اس کے فیصلے پر مجھے حیرت تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خود کو اتنے غیر یقینی میدان میں کیوں ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کا جواب سادہ مگر گہرا تھا: وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک وہ بنے جو بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے زندگی اور سیاست کے سات سالہ چکروں کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ اگر ایک چکر چھوٹ بھی جائے تو وہ اگلے کا انتظار کرے گا، اور اسے یقین تھا کہ تین چکروں میں وہ اپنی جماعت کو اقتدار تک لے آئے گا۔ اس کی پیش بینی حیران کن تھی، کیونکہ تقریباً اسی وقت کے مطابق وہ اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچا۔
اس سے میری آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی، دنیا بدلنے سے کچھ پہلے۔ وہ اس وقت وزیر اعظم تھا اور میں کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا۔ سر ویوین رچرڈز اور شین واٹسن کے ساتھ ہم اس کے اسلام آباد دفتر گئے۔ ہماری ملاقات صرف 15 منٹ کی طے تھی، مگر عمران نے، اپنی میزبانی کے انداز کے مطابق، اسے 45 منٹ تک بڑھا دیا۔ اس کا چیف آف اسٹاف بار بار کمرے میں آ کر اگلی ملاقاتوں کی یاد دہانی کروا رہا تھا، جو بعد میں معلوم ہوا کہ سینئر امریکی اور سعودی حکام کے ساتھ تھیں۔ عمران مسکرا کر کہتا رہا کہ اسے اس دفتر میں آنے کے بعد اتنا لطف نہیں آیا تھا۔ تب بھی وہ اپنے اوپر پڑنے والے شدید دباؤ اور آنے والی گرمی کی بات کر رہا تھا۔ اس نے اسے اسی ٹھہراؤ سے قبول کیا جیسے نئی گیند کا سامنا سبز وکٹ پر کرتا تھا، ایک اعلیٰ طاقت اور اپنے مقدر پر یقین رکھتے ہوئے۔
آج وہی زندہ دل اور باوقار رہنما ایسی جگہ قید ہے جسے رپورٹس کے مطابق سزائے موت کی کوٹھڑی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ وہ 2023 سے جیل میں ہے، 186 قانونی مقدمات کے طوفان کا سامنا کرتے ہوئے — ایک ایسی سزا جو اس عمر میں عملاً عمر قید کے مترادف ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن اس کی صحت سے متعلق خبریں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی بینائی کمزور ہو رہی ہے اور دائیں آنکھ کی روشنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اسے تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے عالمی انسانی حقوق تنظیمیں تشدد کے مترادف قرار دیتی ہیں۔ یہ کسی سابق قومی رہنما کے شایان شان سلوک نہیں، نہ ہی اس عالمی کھیل کے آئیکون کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔
اگر ہم اپنے ہی کسی ساتھی کو اس طرح غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ ہم اپنی مشترکہ تاریخ کو ان ہاتھوں میں دے رہے ہیں جو کھیل کی اقدار کو نہیں سمجھتے۔
اسی احساسِ ناانصافی نے مجھے دیگر کپتانوں سے رابطہ کرنے پر مجبور کیا۔ میں جانتا تھا کہ ایک آواز اکثر سمندر میں قطرہ بن کر گم ہو جاتی ہے۔ اثر ڈالنے کے لیے مجھے ان لوگوں کی اجتماعی طاقت درکار تھی جنہوں نے اپنی قوموں کی قیادت کی ہے۔ میں نے تقریباً 20 لوگوں سے رابطہ کیا۔ کچھ نے سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے انکار کیا، مگر 13 نے حیرت انگیز سرعت سے ساتھ دیا۔ چند ہی منٹوں میں ایلن بارڈر، مائیکل ایتھرٹن اور سر کلائیو لائیڈ جیسے نام شامل ہو گئے۔ سنیل گواسکر اور کپل دیو کا ردعمل خاص طور پر قابل ذکر تھا؛ اپنے ملک میں دباؤ کے باوجود انہوں نے ایک لمحہ ضائع نہ کیا۔ انہیں اپنے دوست اور برصغیر کی بے شمار یادیں یاد تھیں، اور انہوں نے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ مضبوط گروہ کسی سیاسی بیان کے لیے اکٹھا نہیں ہوا۔ ہم پالیسی یا حکومت پر بحث نہیں کر رہے۔ ہم انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں — اس کھیل کی اقدار کی بنیاد پر جس نے ہمیں منصفانہ کھیل اور شرافت سکھائی۔ ہم پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران کو فوری طور پر اپنی مرضی کے ماہر ڈاکٹروں سے طبی سہولت دی جائے، انسانی سلوک فراہم کیا جائے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت ہو، اور شفاف قانونی عمل تک رسائی دی جائے۔ یہ کوئی انتہا پسند مطالبات نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی شرائط ہیں۔
کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان پل رہی ہے — ایک مشترکہ زبان جو سفارتی تناؤ کے باوجود قائم رہتی ہے۔ ہماری اپیل پر موجود ناموں میں ایک ایسی کشش اور وزن ہے جو کھیل کے دنوں کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ ہم ایک ورثے کے نگہبان ہیں، جیسے فن کے ماہرین جنگ کے دوران شاہکاروں کو بچاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ہی کسی کو اس بے حسی سے غائب ہونے دیں تو ہم کھیل کی روح سے غداری کریں گے۔
مجھے اس اپیل کے ردعمل سے حوصلہ ملا ہے۔ اس نے ایک ایسی صورتحال پر دوبارہ روشنی ڈال دی جسے شاید دنیا معمول سمجھنے لگی تھی۔ اس نے لوگوں کو یاد دلایا کہ عمران خان کون ہے: ایک بہادر انسان، جس نے خطرات جانتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا۔ اس نے کبھی کہا تھا کہ اگر اس راستے پر اس کی زندگی مختصر بھی ہو جائے تو یہ خدا کی مرضی ہوگی۔ وہ آخری گیند تک لڑا ہے، جیسے اس نے اپنے کھلاڑیوں کو سکھایا تھا۔
وقت کے ساتھ شاید مخصوص میچوں کی یادیں دھندلی ہو جائیں، مگر ایک دوسرے کے لیے احترام واضح رہتا ہے۔ ہمیں مقابلے، کہانیاں اور دوستی یاد ہیں۔ ہم خاموش نہیں رہ سکتے جب ایک ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک ہو۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ کرکٹ صرف رنز اور وکٹوں کا نام نہیں۔ یہ کردار کا نام ہے، اور اس احترام کا جو کھیل ختم ہونے کے بعد باقی رہتا ہے۔
ہم طویل روشنی کے نگہبان ہیں، تاکہ انصاف کی کرن بجھنے نہ پائے — ایک ایسے انسان کے لیے جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا۔ عمران خان اس منصفانہ کھیل کا مستحق ہے جس کا وہ ہمیشہ داعی رہا۔ ہمیں امید ہے کہ شرافت کی اقدار غالب آئیں گی اور ہماری اجتماعی آواز اسے تنہائی کی تاریکی میں بھلانے نہیں دے گی۔ کھیل کا تقاضا بھی یہی ہے، اور آنے والی نسلیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ہم حق کے لیے کھڑے ہوں۔"
Drop afridi against india.
حکومت نے اعلان کیا:
"ڈاکٹر موبائل کو ہاتھ نہیں لگا سکتے"
عوام نے تالیاں بجائیں، خوشیاں منائیں 👏
ہم نے واقعی موبائل کو ہاتھ لگانا چھوڑ دیا۔
اب مریض ایکس رے، سی ٹی اسکین موبائل میں تصویر بنا کر لاتے ہیں،
ہم ہاتھ نہیں لگاتے۔
وہ منت سماجت کرتے ہیں: "ڈاکٹر صاحب دیکھ لیں"
ہم کہتے ہیں: "جائیں فلم ایشو کروائیں"
ریڈیالوجی والے کہتے ہیں: "اتنی فلمز کہاں سے لائیں؟"
نتیجہ؟
👉 سرکاری ہسپتالوں میں مریض خوار ہو رہے ہیں۔
پھر حکومت نے فرمایا:
"باہر کی ادویات پر ڈاکٹروں کا کمیشن ختم، اب باہر کی دوائیں نہیں لکھی جائیں گی"
عوام نے پھر جشن منایا 🎉
"قصائی نما ڈاکٹر اب بے روزگار ہو جائیں گے!"
ہم نے واقعی باہر کی دوائیں لکھنا بند کر دیں۔
اب ہسپتال میں موجود ہے صرف:
💊 رائزک
💊 پیناڈال
بس۔
ہر مریض کو یہی دے کر گھر بھیج رہے ہیں۔
اب جو عوام ہزاروں روپے خرچ کر کے
"لاہور" کے کسی ٹرشری کیئر ہسپتال آتی ہے
اور واپس صرف رائزک اور پیناڈال لے کر جاتی ہے—
👉 ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟
رل تو عوام ہی رہی ہے۔
ان ڈور مریضوں کی وہ چھوٹی چھوٹی ضروری چیزیں
جو پہلے ہسپتال میں نہ ہونے پر
ہم باہر سے منگوا لیا کرتے تھے،
اب وہ بھی نہیں منگواتے۔
کیوں؟
کیونکہ پالیسی یہی ہے۔
مرتا ہے تو؟
👉 مریض ہی مرتا ہے۔
آخر میں،
حکومتی پالیسیوں پر خوش ہونے والی
بھولی عوام کے لیے بس ایک پیغام:
❗ اگر ڈاکٹر کی تذلیل دیکھ کر آپ کو خوشی ہوتی ہے
تو اپنی بھی خیر منائیں۔
یہ پالیسیاں ہم سے زیادہ
آپ کے لیے نقصان دہ ہیں — اور رہیں گی۔
سوچ لیجیے۔
کیونکہ جب نظام گرتا ہے،
تو نیچے صرف ڈاکٹر نہیں آتا…
مریض بھی آتا ہے۔
Copied
ہمارے محلے میں ایک شیخ صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ ملتان کے علاقے سے تھے اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بڑے نفیس، متوازن اور شائستہ انسان تھے۔
“میرے عزیز” ان کا مخصوص تکیۂ کلام تھا۔
اکثر مارننگ واک کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ وہ واک کے دوران تسبیحات پڑھتے تھے۔
میں تین چار دن واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی اور مسکراتے ہوئے بولے:
“میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے پلاتا ہوں۔”
میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیرت ہوئی؛ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتب سجی تھیں، گویا علم کا ایک خاموش خزانہ ہو۔
وہ مجھے وہاں چھوڑ کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتب پر نگاہ ڈالنا شروع کی۔ واقعی نایاب اور قیمتی ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کے میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اٹھے ہوں۔
اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو السی کے لڈو تھے۔
گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ سوال و جواب، دین اور زندگی کے موضوعات پر بات چلتی رہی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے:
“میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دل کو وہ سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا، میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔”
وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا:
“بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟”
اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
وہ بس اتنا بولا:
“میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں…”
اور خاموش ہو گیا۔
میں چند لمحے مبہوت رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“چلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔”
میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار سے کہا:
“اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔”
بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔
چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا:
“آپ اللہ ہو؟”
میں نے اسے اٹھا کر پیار سے کہا:
“نہیں بیٹے، میں تو عام انسان ہوں۔”
وہ بولا:
“اچھا… تو پھر آپ اللہ کے دوست ہو۔ میں نے رات دعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا:
اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔”
یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔
شیخ صاحب رُک گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ بولے:
“اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو۔ بس… یہی دوستی ہے۔”
وہ بار بار دہرا رہے تھے:
“میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”
احبابِ گرامی!
بے شک دوسروں کے کام آنا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ ہم اکثر اللہ کی دوستی، ولایت اور قرب کے بڑے بڑے راستے ڈھونڈتے ہیں، حالانکہ وہ راستہ ہمارے اردگرد بکھرا ہوا ہے۔ کسی کی ضرورت بن جانا، کسی کی دعا کا جواب بن جانا، یہی اصل عبادت ہے۔
چنانچہ
اللہ تک پہنچنے کے لیے لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بن جائیے، اللہ خود قریب آ جاتا ہے۔
31/01/2026
Alhamdolilah,
My youngest Duughter also joined as Medical Student at QAMC Bahawalpur in MBBS class.
May ALMIGHTY ALLAH HELP her in her cause successfully & with dignity .Ameen.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Circuit House Road Street, , Near KHIZRA MOSQUE
Multan
60000
Opening Hours
| Monday | 15:00 - 18:00 |
| 20:00 - 22:00 | |
| Tuesday | 15:00 - 18:00 |
| 20:00 - 22:00 | |
| Wednesday | 15:00 - 18:00 |
| 20:00 - 22:00 | |
| Thursday | 15:00 - 18:00 |
| 20:00 - 22:00 | |
| Friday | 15:00 - 18:00 |
| 20:00 - 22:00 | |
| Saturday | 15:00 - 18:00 |
| 20:00 - 22:00 |
