Best Entertainments
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Best Entertainments, Health/Beauty, Tunsa, Taunsa.
01/08/2023
کسی کو سمجھنے کے لیے دلچسپی کی ضرورت ہے ڈگریوں کی نہیں
ایک بوڑھی عورت اپنا کوئی مقدمہ لے کر ضلع کے DC کے پاس پیش ہوئی اور اپنا مدعا اپنی زبان میں پیش کیا
محترم DC باہر سے تعلیم یافتہ اور CSS ٹاپ کر کے سیٹ پر تعینات تھے
انہیں سمجھ نہیں آئی تو اماں سے کہا..
: اماں جی مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی، آپ وکیل کے ذریعے پیش ہوں
اس پر اس ان پڑھ بوڑھی عورت کے جواب نے پورے سسٹم کے منہ پر طمانچہ رسید کردیا
وہ بولی: پُتر سمجھ تینوں نئیں آندی تے وکیل میں کراں؟
01/08/2023
برسات کے موسم میں بارش کے بعد عموماََ ایک نبات (جسے آپ سبزی کہ سکتے ہیں) قدرتی طور پر زمین کو پھاڑ کر نکلتی ہے جِسے ہم اپنی زبان میں ” کُھماں“ کہتے ہیں اُردو میں کُھمبی اور انگریزی میں اسے مشروم کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں اِسے من و سلویٰ میں سے شمار کیا گیا ہے اور اس کے پانی کو آنکھوں کی شفاء یابی قرار دیا گیا ہے...!!!!
حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک میں کھمبیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کھمبیاں مَنّ میں سے ہیں اور یہ آنکھ کے لے شفاء ہیں...!!!!
(مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۴۱۶۱)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کھمبیاں بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں تو بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان کہنے لگے کہ یہ زمین کے چیچک ہیں( یعنی جس طرح اِنسان سے بیماری میں چیچک نکلتا ہے گویا یہ بھی زمین کی بیماری میں اس سے نکلتی ہے) اور انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ کھمبی زمین کا چیچک ہے خبردار سنو! یہ زمین کا چیچک نہیں بلکہ مَن و سلویٰ سے ہے اور اس کے پانی میں آنکھوں کے لئے شفاء ہے...!!!!
(شرح مشكل الآثار، ٣٦٧/١٤)
علامہ نوویؒ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ
صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اس کا پانی مطلقاً آنکھوں کے لیے شفاء ہے کہ پانی کو نچوڑ کر آنکھوں پر لگایا جائے۔ اپنے زمانے میں، میں نے اور میرے علاوہ لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایک نابینا تھے جن کی آ نکھوں کی بینائی چلی گئی تھی انہوں نے اپنے آنکھوں پر کھمبی کا خالص پانی لگایا تو وہ شفایاب ہو گئے اور ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئی اور وہ شخصیت علامہ شیخ کمال بن عبد اللہ دمشقی علیہ الرحمة تھے، جہنوں نے حدیث پاک پر اعتماد کرتے ہوئے اور حدیث سے تبرک کی نیّت سے کھمبی کا پانی استعمال فرمایا تھا...!!!!
(النووي، شرح النووي على مسلم: ۵/۱۴)
01/08/2023
*دو گدھ۔۔۔*
*اس تصویر کو کون بھول سکتا ہے؟*
قحط اس تصویر سے صاف پتا چل رہا ہے کہ ایک گدھ ایک بھوکی اور قریب المرگ بچی کے مرنے کا انتظار کررہا ہے تاکہ اسے نوچ کر کھا سکے۔ یہ تصویر ایک ساؤتھ افریقن فوٹو جرنلسٹ Kevin Carter نے 1993 میں سوڈان میں قحط کے دوران کھینچی تھی۔ یہ تصویر دنیا میں اتنی مشہور Pulitzer Prize ہوگئی کہ انہیں اس تصویر کی وجہ سے سے کافی نوازا گیا۔ لیکن کارٹر زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکا اور اپنے اس اعزاز کا لطف زیادہ دنوں تک نہیں اٹھا سکا کیونکہ ڈپریشن کا شکار ہوکر اس نے خود کشی کرلی تھی
ایسا کیوں ہوا؟
دراصل جب وہ اس ایوارڈ کے پانے کا جشن منا رہا تھا تو ساری دنیا کے میڈیا چینلز پر اس کا ذکر ہو رہا تھا اور اس کی شہرت بام عروج پر پہنچ گئی تھی۔ تبھی وہ واقعہ ہوا جس کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو کر کارٹر نے خودکشی کرلی۔
ہوا یوں کہ ایک انٹرویو کے دوران کسی نے کارٹر سے پوچھ لیا کہ آپ نے تصویر تو بہت زبردست لی لیکن یہ بتائیں کہ اس بچی کا کیا ہوا؟
کارٹر یہ سوال سن کر مبہوت رہ گیا پھر اس نے سنبھل کر جواب دیا کہ یہ دیکھنے کے لیے وہ رک نہیں سکا کیونکہ اسے فلائٹ پکڑنی تھی۔ یہ جواب سن کر سوال پوچھنے والے نے کہا کہ اس دن وہاں دو گدھ تھے، جن میں سے ایک کے ہاتھ میں كيمرا تھا۔
اس واقعہ نے کارٹر پر اتنا اثر ڈالا کہ وہ ڈپریشن میں چلا گیا۔۔۔ اور آخر کار خوکشی کرلی۔
کسی بھی کام میں سب سے پہلے انسانیت کو مقدم رکھنا چاہیے۔
کارٹر اگر تصویر کھینچنے کے بعد بھوک کی شکار اس بچی کو یونائٹڈ نیشن کے فیڈنگ سنٹر تک پہنچا دیتے جہاں وہ بچی پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ تو شاید اس کی جان بچ جاتی۔
کیا ہم بھی گدھ بن چکے ہیں یہ سوال خود سے کیجیے؟
آج کل ہم بھی ہاتھوں میں کیمرے اور موبائل لے کر ہروقت کسی ایسے ہی واقعے کی تلاش میں رہتے ہیں اور جوں ہی ایسا کچھ نظر آتا ہے تو فوراً اپنے کیمرے میں محفوظ کر کے ریٹنگ اور لائیکس، کمنٹس کے چکر میں سوشل میڈیا پہ وائرل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج کل لوگ جب حادثے کو دیکھتے ہیں تو فوراً ان کا ہاتھ اپنے موبائل پر جاتا ہے۔ وہ فون سے کسی ایمبولنس وغیرہ کی مدد نہیں طلب کرتے بلکہ زخموں سے کراہتے فرد کی تصویر یا ویڈیو بنانے لگتے ہیں تاکہ اسے فیس بک یا انسٹاگرام یا وٹس ایپ کے ذریعے ساری دنیا میں پھیلا سکیں اور داد حاصل کر سکیں🤔
ابھی عروج پر ھے تمھارا موسم
خزاں میں تم کو خرید لیں گے
ادا کے قصے ھوئے پرانے
جفا کا موسم ختم ھی سمجھو
کریں گے تم سے حساب جاناں
نا تم کو مھلت مزید دیں گے
وفا کے لالچ میں ھم نے
خون اپنا سکھا دیا
فریب مستی کے بدلے تم کو
سزا بھی سن لو شدید دیں گے
30/07/2023
30/07/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Culinary Team
Attire
Contact the business
Telephone
Website
Address
Tunsa
Taunsa
32000

04/08/2023